





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے (بھی) وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت (نسب) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔“
متفق عليهاللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ رضاعت سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہيں، جو ولادت اور نسب کی بنا پر حرام ہوتے ہیں۔ جیسے چچا، ماما اور بھائی وغیرہ۔ اسی طرح رضاعت ان احکام کو مباح رکھتی ہے، جنھیں ولادت مباح رکھتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے مگر ایک دن پہلے یا اس کے ایک (دن) بعد روزہ رکھتا ہو“۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ نے صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے اِلاّ یہ کہ اس سے پہلے (جمعرات) یا بعد (ہفتہ) میں ایک دن کا روزہ ملایا جائے یا اُس کے معمول کے ضمن میں آ جائے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا:”فتح مکہ کے بعد ہجرت (مکہ سے مدینہ کے لیے) باقی نہیں رہی۔ البتہ حسن نیت اور جہاد باقی ہے۔ اس لیے جب تمھیں جہاد کے لیے بلایا جائے، تو فوراً نکل کھڑے ہو۔“ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے فرمایا: جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، اسی دن سے اس نے اس شہر کو حرمت والا بنایا ہے۔ چنانچہ اللہ کی دی گئی حرمت کی وجہ سے وہ قیامت کے دن تک کے لیے حرمت والا ہے۔ مجھ سے پہلے اس میں کسی کے لیے قتال کرنا حلال نہیں تھا۔ میرے لیے صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا۔ اب یہ دوبارہ اللہ کی دی گئی۔ اللہ کی حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک کے لیے حرمت والا ہو گیا ہے۔ نہ تو اس (میں موجود کسی درخت) کا کانٹا اکھاڑا جائے گا، نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے گا اور نہ ہی اس میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جاۓ گا، سوائے اس شخص کے جو اعلان کرتے ہوئے (مالک تک پہنچانے کے ارادے سے) اسے اٹھائے اور نہ ہی اس کا گھاس کاٹا جائے گا۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! سوائے اذخر گھاس کے۔ یہ لوگوں کی بھٹیوں اور ان کے گھروں کی ضرورت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ سوائے اذخر گھاس کے۔
متفق علیہعبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لا ھجرۃ ۔ یعنی مکے سے مدینے کی طرف اب ہجرت فرض نہیں؛ کیوں کہ اب یہ اسلامی علاقہ بن چکا ہے۔ تاہم جہاد کی فرضیت ہنوز باقی ہے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ جس سے جہاد پر جانے کے لیے کہا جائے، وہ اللہ، اس کے رسول اور حکمران کی اطاعت میں جہاد کے لیے نکل کھڑا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ کی حرمت بیان کی اور فرمایا کہ جب سے اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کی ہے، تب سے یہ حرمت والا ہے اور یہ کہ نبی ﷺ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ آپ ﷺ کے لیے صرف دن کے کچھ وقت کے لیے حلال ہوا تھا، بعدازاں اس کی حرمت لوٹ آئی۔ آپ ﷺ نے مکے کی حرمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ تو حرم میں موجود کوئی کانٹا اکھاڑا جائے گا، نہ اس میں موجود شکار کے جانوروں کو بھگایا جائے گا اور نہ ہی اس میں کسی گری پڑی چیز کو اٹھانا کسی کے لئے جائز ہے؛ سوائے اس شخص کے جو لوگوں کو آگاہ کرتے ہوئے اسے اٹھائے (تا کہ اسے اس کے مالک تک پہنچا سکے) اور نہ ہی اس میں موجود چارہ اور سبز گھاس وغیرہ کاٹی جائے۔ تاہم اہل مکہ کی مصلحت کے پیش نظر آپ ﷺ نے اس حکم سے اذخر گھاس کو مستثنی کر دیا۔ کیوں کہ لوہار اپنے کام کی خاطر آگ جلانے کے لیے اس کا استعمال کرتے تھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ (اور وہ بہت زیادہ روزے رکھتے تھے)، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔
متفق علیہام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بتا رہی ہیں کہ حمزہ بن عمرو الاسلمیّ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے یہ پوچھا کہ کیا میں سفر میں روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو روزہ نہ رکھو۔ یہاں پر روزہ سے مراد فرض روزہ ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حمزہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال فرض روزوں کے بارے میں تھا۔ اس کی دلیل ابو داؤد کی روایت کردہ یہ حدیث ہے کہ۔ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں صاحبِ سواری ہوں، جسے میں استعمال میں لاتا ہوں، کبھی اس پر خود سفر کرتا ہوں،اور کبھی اسے کرایہ پر دیتا ہوں۔ اور بسا اوقت (دورانِ سفر) یہ مہینہ یعنی رمضان آجاتا ہے اور میں (روزہ رکھنے کی) طاقت رکھتا ہوں... الحدیث۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ سوال مطلق روزہ رکھنے کے بارے میں تھا، چاہے وہ واجب ہو یا نفل، کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے: ”اور وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے تھے“۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سفر میں روزه نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ جس نے رخصت کو لے لیا، اس نے درست کیا اور جس نے روزہ رکھا اس کے لئے یہ جائز ہے۔ اور اس کے روزہ کو واجب کا ادا کرنے والا سمجھا جائے گا۔
عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (کبھی ایسا ہوتا کہ) فجر ہو جاتی اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے تھے۔ پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
متفق علیہعائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ رات کو جماع فرماتے اور کبھی ایسا ہوتا کہ طلوع فجر ہو جاتی اور آپ ﷺ ابھی تک جنبی ہی ہوتے اور آپ ﷺ نے غسل نہ کیا ہوتا۔ آپ ﷺ اپنا روزہ پورا کرتے اور اسے قضا نہیں کرتے تھے۔ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے یہ بات مروان بن حکم کو اس وقت بتائی تھی، جب اسے اس مسئلے کے بارے میں پوچھنے کے لیے ان کے پاس بھیجا گیا تھا۔ یہ حکم رمضان اور غیر رمضان ہر قسم کے روزے کا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دن یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے، ایک کپڑے کو سارے بدن پر لپیٹنے سے، ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے اور صبح اور عصر (کی نماز) کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہاس حدیث میں نبی ﷺ نے دو دن روزہ رکھنے، دو طرح سے لباس پہننے اور دو قسم کی نمازوں سے منع فرمایا ہے: دو دن جن میں روزہ رکھنا حرام ہے وہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ہیں۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت میں حکمت یہ ہے کہ کھانے پینے اور خوشی کے دن میں روزہ رکھنا مناسب نہیں۔ دو طرح سے پہناوے جو حرام ہیں وہ ’اِشتمالُ الصَمَّاء‘ اور ’احتباء‘ ہیں۔ ’احتباء‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی سرین پر بیٹھے دونوں زانوں کو کھڑا کرے بایں کور کہ انھیں ہاتھ سے پکڑا رکھے یا پھر کسی کپڑے سے باندھ لے۔ ’اِشتمالُ الصَمَّاء‘ سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایک ہی کپڑے میں اپنے بدن پر اس طرح لپیٹ لے اور جسم کہیں سے کھلا نہ رہے، صحیح بخاری کی روایت میں یہ قید ہے: ”جب کہ اس شخص کی شرم گاہ پر کوئی شے نہ ہو“۔ دو قسم کی نمازیں جو ممنوع ہیں وہ صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد کی نمازیں ہیں، یہ ممانعت کفار کی مشابہت سے بچنے کے لئے سد ذریعہ کے طور پر ہے جو سورج کے طلوع و غروب کے اوقات میں سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔تاہم ان اوقات میں فرض نماز پڑھنا جائز ہے اگر اس نے اسے نہ پڑھا ہو، اسی طرح وہ نمازیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں جن کا کوئی سبب ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: مجھے میرے دوست ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تین چیزوں کی وصیت کی؛ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے، چاشت کی دو ركعت نماز پڑھنے اور سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی۔
متفق عليهابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ان کے دوست اور ساتھی یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو تین باتوں کی وصیت کی: 1- ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کی۔ 2- ہر روز چاشت کی دو رکعت نماز نماز پڑھنے کی۔ 3- سونے سے پہلے وتر کی نماز پڑھنے کی۔ یہ وصیت بطور خاص اس شخص کے لیے ہے، جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں جاگ نہیں سکے گا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اِدھر (مشرق) سے رات پڑنا شروع ہو جائے اور اُدھر (مغرب) سے دن ڈوبنے لگے تو اس وقت روزہ دار افطار کر لے“۔
متفق علیہروزے کا شرعی وقت طلوعِ فجر تا غروبِ آفتاب ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اپنی امت کو آگاہ کیا کہ جب مشرق کی جانب سے رات چڑھ آئے اور مغرب کی طرف سورج غروب ہونے کے ساتھ دن رخصت ہو جائے (تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے)۔ جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’جب رات ادھر سے چڑھ آئے اور دن ادھر سے رخصت ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار افطار کر لے‘‘۔یعنی ایسا ہونے پر روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے اور اس سے مزید تاخیر کرنا مناسب نہیں بلکہ اگر ایسا کیا گیا تو یہ برا سمجھا جائے گا۔ ( یہ حکم اس لیے ہے) تاکہ شارع کے حکم کی تعمیل اور فرماں برداری ہو، اور معلوم ہو سکے کہ کس وقت عبادت کرنی ہے اور کس وقت نہیں اور تاکہ نفس کو زندگی کی جائز لذتوں سے لطف اندوزی کی شکل میں اس کا حق مل سکے۔ آپ ﷺ کے فرمان: ”فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ“ میں دو معانی کا احتمال ہے: ایک: یا تو روزہ دار افطار کا وقت ہونے کے ساتھ ہی حکمی طور پر افطار کرنے والا ہو جائے گا اگرچہ وہ روزہ افطار کرنے والی کوئی شے نہ بھی کھائے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے بعض احادیث میں جو افطار جلد کرنے کا حکم آیا ہے اس سے مراد حسی طور پر افطار کرنے کی ترغیب دینا ہو گا تاکہ اس کا عمل شرعی معنی کے موافق ہو جائے۔ دوسرا: یا پھر مفہوم یہ ہو گا کہ اس پر افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اس میں جلدی افطار کرنے کی ترغیب ہے اور یہی معنی زیادہ بہتر ہے جس کی تائید صحیح بخاری کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ہے کہ ”فقد حلَّ الإفطار“ (تو افطار کا وقت ہو جاتا ہے)۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ اوقيہ سے کم (چاندی) میں زکوۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ نہیں اور نہ ہی پانچ وسَقْ (غلہ) سے کم میں زکوۃ ہے“۔
متفق علیہزکوۃ امیروں اور غریبوں کے مابین مواساۃ کا ایک ذریعہ ہے اس لیے یہ اس شخص سے وصول نہیں کیا جاتا جس کا مال کم ہو اور اس کی وجہ سے وہ امیر شمار نہ ہوتا ہو۔ نبی ﷺ نے مال کی اس کم ترین حد کو بیان کر دیا جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ جس شخص کے پاس اس کم ترین حد سے بھی کم مال ہو تو وہ فقیر گردانا جائے گا اور اس سے زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی۔ جس شخص کے پاس چاندی ہو اس پر زکوۃ تب تک واجب نہیں ہوتی جب تک کہ اس کی مقدار پانچ اوقیہ نہ ہو جائے۔ ہر اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں چنانچہ اس طرح سے چاندی سے زکوۃ کا نصاب دو سو درہم ہوگا جو کہ پانچ سو نوے (590) گرام کے برابر بنتے ہیں۔ جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اس پر تب تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ وہ پانچ یا پانچ سے زیادہ نہ ہوں۔ ان سے کم پر زکوۃ نہیں ہو گی۔ جس شخص کی ملکیت میں اناج اور پھل ہوں اس پر تب تک زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ ان کی مقدار پانچ وَسْق نہ ہو جائے۔ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اس طرح سے اس کا نصاب تین سو صاع ہو گا۔