Hadeeth Cards

Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "اللہ تعالی نے فرمایا: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ جب بندہ {الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب بندہ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری ثنا کی۔ جب بندہ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی -اور ایک مرتبہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے اپنے سارے کاموں کو میرے حوالے کر دیا۔- جب بندہ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} کہتا ہے تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔ پھر جب بندہ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں کہا ہے : میں نے نماز میں پڑھی جانے والی سورہ فاتحہ کو اپنے اور اپنے بندے کے بیچ آدھا آدھا بانٹ دیا ہے۔ آدھی سورت میرے لیے اور آدھی سورت اس کے لیے۔ اس کا نصف اول حمد و ثنا اور اللہ کی بڑائی پر مشتمل ہے، جس پر اللہ بندے کو بہترین بدلہ عطا کرتاہے۔ جب کہ اس کا نصف ثانی تضرع اور دعا سے عبارت ہے، جسے اللہ قبول فرماتا ہے اور انسان کو اس کی مانگی ہوئی ساری چیزیں عطا فرماتا ہے۔ جب نماز پڑھ رہا شخص {الحمد لله رب العالمين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی۔ جب وہ {الرحمن الرحيم} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے مدح و ثنا کی اور مخلوقات پر میرے عام احسان کا اعتراف کیا۔ جب وہ {مالك يوم الدين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی۔ جب وہ {إياك نعبد وإياك نستعين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ ہے۔ اس طرح اس آیت کا نصف اول یعنی "إياك نعبد" اللہ کے لیے ہے، جس میں اللہ کی الوہیت اور بندے کی بندگی کا اعتراف ہے اور اسی سے اس سورت کا پہلا نصف ختم ہو جاتا ہے، جو اللہ کے لیے ہے۔ جب کہ اس آیت کا نصف ثانی یعنی "إياك نستعين" بندے کے لیے ہے، جس میں اللہ کی مدد طلب کی گئی ہے اور اللہ نے اس سے مدد کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر جب بندہ {اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين} کہتا ہے، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ میرے بندے کی جانب سے تضرع اور دعا ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے، جو وہ مانگے اور میں نے اس کی دعا قبول کر لی۔

سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت ان کے پاس ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : "اے چچا جان، آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق دلیل پکڑوں گا۔" یہ سن کر ابو جہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : کیا تم عبدالمطلب کا مذہب چھوڑ دوگے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہ کلمہ پیش کرتے رہے اور دونوں اپنی بات دہراتے رہے۔ بالآخر ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر قائم ہوں۔ اس طرح لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار کر دیا۔ راوی کہتا ہے : لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک مجھے روک نہ دیا جائے"۔ چنانچہ اسی پس منظر میں اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ} [التوبة : 113] (نبی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں)۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ابو طالب کے بارے میں نازل فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کرکے فرمایا : {إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ} [القصص: 56] (بلاشبہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے)۔

متفق علیہ
line

ابو طالب حالت نزع میں تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس آئے اور ان سے کہا : چچا جان! آپ لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ اس کلمہ کی بنیاد پر میں اللہ کے یہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔ یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ بن ابو امیہ نے کہا : ابو طالب! کیا تم اپنے باپ عبد المطلب کا دین چھوڑ دو گے؟ وہ مذہب دراصل بت پرستی کا مذہب تھا۔ دونوں ان سے بات کرتے رہے، یہاں تک کہ انھوں نے ان سے آخر میں کہہ ہی دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر چل کر اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ یعنی شرک اور بت پرستی کے مذہب پر۔ یہ سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا، جب تک میرا رب مجھے منع نہ کر دے۔ چنانچہ اسی پس منظر میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : "نبی کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، اگرچہ وه رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں"۔ [سورہ توبہ : 113] اسی طرح ابو طالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: "آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے". [سورہ قصص : 56] آپ جسے راہ حق پر چلانا چاہیں، اسے راہ حق پر نہیں چلا سکتے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے حق کی راہ پر چلاتا ہے۔

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، چکوترے جیسی ہے، جس کی خوش بو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہ پڑھتا ہو،کھجور جیسی ہے، جس میں کوئی خوش بو نہیں ہوتی، لیکن مٹھاس ہوتی ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے، جس کی خوش بو تو اچھی ہوتی ہے، لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا، اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، جس میں کوئی خوش بو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے“۔

متفق علیہ
line

”قرآن پڑھنے والے مؤمن کی مثال“ یعنی اس کی شخصیت غیر معمولی اوصاف کی حامل ہوتی ہے؛ دل کی پاکیزگی، ایمانی پختگی ،قرآن مجید کی تلاوت سے سکون وراحت کا احساس، نیز لوگوں کا اس کی آواز سے راحت کا احساس، اس کی سماعت سے ثواب حصول اور اس سے فیض یابی (یہ سب اس کی شخصیت کے شان دار پہلو ہیں)۔ اس لیے قرآن پڑھنے والا مؤمن سراپا خیر ہے؛ اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ آپ ﷺ نے اپنے قول : ”يقرأ“ یعنی پڑھتا ہے کے لفظ کا انتخاب یہ بتانے کے لیے کیا کہ وہ قرآن اس طرح بار بار اور لگاتار پڑھتا ہے کہ یہ اس کی اس کی عادت و فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”چکوترے جیسی ہے، جس کی خوش بو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے“ چنانچہ لوگ اس کی مٹھاس و شیرینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس کی خوش بو سے سکون و راحت محسوس کرتے ہیں۔ یہاں بطور خاص 'چکوترے' کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ تمام ممالک میں پائے جانے والے بہترین پھلوں میں سے ایک ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ دل کشی، عمدہ و پاکیزہ غذائیت اور چھونے میں گدازپن جیسی گوناگوں خوبیوں و خاصیتوں کا حامل ہے۔ ”اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، کھجور جیسی ہے، جس میں خوش بو تو نہیں ہوتی، لیکن ذائقہ میٹھا ہوتا ہے“ چنانچہ اس مؤمن کا ایمان کے وصف سے متصف ہونا ایسے ہے، جیسے کھجور کا مٹھاس سے۔ دونوں کا وصف جامع باطنی چیز ہے کہ کھجور میں خوش بو نہیں ہوتی جسے سونگھ کر لوگ لطف اندوز ہوں اور یہ مؤمن بھی قراءت قرآن مجید کا اہتمام نہیں کرتا، جس کی سماعت سے لوگ لذت و سرور محسوس کریں۔ لہٰذا قرآن مجید کی قراءت کرنے والا مؤمن اس سے بدرجہا بہتر ہے، جو قرآن نہیں پڑھتا۔ ”نہیں پڑھتا“ یعنی اسے سیکھتا نہیں ہے۔ ”اور اس منافق کی مثال جو قرآن مجید کی قراءت کرتا ہے“ جب کہ اس کا باطن، ایمان کی دولت سے خالی و بے بہرہ ہوتا ہے،تاہم لوگ، اس کی قراءت سے محظوظ ہوتے ہیں؛ کیوں کہ منافق کی شخصیت ہی سراپا گندگی ہوتی ہے، اس میں کوئي خیر نہیں ہوتی۔-منافق اس شخص کو کہتے ہیں جوخود کو مسلمان ظاہر کرے، لیکن اپنے دل میں کفر کی تاریکیاں چھپائے پھرے- والعیاذ باللہ! کچھ منافق ایسے ہوتے ہیں، جو قرآن مجید کی ترتیل و تجوید کے ساتھ بہترین تلاوت کرتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں نفاق بھرا رہتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ اور آپﷺ کے قول " اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ (پھول) جیسی ہے، جس کی خوش بو تو اچھی ہوتی ہے، لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے" کے معنی یہ ہیں کہ اس پھول کی عمدہ خوش بو، اس کی قراءت کے مشابہ ہےاور اس کے کڑواہٹ، اس کے کفر کے مشابہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باطن کی خباثتوں اور فاسد نیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ اور آپ ﷺکے قول ”اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا“ کے معنی یہ ہے کہ اس کا باطن، ایمان کی دولت سے خالی، اس کا ظاہر ہر قسم کے منافع سے بے بہرہ اور اس میں ہر قسم کا شر و ضرر موجود ہوتا ہے۔ اور آپ ﷺ کے قول ”اس کی مثال اندرائن جیسی ہے، جس میں کوئی خوش بو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے“ میں اندرائن کی خوش بو کی نفی کو منافق میں خوش بو کی نفی سے مشابہت دی گئی ہے؛ کیوں کہ اسے قرآن مجیدکی تلاوت بھی نصیب نہیں کہ جس سے (کم از کم) دیگر لوگ لطف اندوز ہوں۔ اس کے شیرین ذائقے کی نفی کو اس کے ایمان کی نفی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ الغرض اس حدیث میں نبی ﷺ نے مؤمن اور منافق کے لیے مثالیں بیان فرمائیں اور اللہ عز وجل کی کتاب کی نسبت پائے جانے والے لوگوں کی مختلف اقسام واضح فرمائیں۔ اس لیے اے میرے مسلم بھائی! اس بات کی خوب حرص و طمع رکھو کہ تمھارا ان مؤمنین میں شمار ہوجائے، جو قرآن مجید کی قرات میں مشغول رہتے ہیں اور اور اس کا بھرپورحق ادا کرتے ہوئے، اس کی تلاوت کرتے ہیں؛ تاکہ آپ بھی اس چکوترے کی مثال کے حق دار ہوجائیں، جس کی خوش بو عمدہ ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ بھی شیریں ہوتا ہے۔ واللہ المؤفق۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا“۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں...“۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

جس نے سورۃ الکھف کی ابتدائی یا اس کی آخری دس آیات (دونوں روایات کے مطابق) کو حفظ کر لیا تو اللہ تعالیٰ اس کو دجال کے شر اور اس کے فتنے و آزمائش سے محفوظ کردے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نہ اس پر مسلط و حاوی ہوپائے گا اور نہ اس کو کسی قسم کا نقصان و ضرر پہنچا سکے گا۔

ابو لبابہ بشیر بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔

اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔
line

نبی ﷺ نے اس حدیث میں قرآن کو سریلی آواز میں پڑھنے کی ترغیب دی۔ اس لفظ (تغنی بالقرآن)کے دو معانی ہیں: پہلا معنی یہ کہ جو شخص اسے سریلی آواز میں نہیں پڑھتا یعنی قرآن کو اچھی آواز میں نہیں پڑھتا وہ ہماری سنت اور ہمارے طریقہ کار پر کاربند نہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جو شخص قرآن پر تکیہ کرتے ہوئے دوسری ہر شے سے مستغنی نہیں ہو جاتا بایں طور کہ کسی اور شے سے بھی ہدایت چاہتا ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور شے سے ہدایت چاہتا ہے اسے یہ شے گمراہ کر دیتی ہے، العیاذ باللہ۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھی آواز میں قرآن پڑھے اور اس کی موجودگی میں دیگر تمام اشیاء سے بے نیاز ہو جائے۔

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟ آپ نے مجھے ہاتھ سے پکڑا، جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے، جو سبع مثانی ہے اور قرآنِ کریم جو مجھے دیا گیا ہے۔

اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
line

ابو سعید رافع بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ألا“ یہ لفظ مخاطب کو ما بعد والی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ ” مسجد سے نکلنے سے پہلے کیا میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت نہ بتاؤ؟“ آپ ﷺ نے ابتداءً نہیں بتایا بلکہ یہ جملہ کہا، اس لیے کہ یہ اسلوب ان کے ذہن میں بات ڈالنے اور ان کو اس طرف متوجہ کرنے کے زیادہ مناسب تھا۔ ”پس آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا“ یعنی یہ کہنے کے بعد جب ہم چلنے لگے، ”جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے کہا تھا کہ میں تمہیں قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ سورۂ الحَمْدُ للهِ رَبِّ العَالَمِينَ ہے“ یعنی سورہ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے بڑی سورت ہے، یہ اس لیے کہ اس میں قرآنِ کریم کے تمام مقاصد جمع ہیں، اسی وجہ سے اسے اُمُّ القرآن کہتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے سورۃ فاتحہ کو ”سبعِ مثاني“ کا نام دے کر اسے باقی تمام سورتوں سے ممتاز کیا بلکہ اس کو ان سب میں سے بڑی سورت قرار دیا۔ ’مثاني‘ مثناة کی جمع ہے اور مثناة تثنیۃ سے ہے، اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھا جاتا ہے یا اس لیے کہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا کر اسے تثنیہ بنایا جاتا ہے یا اس کو ’مثاني‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ دو قسموں پر مشتمل ہیں ثناء اور دعاء یا اس لیے کہ اس میں الفاظ کی فصاحت اور معانی کی بلاغت دونوں چیزیں جمع کی گئی ہیں یا اس لیے کہ زمانے کے گزرنے کے ساتھ اسے دُہرایا جاتا رہے گا، بار بار پڑھا جائے گا جس سے یہ ختم نہیں ہوگی، اسے پڑھایا جائے گا جس سے یہ سینوں سے نہیں مٹے گا یا اس لیے کہ اس کے فائدوں میں وقتاً فوقتاً تجدید ہوتی ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی انتہاء نہیں یا اس کی وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ ’مثناۃ‘، ’ثناء‘ سے ماخوذ ہے، کیوں کہ یہ سورت اللہ کی تعریف پر مشتمل ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذریعے اس کی تعریف کی جاتی ہے اور یا یہ ’الثنايا‘ سے ماخوذ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس امت کے لیے چُنا ہے۔ ”والقرآن العظيم“ یعنی اس سورت کو قرآن عظیم بھی کہتے ہیں۔ جو مجھے دیا گیا ہے۔ اس سورت کو قرآنِ عظیم کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس میں دنیا و آخرت سے متعلق تمام موجودات اور احکام و عقائد کو جمع کیا گیا ہے۔

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو، وہ معزز اور نیک سفراء (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا، اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اسے پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو تو اس کو دو گنا ثواب ملتا ہے“۔

متفق علیہ
line

عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ قرآن کا ماہر ہو وہ سفرۃ الکرام البررۃ (بزرگ اور پاکباز لکھنے والے) فرشتوں کےساتھ ہوگا۔ قرآن کا ماہر سے مراد جو قرآن کو تجوید کے مطابق پڑھے، اس سے مراد اچھی تلاوت کرنے والا جب کہ اسے قرآن یاد بھی اچھا ہو وہ سفرۃ الکرام البررۃ فرشتوں کے ساتھ ہوگا۔ ’’السفرة الكرام البررة‘‘ یہ فرشتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ، مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ، بِأَيْدِي سَفَرَةٍ، كِرَامٍ بَرَرَةٍ﴾ ”یہ تو پر عظمت صحیفوں میں (ہے)، جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے، ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے، جو بزرگ اور پاکباز ہے“ (سورہ عبس: 13-16) قرآن کا ماہر فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاری کے لیے قرآن کو آسان کیا ہے جیسے کہ ’’کرام بررۃ‘‘ فرشتوں پر اسے آسان کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ قاری قرآن پڑھنے میں ان فرشتوں کی طرح ہیں اور اللہ کے ہاں دونوں کا ایک درجہ ہے۔ جب کہ وہ شخص جو کہ قرآن اٹک اٹک کے پڑھتا ہو اور یہ اس پر گراں گزرتا ہو، اس کے لیے دُہرا اجر ہوتا ہے۔ ایک تلاوت کا اور دوسرے تھکن اور مشقت کا۔

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ جو آیات آج رات نازل ہوئی ہیں ان جیسی آیات پہلے کبھی نازل نہیں ہوئیں۔ یہ آیات ’’ قل أعوذ برب الفلق ‘‘ اور ’’قل أعوذ بربّ الناس‘‘ ہیں۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "ألم تر" یعنی کیا تمہیں معلوم نہیں؟ اگرچہ اس میں خاص طور پر راوی مخاطب ہے تاہم یہ بات سب کے لیے عام ہے۔ یہ تعجب کا پیرایہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ کہہ کر سببِ تعجب کی طرف اشارہ فرمایا کہ ”لم ير مثلهن“ یعنی ’تعوذ‘ کے باب میں اس طرح کی کوئی اور آیات نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے "قط" کے لفظ کے استعمال سے نفی کی تاکید ہوتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ”قل أعوذ برب الفلق“ اور ”قل أعوذ برب الناس“ یعنی کسی سورت کی آیتیں ایسی نہیں ہیں جو ساری کی ساری پڑھنے والے کو اشرار کے شر سے پناہ دیتی ہوں جیسے یہ دو سورتیں ہیں۔کوئی پناہ طلب کرنے والا جب ان کے ذریعے ایمان و صدق کے ساتھ پناہ مانگتا ہے تو اللہ عز وجل اسے پناہ دیتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان دونوں سورتوں کے ذریعے پناہ طلب کرے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر سخت سردی کے دن وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔

اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
line

اس حدیث میں اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر صبح کے ٹھنڈے وقت وحی نازل ہوتی تو وحی کی شدت کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیشانی سے کثرت کے ساتھ پسینہ بہنا شروع ہو جاتا۔

براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کیا کرو“۔

اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔
line

مراد یہ ہے کہ تلاوت کرتے ہوئے اپنی آوازوں کو خوبصورت بنا کر قرآن کو مزین کرو۔ کیونکہ اچھی آواز سے اچھے کلام کا حسن اور زینت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے معانی میں زیادہ سے زیادہ غور و تدبر ہو اور اوامر و نواہی اور وعدو وعید پر مشتمل آیات کی سمجھ پیدا ہو ۔ کیونکہ نفس طبعی طور پر اچھی آوازوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ خوبصورت آواز کی بدولت سوچ تمام آمیزشوں سے تہی ہو کر ذہنی یکسوئی کا سبب بن جائے۔ جب ذہن یکسو ہوتا ہے تو مطلوبہ شے یعنی خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے۔ حدیث میں آواز کو خوبصورت بنانے سے مراد وہ خوبصورتی ہے جس سے خشوع پیدا ہو نہ كہ گانے کے سروں اور لہو و لعب کی آوازیں جو قرأت کی تعریف کے دائرے سے نکل جاتی ہیں۔