Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شداد بن معقل نے ان سے پوچھا: کیا نبی ﷺ کچھ چھوڑ کر گئے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔ عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
دو جلیل القدر تابعی یعنی عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے سوال کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنے وفات کے بعد کوئی شے چھوڑ کر گئے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد صرف اور صرف قرآن ہی کو چھوڑا ہے جو مصحف کے دونوں دفتیوں کے مابین ہے۔ پھر وہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے اور ان سے بھی یہی سوال کیا ۔ اس حدیث سے روافض کے مذہب کا ابطال ہوتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن میں علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نص موجود تھی لیکن صحابہ نے اسے چھپا لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ لوگوں میں سے یہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہے۔ اگر واقعی کوئی ایسے بات ہوتی جس کا روافض دعوی کرتے ہیں تو اس سے آگاہ ہونے کا سب سے زیادہ حق انہی کا تھا اور ان سے بہرحال یہ چھپی نہ رہ سکتی۔ بلکہ خود علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی بات مروی ہے۔
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو، اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی ساری باتیں مجھے یاد ہو جاتی ہیں تو یہ موقوف ہو جاتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں وہ جو کچھ کہتا ہے اُسے یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ سخت جاڑے کے دن آپ پر وحی اترتی پھر ختم ہو جاتی اور آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا۔
متفق علیہ
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سےپوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ کبھی تو فرشتے (اور وہ جبریل علیہ السلام ہیں جو) وحی لے کر آتے ہیں چنانچہ اس وحی لانے والے فرشتے کی آواز قوت میں گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور یہ وحی نبی ﷺ پر بہت سخت اور تکلیف دہ ہوتی تھی جس کی وجہ سے نبی ﷺ بہت سخت مصیبت اور پریشانی میں پڑ جاتے، چنانچہ جب فرشتے کی بتائی ساری باتیں نبیﷺ کو یاد ہو جاتیں اور انہیں سمجھ لیتے تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔ اس قدر تیز آواز میں وحی آنے کا مقصد یہ ہوتا کہ آپ ﷺ دنیا سے ایک دم غافل ہو جائیں اور ان کا ذہن خالی ہو جائے جس کی بنا پر نبیﷺ اسے سمجھ لیتے کیونکہ اب انہیں اس وحی کے علاوہ ان کے کان اور دل کو کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی۔ نیز آپ ﷺ نے حارث بن ہشام کو مزید بتایا کہ کبھی تو جبریل علیہ السلام انسان کی شکل میں مثلاً دِحیہ کلبی صحابی کی شکل میں، یا ان کے علاوہ کسی دوسرے کی شکل میں میرے پاس آتے ہیں، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتے ہیں تو میں ان کا کہا یاد کر لیتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے ہوئے دیکھا ، پھر جب وحی ختم ہو جاتی تو وحی کی شدت سے آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا، ایسا اس لیے ہوتا کہ وحی کی وجہ سے نبی ﷺ کو بہت سخت مصیبت اور پریشانی ہوتی تھی۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”جب اللہ کے نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتی، تو اس کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی ،تو نزول وحی کے بوجھ اور اس کے حصول کی پریشانی کی وجہ سے آپ کو بے چینی و تکلیف لاحق ہوتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔ آپ ﷺ وحی کا بشدت اہتمام کرتے، حقوقِ بندگی اور شکرِ الٰہی کی بجا آوری کے متعلق مطالبۂ وحی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم و خبر کی تعظیم کرتے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَكَ﴾ (القیامۃ: 16) کی تفسیر میں فرمایا کہ نبی ﷺ نزولِ قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ویسے ہی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح آپ ﷺ ہلاتے تھے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بھی اپنے ہونٹ ویسے ہی ہلاتا ہوں جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہلائے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ ”اے محمد! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ، اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے“۔ (القیامۃ: 17) ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے ”قرآن آپ ﷺ کے دل میں جمع دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہےں، ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ ”پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو“ (القیامۃ: 18) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھیں (یعنی اس کو محفوظ کر سکیں)۔ چنانچہ اس کے بعد جب رسول الله ﷺ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ ﷺ اسے (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھایا ہوتا تھا۔
متفق علیہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نزولِ وحی کے وقت بہت زیادہ سختی اور بے چینی محسوس کرتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام کے وحی مکمل کرنے سے پہلے ہی آپ ﷺ جو کچھ ان سے سنتے اسے اپنے ہونٹوں کو ہلا کر پڑھنا شروع کر دیتے اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں یہ نہ ہو کر آپ ﷺ کے یاد کر لینے سے پہلے ہی جبرائیل علیہ السلام چلے جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے سامنے بیان کیا کہ نبی ﷺ کیسے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا تھا اور اس کو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی اپنے شاگردوں کے سامنے بیان کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ یعنی قرآن کو جلدی جلدی لینے کی غرض سے اپنی زبان کو نہ ہلاؤ۔ اسے جمع کرنا اور تمہارے سینے میں بٹھا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ یعنی جب جبرائیل پڑھ کر فارغ ہو جائیں تو (اس کے پیچھے پیچھے پڑھو) اور خاموشی کے ساتھ سنو۔ پھر تمہارا بعینہ اسی طرح پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے تو آپ ﷺ خاموشی سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس وحی کو ویسے ہی پڑھتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو پڑھایا ہوتا۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک آدمی کے لیے یہ بری بات ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنی اور اتنی آیتیں بھول چکا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔ تم پابندی کے ساتھ قرآن کى تلاوت اور اس کا پیہم مذاکرہ کیا کرو, کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں سے اتر جانے کے معاملے میں اونٹوں کی رفتار سے بھی کہیں تیز ہے"۔
متفق علیہ
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آدمی کی مذمت کی ہے، جو کہے کہ میں یہ اور وہ آیتیں بھول چکا ہوں، کیوں کہ یہ قرآن کو یاد رکھنے کے معاملے میں سستی روا رکھنے اور غفلت سے کام لینے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کی دیکھ بھال اور اسے یاد رکھنے کے معاملے میں سستی کی وجہ سے اسے قرآن کو بھولنے کی سزا دی گئي ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تلاوت قرآن کی پابندی، اسے یاد رکھنے اور اس کا دور کرتے رہنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ وہ سینوں سے نکل بھاگنے کے معاملے میں اونٹ سے بھی کہیں آگے ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور خاص اونٹ کا ذکر اس لیے کیا، کیوں کہ وہ پالتو جانوروں کے ما بین بدکنے میں سب سے آگے ہے اور بدک جائے تو اسے پکڑنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔
ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئےگا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں:البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اس کا ترک کرنا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
قرآن پڑھا کرو اور اس کی تلاوت پر مداومت برتو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنی تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔ بالخصوص سورۂ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھا کرو کیونکہ ان دونوں کا نام دو چمکدار یعنی دو روشنیاں رکھا گیا ہے، اُن کے منور ہونے، ہدایت کے اعتبار سے اور عظیم اجر کے اعتبار سے -گویا کہ اللہ کے نزدیک دیگر سورتوں کے تناسب سے ایسے ہی ہے جیسے قمرین کو تما م ستاروں پر- ان دونوں کے پڑھنے کا ثواب یہ ہےکہ قیامت کے دن یہ دونوں دو بادلوں کی صورت میں اپنے پڑھنے والے پر روز محشر کی گرمی سے سایہ کیے ہوئے ہوں گی یا پھر ان کے پڑھنے کا ثواب پرندوں کی دو جماعتیں جو صفوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے پر ملائے ہوئے کھڑے ہو ں گے جو اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی اور ان کو جہنم میں سے بچائیں گی۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ وہ آنے والا خود عملِ (قرآن) کی شکل میں آئے گا جیسا کہ حدیث کے ظاہر سے پتہ چل رہا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ آنے والا خود اللہ کا کلام ہے، تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ’کلام‘ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور صفتْ ذات سے الگ نہیں ہوتی اور جس چیز کو میزان میں رکھا جائے گا وہ بندے کافعل اور عمل ہو گا جیسا کہ ﴿وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ﴾ ”اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اور جو تم عمل کرتے ہو ان سب کو پیدا کیا ہے“ (سورہ الصافات: 96) نبی کریم ﷺ نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ اس کی تلاوت پر مداومت برتنے، اس کے معانی پر غور وفکر اور اس پر عمل کرنے میں بہت ساری برکتیں اور عظیم منافع موجود ہیں۔ اور اس سورت کو چھوڑنا، اس کی تلاوت نہ کرنا اور اس پر غور وفکر کرتے ہوئے اس پر عمل نہ کرنا قیامت کے دن حسرت و ندامت کا سبب بنے گا۔ اس سورت کا ایک بہت بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے اور اس پر غور و فکر کرتے ہوئے عمل کرنے والے کو جادو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ جادوگر اس کے پڑھنے، اس میں تدبر کرنے، اس کے مطابق عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اورنہ ہی ان کو اس کی توفیق ملتی ہے ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم الحمد للہ (سورہ فاتحہ) پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیوں کہ یہ (سورہ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے اور اس کی توجیہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ یہ سورہ فاتحہ کا جز ہے۔ اس کی قرأت سے مراد سرّی ہے جہری نہیں ہے کیوں کہ بلند آواز سے نہ پڑھنے کے بارے میں بہت ساری صحیح حدیثیں آئی ہوئی ہیں۔ امام طحاوی فرماتے ہیں: نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنا رسول اللہ ﷺ اور خلفاء سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگ), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں دس بار دودھ پلانے کو حرمت ثابت کرنے والی رضاعت مانا گیا تھا اور اس کا ذکر قرآن میں موجود تھا۔ پھر اس کے لفظ اور حکم کو منسوخ کرکے پانچ بار دودھ پلانے سے حرمت کا حکم اتارا گیا۔ پھر اس کے الفاظ اور حکم کو اس قدر بعد میں منسوخ کیا گیا کہ بہت سے لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہو سکی اور اس منسوخ آیت کو قرآن کا حصہ سمجھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک پڑھتے رہے۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے اُس فہمِ قرآن کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔ میں نے پوچھا: صحیفے میں کیا ہے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں دیت اور قیدیوں سے متعلق احکام ہیں اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے آپ کو بطورِ خاص کوئی ایسا علم یا تحریر دی ہے جو دوسرے لوگوں کو نہ دی ہو؟۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال اس لیے کیا کیونکہ شیعوں کے ایک گروہ کا یہ گمان تھا کہ اہلِ بیت اور خصوصاً علی رضی اللہ عنہ کے پاس وحی پر مشتمل کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہی کو عنایت فرمائی تھیں اور کسی اور کو اس کا علم نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ایک سے زیادہ لوگوں نے کیا۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ایسی قسم کھا کر جواب دیا جو عرب لوگ کھایا کرتے تھے کہ اس اللہ کی قسم جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور بیج کو پھاڑ کر اگایا! ان کے پاس سوائے اس (قرآنی ) سمجھ بوجھ کے جو اللہ اپنے بندے کو عنایت فرما دیتا ہے اور سوائے اس نوشتہ کے کچھ بھی نہیں جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منقول کچھ باتیں لکھ رکھی تھیں، جس میں دیت اور مسلمان قیدیوں کو قید سے نجات دلانے سے متعلق احکام مندرج تھیں اور یہ لکھا ہوا تھا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ کافر مسلمان کا ہم پلہ نہیں ہوتا ہے کہ اُس کے بدلے میں اِسے قتل کردیا جائے بلکہ وہ اِس سے کم تر ہوتا ہے۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا"۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : {هذان خصمان اخْتَصَمُوا في ربهم} [الحج: 19] (یہ دو فریق ہیں، جو اپنے رب کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں)۔ وہ کہتے ہیں: یہی لوگہیں جو بدر کے دن جنگ سے پہلے مقابلہ آرائی کے لیے سامنے آئے تھے۔ یعنی حمزہ، علی، عبیدہ یا ابو عبیدہ بن حارث، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔