Hadeeth Cards

Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ اور بعض کہتے کہ ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو باہر نکلے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا:تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟ یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ اور کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔ تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس رک جاؤ۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
line

صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور بعض روایات کے مطابق ان کا تقدیر کے کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ بعض نے اپنے قول پر کتاب اللہ کی آیت کو بطور استدلال پیش کیا اور دوسروں نے اپنے استدلال پر کتاب اللہ کی آیت کو پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سنا تو غصے کی حالت میں باہر نکلے اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ تھا مانو آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانوں کا جوس نچوڑا دیا گیا ہو۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ اختلاف، جھگڑا اور قرآن میں تنازع اور قرآن کے بعض کو بعض سے متنازع کرنا، کیا تمہاری تخلیق کا مقصد یہی ہے؟یا اس کا اللہ نے حکم دیا ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا کہ سابقہ امتوں کی گمراہی کا سبب بھی اسی طرح کے معاملات تھے۔ پھر ان کی اس طرف رہنمائی فرمائی جس میں ان کی اصلاح اور فائدہ ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے روکا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ یہ کام ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جس میں تمہارے لیے فائدہ اور اصلاح ہے۔

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے معاملے میں جھگڑے نہ کیا کرو کیونکہ اس میں جھگڑنا کفر ہے“۔

اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔
line

نبی کریم ﷺ نے قرآن کریم کے معاملے میں جھگڑنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کسی شخص نے کسی آیت کی تلاوت یا کلمے کو سنا جو اس کے پاس نہیں یا اس کا اسے علم نہیں تو جلدبازی کرتے ہوئے پڑھنے والے کو خطا کار گردان دے اور جو اس نے پڑھا ہے اسے غیرِقرآن سے منسوب کر دے، یا پھر وہ کسی آیت کے معنی میں جھگڑتا ہے جس کا اسے علم نہیں تو اسے گمراہ قرار دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ جھگڑا اس کے سامنے حق کے ظاہر ہونے کے باوجود اس کو حق سے پھیر دیتا ہے۔ اسی لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کا نام کفر رکھا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ صاحبِ جدال کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس سے اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے یا یہ مباح اور محمود اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب سوال کرنے والا حصولِ علم یا اظہارِ حق کے لیے سوال کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”ان سے اچھے انداز میں بحث ومباحثہ کیجیے“۔

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے ہوکر کہتے ہوئے سنا ہے:" {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} [سورہ الأنفال: 60] (تم ان کے مقابلے میں طاقت بھر قوت کی تیاری کرو), سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے۔ سن لو! قوت تیر اندازی ہے"۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوت کی تفسیر بیان کی ہے، جسے دشمنوں اور کافروں کے مقابلے کی خاطر تیار رکھنے کا حکم دیا گيا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس قوت سے مراد تیر اندازی ہے، کیونکہ یہ دشمن پر زیادہ کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرے سے کہیں زیادہ محفوظ بھی رکھتی ہے۔ حدیث میں "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے اور جس وقت یہ آیت اتری تھی، اس وقت میدان جنگ میں تیر چلائے جاتے تھے۔ لیکن اس آیت کا اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق قوت کا لفظ آيا ہے، تاکہ زمان و مکان کی قیود سے ماورا ساری قوتیں اس میں شامل ہو جائیں۔ اسی طرح حدیث کا بھی علمی اعجاز دیکھیے کہ اس میں مطلق "الرمي" یعنی پھینکنے اور چلانے کا لفظ آیا ہے، جس میں پھینکنے اور چلانے کی ساری شکلیں شامل ہیں، چاہے وہ نئی سے نئی ہی کیوں نہ ہوں اور جدید سے جدید ہتھیاروں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہوں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔

متفق علیہ
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور جب لوگ ایسا ہوتا ہوا دیکھ لیں گے، تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت کافر کو ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا اور نہ عمل صالح اور توبہ ہی کچھ کام دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی۔ ہوگا یہ کہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ چنانچہ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ خرید وفروخت کرنے والے دو لوگ اپنے درمیان دیکھنے دکھانے کے لیے کپڑا پھیلا چکے ہوں گے، لیکن نہ تو خرید و فروخت کر پائیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے۔ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ انسان اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آچکا ہوگا، لیکن اسے پی نہ سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ انسان اپنا حوض درست اور تیارکر رہا ہوگا، لیکن اس سے پانی نہیں پی سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ انسان اپنا لقمہ منہ تک اٹھا چکا ہوگا، لیکن کھا نہیں سکے گا۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے اہل جنت! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: جی ہاں! یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ منادی کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جہنم! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیں گے : جی ہاں، یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کیا جائے گا اور اعلان کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو، تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ اور اے اہل دوزخ! تم ہمیشہ دوزخ میں رہو، اب تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ} [سورۃ مریم: 39] یعنی یہ دنیا دار غفلت میں پڑے ہیں اور یہ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘

متفق علیہ
line

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ موت کو قیامت کے دن نر مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، جس کا رنگ سفید و سیاہ ہوگا۔ پھر ندا لگائے جائے گی: اے جنت والو! چنانچہ وہ آواز سن کر اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی ان سے پوچھے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے اور پہچان رہے ہوں گے۔ پھر ندا لگانے والا ندا لگائے گا: اے جہنمیو! یہ سن کر وہ اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی کہے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کر دیا جائے گا اور منادی کہے گا : اے جنتیو! تم ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ یہ اعلان اس لیے کیا جائے گا کہ ایمان والے نعمتوں کا لطف لے سکیں اور کافروں کے عذاب میں سختى پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے، جب کہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے.} معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے گا اور وہاں ہمیشگی کی زندگی گزارے گا۔ اس دن بدکار کو حسرت وندامت ہوگی کہ اس نے نیکی نہیں کی اور کوتاہی کرنے والے کو حسرت وپشیمانی ہوگی کہ اس نے خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: اہل کتاب، تورات کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب نہ کرو، بلکہ یوں کہو کہ: {ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔} [البقرة: 136]

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس بات سے خبردار کیا ہے کہ وہ اہل کتاب کی ان باتوں سے دھوکہ نہ کھائے، جو وہ اپنی کتابوں کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہود عبرانی زبان میں تورات پڑھا کرتے تھے، جو کہ یہودیوں کی زبان ہے اور پھر عربی میں اس کی تفسیر بیان کرتے تھے۔ چناں چہ اس تعلق سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ انہیں جھٹلاؤ۔ دراصل یہ رہنمائی ان معاملات کے تعلق سے ہے، جن میں جھوٹ سچ کا علم نہ ہو۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہماری طرف نازل کردہ قرآن اور ان کے اوپر نازل کردہ کتاب پر ہم ایمان لائیں، لیکن ہمارے پاس اس کا کوئی راستہ نہیں کہ ہم ان کتابوں کے حوالے سے وہ جو باتیں نقل کرتے ہیں، ان کی صحت و ضعف کی جانکاری حاصل کر سکیں، اگر ہماری شریعت میں اس کی تصدیق وارد نہ ہوئی ہو۔ ایسے میں ہمیں توقف اختیار کرنا ہے۔ چنانچہ ہم ان کی تصدیق نہ کریں، تاکہ انہوں نے اس کتاب میں جو تحریف کی ہے، اس میں ہم ان کے شریک نہ ٹھہریں اور نہ ہم ان کی تکذیب کریں کہ ممکن ہے کہ وہ صحیح ہو اور ہم اس بات کا انکار کر بیٹھیں، جس پر ہمیں ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنے کا حکم دیا: {ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اوﻻد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ وعیسیٰ (علیہما السلام) اور دوسرے انبیا (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے، ان سب پر ایمان ﻻئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں} [البقرة: 136].

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔

اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
line

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنمہا بتا رہے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتیں اور آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت کہاں ختم ہو رہی ہے، یہاں تک کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل ہوتی، جس سے آپ سمجھ جاتے کہ سابقہ سورت ختم ہوگئی ہے اور ایک نئی سورت شروع ہونے والی ہے۔

عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔

اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ صاحب قرآن جو اس پر عمل بھی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تلاوت اور حفظ میں محو رہتا ہے، جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور ساتھ ساتھ جنت کی منزلوں پر چڑھتا جا۔ جس طرح دنیا میں غور و فکر اور اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا تھا، اسی طرح تلاوت کر۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی۔

ابو عبد الرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سے ان صحابۂ کرام نے بیان کیا، جو ہمیں پڑھاتے تھے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں پڑھتے اور اس سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک کہ ان آیتوں میں موجود علم اور عمل کو سیکھ نہ لیتے۔ وہ کہتے کہ اس طرح ہم نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔

اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
line

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی دس آیتیں اخذ کرتے اور ان سے آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے، جب تک ان دس آیتوں میں موجود علم کو سیکھ نہ لیتے اور اس پر عمل نہ کر لیتے۔ چناں چہ انہوں نے علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا۔

ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ اوراس کے رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: ’’اے ابو منذر! کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے پاس موجود اللہ کی کتاب کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ میں نے عرض کیا: ﴿اللَّهُ لَا إِلہ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ان کا کہنا ہے کہ یہ سننے کے بعد آپﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’اللہ کی قسم ! ابو منذر! تمھیں یہ علم مبارک ہو"۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے کتاب الہی کی سب سے عظیم آیت کے بارے میں پوچھا، تو ان کو جواب دینے میں تردد اور پس وپیش ہونے لگا۔ لیکن پھر جواب دیا کہ وہ آیت الکرسی (الله لا إله إلا هو الحي القيوم) ہے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جواب کی تائید کی اور اس بات کا اشارہ کرنے کے لیے ان کے سینے پر ہاتھ مارا کہ ان کا سینہ علم وحکمت سے پُر ہے۔ نیز ان کے لیے یہ دعا کی کہ یہ علم ان کے لیے باعث سعادت ہو اور ان کی راہ میں آسانی ہی آسانی آئے۔