Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی ﷺ نے نبوت کے بعد مکہ میں دس سال قیام کیا اور مدینہ میں بھی دس سال رہے اور یہ کہ اس ساری مدت کے دوران آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا۔ ایک دوسری حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبوت کے بعد مکہ میں آپ ﷺ کا قیام تیرہ سال رہا۔ ان دونوں احادیث میں تطبیق ایسے دی جائے گی کہ آپ ﷺ باقی تین سال چھپ کر رہے ۔ بعدازاں وحی کو محفوظ کر دیا گیا اور یہ پے درپے نازل ہونے لگی۔ چنانچہ جن لوگوں نےد س سال مدت بیان کی ہے انہوں نے گویا ان تین سالوں کو شمار ہی نہیں کیا یا پھر کسر کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے دس پر ہی اقتصار کر لیا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی پر غیرت نہیں کھائی، سوائے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے، حالانکہ وہ آپ ﷺ کی مجھ سے شادی کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی تھی۔ آپ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تو اسے خدیجہ کی سہیلیوں کے پاس بھیجتے تھے۔ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا غصہ ہوئیں اور فرمایا کہ آپ خدیجہ کا ذکر بہت زیادہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ نے میرے دل میں ان کی محبت ڈالی ہے“۔
عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ کے حق میں دعائے مغفرت کی، تو بدلے میں نبی ﷺ نے ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کی۔ عاصم احول نے عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی کی ہے۔ پھر انھوں نے اس کا استدلال نبی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے کیا: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ ”اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی“۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بنی اسرائیل کی قیادت انبیا کرتے تھے۔ انبیا ان کے سارے کام اسی طرح کرتے تھے، جس طرح حکمراں وسلاطین اپنی رعایا کے کام کرتے ہيں۔ جب بھی بنی اسرائیل کے اندر کوئی بگاڑ پیدا ہوتا، اللہ ایک نبی بھیج دیتا، جو اس بگاڑ کو درست کر دیتا۔ لیکن میری امت میں یہ کام کرنے کے لیے میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ میرے بعد خلیفے ہوں، جو بڑی تعداد میں ہوں گے اور ان کے درمیان اختلافات اور جھگڑے بھی رونما ہوں گے۔ چنانچہ صحابہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ایسے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہيں؟ آپ نے جواب دیا: جب ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ سے بیعت کر لی جائے، تو پہلے خلیفہ کی بیعت صحیح ہے اور اسے نبھانا پڑے گا، جب کہ دوسرے خلیفہ کی بیعت باطل ہے۔ اس طرح کی بیعت کروانا حرام ہے۔ دیکھو، خلفا کو ان کا حق دو، ان کی اطاعت کرو اور ان کی جو بات قرآن وحدیث کے خلاف نہ ہو، اسے مانو۔ کیوں کہ وہ جو کچھ تمھارے ساتھ کر رہے ہیں، اس کے بارے میں اللہ ان سے پوچھے گا اور ان سے حساب لے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کچھ صحابہ آپ کی بیویوں کے گھروں میں آئے۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم گھر کے اندر کس طرح عبادت کرتے ہيں؟ جب ان کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مقام کہاں اور ہم کہاں؟ آپ کے تو اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف جسے معلوم نہ ہو کہ اسے بخشا جائے گا یا نہيں، اسے زیادہ سے زیادہ عبادت کی ضرورت ہے، تاکہ بخشش کا سامان ہو جائے۔ اس کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ میں شادی نہیں کروں گا۔ کسی نے کہا کہ میں گوشت نہيں کھاؤں گا۔ جب کہ کسی نے کہا کہ میں بستر پر نہیں سوؤں گا۔ اس کی اطلاع جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ملی، تو آپ نے ناراضگی ظاہر کی۔ لوگوں سے خطاب کیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اس اور اس طرح کی بات کر رہے ہیں؟ اللہ کی قسم، میں تمھارے درمیان اللہ کى خشیت سے سب سے زیادہ متصف اور اس کا سب سے زیادہ تقوى رکھنے والا انسان ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں سوتا ہوں، تاکہ پورے نشاط کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھ سکوں، روزے کے بغیر رہتا ہوں، تاکہ روزے کی طاقت حاصل کر سکوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔ لہذا جس نے میرے طریقے سے منہ موڑا، کسی اور طریقے کو کامل طریقہ جانا اور میرے علاوہ کسى اور کى راہ کو اختیار کیا، وہ مجھ میں سے نہیں ہے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق سے جڑی ہوئی کچھ باتیں بیان کر رہی ہیں۔ وہ بتا رہی ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے کسی ایک کو چننے کا اختیار دیا جاتا، تو آپ زیادہ آسان کو چنتے، بشرطیکہ زیادہ آسان چيز گناہ کا سبب نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ اس سے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کہيں زیادہ دور بھاگتے اور زیادہ مشکل کا انتخاب کرتے۔ اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ اپنا حق معاف کر دیتے اور درگزر سے کام لیتے تھے۔ ہاں، اگر اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا، تو اللہ کے لیے انتقام لیتے۔ اللہ کے لیے آپ کو دوسروں کے مقابلے میں کہيں زیادہ غصہ آتا تھا۔