





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو جب کہ وہ میرے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وارْحَمْنِي، وأَلْحِقْنِي بالرَّفِيقِ الأَعْلَى“ اے اللہ ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیقِ اعلی میں شامل کردے۔
متفق علیہجب رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ ﷺ اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیے اور آپ ﷺ اپنے رب سے دعا کر رہے تھے کہ وہ آپ ﷺ کو رفیق اعلی کے ساتھ ملا دے۔ رفیق اعلی سے مراد انیباء، صدیقین ، شہداء اور نیک لوگ ہیں۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کر رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”میں اندر اترتا ہوں“۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے جب کہ اس وقت (بھوک کی شدت کی وجہ سے) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا اور ہم لوگوں نے بھی تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ آپ ﷺ نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر مارا۔ چٹان بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی۔ (یہ سارا ماجرا دیکھ کر) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجیے۔ (گھا جاکر) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم ﷺ کو اس حالت میں دیکھاہے کہ مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ کیا تمھارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟ بیوی نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے۔ پھر ہم نے گوشت کو چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا۔ نبی کریم ﷺ سے میں نے عرض کیاکہ تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے۔ آپ ﷺ تشریف لے چلیں اور دو ایک دیگر افرادکو ساتھ لے لیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے؟ جب میں نے سب کچھ بتا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ ہے۔ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔ میں ابھی آ رہا ہوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے، تو اپنی بیوی سے کہا اب کیا ہو گا؟ رسول اللہ ﷺ تو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ بیوی نے پوچھا: نبی کریم ﷺ نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ ادھر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ، لیکن دیکھو، ازدحام نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپ ﷺ روٹی کا چورا کرکے اس پرگوشت ڈالنے لگے۔ جب بھی روٹی اور گوشت نکالتے، ہانڈی اور تنور دونوں کو ڈھانک دیا کرتے۔ ہانڑی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے قریب فرماتے اورنکال کر دیتے۔ اس طرح اس طرح روٹی کو توڑنے اور گوشت ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔ آخر میں آپ ﷺ نے (جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے) فرمایا: اب یہ کھانا خود تم کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو؛ کیونکہ لوگ آج کل فاقے میں مبتلا ہیں۔ ایک اور روایت میں جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خندق کھودی جا رہی تھی، تو میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ سخت بھوکے ہیں۔ میں فوراً اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہا: کیا تمھارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟ میں نے نبی کریم ﷺ کو انتہائی بھوک کی حالت میں دیکھا ہے! میری بیوی ایک تھیلا نکال کر لائی، جس میں ایک صاع جَو تھے۔ گھر میں ہمارا ایک بکری کا بچہ بھی بندھا ہوا تھا۔ میں نے بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو کو چکی میں پیسا۔ جب میں ذبح سے فارغ ہوا، تو وہ بھی جَو پیس چکی تھی۔ میں نے گوشت کی بوٹیاں کر کے ہانڈی میں رکھ دیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری بیوی نے پہلے ہی تنبیہ کر دی تھی کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا (کہ بہت سے آدمی آجائیں اور کھانا کم پڑ جائے)۔ چنانچہ میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کے کان میں یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جَو پیسے ہیں، جو ہمارے پاس تھے۔ پس آپ اپنے ساتھ چند آدمیوں کے ساتھ تشریف لے چلیں۔ (لیکن ہوا کچھ اور ہی) آپ ﷺ نے نہایت بلند آواز سے فرمایا کہ اے اہل خندق! جابر نے تمھارے لیے کھانا تیار کروایا ہے۔ بس اب سارا کام چھوڑ دو اور جلدی چلے چلو۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں آ نہ آجاؤں ہانڈی چولھے پر سے نہ اتارنا اور نہ آٹے کی روٹیاں پکانا شروع کرنا۔ میں اپنے گھر آیا۔ ادھر آپ ﷺ بھی صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ میں اپنی بیوی کے پاس آیا، تو وہ مجھے برا بھلا کہنے لگیں۔ میں نے کہا کہ تم نے جو کچھ مجھ سے کہا تھا، میں نے نبی ﷺ کے سامنے عرض کر دیا تھا۔ آخر میری بیوی نے گندھا ہوا آٹا نکالا اور آپ ﷺ نے اس میں اپنے لعاب دہن کی آمیزش کر دی اور برکت کی دعا کر دی۔ ہانڈی میں بھی آپ نے لعاب دہن کی آمیزش کی اور برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب ایک روٹی پکانے والی کو بلاؤ۔ وہ تمھارے ہم راہ روٹی پکائے اور گوشت ہانڈی سے نکالتی جائے، لیکن چولھے سے ہانڈی نہ اتارنا۔ صحابہ کی تعداد ہزار کے قریب تھی۔ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اتنے ہی کھانے کو سب نے اس قدر کھایا کہ بچا بھی رہ گیا۔ جب تمام لوگ واپس ہو گئے، تو ہماری ہانڈی اسی طرح ابل رہی تھی، جس طرح شروع میں تھی اور آٹے کی روٹیاں برابر پکائی جا رہی تھیں۔
متفق علیہجابر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے تفصیلی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین غزوۂ خندق کے موقع پر مدینے کے اطراف میں خندق کی کھدائی میں مصروف تھے، جو ان کے اور دشمنان اسلام کے درمیان رکاوٹ بن سکے۔ کھدائی کے دوران زمین کے ایک حصے میں سخت قسم کی چٹان کا ایک بڑا سا ٹکڑا نمودار ہوا، جس پر کلہاڑی اپنا کوئی اثر نہیں دکھا پا رہی تھی۔ صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس مشکل کا شکوہ کیا، تو آپﷺ خود خندق میں اترے، جب کہ بھوک کی شدت سے آپ نے اپنے پیٹ کو پتھر سے باندھ رکھا تھا، آپ نے کدال لی، جو کہ لوہے کا ایک اوزار ہے، جس سے پہاڑ کھودا جاتا ہے، اور اس سے چٹان پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نرم و نازک ریت میں تبدیل ہوگئی۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر گیا اور بیوی سے دریافت کیا کہ آیا گھر میں کھانے کی کوئی چیز موجود ہے یا نہیں؟ بیوی کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی شدید بھوک کا حال بھی بیان کیا۔ چنانچہ ان کی بیوی نے ایک چمڑے کا برتن نکالا، جس میں کچھ جَوتھی اور ان کے ہاں بکری کا ایک مادہ بچہ تھا، (بکری کے پہلے مادہ بچے کو عناق کہتے ہیں) جو گھر سے مانوس ہوچکا تھا، انھوں نے اسے ذبح کیا۔ اس دوران بیوی نے جو پیس لی اور پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔ ادھر جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور چپکے سے بتایا کہ انھوں نے آپﷺ کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے،جو آپ کے تمام ساتھیوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ہم راہ ان کے گھر کھانے پر تشریف لائیں۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے تمام اصحاب کو دعوت عام دیتے ہوئے ندا لگائی کہ اے خندق کھودنے والے ساتھیو!جابر نے کچھ کھانا تیار کیا ہے، جلدی سے ان کے گھر چلو!! پھر آپ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور گوندھا ہوا آٹا منگا کر اس میں اپنا لعاب دہن شامل فرمایا۔ اسی طرح ہانڈی میں بھی لعاب دہن کی آمیزش کی اور ان میں خیر و برکت کی دعا فرمائی۔ خیال رہے کہ یہ امر آپ ﷺ کی خصوصیات اور برکات سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ نے کھانا تیار کرنے میں جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بعض عورتوں کو طلب فرمایا۔ بالآخر سارے لوگ اس دعوت طعام میں شریک ہوئے اور سب کے سب شکم سیر ہوکر واپس لوٹ گئے اور کھانا اپنی اصل مقدار ہی میں باقی رہ گیا۔ ہانڈی میں اسی طرح ابال تھا اور گوندھے ہوئے آٹے سے اس طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔ گویا کسی طرح کی کمی واقع ہوئی ہی نہ ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے؛ ایک کوڑھی، ایک گنجا اور ایک نابینا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں بندوں کو آزمانا چاہا، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔ فرشتہ سب سے پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں سب سے زیادہ کیاچیز پسند ہے؟ اُس کوڑھی نے جواب دیا کہ اچھا رنگ، اچھی جلد اور یہ کہ مجھ کو لاحق یہ مرض دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کہتے ہیں کہ فرشتے نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی، اس کا رنگ خوبصورت ہوگیا اور جلد بھی اچھی ہوگئی۔فرشتے نے پوچھا: کس طرح کا مال تم زیادہ پسند کرتے ہو؟۔ اس نے جواب دیا اونٹ یا پھر اس نے کہا گائے، اس بارے میں راوی اسحاق کو شک ہے۔ اُسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دے دی گئی اور فرشتے نے اسے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے۔ پھر فرشہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اس نے کہا عمدہ بال اور یہ کہ میرا یہ عیب ختم ہوجائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا جس سے اس کا یہ عیب جاتا رہا اور اس کے عمدہ بال آگئے۔ فرشتے نے پوچھا کہ کس طرح کا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ گائے یا اونٹ۔ چنانچہ اُسے حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے اس سےکہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں برکت دے۔ پھر فرشتہ اندھے کے پاس گیا اور پوچھا کہ تمہیں کیا چیز پسند ہے؟ اندھے شخص نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔ فرشتے نے ہاتھ پھیرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹادی۔ فرشتے نے پوچھا کہ کس طرح کا مال تمہیں زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا کہ بکریاں۔ فرشتے نے اسے ایک حاملہ بکری دے دی۔ کوڑھی اور گنجے نے (اونٹ اور گائے کی) افزائش نسل کی اور اندھے نے بھی بکری کے بچے جنوائے۔ کوڑھی کے اونٹوں سے ایک وادی بھر گئی، گنجے کے گائے بیل سے ایک وادی بھر گئی اور اندھے کی بکریوں سے ایک وادی بھر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ دوبارہ اپنی اُسی شکل وصورت میں کوڑھی کے یہاں گیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین آدمی ہوں، سفر کا تمام سامان واسباب ختم ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پھر تمہاری مدد کے بنا میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا، میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں اچھا رنگ، اچھی جلد اور مال عطا کیا، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں جس پر میں اپنا سفر طے کر سکوں۔ اس نے فرشتے سے کہا کہ حقوق بہت زیادہ ہیں ( اس لیے تمہارے لیے گنجائش نہیں)۔ فرشتے نے کہا غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں، کیا تمہیں کوڑھ کی بیماری نہیں تھی جس کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کیا کرتے تھے اور کیا تم فقیر نہیں تھے اور پھر تمہیں اللہ نے مال عطا کیا۔ اس نے کہا کہ یہ سارا مال و دولت تو مجھے اپنے آباء اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ پھر فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں گنجے کے پاس گیا اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جو کوڑھی سے کہا تھا۔ اس گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔ فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی پہلی حالت پر لوٹا دے۔ آپ ﷺ کہتے ہیں کہ اس کے بعد فرشتہ اپنی اُسی شکل وصورت میں اندھے کے پاس گیا اور کہا کہ میں ایک نہایت مسکین اور مسافر آدمی ہوں، سفر کے تمام اسباب ووسائل ختم ہوچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پھر تمہاری مدد کے بنا میں اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ میں تم سے اسی ذات کا واسطہ دے کر جس نے تمہیں بینائی دی، ایک بکری مانگتا ہوں جس سے اپنے سفر کی ضروریات پوری کرسکوں۔اندھے نے جواب دیا کہ واقعی میں اندھا تھا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بینائی عطا فرمائی۔ جتنی چاہو بکریاں لے لو اور جتنی چاہو چھوڑ دو۔اللہ کی قسم! آج اللہ کے لیے جو چیز بھی تم لو گے اسے لینے سے میں تمہیں نہیں روکوں گا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ یہ تو صرف تم لوگوں کا امتحان تھا اور اللہ تعالیٰ تم سے راضی اور خوش ہے اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہے۔
متفق علیہنبی ﷺ بنی اسرائیل کے تین اشخاص کے بارے میں بتا رہے ہیں جن میں ہر ایک کو کوئی نہ کوئی جسمانی بیماری لاحق تھی اور وہ مالی طور پر تھی دست تھا۔ ان میں سے ایک کوڑھی تھا جو ایک بیماری میں مبتلا تھا اور اس کی جلد کا رنگ بدل چکا تھا۔ دوسرا گنجا تھا جس کے سر کے سارے یا کچھ بال اڑ چکے تھے اور تیسرا اندھا تھا ۔ اللہ تعالی نے انہیں پرکھنا چاہا اور ان کے ایمان اور شکر کا امتحان لینے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ انسانی صورت میں ان کی طرف ایک فرشتہ بھیج دیا۔ فرشتہ کوڑھی کے پاس آیا ۔ وہ سب سے پہلے کوڑھی کے پاس اس لیے آیا کیونکہ اس کی بیماری زیادہ قبیح، گندی اور بڑی تھی۔ فرشتے نے اس کوڑھی سے پوچھا کہ اسے کون سی شے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اچھی رنگت اور خوبصورت جلد اور یہ کہ میری یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے دور رہتے ہیں۔ اس نے صرف اچھے رنگ پر ہی اکتفاء نہیں کیا کیونکہ کوڑھ زدہ جلد سکڑ اور اینٹھ جاتی ہے اور اس میں کھردرا پن آ جاتا ہے جس سے اس بیماری میں مبتلا شخص کی بد صورتی اور عیب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ فرشتے نے پوچھا تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا: اونٹ یا پھر اس نے کہا کہ گائے۔ اس میں راوی کو شک ہے کہ آیا اس نے اونٹ سنا تھا یا گائے۔ راجح یہ ہے کہ یہ اونٹ ہی ہو کیونکہ اپنے اس قول میں اس نے صر ف اونٹنی کا ہی ذکر کیا ہے کہ: فأعطى ناقة حاملًا یعنی اُسے ایک ایسی حاملہ اونٹنی دے دی گئی جس کے حمل کو دس ماہ ہو چکے تھی۔ اونٹوں میں اس قسم کی اونٹنی سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ پھر فرشتے نے دعا کی کہ اللہ تمہارے لیے اس میں برکت دے۔ فرشتے کی دعا قبول ہو ئی جیسا کہ بقیہ حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا: تمہیں کون سی شے سب سے زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا: اچھے بال اور یہ کہ میرا یہ گنجا پن دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ کہتے ہیں کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ یا تو صرف اس جگہ پر ہاتھ پھیرا جو بیماری زدہ تھا اور اسی کا زیادہ احتمال ہے یا پھر اس کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا تاکہ برکت اس کے سارے بدن کو عام ہو جائے۔ چنانچہ اس کا گنجا پن ختم ہوگیا اور اسے خوبصورت بال دے دیے گئے۔ پھر فرشتے نے اس سے پوچھا کہ کون سا مال تمہیں زیادہ محبوب ہے؟ ۔ اس نے جواب دیا کہ گائے۔ اس پر اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی اور فرشتے نے اسے دعا دی اللہ تعالی تمہارے لیےاس میں برکت دے۔ فرشتے کی دعا قبول ہوئی جیسا کہ بقیہ حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر وہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا تمہیں کون سی شے زیادہ پسند ہے؟۔ اس نے جواب دیا یہ کہ اللہ تعالی مجھے میری بینائی واپس لوٹا دے اور میں لوگوں کو دیکھنا شروع کر دوں۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتے نے اپنا ہاتھ اس کی آنکھوں پر پھیرا ۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اس کے سارے بدن پر ہاتھ پھیرا ہو تاہم پہلی بات کا زیادہ امکان ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے اسے اس کی بینائی لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے دریافت کیا کہ تمہیں کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ ۔اس نے جواب دیا بھیڑ بکریاں۔ اسے بچے والی ایک بکری دے دی گئی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔ اونٹ اور گائے والے دونوں اشخاص نے ان کی افزائش نسل کی اور اسی طرح بکری والے نے بھی اس کی نسل آگے بڑھائی۔ چنانچہ کوڑھی کے اونٹوں سے پوری ایک وادی بھر گئی، گنجے کی گایوں سے ایک وادی بھر گئی نیز اندھے کی بھیڑ بکریوں سے بھی پوری ایک وادی بھر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اس کی سابقہ شکل اور ہیئت میں آیا بایں طور کہ اس نے گھٹیا قسم کے کپڑے پہن رکھے تھے وغیرہ ۔ صحت مند اور امیر ہو جانے کے بعد وہ فرشتہ اس کے پاس اسی شکل میں آیا جس شکل میں وہ پہلی دفعہ آیا تھا اور کہنے لگا کہ میں مسکین اور ضرورت مند آدمی ہوں، اپنے اس سفر کے دوران حصول رزق کی تلاش میں میرے تمام اسباب و وسائل منقطع ہو چکے ہیں ۔ میں آج اپنی منزل مقصود تک صرف اللہ کے سہارے اور اس کے بعد تمہارے تعاون سے پہنچ سکتا ہوں کیونکہ تم بھلے آدمی دکھائی دیتے ہو اور امیر ہو۔ فرشتے کی طرف سے یہ محض ایک توریہ تھا جس کا مقصد بات سمجھانا ہوتا ہے، ان باتوں کا حقیقی مفہوم مراد نہیں تھا۔ فرشتے نے کہا کہ میں اس ذات کی قسم دے کر تم سے رحم کی درخواست کرتا ہوں جس نے فقر وبیماری میں مبتلا رکھنے کے بعد تجھے خوش نما رنگ، خوبصورت جلد اور مال عطا کیا کہ مجھے ایک اونٹ دے دو جس سے میں اپنے سفر کی ضروریات پوری کر سکوں۔کوڑھی نے جواب دیا: میرے اوپر بہت سے حقوق ہیں۔ زائد از ضرورت کچھ ہے ہی نہیں کہ وہ میں تمہیں دے دوں ا س لیے میرے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈو۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ غالباً میں تمہیں پہچانتا ہوں۔ کیا تم کوڑھی نہیں تھے جس سے لوگ گھن کھاتے تھے اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے تجھے صحت عطا فرمائی اور کیا تم فقیر نہیں تھے اور پھر اللہ عزّ و جلّ نے تمہیں مال سے نوازا؟۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے تو یہ مال اپنے آباء و اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس نے اپنی اس خستہ حالی کا بالکل انکار کر دیا اور دعویٰ کیا کہ وہ تو اچھے حالات ہی میں پلا بڑھا ہے اور یہ اس کے لیے نئے نہیں ہیں۔ یہ نعمت کا انکار اور اس ذاتِ منعم کی ناشکری تھی جس پر اسے بخل نے آمادہ کیا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اسی حالت پر لوٹا دے جس پر تم پہلے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس اس کی اس شکل و ہیئت میں آیا جس سے لوگ نفرت کھاتے تھے اور اس کی خستہ حالی کی وجہ سے اسے حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ باجود اس کے کہ وہ اس کے پاس وہ اسی شکل و ہیئت میں آیا تھا جس پر وہ پہلی دفعہ آیا تھا اور جب اس کو صحت اور مال و دولت ملا تھا لیکن وہ اسے پہچاننے سے انکار کر بیٹھا اور اس سے انجان بن گیا اور یہ کہہ کر اس پر اظہار فخر بھی کیا کہ اسے تو یہ مال اس کے باپ کی طرف سے ملا ہے۔ اس نے اپنے جھوٹ کے ساتھ بہت سی دیگر بری باتوں کو بھی ملا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گھٹیاپن اور حماقت میں ایسی انتہاء کو پہنچ چکا تھا جہاں تک کوئی دوسرا نہیں پہنچا تھا۔فرشتے نے اس سے بھی وہی کچھ کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور گنجے نے اسے وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں پھر سے گنجا اور فقیر کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ فرشتہ ایک اندھے آدمی کا روپ دھار کر پہلی والی ہیئت میں اس اندھے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک مسکین اور مسافر آدمی ہوں ۔ دورانِ سفر میرے تمام وسائل منقطع ہو چکے ہیں اور اب اللہ کے بعد تمہارے ہی ذریعے میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہوں۔ میں اس ذات کا واسطہ دے کر تم سے ایک بکری مانگتا ہوں جس نے تمہیں تمہاری بینائی لوٹائی تاکہ اس سے میں اپنی ضروریاتِ سفر پوری کر سکوں۔ اس آدمی نے اپنے اوپر ہو نے والی اللہ کی نعمت اور بد حالی کے بعد ملنے والی اپنی خوشحالی کو یاد کر تے ہوئے کہا کہ میں اندھا تھا پھر اللہ تعالی نے میری بینائی واپس لوٹا دی۔ تم جتنا مال چاہو لے لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم! آج تم جو کچھ بھی لو گے اس کے سلسلے میں میں تجھے بالکل بھی تنگ نہیں کروں گا۔ فرشتے نے کہا کہ اپنا مال اپنے پاس رکھو۔ تم لوگوں کو پرکھا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جو تمام امور سے باخبر ہے تمہارا امتحان لیا تھا، تا کہ تمہارے عمل پر اس کا اثر مرتب ہو سکے کیونکہ عمل کی جزا اسی شے پر مرتب ہوتی ہے جو عالم شہود میں ظہور پذیر ہو نہ کہ اللہ کے پیشگی علم پر۔ اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں یعنی کوڑھی اور گنجے سے ناراض۔
جابر رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہاد کے ليے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کا سفر کیا، جب رسول اللہ ﷺ یہاں سے لوٹے، تو وہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ لوٹے وہ لوگ دوپہر کے وقت گھنے خار دار درختوں کی ایک وادی میں پہونچے، رسول ﷺ یہاں اتر پڑے، (صحابہ بھی اتر گئے) اور تمام لوگ سایہ کی تلاش میں پھیل گئے، رسول اللہ ﷺ کیکر کے ایک درخت کے نیچے فرو کش ہوئے اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اس سے لٹکا دی، ہم لوگ تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ یکایک رسول اللہ ﷺ ہمیں پکارنے لگے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اعرابی (بدو) آپ ﷺ کے پاس ہے، آپ نے فرمایا: اس شخص نے مجھ پر میری تلوار کھینچی تھی، جب کہ میں سویا ہوا تھا میں بیدار ہوا تو یہ اس کے ہاتھ میں سونتی ہوئی تھی، اس نے کہا: اب آپ (ﷺ) کو مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ، اور تین مرتبہ کہا کہ اللہ بچائے گا۔ آپ ﷺ نے اس دیہاتی کو کوئی سرزنش نہیں کی اور بیٹھ گئے۔ (متفق علیہ)۔ ايک دوسری روايت ميں جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں: جنگ ذات الرقاع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے پس جب ہم ایک گھنے سائے والے درخت کے پاس آئے تو ہم نے اسے رسول اللہ ﷺ کے ليے چھوڑ دیا، مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور رسول اللہ ﷺ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار کھینچ لی اور کہا: تو مجھ سے ڈرتا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نہیں، اس نے کہا: تجھے آج مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ!‘‘ اور صحیح ابو بکر اسماعیلی کی روايت میں اس طرح ہے: ديہاتی نے کہا: تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا:اللہ، راوی کہتے ہیں ( اتنا سننا تھا) کہ کافر کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: (تو بتلا) تجھے، مجھ سے کون بچاے گا؟، کافر کہنے لگا: آپ بہتر تلوار پکڑنے والے ہوئیے (یعنی احسان کیجیے)، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، البتہ میں آپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آپ سے لڑوں گا نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ ديا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا: میں تمہارے یہاں سب سے اچھے انسان کے پاس سے آ رہا ہوں۔
متفق علیہاس حديث ميں جابر رضي اللہ عنہ بيان فرما رہے ہيں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، اور يہ جنگ سيرت لکھنے والوں کے يہاں ذات الرقاع کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ جنگ سے لوٹتے وقت، آپ ﷺ دوپہر ميں ایسی جگہ اترے، جہاں گھنے کانٹے دار درخت تھے، اور لوگ بھی نبی ﷺ سے الگ ہوکر ایسی جگہ تلاشنے لگے جہاں سورج کی تپش سے بچ کر سایہ حاصل کر سکیں، اور رسول اللہ ﷺ ایک سایہ دار درخت کے نیچے فرو کش ہوئے جسے سمرۃ یعنی کیکر کہا جاتا ہے، اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اسی درخت سے لٹکا دی اور سو گئے، صحابۂ کرام بھي سو گئے پھر جن لوگوں سے اس غزوہ میں جنگ ہوئی تھی انہیں ميں سے ايک ديہاتی چپکے سے آپ کے پاس آيا اور لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہ پڑی، اس نے آپ کی تلوار نہایت خاموشی سے اٹھا لی، آپ ﷺ جاگ گئے، تلوار اس کے ھاتھ میں تھی اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہوے کہہ رہا تھا: ’’اگر ميں تم کو قتل کرنا چاہوں تو تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمايا: ’’اللہ‘‘، اور يہ جملہ تین مرتبہ فرمايا، اس کا مطلب يہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مجھے تجھ سے بچالے گا۔ آپ ﷺ نے يہ جملہ پورے اعتماد و توکل اور بھروسہ کے ساتھ کہا آپ کو اللہ کے وعدہ پر یقین تھا، کافر کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: ’’اب تجھے‘ مجھ سے کون بچاے گا؟‘‘ یعنی اگر میں تجھے قتل کرنا چاہوں۔ کافر کہنے لگا: (آپ اچھی طرح پکڑنے والے ہوئیے)، اس سے مراد عفو و در گذراور برائی کا بدلہ بھلائی سے دينے کے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمايا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، ليکن اس نے آپ سے نہ لڑنے اور اسی طرح آپ سے جنگ کرنے والوں کا ساتھ نہ دینے کا وعدہ کيا، آپ ﷺ نے اسے اس کی راہ پر چھوڑ ديا، اور وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جاکر ان سے کہا: ميں آج (دنيا کے) سب سے افضل وبہتر شخص کے پاس سے آيا ہوں۔ اور حقيقت بھی يہی ہے کيوں کہ نبی ﷺ اخلاق و کردار میں سب سے بہتر تھے، اور اللہ نے بھی اپنے اس فرمان کے ذریعہ اس بات کی گواہی دی ہے: ’’اے نبی تم سب سے بڑے اور عمدہ اخلاق پر ہو۔‘‘
ابو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی رہے اور آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ جب مسلمانوں اور مشرکین کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان پیٹھ پھیرکر بھاگ اٹھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑ لگایا اور کفار کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور اس خیال سے اسے روک رہا تھا کہ کہیں وہ تیز نہ ہو جائے جب کہ ابوسفیان نے رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھام رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔عباس رضی اللہ عنہ جو ایک بلند آواز آدمی تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی آواز کو پوری طرح بلند کر کے پکارا: اصحاب سمرہ کہاں ہیں؟۔ اللہ کی قسم! انہوں نے جب میری آواز سنی تو اس طرح پلٹے جیسے گائے اپنے بچوں پر پلٹ کر آتی ہے اور ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں کہتے ہوئے کفار سے بھڑ گئے۔ انصار میں اے انصاریو! اے انصاریو! کی پکار لگ رہی تھی۔ بعد ازاں یہ پکار صرف بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر تشریف فرما تھے اور وہیں سے آپ ﷺ نے اوپر ہو کر ان کی لڑائی کو دیکھا اور فرمایا: اب میدان جنگ پوری طرح گرم ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے کچھ کنکریاں لیں اور انہیں کفار کےچہروں کی طرف پھینکا اور فرمایا: محمد کے رب کی قسم! یہ کافر شکست کھا چکے ہیں۔ میں برابر لڑائی دیکھ رہا تھا اور مجھے وہ جوں کی توں نظر آ رہی تھی لیکن اللہ کی قسم! جونہی آپ ﷺ نے ان کو اپنی وہ کنکریاں ماریں تب سے ان کی شدت میں مسلسل کمی واقع ہونا شروع ہو گئی اور وہ پسپا ہوتے چلے گئے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو الفضل عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا تو کچھ مسلمان مشرکین کو پیٹھ دے کر بھاگ اٹھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خچر کو ایڑ لگا کر اسے کفار کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے خچر کی لگام پکڑ رکھی تھی اور اسے دشمن کی جانب بڑھنے سے روک رہا تھا جب کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی رکاب تھام رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے عباس! اصحاب سمرہ کو پکارو۔ سمرہ (ببول) وہ درخت ہے جس کے نیچے صحابہ کرام نے ہجرت کے چھٹے سال صلح حدیبیہ کے دن بیعت کی تھی۔عباس رضی اللہ عنہ ایک قوی آواز شخص تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی آواز کو پوری طرح بلند کر کے پکارا: اے اصحابِ سمرہ؟۔ یعنی درخت تلے ہونے والی اپنی اس بیعت اور اس کے تقاضے کو فراموش مت کرو۔ اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز کو سنا کہ میں انہیں پکار رہا ہوں تو وہ اس سرعت سے آئے جیسے گائیوں کے ریوڑ سے جب ان کے بچے اوجھل ہو جائیں تو وہ تیزی سے آتی ہیں۔ وہ بیک زبان یا فردا فردا کہہ رہے تھے: اے قوم! ہم حاضر ہیں، اے قوم! ہم حاضر ہیں۔ مسلمانوں اور کفار کے مابین لڑائی شروع ہو گئی۔انصاریوں کے لیے یہ پکار لگ رہی تھی: اے انصاریو! اے انصاریو!۔ پھر یہ پکار صرف بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو کر رہ گئی اور اے بنو حارث! کی پکار لگ رہی تھی۔ بنو حارث ایک بہت بڑا قبیلہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خچر پر سوار تھے اور اسی حالت میں آپ ﷺ نے گویا اپنی گردن بلند کرتے ہوئے ان کفار کے ساتھ لڑائی کو دیکھا اور فرمایا: اس وقت لڑائی خوب گرم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ کنکریاں اٹھا کر انہیں ان کافروں کے چہروں پر مارا اور بطور اچھے شگون یا خبر دینے کی غرض سے فرمایا کہ محمد کے رب کی قسم! یہ کفار شکست کھا چکے ہیں۔ میں دیکھنے گیا تو مجھے لڑائی اپنی حالت پر قائم نظر آئی۔ اللہ کی قسم! جب سے آپ ﷺ نے ان کو اپنی وہ کنکریاں ماریں، تب سے ان کازور ٹوٹنا شروع ہو گیا اور اُن کی حالت مسلسل ابتر ہو نے لگی۔
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا پس ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے چھپالیا اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ“۔
متفق علیہرسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند کے دو الگ الگ ٹکڑے ہوئے، ہر ٹکڑا اپنی الگ جگہ پر ہوگیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! گواہ رہ، یعنی اس بات پر کہ میں نے ان کو اپنی نوبت کے سچے ہونے پر دلیل دکھائی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہيں: زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کی) شکایت لے کر (آپ ﷺکے پاس) آئے، تو نبی ﷺ ان سے فرمانےلگے: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو“، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اگر رسول اللہ ﷺ کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ وہ بیان کرتے ہیں: چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات پر اپنی فوقیت جتاتے ہوئے کہتی تھیں: تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی اور میری شادى اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے کی ہے۔ ثابت رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ یہ آیت: ﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ﴾ ”اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے“۔ (الاحزاب: 37) زینب رضی اللہ عنہا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شكايت لے کر آئے اور انہیں طلاق دینے کے بارے میں آپ ﷺ سے مشورہ طلب کیا۔ اللہ تعالی نے اپنے رسول کو بذریعہ وحی اس بات سے مطلع کر دیا تھا کہ عنقریب آپ ﷺ زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کریں گے۔ اللہ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع زید رضی اللہ عنہ کے طلاق دینے سے پہلے ہی دے دی تھی۔ جب زید رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس ان كی شکایت لے کر آئے اور انہیں طلاق دینے کے بارے میں آپﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: "اے زید! اللہ سے ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو۔" اس پر اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی اپنے اس فرمان کے ذریعہ سرزنش کی: ﴿وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا﴾ ”(یاد کرو) جب کہ آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ نے بھی کہ تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے دل میں وه بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ﻇاہر کرنے واﻻ تھا اور آپ لوگوں سے خوف کھاتے تھے، حاﻻنکہ اللہ تعالیٰ اس کا زیاده حق دار تھا کہ آپ اس سے ڈريں، پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا“۔ (الاحزاب: 37) آپ ﷺ جس بات کو چھپا رہے تھے وہ آپ ﷺ کا زینب رضی اللہ عنہ سے نکاح کو ناپسند کرنا تھا اس خوف سے کہ لوگ یہ باتیں کریں گے کہ آپ ﷺ نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی۔ ”انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: اگر رسول اللہ ﷺ كو کسی بات کو چھپانا ہوتا تو اس بات کو چھپاتے۔“ یعنی اگر بفرض محال جو شرعاً ممنوع ہےٍ، وحی کی کسی بات کو چھپايا گيا ہوتا تويہی آیت ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ شرعاً ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اس آیت میں غور و تامل کرنے والے شخص کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سچائی کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی آپ ﷺ کے دل میں آنے والے لوگوں کے خوف کے بارے میں بتلا رہا ہے، اور اللہ نے جو فرمایا آپ ﷺ نے وہ سب کچھ جوں کا توں لوگوں تک پہنچا دیا حالانکہ اس میں آپ ﷺ پر کی گئی سرزنش کا ذکر ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص کذاب ہوتا ہے وہ ہر اس بات سے گریز کرتا ہے جس میں اس پر کچھ ملامت کا پہلو ہو۔ اللہ تعالی کا فرمان: ﴿عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ﴾ اور اس طرح کی دیگر قرآنی آیات اسی قبیل سے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ “زینب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی دیگر ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں”۔ زینب رضی اللہ عنہا اس بات کو بہت اہمیت دیتی تھیں کہ ان کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور یہ ان کےلیے بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اور یہ کہ اس فضیلت کے اعتبار سے آپ ﷺ کی ازواج میں سے کوئی بھی ان کی ہم پلہ نہیں۔ چنانچہ وہ کہا کرتی تھیں: ”تمہارا نکاح تو تمہارے اہل خانہ نے کیا ہے جب کہ میرا نکاح اللہ تعالی نے سات آسمانوں کے اوپر سے کیا ہے۔“ حدیث کے اس قدر حصے میں اس بات کا ثبوت وبيان ہے کہ ایمان والوں کے نزدیک اللہ کی ذات بلند وبرتر ہے۔ یہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے نزدیک مسلمہ بات ہے ماسوا ان لوگوں کے جن کی فطرت ہی بگڑ چکی ہو۔ ہراس مسلمان کے نزدیک جس کی فطرت میں کجی نہ ہو، یہ سمعی و عقلی اور فطری اعتبار سے ثابت شدہ صفات میں سے ہے۔ زینب رضی اللہ عنہ کا کہنا کہ: ”میرا نکاح اللہ نے کرایا“ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اپنے اس فرمان: ﴿فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا﴾ کے ذریعے ان سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ کے ساتھ ان کا نکاح کرانے کی ذمہ داری اللہ نے لی۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، ہم رات بھر چلتے رہے اور جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ ڈالا اور مسافر کے لیے اس وقت کے پڑاؤ سے زیادہ مرغوب اور کوئی چیز نہیں ہوتی ( پھر ہم اس طرح غافل ہو کر سو گیے ) کہ ہمیں سورج کی گرمی کے سوا کوئی چیز بیدار نہ کر سکی۔ سب سے پہلے بیدار ہونے والا شخص فلاں تھا، پھر فلاں پھر فلاں، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور جب نبی کریم ﷺ آرام فرماتے تو ہم آپ کو جگاتے نہیں تھے یہاں تک کہ آپ خود بخود بیدار ہوں کیوں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ پر خواب میں کیا تازہ وحی آتی ہے۔ جب حضرت عمر جاگ گیے اور یہ آمدہ آفت دیکھی اور وہ ایک نڈر آدمی تھے، وہ زور زور سے تکبیر کہنے لگے۔ اسی طرح با آواز بلند، آپ اس وقت تک تکبیر کہتے رہے جب تک کہ نبی کریم ﷺ ان کی آواز سے بیدار نہ ہو گیے۔ تو لوگوں نے پیش آمدہ مصیبت کے متعلق آپ ﷺ سے شکایت کی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ:کوئی حرج نہیں۔ سفر شروع کرو۔ پھر آپ تھوڑی دور چلے، اس کے بعد آپ ٹھہر گیے اور وضو کا پانی طلب فرمایا اور وضو کیا اور اذان کہی گئی۔پھر آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ نماز پڑھانے سے فارغ ہوئے تو ایک شخص پر آپ کی نظر پڑی جو الگ کنارے پر کھڑا ہوا تھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ: اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہونے سے کون سی چیز نے روکا؟۔ اس نے جواب دیا کہ: مجھے غسل کی حاجت ہو گئی اور پانی موجود نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ: تم مٹی کے ذریعے(تیمم) کرلیتے یہ تمہارے لیے کافی ہوتا۔۔ پھر نبی کریم ﷺ نے سفر شروع کیا تو لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ ٹھہر گیے اور فلاں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی طلب فرمایا۔ ان دونوں سے آپ نے فرمایا کہ جاؤ پانی تلاش کرو۔ یہ دونوں نکلے۔ راستہ میں ایک عورت ملی جو پانی کی دو مشکیزے اپنے اونٹ پر لٹکائے ہوئے بیچ میں سوار ہو کر جا رہی تھی۔ انھوں نے اس سے پوچھا کہ پانی کہاں ملتا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ کل اسی وقت میں پانی پر موجود تھی ( یعنی پانی اتنی دور ہے کہ کل میں اسی وقت وہاں سے پانی لے کر چلی تھی آج یہاں پہنچی ہوں ) اور ہمارے قبیلہ کے مرد لوگ پیچھے رہ گیے ہیں۔ انھوں نے اس سے کہا۔ اچھا ہمارے ساتھ چلو۔ اس نے پوچھا، کہاں چلوں؟ انھوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں۔ اس نے کہا، اچھا وہی جن کو لوگ صابی کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا، یہ وہی ہے، جسے تم کہہ رہی ہو۔اچھا اب چلو۔ آخر یہ دونوں حضرات اس عورت کو آپ ﷺ کی خدمت مبارک میں لائے۔ اور سارا واقعہ بیان کیا۔ عمران نے کہا کہ لوگوں نے اسے اونٹ سے اتار لیا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک برتن طلب فرمایا۔ اور دونوں مشکیزوں کے منہ اس برتن میں کھول دیے ، پھر ان کا اوپر کا منہ بند کر دیا۔ اس کے بعد نیچے کا منہ کھول دیا اور تمام لشکریوں میں منادی کر دی گئی کہ خود بھی سیر ہو کر پانی پئیں اور اپنے تمام جانوروں وغیرہ کو پلا لیں۔ پس جس نے چاہا پانی پیا اور پلایا (اور سب سیر ہو گیے) آخر میں اس شخص کو بھی ایک برتن میں پانی دیا جسے غسل کی ضرورت تھی۔ آپ نے فرمایا، لے جاؤ اور غسل کر لو۔ وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی سے کیا کیا کام لیے جا رہے ہیں اور اللہ کی قسم! جب پانی لیا جانا ان سے بند ہوا، تو ہم دیکھ رہے تھے کہ اب مشکیزوں میں پانی پہلے سے بھی زیادہ موجود تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کچھ اس کے لیے (کھانے کی چیز ) جمع کرو۔ لوگوں نے اس کے لیے عمدہ قسم کی کھجور ( عجوہ ) آٹا اور ستو اکٹھا کیا یہاں تک کہ بہت سارا کھانا اس کے لیے جمع ہو گیا۔ تو اسے لوگوں نے ایک کپڑے میں رکھا اور عورت کو اونٹ پر سوار کر کے اس کے سامنے وہ کپڑا رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کر دیا۔پھر وہ اپنے گھر آئی، دیر کافی ہو چکی تھی اس لیے گھر والوں نے پوچھا کہ اے فلانی! کیوں اتنی دیر ہوئی؟ اس نے کہا، ایک عجیب بات ہوئی وہ یہ کہ مجھے دو آدمی ملے اور وہ مجھے اس شخص کے پاس لے گیے جسے لوگ صابی کہتے ہیں۔ وہاں اس طرح کا واقعہ پیش آیا، اللہ کی قسم! وہ تو اس کے اور اس کے درمیان سب سے بڑا جادوگر ہے اور اس نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اشارہ کیا۔ اس کی مراد آسمان اور زمین سے تھی۔ یا پھر وہ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ اس کے بعد مسلمان اس قبیلہ کے دور و نزدیک کے مشرکین پر حملے کیا کرتے تھے۔ لیکن اس گھرانے کو جس سے اس عورت کا تعلق تھا کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ یہ اچھا برتاؤ دیکھ کر ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ لوگ تمہیں جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ تو کیا تمہیں اسلام کی طرف کچھ رغبت ہے؟ قوم نے عورت کی بات مان لی اور اسلام لے آئی۔
متفق علیہاس حدیث میں چند ایسے احکام اورمعجزات بیان کیے گیے ہیں جو صحابہ کے سامنے ظاہر ہوئے تھے۔ واقعہ یوں ہے کہ صحابہ کرام ایک سفر پر تھے کہ ان پر نیند غالب آ گئی اور نمازِ فجر کا وقت نکل گیا۔ایسی حالت میں رسول اللہﷺ نے صحابہ کو جو چیزبتائی تھی وہ یہی تھی کہ قضاء نماز کو ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔ اور دوسرا معاملہ یہ تھا کہ صحابہ میں سے کوئی جنبی بھی ہو گیا اور ان کے پاس پانی بھی نہیں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو تیمم کا حکم دیا۔ تو اس سے یہ پتہ چلا کہ پانی کی غیر موجودگی میں تیمم غسل سے کفایت کر جاتا ہے۔ تیسرا معاملہ: آپ ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا، ہوا یہ کہ لوگوں نے آپﷺ کے سامنے پیاس اور پانی کی غیر موجودگی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو پانی تلاش کرنے کے لیے بھیجا لیکن انہیں کہیں سے بھی پانی نہ ملا۔ انہیں ایک عورت ملی جس کے پاس پانی کے دو مشکیزے تھے تو وہ اس کو رسول اللہﷺ کے پاس لے آئے۔ آپﷺ نے اس سے ایک مشکیزہ پکڑا،اوراللہ تعالیٰ سے دعا کی یہاں تک کہ پانی بہہ پڑا، صحابہ نے خود بھی پانی پیا ،اپنے جانوروں کو بھی پلایا یہاں تک کہ جو شخص جنبی تھا اس نے بھی پانی لیا اورغسل کیا۔ اس عورت نے اپنا مشکیزہ پکڑا اوریہ کہنے لگی کہ یہ تو ویسے کا ویسے ہی بھرا ہے جیسے پہلے بھرا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے کھانے پینے کا سامان اکٹھا کروا کر بطور محنتانہ بھی دیا جس کی وجہ سے آگے چل کر وہ خود بھی مسلمان ہو گئی اور اس کا پورا قبیلہ بھی مسلمان ہو گیا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب نبی ﷺ جنگِ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: ”آپ نے ہتھیار اتار دیے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے، چلیے ان کی طرف (حملہ کے لیے) نکلیے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کن پر ؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ان پر اور انہوں نے (یہود کے قبیلہ) بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ نبی ﷺ نے بنو قریظہ کی طرف (چڑھائی کے لیے) نکلے“۔
متفق علیہغزوۂ خندق سے جب نبی ﷺ واپس ہوئے، اسے غزوۂ احزاب بھی کہتے ہیں اس میں اللہ نے قریش اور ان کے معاونین پر آپ ﷺ کی مدد فرمائی، اور اپنے گھر میں داخل ہوئے ہتھیار رکھ دیا اور معرکہ و جنگ کے گرد و غبار کو اتارنے کے لیے غسل فرمایا تو جبریل علیہ السلام آئے اور کہنے لگے: آپ نے ہتھیار رکھ دیا حالانکہ فرشتوں کی جماعت ابھی بھی تیار ہے اور ہتھیار نہیں رکھا ہے، پھر انہوں نے بنو قریظہ سے قتال کے لیے چڑھائی کا حکم دیا، مدینہ کے کنارے بسنے والے یہودیوں کا ایک گروہ تھا جسے بنو قریظہ کہتے ہیں، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑ کر کفار کی مدد کی تھی، تو نبی ﷺ اپنے پاس موجود صحابہ کے ساتھ نکلے اور ان سے قتال و جہاد کیا اور اللہ نے ان کے دشمنوں پر ان کی مدد فرمائی۔