Hadeeth Cards

Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں (قراءت کا) اختتام ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟“۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے“۔

متفق علیہ
line

آپ ﷺ نے کسی صحابی کو ایک سریہ کا امیر بنایا، تاکہ وہ (سریہ میں شامل) لوگوں کے انتظامی امور سنبھالیں، (اختلاف کی صورت میں) ان کے درمیان فیصلہ کریں اور کسی طرح کی کوئ بد نظمی نہ پیدا ہو۔ آپ ﷺ امیر اسی کو بناتے، جو لوگوں میں دین، علم اور کارکردگی کے اعتبار سے سب سے مناسب ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جنگوں میں امیر ہی نماز کے امام ہوتے تھے اور اپنی علمی اور دینی برتری کی وجہ سے فتوے بھی وہی دیتے۔ چانچہ (مذکورہ) امیر اللہ تعالیٰ اور اس کے اسما و صفات سے محبت کی وجہ سے ہر نماز کی دوسری رکعت میں ﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ پڑھتے تھے، اس لیے کہ جو شخص جس چیز سے محبت کرتا ہے، وہ اس کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔ یہ لوگ جب غزوے سے واپس اللہ کے نبی ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ یہ محض اتفاق تھا یا اس کی کوئ وجہ تھی؟ امیر نے کہا کہ میں اس لیے ایسا کرتا تھا کہ یہ سورت رحمٰن کی صفات پر مشتمل ہے، اس لیے میں اسے بار بار پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے بتادو کہ جس طرح وہ اس سورت سے محبت کی وجہ سے اسےبار بار پڑھتا تھا، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی عظیم صفات پر مشتمل ہے، جن پراس میں مذکور اسما دلالت کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی، تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا، تو وہ چلے جائیں گے“۔

متفق علیہ
line

”صاحب قرآن کی مثال“ یعنی قرآن مجید کو یاد کرتے ہوئے دل و دماغ میں راسخ کرنے والا۔ ”رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس تشبیہ کی وجہ شبہ واضح فرمائی کہ ”اگر وہ اس کو اپنی نگہداشت میں رکھے گا“ یعنی ہمیشہ اس کو باندھ کر رکھے گا، اس کو بار بار دیکھتا رہے گا اور اس کے حال سے باخبر و چوکنا رہے گا ”تو اسے اپنی ملکیت و قبضہ میں رکھ سکے گا“ اور اگر اس کو شتر بے مہار چھوڑ دے کا، تو وہ بھاگ جائے گا۔ یہی حال حافظ قرآن کا ہے کہ اگر وہ مداومت کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کرے اور اس کو بار بار دہراتا رہے، تو یہ اس کے دل و دماغ میں راسخ و جاگزیں ہوجائے گا اور اگر اس کو طاق نسیان کی نذر کردے، تو دل و دماغ سے رخصت ہوجائے گا اور بھلا دیا جائے گا اور بعد ازاں اس کو دوبارہ حفظ کرنے کے لیے کافی مشقت اور تکان جھیلنی پڑے گی۔ چنانچہ جس قدر قرآن مجید کی حفاظت کا خیال رکھا جائے، اسی لحاظ سے وہ باقی رہے گا، جیسے اونٹ کو جب تک پابہ زنجیر رکھاجائے، محفوظ ہے۔ یہاں اونٹ کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ گھریلو جانوروں میں سب سے زیادہ تیزی سے بدکنے والا جانور ہے اور اس کے بھاگ جانے کے بعد اس کو پانا بہت ہی مشکل امر ہے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی۔ انھوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور بتایا کہ یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے، جو آج ہی کھولا گیا ہے۔ یہ اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا۔ پھر اس سے ایک فرشتہ اترا، تو جبریل نے بتایا کہ یہ ایک فرشتہ ہے، جو آسمان سے اترا ہے، یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا تھا۔ اس نے سلام عرض کیا اور کہا: مبارک ہو! آپ کو دوایسے نور عطا کیے گئے ہیں، جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے؛ ایک سورۃ الفاتحہ اور دوسری سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تم پڑھو گے، تو (اس کا ثواب) تمھیں ضرور دیا جائے گا۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایک آواز سنی، ”نقیض“ یعنی ایسی اونچی آواز، جو لکڑی کو کوئی سامان تیار کرنے کے لیے پھاڑتے وقت پیدا ہو۔ ”من فوقہ“ یعنی آسمان یا آپ کے سر کی جانب سے۔ ایک قول یہ ہے کہ دروازے کے کھلنے کی آواز کی طرح آواز آئی تھی۔ تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی، چنانچہ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے یعنی آسمانی دنیا کا دروازہ۔ آج ہی کھولا گیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا۔ پھر اس سے یعنی دروازے سے ایک فرشتہ اترا، تو جبریل نے کہا: یہ ایک فرشتہ ہے، جو آسمان سے اترا ہے۔ یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا تھا۔ اس نے یعنی فرشتے نے سلام عرض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دو نور کی خوش خبری مبارک ہو، ان دونوں سورتوں کو نور سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک ایسا نور ہے، جو ان پر عمل پیرا لوگوں کی گزرگاہوں کو روشن کرتا ہے یا ان پر تدبر اور ان کے معانی پر غور وخوض کرنے والوں کو صراط مستقیم پر گام زن کر دیتا ہے۔ دونوں انوار کو ان دو واقعات کے ساتھ، جو پہلے کبھی ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے، مربوط کرنے کا مقصد ان کی افضلیت اور ان کی خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے۔ پہلا نور سورۂ فاتحہ اور دوسرا سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں۔ لہٰذا اس امت کا جو شخص ان پر ایمان رکھتے ہوئے ان کی تلاوت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ان دونوں آیتوں میں مانگی گئی ساری چیزیں عطا کرے گا۔ ”اوتیتھما“ یعنی ”اعطیتھما“ یعنی یہ دو انوار آپ سے پہلے کسی اورنبی کو عطا نہیں کی گئیں۔

براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی سورہ کھف کی تلاوت کررہے تھے اور ان کے نزدیک ایک گھوڑا دو رسیوں میں بندھا ہوا تھا۔ چنانچہ انھیں ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور ان کے نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر جب صبح ہوئی، تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ 'سكينت' تھی، جو تلاوت قرآن مجید کی وجہ سے اتری تھی۔

متفق علیہ
line

براء بن عازب رضی اللہ عنہ، عہد نبوی ﷺ میں وقوع پذیر ہونے والے ایک تعجب خیز قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک صحابی، سورہ کھف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے ایک جانب گھوڑا رسی سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک سایہ جیسی کسی چیز نے انھیں ڈھانک لیا اور ان کے قریب تر ہونے لگی۔ اس کو دیکھ، ان کا گھوڑا خوف زدہ ہو کر بدکنے لگا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو یہ صحابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعے کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر نازل ہونے والی یہ سکینت تھی، جو قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے صحابی کے فضل و شرف اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بات کی گواہی کےاظہار کے طور پر نازل ہوئی کہ اس کا نازل کردہ کلام (قرآن مجید) برحق ہے۔ وہ صحابی اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ تھے۔

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم مجھے دیکھ لیتے، جب کہ گزشتہ رات میں تمھاری قراءت سن رہا تھا!“۔

متفق علیہ
line

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےجب ان کی ترتیل کے ساتھ پڑھی گئی دل کش و دل نشین تلاوت سماعت فرمائی، تو ان سے فرمایا:" تمھیں آل داود کی خوش الحانیوں(اچھی آوازوں)میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے۔" یعنی خود داؤد علیہ السلام ہی کی خوش الحانی۔ در اصل داؤد علیہ السلام کو بہت بلند، دل لبھانے والی عمدہ ترین آواز عطا کی گئی تھی، حتی کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ﴾ ”اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا“۔ (سورہ سبا:10) 'آل فلان' کا اطلاق کبھی خود اسی شخص پر ہوتا ہے؛ کیوں کہ آل داؤد میں سے کسی کو بھی وہ دل کش و دل نشین آواز عطا نہیں کی گئی، جو داؤد علیہ السلام کو عطا کی گئی تھی۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ”قرآن مجید کی تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورت نے ایک شخص کی شفاعت (سفارش) کی، تو اسے بخش دیا گیا۔ یہ سورت ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ ہے۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں ”تَشْفَعُ“ (پڑھنے والے کے حق میں سفارش کرے گی ) کا لفظ وارد ہے۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
line

رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں یہ وضاحت فرمارہے ہیں کہ قرآن مجید میں تیس آیات پر مشتمل ایک ایسی سورت ہے، جو اپنے قاری کی اس وقت تک سفارش کرتی رہی، جب تک اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ فرمادی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اس کی تلاوت کرتا تھا اور اس کا خاص اہتمام کیا کرتا تھا۔ اس لیے جب اس کی وفات ہوگئی، تو اس سورت نے اس کی سفارش کی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے عذاب دور کردیا۔نبی ﷺ نے آغاز حدیث میں اس سورت کا ذکر غیر واضح اسلوب میں فرمایا اور پھر آخر حدیث میں اس کی وضاحت فرمائی؛ تاکہ یہ اسلوب، اس سورت کے شرف و عظمت اوراس کی بڑائی و شوکت کے بیان میں زیادہ مؤثر و کارگر ثابت ہو اور اس کی تلاوت میں پائیداری و ثبات قدمی اختیار کرنے کی راہ میں بھرپور ترغیب کا ذریعہ بن جائے۔

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔ قرآن کے آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے حجت قائم کر رہی ہوں گی“۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔ قرآن کے آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑ رہی ہوں گی۔" تاہم رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں قرآن پڑھنے کو اس پر عمل کرنے کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں ان کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہے جو اس پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی اس میں دی گئی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ اس کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔ قرآن ان کے خلاف حجت ہو گا۔ اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اس میں دی گئی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں، ان کی تصدیق کرتے ہیں، اس کے احکام پرعمل کرتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن پاک حجت ہو گا اور روزِ قیامت ان کی طرف سے جھگڑے گا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔اس کی تائید اللہ تعالی کے اس قول سے ہوتی ہے: ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ (سورۂ ص: 29) ”یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر اس لیے نازل فرمائی ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں“۔ ”لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ“ یعنی وہ اس کے معانی کو سمجھیں۔ ”وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ“ یعنی اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالی نے عمل کو تدبرکے بعد ذکر کیا کیونکہ غور و فکر کے بغیر عمل کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ غور و فکر سے علم حاصل ہوتا ہے اور عمل، علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے پڑھا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اس کی خبروں پر ایمان رکھا جائے اور اس کے احکام کو بجا لایا جائے بایں طور کہ اللہ کے حکم کی پیروی کی جائے اور اس کی منع کردہ شے سے اجتناب کیا جائے۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو اس دن قرآن اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا۔

عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“۔

اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔
line

حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا“ یعنی عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جب نجران کے قاضی تھے تو آپ ﷺ نے انہیں ایک تفصیلی مکتوب لکھ کر دیا تھا جس میں بہت سے احکامِ شریعت جیسے فرائض و صدقات اور دیات وغیرہ کا بیان تھا۔ یہ ایک مشہور مکتوب ہے جسے امت نے قبول کیا ہے۔ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“ یہاں چھونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پاک کو بغیر کسی آڑ کے براہ راست ہاتھ لگائے۔ اس بنیاد پر اگر آدمی کسی ایسی آڑ کے پیچھے سے اسے اٹھائے جو اس سے الگ ہو مثلاً وہ اسے کسی تھیلی یا بیگ میں اٹھائے، یا لکڑی وغیرہ سے اس کے اوراق پلٹے تو یہ اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آئے گا کیونکہ اس صورت میں چھونے کا عمل نہیں ہوا ہے۔ یہاں قرآن سے مراد وہ تختیاں، اوراق اور چمڑے وغیرہ ہیں جن پر قرآن لکھا گیا ہے، یہاں قرآن سے مراد کلام نہیں ہے کیونکہ کلام کو چھوا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے۔ ’’سوائے طاہر کے‘‘ طاہر کا لفظ چار معانی میں مشترک ہے: اول: طاہر سے مراد مسلمان ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ ”مشرک تو ہیں ہی ناپاک“۔ دوم: اس سے مراد وہ شخص ہو جو نجاست سے پاک ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے“۔ سوم: اس سے مراد وہ شخص ہے جو جنابت سے پاک ہو۔ چہارم: طاہر سے مراد باوضو شخص ہے۔ اس حدیث میں شریعت کی رو سے طہارت کے ان سبھی معانی کے مراد ہونےکا احتمال ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی دليل يا قرينہ نہیں ہے جس کی بنا پر ہم ان میں سے کسی ایک کو دیگر معانی پر ترجیح دے سکيں۔ چنانچہ اولیٰ یہی ہے کہ اس لفظ کو اس معنی پر محمول کیا جائے جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہے اور وہ حدثِ اصغر سے طاہر شخص ہے۔ کیوں کہ یہ معنی یقینی ہے اور جمہورِ علماء بشمول ائمۂ اربعہ اور ان کے متبعین کے مسلک کے بھی موافق ہے۔ نیز اسی میں احتیاط ہے اور یہی اولی ہے۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔“

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے"۔ یعنی جو لوگ اس قرآن کو سیکھتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے اور پڑھتے ہیں، ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں بلندیاں عطا فرماتا ہے اور بعض کو دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔ جو قرآنی کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرکے اس کی احکامات پر عمل کرتا ہے اور نواہی سے بچتا ہے، اس سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، اس کے بیان کردہ اخلاق فاضلہ کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بلندیاں عطا کرتا ہے؛ کیوںکہ یہی قرآن اصل علم، علم کا سرچشمہ اور پورا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یرفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں، درجے بلند کر دے گا اور آخرت میں اس کے ذریعے بہت ساری قوموں کو نعمتوں والی جنت میں بلندیاں عطا کریں گے۔ جہاں تک ان لوگوں کی بات ہے، جنھیں اللہ قرآن کے ذریعے ذلیل کرتا ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں، جو اس کی تلاوت بہتر انداز میں کرتے ہیں؛ لیکن اس سے تکبر کرتے ہیں، اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق نہیں کرتے، اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، اس کی خبروں کو جان بوجھ کر جھٹلاتے ہیں، جیسے گزشتہ انبیا کے واقعات یا آخرت کے بارے میں قرآن کی خبریں وغیرہ۔ ان تمام امور میں شک و شبہ کی روش اپناتے ہیں-والعیاذ باللہ- اور دل سے یقین نہیں کرتے۔ بسا اوقات ان کا یہ جان بوجھ کر انکار کا رویہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے ہیں، اس کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، اوامر پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی ممنوعات سے بچتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ والعیاذ باللہ!

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے کان لگا کر سنا کہ وہ ایسی قراءتوں کو پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں ٹھہرا رہا جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر یا اپنی چادر ان کے گلے میں ڈال دی، میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے، میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے، پھر میں ان کو گھسیٹے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لایا، میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا : عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام سے فرمایا پڑھو :انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر تم پڑھو: چنانچہ میں نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ دیکھو یہ قرآن سات حروف(زبانوں) پر اترا ہے، جس طرح تمہیں آسان معلوم ہو پڑھو۔

متفق علیہ
line

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، وہ ایسی قرأتوں کو پڑھ رہے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت سے بہت سارے الفاظ میں مختلف تھیں جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس سورہ کو پڑهی تھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ ہشام رضی اللہ عنہ غلط پڑھ رہے ہیں قریب تھا کہ وہ نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھتے مگر وہ ٹھہرےرہے اور صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا، پھر انہوں نے اپنی چادر سے ان کے گلے کو پکڑ لیا، اور ان سے کہا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ ،ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے مگر اس قرأت کے علاوہ جس کو تم پڑھ رہے ہو۔ پھرعمر رضی اللہ عنہ ان کو گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لائے، چونکہ عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے معاملے میں بڑےسخت تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، اور آپ سے بھی اس طرح پڑھتے ہوئے میں نے نہیں سنا، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا :عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’پڑھو ‘‘! انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح عمر نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے اور وہ غلطی پر نہیں تھے جیسا کہ عمر نے گمان کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھی ہے اور جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نےفرمایا ”بے شک یہ قرآن سات حروف (لہجات) پر اتارا گیا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو،، لہذاعمر اور ہشام دونوں ہی اپنی قرأت میں صحیح ہیں،کیونکہ قرآن ایک حرف (لہجے) سے زیادہ پر اتارا گیا ہے، بلکہ سات حروف (لہجوں) پر اتارا گیا ہے، ہشام رضی اللہ عنہ کی قرأت میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں تھا، ہاں اختلاف صرف حروف میں تھا، اسی وجہ سے نبی ﷺنے ہر ایک سےان کی تلاوت سننے کے بعد فرمایا تھا، ہاں قرآن ایسے ہی نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ” بے شک یہ قرآن سات حروف پر اتارا گیا ہے ، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھیں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ایک ہی حرف (لہجے) میں پڑھنے کا پابند نہ بناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےتمہارےاوپر کشادگی کی ہےاور تمہارے لیے آسانی پیدا کیا ہے کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ہے، لہذا اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد وثنا ہے۔ علماء نے سات حروف کی تعیین میں بہت اختلاف کیا ہے، اور یہاں اس سے مقصود جو ظاہر ہے حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ عربی زبان کے کئی وجوہ (لہجے) مراد ہیں، چنانچہ قرآن شروع زمانہ اسلام میں آسانی کے لیے انہیں طریقوں پر اترا ہے، اس لیے کہ عرب بٹے ہوئے اور مختلف تھے ان سب کی الگ الگ لغت تھی، جو ایک قبیلے کی ہوتی وہ دوسرے قبیلے کے پاس مِنْ وعَنْ نہ ہوتی تھی، لیکن ان سب کے درمیان مذہب اسلام نے اتحاد پیدا کر دیا، وہ ایک دوسرے سے مل کر رہنے لگے، اسلام کی وجہ سے کینہ وعداوت ختم ہو گئی اور سب نے دوسرے کی زبان کو بھی جان لیا، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس مہم کے لیے تیار ہوئے اور سات حروف کے بجائے سب کو ایک ہی حرف (لہجۂ قریش) پر جمع کردیا اور اس کے علاوہ جتنے نسخے تھے سبھی کو خاکستر کردیا،تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔