Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زمانۂ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے۔ انںھوں نے نبی ﷺ سے اس نذر کے حکم کے بارے میں پوچھا، جو انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں مانی تھی۔ آپ ﷺ نے انھیں اپنی نذر کو پورا کرنے کا حکم دیا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے رمضان مہینہ داخل ہونے اور اس کے نکلنے کی علامت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : جب تم رمضان مہینے کا چاند دیکھ لو، تو روزہ رکھو۔ اگر بادل چھائے رہنے یا کوئی چيز حائل ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے، تو شعبان مہینے کے تیس دن پورے کر لو۔ اسی طرح جب شوال کا چاند دیکھو، تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ اگر بادل چھائے رہنے یا کوئی چيز حائل ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آ سکے، تو رمضان مہینے کے تیس دن پورے کر لو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے اقوال و اعمال سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، جن کے بارے میں یہ شک و شبہ پیدا ہو کہ ممنوع ہیں یا نہيں؟ حلال ہیں یا حرام؟ انسان کو ایسی چیزیں اپنانی چاہیے، جن کے اچھے اور حلال ہونے کا یقین ہو۔ کیوں کہ ان سے انسان کا دل مطمئن رہتا ہے۔ جب کہ شک و شبہ والی چيزیں انسان کے دل کو بے چین اور مضطرب رکھتی ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب ایک مسلمان جماعت کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، تو اس کی وہ نماز اس کی گھر یا بازار میں پڑھی ہوئی نماز سے تیئیس گنا سے زیادہ افضل شمار ہوتی ہے۔ پھر آپ نے اس کا سبب بیان فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ جب انسان وضو کرتا ہے اور وضو مکمل طریقے سے اور اچھی طرح کرتا ہے، پھر مسجد کی جانب چل پڑتا ہے اور مقصد نماز کی ادائیگی کے علاوہ کچھ نہيں ہوتا، تو اس کے بدلے میں اس کا مقام ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر جب مسجد میں داخل ہوتا ہے اور نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتا ہے، تو انتظار کے دوران اسے نماز کا اجر و ثواب ملتا رہتا ہے۔ ساتھ ہی فرشتے اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں، جب تک اس جگہ بیٹھا رہتا ہے، جہاں نماز پڑھی ہے۔ فرشتے کہتے ہیں: "اے اللہ! اسے بخش دے۔ اے اللہ اس پر رحم فرما۔ اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما۔" جب تک کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹ جاتا‘ یا اس سے ایسی کوئی حرکت نہ سرزد ہوجاتی جس سے لوگوں کو یا فرشتوں کو تکلیف پہنچے۔
اللہ کے نبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور اس کی اجازت صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس سے درج ذیل تین کاموں میں سے کوئی ایک کام سرزد ہو جائے : پہلا : جس نے عقد صحیح کی بنیاد پر نکاح کرنے کے باوجود زنا کاری کی۔ ایسے شخص کو سنگ سار کیا جائے گا۔ دوسرا : جس نے کسی معصوم انسان کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا۔ ایسے شخص کو کچھ شرطوں کے ساتھ قتل کر دیا جائے گا۔ تیسرا : جو مسلمانوں کی جماعت سے نکل گیا ہو۔ خواہ اپنے مذہب یعنی اسلام کو پورے طور پر چھوڑ کر مرتد ہو گیا ہو یا پھر مرتد تو نہ ہوا ہو، لیکن اسلام کی بعض تعلیمات سے روگردانی کر کے مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو۔ جیسے بغاوت کی ہو، رہزنی کی ہو یا مسلمانوں سے مائل بہ جنگ ہو جیسے خوارج وغیرہ کا طریقہ ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر لوگوں کو دلائل اور قرائن کی پڑتال کیے بغیر محض ان کے دعوے کی بنیاد پر دیا جانے لگے، تو کچھ لوگ لوگوں کے اموال اور جان تک کا دعوی کرنے لگیں۔ لہذا مدعی کو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرنے ہوگی۔ اگر اس کے پاس دلیل نہ ہو، تو دعوے کو مدعی علیہ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اگر اس نے انکار کر دیا، تو اسے قسم کھانی ہوگی۔ اس کے بعد وہ بری ہو جائے گا۔
نبی ﷺ اگر کسی تکلیف یا کسی اور وجہ سے نماز تہجد نہ پڑھ سکتے تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعت پڑھتے تھے؛ کیونکہ آپ ﷺ گیارہ رکعت وتر پڑھا کرتے تھے۔لھٰذا اگر رات گزر جاتی اور نیند وغیرہ کی وجہ سے آپ ﷺ وتر نہ پڑھ سکتے تو پھر آپ ﷺ اس نماز کی قضا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وتر کا وقت نکل چکا ہوتا اس لئے اسے (ایک رکعت کا اضافہ کرکے) جفت بنانا مشروع ہو جاتا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے شخص کو، جس نے پیاز یا لہسن کھائی ہو، مسجد آنے سے منع فرمایا ہے، تاکہ ان دونوں چيزوں کی بد بو باجماعت نماز پڑھنے کے لیے مسجد آنے والے دوسرے بھائیوں کی اذیت کا باعث نہ بنے۔ یہ ممانعت دراصل مسجد آنے کی تنزیہی ممانعت ہے۔ ان دونوں چيزوں کو کھانے کی ممانعت نہيں۔ کیوں کہ ان دونوں چيزوں کا کھانا مباح ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سبزیوں کی ایک ہانڈی لائی گئی۔ لیکن جب آپ نے ان کے اندر بو محسوس کی اور بتایا گیا کہ اس میں کیا ہے، تو اسے خود کھانے کی بجائے اپنے ایک ساتھی کی جانب بڑھا دیا۔ جب انھوں نے آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، اسے کھانا پسند نہيں کیا، تو یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا : تم کھاؤ۔ مجھے کھانے سے گریز اس لیے ہے کہ میں وحی لے کر آنے والے فرشتوں سے بات کرتا ہوں۔ آپ نے بتایا کہ فرشتوں کو بھی بدبودار چیزوں سے اسی طرح تکلیف ہوتی ہے، جس طرح انسانوں کو ہوتی ہے۔
نبی ﷺ کے سامان کا ایک شخص ذمہ دار تھا جس کا نام کِرْکِرہ تھا۔ وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ وہ جہنم میں گیا ہے اور اسے اس کے گناہ پر عذاب دیا جا رہا ہے اور اگر اللہ نے اسے معاف نہ کیا تو وہ جہنم ہی میں رہے گا۔ اس پر صحابہ کرام اس کے جہنم میں جانے کا سبب جاننے کے لیے اس کے ٹھکانے کی طرف گئے تو انہیں اس کے پاس سے ایک چادر برآمد ہوئی جسے اس نے مال غنیمت میں سے چرایا تھا۔