Hedayat Fruitful selections from the gardens of
﴾Verses and Hadiths ﴿
Inspiring Dawah cards that highlight the profound meanings of Quranic verses and Prophetic Hadiths. Presented in an accessible and engaging style to help Muslims gain a deeper understanding of their faith with ease.
About Hedayat
Hedayat is a platform that combines design simplicity and ease of use, displaying benefits derived from verses and hadiths in attractive cards with unique designs
Unique Designs
Cards with unique and attractive designs that express the content of the text
Easy Browsing
You can browse the cards easily and display them effortlessly
Different Languages
Cards are available in more than 40 languages for the benefit of all
Reliable Materials
Scientifically reliable benefits reviewed by a group of scholars
Hedayat Menu
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔
متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور جب لوگ ایسا ہوتا ہوا دیکھ لیں گے، تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت کافر کو ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا اور نہ عمل صالح اور توبہ ہی کچھ کام دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی۔ ہوگا یہ کہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ چنانچہ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ خرید وفروخت کرنے والے دو لوگ اپنے درمیان دیکھنے دکھانے کے لیے کپڑا پھیلا چکے ہوں گے، لیکن نہ تو خرید و فروخت کر پائیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے۔ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ انسان اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آچکا ہوگا، لیکن اسے پی نہ سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ انسان اپنا حوض درست اور تیارکر رہا ہوگا، لیکن اس سے پانی نہیں پی سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ انسان اپنا لقمہ منہ تک اٹھا چکا ہوگا، لیکن کھا نہیں سکے گا۔
ابن شہاب سے روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس سے گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود و نصاری کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، اس امت کو اس (اختلاف) سے روکنے کا سامان کریں! یہ سن کر عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں اتار کر پھر تم کو واپس کر دیں گے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھیج دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اسکے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا یا مصحف لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورعثمان رضی اللہ عنہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پڑھنے میں اختلاف کو سنا کیونکہ ان میں سے بعض أبی رضی اللہ عنہ اور بعض عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کو پڑھ رہے تھےاس کی وجہ سے قریب تھا کہ ان کے درمیان کوئی فتنہ اور اختلاف ہو جائے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، جس طرح یہود و نصاری نے تورات اور انجیل میں اختلاف کیا یہاں تک کہ اس میں رد و بدل کر دیا اور اس میں حذف و اضافہ کیا، اس وقت قرآن الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر لکھا ہواتھا اور مصحف کی شکل میں نہیں تھا۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، تاکہ اس کی نقلیں اتار لیں، پھر تم کو واپس کر دیں گے، یہی وہ صحیفہ تھا جسے حفصہ رضی اللہ عنہا سے لیا گیا تھا، اور یہ وہ نسخہ تھا جسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے جمع کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف کی شکل میں جمع کر دیا، اس صحیفے اور ان کے صحیفے کے درمیان فرق یہ تھا کہ ابو بکر کے عہد میں سورتیں الگ الگ اور منفرد تو تھیں تاہم مرتب انداز میں نہیں تھیں، لیکن جب ترتیب وار اور مرتب انداز میں لکھ دی گئیں تو وہ مصحف کی شکل میں ہو گئیں، اوریہ مصحف کی مکمل شکل عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی، چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں، زید بن ثابت انصاری تھے اور بقیہ تینوں قریش کے تھے، اورعثمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’ اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کے محاورے پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اس قرآن کے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : "اے چچا جان، آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق دلیل پکڑوں گا۔" یہ سن کر ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : کیا تم عبدالمطلب کا مذہب چھوڑ دوگے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ کلمہ پیش کرتے رہے اور دونوں اپنی بات دہراتے رہے۔ بالآخر ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ اس طرح لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا۔ راوی کہتا ہے : لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک مجھے روک نہ دیا جائے"۔ چنانچہ اسی پس منظر میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة : 113] (نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں)۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ابو طالب کے بارے میں نازل فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کرکے فرمایا : {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] (بلاشبہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے)۔
متفق علیہ
ابو طالب حالت نزع میں تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس آئے اور ان سے کہا : چچا جان! آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : ابو طالب! کیا تم اپنے باپ عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ وہ مذہب دراصل بت پرستی کا مذہب تھا۔ دونوں ان سے بات کرتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے ان سے آخر میں کہہ ہی دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر چل کر اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ یعنی شرک اور بت پرستی کے مذہب پر۔ یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک میرا رب مجھے منع نہ کر دے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : "نبی کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں"۔ [سورہ توبہ : 113] اسی طرح ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے". [سورہ قصص : 56] آپ جسے راہ حق پر چلانا چاہیں، اسے راہ حق پر نہیں چلا سکتے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے حق کی راہ پر چلاتا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ اور بعض کہتے کہ ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو باہر نکلے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا:تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟ یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ اور کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔ تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس رک جاؤ۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور بعض روایات کے مطابق ان کا تقدیر کے کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ بعض نے اپنے قول پر کتاب اللہ کی آیت کو بطور استدلال پیش کیا اور دوسروں نے اپنے استدلال پر کتاب اللہ کی آیت کو پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سنا تو غصے کی حالت میں باہر نکلے اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ تھا مانو آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانوں کا جوس نچوڑا دیا گیا ہو۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ اختلاف، جھگڑا اور قرآن میں تنازع اور قرآن کے بعض کو بعض سے متنازع کرنا، کیا تمہاری تخلیق کا مقصد یہی ہے؟یا اس کا اللہ نے حکم دیا ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا کہ سابقہ امتوں کی گمراہی کا سبب بھی اسی طرح کے معاملات تھے۔ پھر ان کی اس طرف رہنمائی فرمائی جس میں ان کی اصلاح اور فائدہ ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے روکا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ یہ کام ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جس میں تمہارے لیے فائدہ اور اصلاح ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’ قل أعوذ برب الفلق ‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "ألم تر" یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں؟ اگرچہ اس میں خاص طور پر راوی مخاطب ہے تاہم یہ بات سب کے لیے عام ہے۔ یہ تعجب کا پیرایہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ کہہ کر سببِ تعجب کی طرف اشارہ فرمایا کہ ”لم ير مثلهن“ یعنی ’تعوذ‘ کے باب میں اس طرح کی کوئی اور آیات نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے "قط" کے لفظ کے استعمال سے نفی کی تاکید ہوتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ”قل أعوذ برب الفلق“ اور ”قل أعوذ برب الناس“ یعنی کسی سورت کی آیتیں ایسی نہیں ہیں جو ساری کی ساری پڑھنے والے کو اشرار کے شر سے پناہ دیتی ہوں جیسے یہ دو سورتیں ہیں۔کوئی پناہ طلب کرنے والا جب ان کے ذریعے ایمان و صدق کے ساتھ پناہ مانگتا ہے تو اللہ عز وجل اسے پناہ دیتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ طلب کرے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ صاحب قرآن جو اس پر عمل بھی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تلاوت اور حفظ میں محو رہتا ہے، جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور ساتھ ساتھ جنت کی منزلوں پر چڑھتا جا۔ جس طرح دنیا میں غور و فکر اور اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا تھا، اسی طرح تلاوت کر۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے اہل جنت! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: جی ہاں! یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ منادی کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جہنم! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیں گے : جی ہاں، یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کیا جائے گا اور اعلان کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو، تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ اور اے اہل دوزخ! تم ہمیشہ دوزخ میں رہو، اب تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ} [سورۃ مریم: 39] یعنی یہ دنیا دار غفلت میں پڑے ہیں اور یہ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘
متفق علیہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ موت کو قیامت کے دن نر مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، جس کا رنگ سفید و سیاہ ہوگا۔ پھر ندا لگائے جائے گی: اے جنت والو! چنانچہ وہ آواز سن کر اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی ان سے پوچھے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے اور پہچان رہے ہوں گے۔ پھر ندا لگانے والا ندا لگائے گا: اے جہنمیو! یہ سن کر وہ اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی کہے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کر دیا جائے گا اور منادی کہے گا : اے جنتیو! تم ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ یہ اعلان اس لیے کیا جائے گا کہ ایمان والے نعمتوں کا لطف لے سکیں اور کافروں کے عذاب میں سختى پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے، جب کہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے.} معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے گا اور وہاں ہمیشگی کی زندگی گزارے گا۔ اس دن بدکار کو حسرت وندامت ہوگی کہ اس نے نیکی نہیں کی اور کوتاہی کرنے والے کو حسرت وپشیمانی ہوگی کہ اس نے خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے کان لگا کر سنا کہ وہ ایسی قراءتوں کو پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں ٹھہرا رہا جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر یا اپنی چادر ان کے گلے میں ڈال دی، میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے، میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے، پھر میں ان کو گھسیٹے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لایا، میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا : عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام سے فرمایا پڑھو :انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر تم پڑھو: چنانچہ میں نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ دیکھو یہ قرآن سات حروف(زبانوں) پر اترا ہے، جس طرح تمہیں آسان معلوم ہو پڑھو۔
متفق علیہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، وہ ایسی قرأتوں کو پڑھ رہے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت سے بہت سارے الفاظ میں مختلف تھیں جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس سورہ کو پڑهی تھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ ہشام رضی اللہ عنہ غلط پڑھ رہے ہیں قریب تھا کہ وہ نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھتے مگر وہ ٹھہرےرہے اور صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا، پھر انہوں نے اپنی چادر سے ان کے گلے کو پکڑ لیا، اور ان سے کہا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ ،ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے مگر اس قرأت کے علاوہ جس کو تم پڑھ رہے ہو۔ پھرعمر رضی اللہ عنہ ان کو گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لائے، چونکہ عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے معاملے میں بڑےسخت تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، اور آپ سے بھی اس طرح پڑھتے ہوئے میں نے نہیں سنا، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا :عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’پڑھو ‘‘! انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح عمر نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے اور وہ غلطی پر نہیں تھے جیسا کہ عمر نے گمان کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھی ہے اور جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نےفرمایا ”بے شک یہ قرآن سات حروف (لہجات) پر اتارا گیا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو،، لہذاعمر اور ہشام دونوں ہی اپنی قرأت میں صحیح ہیں،کیونکہ قرآن ایک حرف (لہجے) سے زیادہ پر اتارا گیا ہے، بلکہ سات حروف (لہجوں) پر اتارا گیا ہے، ہشام رضی اللہ عنہ کی قرأت میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں تھا، ہاں اختلاف صرف حروف میں تھا، اسی وجہ سے نبی ﷺنے ہر ایک سےان کی تلاوت سننے کے بعد فرمایا تھا، ہاں قرآن ایسے ہی نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ” بے شک یہ قرآن سات حروف پر اتارا گیا ہے ، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھیں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ایک ہی حرف (لہجے) میں پڑھنے کا پابند نہ بناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےتمہارےاوپر کشادگی کی ہےاور تمہارے لیے آسانی پیدا کیا ہے کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ہے، لہذا اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد وثنا ہے۔ علماء نے سات حروف کی تعیین میں بہت اختلاف کیا ہے، اور یہاں اس سے مقصود جو ظاہر ہے حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ عربی زبان کے کئی وجوہ (لہجے) مراد ہیں، چنانچہ قرآن شروع زمانہ اسلام میں آسانی کے لیے انہیں طریقوں پر اترا ہے، اس لیے کہ عرب بٹے ہوئے اور مختلف تھے ان سب کی الگ الگ لغت تھی، جو ایک قبیلے کی ہوتی وہ دوسرے قبیلے کے پاس مِنْ وعَنْ نہ ہوتی تھی، لیکن ان سب کے درمیان مذہب اسلام نے اتحاد پیدا کر دیا، وہ ایک دوسرے سے مل کر رہنے لگے، اسلام کی وجہ سے کینہ وعداوت ختم ہو گئی اور سب نے دوسرے کی زبان کو بھی جان لیا، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس مہم کے لیے تیار ہوئے اور سات حروف کے بجائے سب کو ایک ہی حرف (لہجۂ قریش) پر جمع کردیا اور اس کے علاوہ جتنے نسخے تھے سبھی کو خاکستر کردیا،تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر سخت سردی کے دن وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر صبح کے ٹھنڈے وقت وحی نازل ہوتی تو وحی کی شدت کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیشانی سے کثرت کے ساتھ پسینہ بہنا شروع ہو جاتا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک، جنھوں نے بہت سے لوگوں کی جانیں لی تھیں اور زنا میں بھی بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اتری : {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ} (اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتےہيں، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔) [سورہ الفرقان : 66] اور یہ آیت کریمہ بھی اتری : {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} (اے نبی! آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیں، جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیے ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔) [سورہ زمر : 53]
متفق علیہ
کچھ مشرک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، جو قتل و زنا میں بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے اور آپ سے کہنے لگے: آپ ہمیں جس مذہب اسلام اور اس کی تعلیمات کی دعوت دے رہے ہیں، وہ یقینًا بہترین چیزیں ہیں۔ لیکن یہ بتائیں کہ ہمارا جو حال ہے اور ہم جس طرح شرک اور بڑے بڑے گناہوں میں ملوث ہيں، کیا آپ کے مذہب میں اس کا کوئی کفارہ ہے؟ چنانچہ یہ دونوں آیتیں اتریں اور اللہ تعالی نے بتایا کہ انسان چاہے جتنی تعداد میں جتنے بھی بڑے بڑے گناہ کر بیٹھے، سچے دل سے توبہ کرنے پر اللہ اس کی توبہ قبول ضرور کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو لوگ آگے بھی کفر اور سرکشی کے راستے پر چلتے رہتے اور اسلام قبول نہ کرتے۔
Hadith Cards
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل نہ آئے۔ جب سورج اپنے ڈوبنے کی جگہ سے نکل آئے گا اور لوگ دیکھ لیں گے، تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے۔ لیکن یہ وہ وقت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا ہے : "کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا، جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔"[الانعام: 158] قیامت اس قدر جلد آ جائے گی کہ دو آدمیوں نے کپڑا پھیلا رکھا ہوگا، لیکن نہ تو وہ خرید و فروخت کرسکیں گے اور نہ اسے لپیٹ ہی سکیں گے۔ قیامت اس قدر جلد آئے گی کہ ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہوگا اور وہ اسے پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کر رہا ہوگا اور اس سے پانی پی نہیں سکے گا۔ قیامت اس طرح آجائے گی کہ ایک آدمی اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور وہ اس کو کھا نہیں سکے گا"۔
متفق علیہ
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور جب لوگ ایسا ہوتا ہوا دیکھ لیں گے، تو سب کے سب ایمان لے آئیں گے۔ لیکن اس وقت کافر کو ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا اور نہ عمل صالح اور توبہ ہی کچھ کام دے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا کہ قیامت اچانک قائم ہوگی۔ ہوگا یہ کہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ چنانچہ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ خرید وفروخت کرنے والے دو لوگ اپنے درمیان دیکھنے دکھانے کے لیے کپڑا پھیلا چکے ہوں گے، لیکن نہ تو خرید و فروخت کر پائیں گے اور نہ ہی اسے لپیٹ سکیں گے۔ قیامت اس طرح آ جائے گی کہ انسان اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آچکا ہوگا، لیکن اسے پی نہ سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوجائے گی کہ انسان اپنا حوض درست اور تیارکر رہا ہوگا، لیکن اس سے پانی نہیں پی سکے گا۔ قیامت اس طرح قائم ہوگی کہ انسان اپنا لقمہ منہ تک اٹھا چکا ہوگا، لیکن کھا نہیں سکے گا۔
ابن شہاب سے روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس سے گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود و نصاری کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، اس امت کو اس (اختلاف) سے روکنے کا سامان کریں! یہ سن کر عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں اتار کر پھر تم کو واپس کر دیں گے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھیج دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اسکے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا یا مصحف لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورعثمان رضی اللہ عنہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پڑھنے میں اختلاف کو سنا کیونکہ ان میں سے بعض أبی رضی اللہ عنہ اور بعض عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کو پڑھ رہے تھےاس کی وجہ سے قریب تھا کہ ان کے درمیان کوئی فتنہ اور اختلاف ہو جائے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، جس طرح یہود و نصاری نے تورات اور انجیل میں اختلاف کیا یہاں تک کہ اس میں رد و بدل کر دیا اور اس میں حذف و اضافہ کیا، اس وقت قرآن الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر لکھا ہواتھا اور مصحف کی شکل میں نہیں تھا۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، تاکہ اس کی نقلیں اتار لیں، پھر تم کو واپس کر دیں گے، یہی وہ صحیفہ تھا جسے حفصہ رضی اللہ عنہا سے لیا گیا تھا، اور یہ وہ نسخہ تھا جسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے جمع کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف کی شکل میں جمع کر دیا، اس صحیفے اور ان کے صحیفے کے درمیان فرق یہ تھا کہ ابو بکر کے عہد میں سورتیں الگ الگ اور منفرد تو تھیں تاہم مرتب انداز میں نہیں تھیں، لیکن جب ترتیب وار اور مرتب انداز میں لکھ دی گئیں تو وہ مصحف کی شکل میں ہو گئیں، اوریہ مصحف کی مکمل شکل عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی، چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں، زید بن ثابت انصاری تھے اور بقیہ تینوں قریش کے تھے، اورعثمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’ اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کے محاورے پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اس قرآن کے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : "اے چچا جان، آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق دلیل پکڑوں گا۔" یہ سن کر ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : کیا تم عبدالمطلب کا مذہب چھوڑ دوگے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ کلمہ پیش کرتے رہے اور دونوں اپنی بات دہراتے رہے۔ بالآخر ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ اس طرح لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا۔ راوی کہتا ہے : لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک مجھے روک نہ دیا جائے"۔ چنانچہ اسی پس منظر میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة : 113] (نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں)۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ابو طالب کے بارے میں نازل فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کرکے فرمایا : {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] (بلاشبہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے)۔
متفق علیہ
ابو طالب حالت نزع میں تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس آئے اور ان سے کہا : چچا جان! آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : ابو طالب! کیا تم اپنے باپ عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ وہ مذہب دراصل بت پرستی کا مذہب تھا۔ دونوں ان سے بات کرتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے ان سے آخر میں کہہ ہی دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر چل کر اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ یعنی شرک اور بت پرستی کے مذہب پر۔ یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک میرا رب مجھے منع نہ کر دے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : "نبی کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں"۔ [سورہ توبہ : 113] اسی طرح ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے". [سورہ قصص : 56] آپ جسے راہ حق پر چلانا چاہیں، اسے راہ حق پر نہیں چلا سکتے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے حق کی راہ پر چلاتا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ اور بعض کہتے کہ ایسے ایسے نہیں فرمایا؟ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ باتیں سنیں تو باہر نکلے اور ایسے لگ رہا تھا جیسے آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا:تمہیں یہ حکم دیا گیا ہے؟ یا تمہیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ کتاب اللہ کے کچھ کو کچھ اور کر کے بیان کرو؟ تم سے پہلی امتیں اسی وجہ سے گمراہ ہوئی تھیں۔ تم اس لیے نہیں ہو کہ یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے (اِس میں پڑے رہو)، تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے دیکھو اور اس پر عمل کرو اور جس سے منع کیا گیا ہے اس رک جاؤ۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
صحابہ کی ایک جماعت نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ ان کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو گیا اور بعض روایات کے مطابق ان کا تقدیر کے کسی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ بعض نے اپنے قول پر کتاب اللہ کی آیت کو بطور استدلال پیش کیا اور دوسروں نے اپنے استدلال پر کتاب اللہ کی آیت کو پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے جب یہ سنا تو غصے کی حالت میں باہر نکلے اور آپ ﷺ کا چہرۂ انور غصے سے سرخ تھا مانو آپ ﷺ کے چہرے پر انار کے دانوں کا جوس نچوڑا دیا گیا ہو۔ آپﷺ نے ان سے فرمایا کہ یہ اختلاف، جھگڑا اور قرآن میں تنازع اور قرآن کے بعض کو بعض سے متنازع کرنا، کیا تمہاری تخلیق کا مقصد یہی ہے؟یا اس کا اللہ نے حکم دیا ہے؟ ان کی مراد یہ تھی کہ ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کو بتایا کہ سابقہ امتوں کی گمراہی کا سبب بھی اسی طرح کے معاملات تھے۔ پھر ان کی اس طرف رہنمائی فرمائی جس میں ان کی اصلاح اور فائدہ ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے وہ کرو اور جس سے روکا ہے اس سے باز آ جاؤ۔ یہ کام ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور جس میں تمہارے لیے فائدہ اور اصلاح ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’ قل أعوذ برب الفلق ‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "ألم تر" یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں؟ اگرچہ اس میں خاص طور پر راوی مخاطب ہے تاہم یہ بات سب کے لیے عام ہے۔ یہ تعجب کا پیرایہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ کہہ کر سببِ تعجب کی طرف اشارہ فرمایا کہ ”لم ير مثلهن“ یعنی ’تعوذ‘ کے باب میں اس طرح کی کوئی اور آیات نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے "قط" کے لفظ کے استعمال سے نفی کی تاکید ہوتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ”قل أعوذ برب الفلق“ اور ”قل أعوذ برب الناس“ یعنی کسی سورت کی آیتیں ایسی نہیں ہیں جو ساری کی ساری پڑھنے والے کو اشرار کے شر سے پناہ دیتی ہوں جیسے یہ دو سورتیں ہیں۔کوئی پناہ طلب کرنے والا جب ان کے ذریعے ایمان و صدق کے ساتھ پناہ مانگتا ہے تو اللہ عز وجل اسے پناہ دیتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ طلب کرے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور اسی طرح ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسے کہ دنیا میں پڑھا کرتا تھا۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی"۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ صاحب قرآن جو اس پر عمل بھی کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی تلاوت اور حفظ میں محو رہتا ہے، جب وہ جنت میں داخل ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور ساتھ ساتھ جنت کی منزلوں پر چڑھتا جا۔ جس طرح دنیا میں غور و فکر اور اطمینان کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتا تھا، اسی طرح تلاوت کر۔ جہاں آخری آیت ختم کرے گا، وہیں تیری منزل ہوگی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا: اے اہل جنت! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے: جی ہاں! یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر وہ منادی کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جہنم! وہ گردنیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے۔ وہ کہے گا : تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ اس کو پہچانتے ہوئے جواب دیں گے : جی ہاں، یہ موت ہے۔ ان میں سے ہر شخص اسے دیکھ چکا ہو گا۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کیا جائے گا اور اعلان کرنے والا آواز دے گا : اے اہل جنت! ہمیشہ جنت میں رہو، تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ اور اے اہل دوزخ! تم ہمیشہ دوزخ میں رہو، اب تمھیں موت نہيں آنی ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْحَسْرَةِ إِذْ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ} [سورۃ مریم: 39] یعنی یہ دنیا دار غفلت میں پڑے ہیں اور یہ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘
متفق علیہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ موت کو قیامت کے دن نر مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، جس کا رنگ سفید و سیاہ ہوگا۔ پھر ندا لگائے جائے گی: اے جنت والو! چنانچہ وہ آواز سن کر اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی ان سے پوچھے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے اور پہچان رہے ہوں گے۔ پھر ندا لگانے والا ندا لگائے گا: اے جہنمیو! یہ سن کر وہ اپنی گردن اور سر اٹھا کر دیکھنے لگیں گے۔ منادی کہے گا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، یہ موت ہے۔ دراصل وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ پھر اس مینڈھے کو ذبح کر دیا جائے گا اور منادی کہے گا : اے جنتیو! تم ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ اے جہنمیو! ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہو۔ اب تمھیں موت نہیں آنے والی۔ یہ اعلان اس لیے کیا جائے گا کہ ایمان والے نعمتوں کا لطف لے سکیں اور کافروں کے عذاب میں سختى پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے، جب کہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی ره جائیں گے.} معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور ہر ایک اپنے اپنے ٹھکانے کو پہنچ جائے گا اور وہاں ہمیشگی کی زندگی گزارے گا۔ اس دن بدکار کو حسرت وندامت ہوگی کہ اس نے نیکی نہیں کی اور کوتاہی کرنے والے کو حسرت وپشیمانی ہوگی کہ اس نے خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لیا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے کان لگا کر سنا کہ وہ ایسی قراءتوں کو پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں ٹھہرا رہا جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر یا اپنی چادر ان کے گلے میں ڈال دی، میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے، میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے، پھر میں ان کو گھسیٹے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لایا، میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا : عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام سے فرمایا پڑھو :انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر تم پڑھو: چنانچہ میں نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ دیکھو یہ قرآن سات حروف(زبانوں) پر اترا ہے، جس طرح تمہیں آسان معلوم ہو پڑھو۔
متفق علیہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، وہ ایسی قرأتوں کو پڑھ رہے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت سے بہت سارے الفاظ میں مختلف تھیں جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس سورہ کو پڑهی تھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ ہشام رضی اللہ عنہ غلط پڑھ رہے ہیں قریب تھا کہ وہ نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھتے مگر وہ ٹھہرےرہے اور صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا، پھر انہوں نے اپنی چادر سے ان کے گلے کو پکڑ لیا، اور ان سے کہا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ ،ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے مگر اس قرأت کے علاوہ جس کو تم پڑھ رہے ہو۔ پھرعمر رضی اللہ عنہ ان کو گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لائے، چونکہ عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے معاملے میں بڑےسخت تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، اور آپ سے بھی اس طرح پڑھتے ہوئے میں نے نہیں سنا، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا :عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’پڑھو ‘‘! انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح عمر نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے اور وہ غلطی پر نہیں تھے جیسا کہ عمر نے گمان کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھی ہے اور جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نےفرمایا ”بے شک یہ قرآن سات حروف (لہجات) پر اتارا گیا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو،، لہذاعمر اور ہشام دونوں ہی اپنی قرأت میں صحیح ہیں،کیونکہ قرآن ایک حرف (لہجے) سے زیادہ پر اتارا گیا ہے، بلکہ سات حروف (لہجوں) پر اتارا گیا ہے، ہشام رضی اللہ عنہ کی قرأت میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں تھا، ہاں اختلاف صرف حروف میں تھا، اسی وجہ سے نبی ﷺنے ہر ایک سےان کی تلاوت سننے کے بعد فرمایا تھا، ہاں قرآن ایسے ہی نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ” بے شک یہ قرآن سات حروف پر اتارا گیا ہے ، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھیں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ایک ہی حرف (لہجے) میں پڑھنے کا پابند نہ بناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےتمہارےاوپر کشادگی کی ہےاور تمہارے لیے آسانی پیدا کیا ہے کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ہے، لہذا اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد وثنا ہے۔ علماء نے سات حروف کی تعیین میں بہت اختلاف کیا ہے، اور یہاں اس سے مقصود جو ظاہر ہے حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ عربی زبان کے کئی وجوہ (لہجے) مراد ہیں، چنانچہ قرآن شروع زمانہ اسلام میں آسانی کے لیے انہیں طریقوں پر اترا ہے، اس لیے کہ عرب بٹے ہوئے اور مختلف تھے ان سب کی الگ الگ لغت تھی، جو ایک قبیلے کی ہوتی وہ دوسرے قبیلے کے پاس مِنْ وعَنْ نہ ہوتی تھی، لیکن ان سب کے درمیان مذہب اسلام نے اتحاد پیدا کر دیا، وہ ایک دوسرے سے مل کر رہنے لگے، اسلام کی وجہ سے کینہ وعداوت ختم ہو گئی اور سب نے دوسرے کی زبان کو بھی جان لیا، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس مہم کے لیے تیار ہوئے اور سات حروف کے بجائے سب کو ایک ہی حرف (لہجۂ قریش) پر جمع کردیا اور اس کے علاوہ جتنے نسخے تھے سبھی کو خاکستر کردیا،تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر سخت سردی کے دن وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر صبح کے ٹھنڈے وقت وحی نازل ہوتی تو وحی کی شدت کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیشانی سے کثرت کے ساتھ پسینہ بہنا شروع ہو جاتا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک، جنھوں نے بہت سے لوگوں کی جانیں لی تھیں اور زنا میں بھی بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اتری : {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ} (اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتےہيں، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔) [سورہ الفرقان : 66] اور یہ آیت کریمہ بھی اتری : {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} (اے نبی! آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیں، جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیے ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔) [سورہ زمر : 53]
متفق علیہ