Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوٹے گناہوں کے ازالے کے معاملے میں دن اور رات میں پانچ بار پڑھی جانے والی نمازوں کی مثال انسان کے دروازے سے بہنے والی اس نہر سے دی ہے، جس میں وہ ہر روز پانچ بار غسل کرتا ہو اور جس کے نتیجے میں اس کے بدن میں میل کچیل بالکل باقی نہ رہتے ہوں۔
نماز بندے اور رب کے مابین ایک تعلق کا نام ہے۔ چنانچہ یہ مناسب نہیں کہ نمازی اس حال میں اللہ کے ساتھ مناجات کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول ہو۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ابتداے اسلام میں لوگ نماز میں حسب ضرورت بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ مثلا کوئی شخص اپنی ضرورت کے بارے میں اپنے پہلو میں موجود شخص سے بات کر لیا کرتا تھا اور نبی ﷺ یہ سب سن رہے ہوتے، لیکن اس سے منع نہ فرماتے۔ لیکن چوں کہ نماز حالت میں بندے کی اللہ سے ہم کلامی میں انہماک، اس لیے مخلوق سے ہم کلام ہونے کی گنجائش باقی نہیں رکھتی، اس لیے اللہ تعالی نے حکم دیا کہ مسلمان نماز کو دوسری آلائشوں سے بچائیں، چپ رہیں اور بات چیت نہ کریں۔ چنانچہ یہ آیت نازل فرمائی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ﴾ ”نمازوں کی حفاﻇت کرو بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے باادب کھڑے رہا کرو“۔ چنانچہ صحابۂ کرام کو معلوم ہو گیا کہ انھیں نماز میں کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے؛ اس لیے انھوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ رضی اللہ عنہم۔
رسول ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے منادی کرنے والے کو بھیجا جو سڑکوں اور بازاروں میں ’الصَّلاةُ جَامِعَةٌ‘ (نماز ہونے جارہی ہے) کی لوگوں میں منادی کرے، تاکہ وہ انھیں نماز پڑھائیں، اور ان کے لیے اللہ تبارک وتعالی سے دعا کریں کہ وہ انھیں بخش دے، ان پر بارانِ رحمت کا نزول فرمائے اور ان پر اپنی ظاہری وباطنی نعمتوں کو سدا بہار کردے۔ وہ سب مسجد نبوی میں جمع ہوئے، اور اپنی جگہ کی طرف بڑھے جہاں سے نماز پڑھایا کرتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں ایک ایسی نماز پڑھائی جو ان کی ان نمازوں سے بالکل مختلف تھی جس کے وہ عادی تھے، جو خارج از معتاد کائنات کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی؛ اس نماز کے لیے اقامت نہیں کہی جائے گی، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور دو سجدوں میں دو رکوع کیا، اور (پھر دوسری رکعت کے لیے بھی) دو سجدوں میں دو رکوع کیا، یعنی ہر رکعت میں دو دو رکوع اور دو دو سجدے کیے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا وتر پڑھنے کے حوالے سے رسول اللہﷺ کے بارے میں بتا رہی ہیں کہ آپ رات کو وتر کس وقت پڑھتے تھے۔ وتر پڑھنے میں آپ ﷺ نے کوئی وقت خاص نہیں مقرر کیا تھا بلکہ رات کے پورے حصہ میں وتر پڑھتے تھے۔ کبھی رات کے شروع میں عشاء کی نماز کے بعد اور کبھی اس وقت کے جب اللہ تعالی چاہتا، اور کبھی رات کے درمیانی حصے میں جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر چکا ہوتا اور کبھی رات کے آخری حصہ میں پڑھتے جب رات دو تہائی گزر چکی ہوتی حتیٰ کہ رات کے بالکل آخری حصے تک چلے جاتے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہیں کہ والد کی ذمے داری ہے کہ اس کے بچے اور بچیاں جب سات سال کے ہو جائيں، تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دے اور نماز قائم کرنے سے متعلق ضروری باتیں سکھائے۔ پھر جب دس سال کے ہو جائيں تو صرف حکم دینے پر اکتفا نہ کرے۔ بلکہ نماز میں کوتاہی کرنے پر مارے اور ان کا بستر الگ کر دے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کو جب پتہ ہو گیا کہ التحیات میں "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته..." کہہ کر آپ پر سلام بھیجا جائے گا، تو آپ سے پوچھا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو آپ پر درود بھیجنے کا طریقہ بتا دیا، جو کچھ اس طرح ہے : "اللهم صلِّ على محمدٍ وعلى آل محمد" یعنی: اے اللہ! مقرب فرشتوں کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے دین کے پیروکاروں اور آپ کے اہل ایمان رشتے داروں کی ذکر جمیل کے ذریعے تعریف کر۔ "كما صلَّيتَ على آل إبراهيم" جس طرح آل ابراہیم یعنی ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور ان کی مومن اولاد و متبعین کو تونے یہ اعزاز بخشا ہے، اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اس اعزاز سے سرفراز فرما۔ "إنك حميد مجيد" یعنی تو اپنی ذات، صفات اور افعال میں قابل تعریف اور بے پناہ عظمتوں، بلند شان و شوکت اور بیش بہا نوازشوں والا ہے۔ "اللهم بارك على محمدٍ وعلى آل محمد كما باركتَ على آل إبراهيم" یعنی آپ کو بڑی خیر و عزت عطا فرما، اس میں اضافہ فرما اور اسے قائم و دائم رکھ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ سورہ فاتحہ پڑھے بغیر نماز درست نہیں ہوگی۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا نماز کا ایک رکن ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعے کی نماز کے لیے جلدی جانے کی فضیلت بیان فرما رہے ہيں۔ جمعے کی نماز کے لیے جانے کا یہ وقت جس کی فضیلت آئی ہے‘ وہ سورج طلوع ہونے سے لے کر امام کے منبر پر آنے تک رہتا ہے۔ اس وقت کے کل پانچ حصے ہیں۔ دراصل سورج طلوع ہونے سے لے کر امام کے منبر پر آنے کے درمیان کے اس وقت کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ 1- جس نے غسل جنابت کی طرح کامل غسل کیا اور اس کے بعد پہلے حصے میں جمعہ کے لیے مسجد چلا گیا، اس نے گویا کہ ایک اونٹ صدقہ کیا۔ 2- جو دوسرے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے صدقہ کیا۔ 3- جو تیسرے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک سینگ والا مینڈھا صدقہ کیا۔ 4- جو چوتھے حصے میں مسجد پہنچا، اس نے گویا کہ ایک مرغی صدقہ کیا۔ 5- جو پانچویں حصے میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک انڈا صدقہ کیا۔ اس کے بعد جب امام خطبے کے لیے نکل جاتا ہے، تو مسجد کے دروازے پر بیٹھ کر سلسلے وار داخل ہونے والوں کا نام لکھنے والے فرشتے لکھنے کا کام بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہيں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم زور دے کر فرما رہے ہیں کہ جو شخص جمعے کی نماز پڑھنے کے لیے آنا چاہے، اس کے لیے غسل جنابت کی طرح غسل کر لینا مستحب ہے۔