Hadeeth Cards

Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ ہر رات جب بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾ پڑھتے۔ پھر ان دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر مبارک اور چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے۔ آپ ﷺ یہ عمل تین مرتبہ کرتے تھے۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب آپ سونے کے لیے بستر پر تشریف لے جاتے، تو دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر اوپر اٹھاتے -جیسے دعا کرنے والا اٹھاتا ہے- پھر دونوں میں اپنے منہ سے معمولی تھوک کے ساتھ ہلکی پھونک مارتے اور ان تین سورتوں کی تلاوت کرتے: ﴿قُل ھُوَ اللہُ أَحَد﴾ ﴿قُل أعوذُ بِربِ الفلقِ﴾ اور ﴿قُل أعوذُ بربِ الناسِ﴾۔ پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے۔ پہلے سر پھر چہرے اور جسم کے اگلے حصہ پر ہاتھ پھیرتے۔ ایسا تین دفعہ کرتے۔

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "یہودی وہ لوگ ہیں، جو اللہ کے غضب کے شکار ہوئے اور نصاری وہ لوگ ہيں، جو گمراہی میں پڑ گئے۔"

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ یہودی ایک ایسی قوم ہے، جو اللہ کے غضب کی شکار ہوئی، کیوں کہ اس نے حق کو جاننے کے باجود اس پر عمل نہیں کیا۔ جب کہ نصاری ایک گمراہ قوم ہے، کیوں کہ ان کا عمل علم کی روشنی سے محروم تھا۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" [آل عمران: 7]. حضرت عائشہ‬ رضی اللہ عنہا ب‬یان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم کی متشابہ آیات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالٰی نے اصحاب زیغ (کجی والے) رکھا ہے۔ ایسے لوگوں سے اجتناب کرو۔‘‘

متفق علیہ
line

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "وہی تو ہے جس نے تم پر یہ کتاب نازل کی، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات، یعنی ملتی جلتی ہیں۔ پھر جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور انہیں معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان کے حقیقی معنی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ان پر ایمان ہے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق تو صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔" اس آیت میں اللہ پاک نے یہ بتایا ہے کہ اسی نے اپنے نبی پر قرآن نازل فرمایا، جس میں کچھ واضح طور پر دلالت کرنے والی آیتیں ہیں، جن کے احکام معروف ومشہور ہیں اور ان میں کوئی التباس نہیں ہے۔ یہ آیتیں ہی قرآن کی اصل اور مرجع ہیں۔ اختلاف کے وقت انہی آیتوں کی طرف لوٹنا چاہیے۔ جب کہ قرآن کی کچھ آیتیں ایسی بھی ہیں، جن میں ایک سے زیادہ معانی کا احتمال پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں پر ان کے معانی کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے یا وہ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں ان آیتوں کا دوسری آیتوں سے تعارض وتصادم ہے۔ پھر اللہ تعالی نے ان آیتوں کے تئیں لوگوں کے تعامل کی وضاحت فرمائی۔ چنانچہ جن لوگوں کے دل حق سے پھرے ہوئے ہیں، وہ محکم آیتوں کو چھوڑ دیتے اور (ایک سے زائد معانی پر محتمل) متشابہ آیتوں کو لےلیتے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد شبہات پھیلانا اور لوگوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جو لوگ علم میں پختہ ہیں وہ ان متشابہ آیتوں کو سمجھتے ہیں اور انہیں محکم آیتوں کی طرف لوٹاتے ہیں، ان پر ایمان لاتے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اللہ پاک کی جانب سے ہیں، اس لیے ان کے درمیان تعارض اور التباس ناممکن ہے۔ لیکن اس سے نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل سلیم کے حامل ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اگر انہیں متشابہ آیتوں کی جستجو میں پڑے ہوئے لوگ نظر آئیں، تو جان لیں کہ یہی وہ لوگ ہیں، جن کا نام اللہ تعالی نے اس آيت میں لیا ہے : "جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے"، اس لیے ان سے دور رہیں اور ان کی باتوں پر کان نہ دھریں۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول! میرے دو غلام ہیں، جومجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے مال میں خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں۔ جب کہ میں انہیں گالیاں دیتا ہوں اور مارتا ہوں۔ میرا ان کا نپٹارا کیسے ہو گا؟ آپﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں تو تم اور وہ برابر برابر چھوٹ جاؤ گے۔ نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ اور ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی تو تمہارا فضل و احسان ہو گا۔ اور اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی تو تجھ سے ان کے ساتھ زیادتی کا بدلہ لیا جائے گا"۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے روتا ہوا واپس ہو گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (جس میں لکھا ہے : ) "قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا"۔ اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اورکوئی بات نہیں پاتا کہ ہم ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب آزاد ہیں۔

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
line

ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے غلاموں کی نازیبا حرکتوں کی شکایت کرنے لگا کہ اس کے غلام بات کرتے وقت اس سے جھوٹ بولتے ہیں، امانت میں اس کی خیانت کرتے ہیں، معاملات میں اس کے ساتھ فریب کرتے ہیں اور اس کا حکم نہیں مانتے۔ جب کہ ان کو راہ راست پر لانے اور ان کی سرزنش کرنے کے لیے انہیں گالی دیتا اور مارتا پیٹتا ہے۔ اس شخص نے آپ سے دریافت کیا کہ قیامت کے دن ان غلاموں کے ساتھ اس کی کیا حالت ہوگی؟ تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: انہوں نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہے، تمہاری نافرمانی کی ہے اور تم سے جو جھوٹ بولا ہے، لہذا ان سب کا شمار و حساب ہو گا اور تم نے انہیں جو سزائیں دی ہیں ان کا بھی شمار و حساب ہو گا۔ اب اگر تمہاری سزائیں ان کے گناہوں کے بقدر ہوئیں، تو نہ تمہارا حق ان پر رہے گا اور نہ ان کا حق تم پر۔ جب کہ ا گر تمہاری سزا ان کے قصور سے کم ہوئی، تو یہ تمھارے اجر و ثواب میں اضافے کا باعث بنے گا۔ لیکن اگر تمہاری سزا ان کے گناہوں سے زیادہ ہوئی، تو تجھ سے قدر زائد لے کر ان کو دے دیا جائے گا۔ (یہ سن کر) وہ شخص زور زور سے رونے لگا۔ اس کی یہ حالت دیکھ آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کتاب اللہ نہیں پڑھتے؟ (اللہ نے فرمایا ہے ): {قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا، تو ہم اسے لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔" [الأنبياء: 47] یہ سن کر اس شخص نے کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے اور ان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں پاتا کہ میں ان سے جدا ہو جاؤں اور انہیں چھوڑ دوں۔ میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سب اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہیں، فقط اس لیے کہ حساب وکتاب اور عذاب سے محفوظ رہ سکوں۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کچھ مشرک، جنھوں نے بہت سے لوگوں کی جانیں لی تھیں اور زنا میں بھی بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور جن باتوں کی دعوت دے رہے ہیں، سب ٹھیک ہیں۔ اگر آپ ہمیں یہ بتا دیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں، ان کا کفارہ بھی ہے، (تو بہتر ہوگا)۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اتری : {وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ} (اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہيں پکارتے اور نہ اس نفس کو قتل کرتےہيں، جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، مگر حق کے ساتھ اور نہ زنا کرتے ہیں۔) [سورہ الفرقان : 66] اور یہ آیت کریمہ بھی اتری : {قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ} (اے نبی! آپ میرے ان بندوں سے کہہ دیں، جنھوں نے اپنے اوپر ظلم کیے ہیں کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔) [سورہ زمر : 53]

متفق علیہ
line

کچھ مشرک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، جو قتل و زنا میں بہت زیادہ ملوث رہ چکے تھے اور آپ سے کہنے لگے: آپ ہمیں جس مذہب اسلام اور اس کی تعلیمات کی دعوت دے رہے ہیں، وہ یقینًا بہترین چیزیں ہیں۔ لیکن یہ بتائیں کہ ہمارا جو حال ہے اور ہم جس طرح شرک اور بڑے بڑے گناہوں میں ملوث ہيں، کیا آپ کے مذہب میں اس کا کوئی کفارہ ہے؟ چنانچہ یہ دونوں آیتیں اتریں اور اللہ تعالی نے بتایا کہ انسان چاہے جتنی تعداد میں جتنے بھی بڑے بڑے گناہ کر بیٹھے، سچے دل سے توبہ کرنے پر اللہ اس کی توبہ قبول ضرور کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا، تو لوگ آگے بھی کفر اور سرکشی کے راستے پر چلتے رہتے اور اسلام قبول نہ کرتے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: ’’لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر وغرور اور خاندانی تکبر ختم کر دیا ہے۔ اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں: اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور دوسرا فاجر و بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمتر۔ لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے دن لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو! اللہ نے تم سے جاہلی دور کے کبر و نخوت اور آبا و اجداد پر فخر کرنے کے طور طریقے کو دور کر دیا ہے۔ اب لوگ دو طرح کے ہیں : یا تو نیکوکار، پرہیزگار، فرماں بردار اور اللہ عز و جل کی عبادت کرنے والا مؤمن ہے، جو کہ اللہ تعالی کی نظر میں قابل احترام ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا نہ بھی ہو۔ یا پھر بدکار اور بدبخت کافر ہے، جو کہ اللہ کی نظر میں بے وقعت ہے اور اس کی کوئی قیمت نہيں ہے، چاہے لوگوں کی نظر میں حسب نسب والا اور عہدے اور منصب والا ہی کیوں نہ ہو۔ سارے کے سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔ اس لیے مٹی سے پیدا ہونے والے انسان کو تکبر اور خود پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی تائید اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہوتی ہے: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم إن الله عليم خبير} ﴿اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے﴾ [سورہ حجرات : 13]

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : جب آیت کریمہ {ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ} (پھر تم اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے جاؤگے۔) [سورہ تکاثر : 8] نازل ہوئی، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہم سے بھلا کس نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا، ہمارے پاس تو بس دو کالی چیزيں: کھجور اور پانی ہی ہیں؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "دیکھو، تم سے سوال تو کیا ہی جائے گا۔"

اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
line

جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : {ثم لتسألن يومئذ عن النعيم} یعنی اللہ نے تم کو جو نعمتیں دے رکھی ہیں، تم سے ان کا شکر ادا کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہم لوگوں سے بھلا کس نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو دو ہی نعمتیں ہیں، جو اس لائق نہيں ہيں کہ ان کے بارے میں پوچھا جائے۔ ہمارے پاس تو بس کھجور اور پانی ہی ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم جس حالت میں ہو، وہ اپنی جگہ پر، لیکن اس کے باوجود تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ کیوں کہ یہ دونوں نعمتیں بھی اللہ کی دو بڑی نعمتیں ہیں۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کو قرآن سناؤں جب کہ آپ پر ہی نازل ہوا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن سنوں۔ میں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی تلاوت کی یہاں تک میں جب اس آیت پر پہنچا ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا﴾ ”پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواه لائیں گے اور پھر آپ کو ان لوگوں پر گواه بنا کر لائیں گے“ تو آپ نے فرمایا:اب بس کرو، میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

متفق علیہ
line

نبی کریمﷺ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کریں۔تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اے اللہ کے رسولﷺ! میں آپ کے سامنے کیسے تلاوت کروں جب کہ قرآن تو آپ پر نازل ہوا ہے، آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں۔ انھوں نے آپ کے سامنے سورہ نساء کی تلاوت فرمائی اور جب اس آیت کریمہ پر پہنچے ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاَءِ شَهِيدًا﴾ ”پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ہم ایک ایک گواه لائیں گے اور پھر آپ کو ان لوگوں پر گواه بنا کر لائیں گے“ یعنی آپ کی کیا حالت ہو گی اور ان کی کیا حالت ہو گی؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا:اب بس کرو، یعنی تلاوت روک دو۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب آپﷺ کی طرف دیکھا تو اپنی امت پر شفقت کے سبب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

ابن مسعود رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اسے اس کو راہ حق میں خرچ کرنے پر لگا دیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی شخص کو اللہ نے حکمت ( کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ساتھ فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد صرف دو صورتوں میں جائز ہے؛ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالی قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہ خیر میں) خرچ کرتا رہے“۔

اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔
line

اس حدیث میں نبی ﷺ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ حسد کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی حسد تو وہ ہوتا ہے جو مذموم اورشرعا حرام ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ اس کے بھائی سے نعمت چھن جائے۔ ایک حسد وہ ہوتا ہے جو مباح ہے۔ اس سے مراد وہ حسد ہے جس میں آدمی کسی دوسرے کے پاس کوئی دنیاوی نعمت دیکھتا ہے اور تمنا کرتا ہے کہ اسی طرح کی نعمت اسے بھی مل جائے۔ اسی طرح ایک حسد وہ ہوتا ہے جو شرعا قابل تعریف اور مستحب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی اور کے پاس کوئی دینی نعمت دیکھے اور خواہش کرے کہ وہ اسے بھی مل جائے۔ نبی ﷺ کی یہاں آپ ﷺ کے فرمان ”حسد صرف دوصورتوں میں جائز ہے“ میں حسد سے مراد حسد کی یہی قسم ہے۔ یعنی یہ کہ حسد کی مختلف انواع کے اعتبار سے ان کا حکم بھی مخلتف ہوتا ہے اور یہ شرعی طور پر قابل تعریف اور مستحب صرف دو ہی صورتوں میں ہوتا ہے: پہلی صورت: کوئی ایسا شخص ہو جو مالدار بھی ہو اور صاحب تقوی بھی۔ اسے اللہ نے بہت سا حلال مال دیا ہو اور وہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔ اسے دیکھ کر آدمی تمنا کرے کہ کاش وہ بھی اس کی طرح کا ہو اور وہ اس نعمت پر اس پر رشک کرے۔ دوسری صورت: کوئی ایسا عالم شخص ہو جسے اللہ نے علم نافع سے نوازا ہو جس پر وہ خود بھی عمل کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتا ہو اور اس کے ذریعے لوگوں کے مابین فیصلے کرتا ہو۔اسے دیکھ کر آدمی خواہش کرے کہ وہ بھی اس کی طرح کا ہو جائے۔

عبد الرحمن بن يزيد نخعي بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا۔ انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو جمرہ عقبہ کی سات کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ بیت اللہ ان کے بائیں جانب تھا اور منی دائیں جانب۔ انھوں نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ ہے، جہاں آپ ﷺ پر سورۂ بقرۃ نازل ہوئی۔

متفق علیہ
line

قربانی کے دن اور ایام تشریق کے دوران کنکریاں مارنا ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے فروتنی کا اظہار، اس کے احکامات کی بجا آوری اور ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کی سنت کی پیروی ہوتی ہے۔ دس ذو الحج کو حاجی جو سب سے پہلا کام کرتا ہے وہ جمرہ کبری کی رمی ہے تا کہ اس دن کے عظیم اعمال کا آغاز اس سے ہو۔ چنانچہ وہ اس جگہ کھڑا ہوتا ہے جہاں نبی ﷺ کھڑے ہوئے تھے بایں طور کہ کعبہ مکرمہ اس کے بائیں جانب ہوتا ہے اور منیٰ دائیں جانب۔ وہ جمرہ کبری کا رخ کر کے اس پر سات کنکریاں مارتا ہے اور ہرایک کے ساتھ تکبیر کہتا ہے۔ جیسا کہ بالکل اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے اور انہوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ پر سورۃ بقرہ نازل ہوئی تھی۔