





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید کو کہتے ہوئے سنا ہے : میری خالہ مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور بولیں کہ اے اللہ کے رسول! میرا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو كے پانی سے پیا اور پھر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی۔
متفق علیہسیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ان کی خالہ انھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور عرض کیا کہ ان کا بھانجا بیمار ہے، تو آپ نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ نے وضو کیا، تو سائب رضی اللہ عنہ نے آپ کے اعضا سے ٹپکنے والے وضو کے پانی میں سے کچھ پیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے کھڑے ہوئے، تو آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو کبوتر کے انڈے کی طرح تھی۔
سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: "مجھ سے قریب ہو جاو"۔ تو میں آپ سے قریب ہوگیا, پھر آپ نے فرمایا : "اپنا ہاتھ اندر داخل کرو اور میری پیٹھ پر اسے پھیرو"۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے اندر گھسایا اور آپ کی پیٹھ پر اسے پھیرا، تو مہر نبوت میری دو انگلیوں کے بیچ میں آ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ ان سے مہر نبوت کے بارے میں پوچھا گيا، تو بتایا : "آپ کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کچھ بال تھے"۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھ سے قریب ہو جاؤ۔ پھر جب وہ آپ سے قریب ہوگئے، تو آپ نے ان سے فرمایا : میری قمیص کے اندر اپنا ہاتھ گھساؤ اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرو۔ انھوں نے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، تو ان کی دو انگلیوں کے درمیان مہر نبوت آ گئی۔ ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مہر نبوت کے بارے میں پوچھا گيا کہ وہ کیا ہے، تو فرمایا : یہ دراصل آپ کے دونوں مونڈھوں کے بیچ میں کچھ بال تھے۔
عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا یا پھر کہا کہ ثرید کھایا۔ ان سے اس بات کو روایت کرنے والے کا کہنا ہےکہنا ہے کہ میں نے ان سے کہا: کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے؟ تو کہا: ہاں! اور تمھارے لیے بھی۔ پھر یہ آیت پڑھی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مؤمن عورتوں کے حق میں بھی)۔ وہ کہتے ہیں: پھر میں گھوم کر آپ کے پیچھے آیا اور آپ کے دونوں کندھوں کے بیچ, بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب مہر نبوت دیکھی۔ وہ بند مٹھی کی طرح تھی، جس پر مسوں کی طرح کچھ تل تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی عبداللہ بن سرجس کہتے ہيں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا۔ ان کے شاگرد نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے آپ کے لیے مغفرت طلب کی ہے، تو کہا کہ ہاں! ساتھ ہی تمھارے لیے اور تمام ایمان والوں کے لیے بھی کی ہے، کیوںکہ اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہے : {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} [محمد: 19] (اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے حق میں بھی)۔ پھر عبد اللہ بن سرجس نے ان کو بتلایا کہ وہ گھوم کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے آئے اور آپ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی، جو آپ کے بائیں مونڈھے کے اوپری حصے سے قریب بند مٹھی کی شکل کی تھی اور جس پر کچھ ابھرے ہوئے نشانات تھے جن کا رنگ پورے جسم کے رنگ سے الگ تھا۔ یاد رہے کہ عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ان لوگوں کی حدیثوں کی مخالف نہیں ہے، جنھوں نے مہر نبوت کو گنجلک بال کہا ہے یا کبوتر کے انڈے سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ ان سارے اوصاف کا ایک ساتھ اس میں پایا جانا ممکن ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ڈرایا گیا، جس وقت اور کوئی نہیں تھا جسے ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ کی راہ میں اس وقت ستایا گیا، جس وقت کوئی اور نہیں تھا جسے ستایا جاتا۔ میرے اوپر تیس دن اور رات ایسے گزرے کہ میرے اور بلال کے پاس کچھ نہیں تھا، جسے کوئی جاندار کھاتا ہو، سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپاکر رکھتے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث میں بتایا ہے کہ جب آپ کھلے عام دین کی دعوت دینے لگے تو اس کی وجہ سے کافروں نے آپ کو ڈرایا اور ستایا اور اس وقت آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، جو ان اذیتوں کو آپ کے ساتھ جھیلتا۔ ساتھ تھا تو بس اللہ کا اور حمایت تھی تو بس اسی کی اور اس سب کو جھیلنے کی توفیق بھی اسی اللہ کی دی ہوئی تھی۔ پھر بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو کھانے پینے کی چیزوں کی کمی اور محتاجی کا بھی سامنا تھا۔ حالت یہ تھی کہ تیس دن اس طرح گزر گئے کہ آپ کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا، سوائے تھوڑی بہت چیز کے جو بلال رضی اللہ عنہ کے پاس رہتی اور جسے وہ اپنی بغل کے نیچے چھپا کر رکھتے، کیوں کہ ان کے پاس کھانا رکھنے کے لیے برتن نہیں تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے بھاگ کر نکلے تھے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ تو، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت ہے۔ آپ نے کہا: "اے ام فلاں! تم سوچ کر بتاو کہ کس راستہ پر تم مجھ سے اپنى حاجت بیان کرنا چاہتی ہو, تاکہ میں تمھاری حاجت پوری کرسکوں"۔ پھر ایک راستے میں آپ اس کے ساتھ لوگوں سے الگ ہوگئے، یہاں تک کہ اسے جس ضرورت کے تعلق سے بات کرنی تھی، کر چکی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ایک عورت دماغی اعتبار سے کچھ کمزور تھی۔ اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کچھ حاجت در پیش ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اے ام فلاں! کسی راستے کا انتخاب کر لو۔ تاکہ وہاں میں تمھارے ساتھ جا کر تمھاری حاجت سن کر اسے پورا کرسکوں۔ پھر آپ اس کے ساتھ ایک عام راستے میں جاکر کھڑے ہو گئے تاکہ اس کى حاجت پوری کرسکیں۔ یاد رہے کہ اسے اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اختیار کرنے کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ آپ عام گزرگاہ میں کھڑے تھے اور لوگ دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ بس اس کی بات نہیں سن رہے تھے۔ یہ دراصل آپ کی تواضع اور امت کے ساتھ رحمت و شفقت کے برتاو کی ایک مثال ہے۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "جب سے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی موت کی سختی دیکھی ہے، تب سے میں آسان موت کی وجہ سے کسی پر رشک نہیں کرتی"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب سے انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت درپیش سختی کا منظر دیکھا ہے، تب سے کسی کی آسان موت پر خوش نہیں ہوتیں اور آسان موت نصیب ہونے کی تمنا بھی نہیں کرتیں۔ کیونکہ وہ جان چکی تھیں کہ نہ تو موت کی سختی مرنے والے کے برے انجام کی دلیل ہے اور نہ آسان موت کوئی عزت افزائی کی بات ہے۔ اگر سچ مچ ایسا ہوتا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو آسان سے آسان تر موت نصیب ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ نہ وہ موت کی سختی کو ناپسند کرتی تھیں اور نہ کسی کی آسان موت پر خوش ہوتی تھیں۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ تب ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسی جگہ جہاں آپ کی وفات ہوئی ہے۔
اسے ابنِ سعد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ہوئی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اس مسئلے پر اختلاف ہو گیا کہ آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ اس صورت حال میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کو اسی جگہ دفن کر دو، جہاں آپ کی وفات ہوئی ہے۔ بعض روایتوں میں ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : سارے نبیوں کا انتقال انھیں جگہوں میں ہوا ہے، جہاں وہ دفن ہونا پسند کرتے تھے۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ، نبي صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کے بعد آپ کے پاس آئے، اپنا منہ آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ رکھا، اپنے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کنپٹیوں پر رکھے اور کہا : "ا"ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کے پاس آئے، آپ کی دونوں آنکھوں کے بیچ اپنا منہ اور آپ کى دونوں کنپٹیوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر آپ کا بوسہ لیا اور فرمایا : "ہائے نبی! ہائےمخلص دوست! ہائےبرگزیدہ شخصیت!"۔ یعنی ابو بکر رضی اللہ عنہآپ کى موت کى وجہ سے غم واندوہ اور تکلیف وپریشانی میں ڈوب گئے اور نبی صلى اللہ علیہ وسلم کو اس بات کے ساتھ یاد کیا کہ صلى اللہ علیہ وسلم ان کے مخلص دوست تھے، جن سے وہ تمام لوگوں سے زیادہ محبت کرتے تھے اور جن کو ہر ایک پر، یہاں تک کہ اپنے اوپر بھی ترجیح دیتے تھے۔ اسے عربی میں "النُّدبة" کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں میت کے محاسن اور فضائل بیان کرنا۔ اگر دل کے اندر مصیبت پر اعتراض اور بے صبری کی کیفیت نہ ہو، ساتھ ہی آواز اونچی نہ ہو، جیسا کہ عورتیں چیخ اور چلا کر روتی ہیں، تو یہ جائز ہے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہی کیا تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "جس دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی، تو اس کی ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کے بعد اپنے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے اور ابھی آپ کو دفن کرنے میں مشغول ہی تھے کہ ہم اپنے دلوں کو پہچان نہیں پا رہے تھے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ جب آپ مکہ سے ہجرت کرکے آئے اور پہلی بار مدینے میں داخل ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ روشن ہو گيا اور جس دن آپ فوت ہوئے، تو اس کا ذرہ ذرہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں روشن ہونے اور تاریکی چھانے کی جو بات کہی گئی ہے، وہ حسی نہیں، بلکہ معنوی ہے۔ انھوں نے آگے بتایا کہ جب وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہوئے، تو اپنے دلوں کو, وحی کا سلسلہ بند ہونے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت کی برکت سے محرومی کی وجہ سے, اس سابقہ روشن وآباد حالت میں نہیں پایا، کہ جس حالت میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کى حیات مبارکہ میں, انوار ایمانی, رقت کے نظاروں اور آپسی میل محبت کے جلؤوں کى بنا پر, اپنے دلوں کو پاتے تھے۔