Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ان کی بخشش کے لیے اسباب مہیا کرے۔ اسی لیے نمازہ جنازہ میں حاضری اور ادائیگی پر رغبت دلائی ہے کیوں کہ یہ سفارش ہے اور یہ رحمت کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے جو شخص نمازہ جنازہ پڑھتا ہے اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جو تدفین میں بھی شریک ہوتا ہے اس کے لیے ایک مزید قیراط کا ثواب ہے۔ ثواب کی یہ مقدار بہت بڑی ہے اور اس کی مقدار کا اصل علم اللہ تعالیٰ کے ہی پاس ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی مقدار کو صحابہ سے مخفی رکھا لیکن ان کو سمجھانے کی غرض سے بتایا کہ ایک قیراط ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر اپنے مسلمان بھائی کے حق کی ادائیگی، اس کے لیے دعاء کرنا، اسے انجام کار کے بارے میں یاد دہانی کرانا، اور میت کے گھر والوں کے دلوں کو تسلی دینا اور اس کے علاوہ دیگر مصالح پائے جاتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے وضو کیا اور اس کے ارکان، سنتوں اور آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے خوب اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعے کی نماز کے لیے حاضر ہوا، خاموشی سے اور کان لگا کر خطیب کی باتیں سنیں، اللہ اس کے دس دنوں کے صغیرہ گناہ معاف کر دیتا ہے۔ یعنی ایک جمعے کی نماز سے دوسرے جمعے کی نماز تک اور اضافی تین دنوں کے گناہ۔ کیوں کہ اللہ کے یہاں ایک نیکی کو بڑھا کر دس بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبے کے دوران کہی جانے والی باتوں کو پوری توجہ سے نہ سننے اور اعضا کو بے کار کے کاموں جیسے کنکر چھونے وغیرہ میں مشغول رکھنے سے خبر دار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس طرح کا کام کرنے والا لغو کام کرتا ہے اور لغو کام کرنے والے کو جمعے کے اجر و ثواب سے محروم رکھ دیا جاتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبادت، طلب علم یا اس طرح کے کسی دوسرے نیک مقصد کی خاطر کسی بھی وقت، دن کے پہلے حصے میں ہو یا آخری حصے میں، مسجد آنے والے کو خوش خبری دی ہے کہ وہ رات یا دن کے وقت جب بھی مسجد آتا ہے، تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں جگہ اور ضیافت تیار کر دیتا ہے۔
جو شخص مساجد، بازاروں یا ایسی جگہوں سے گزرے جہاں مسلمان اکٹھے ہوتے ہوں اور اس کے پاس تیر وغیرہ کے ہتھیار ہوں، تو وہ انہیں پکڑے رکھے اور اچھی طرح سے مضبوطی کے ساتھ ان پر گرفت رکھے تاکہ یہ کسی مسلمان کو نہ لگ جائیں۔
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ تشریف لائے اور لوگوں نے آپ کو دیکھا، تو آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ کی طرف دوڑ کر جانے والوں میں عبداللہ بن سلام بھی شامل تھے۔ وہ یہودی تھے۔ آپ کو دیکھ کر انھوں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے نور، جمال اور سچی ہیبت آشکارا تھی۔ اس دوران انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جو پہلی بات سنی، وہ یہ تھی کہ آپ نے لوگوں کو کچھ ایسے اعمال کی ترغیب دی، جو دخول جنت کا سبب ہیں۔ جیسے: 1- سلام عام کرنا اور بہت زیادہ سلام کرنا۔ جان پہچان والے کو بھی اور ان جان کو بھی۔ 2- کھانا کھلانا۔ شکل صدقہ کی ہو، ہدیہ کی ہو یا ضیافت کی ہو۔ 3- رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔ رشتہ داری والد کی جانب کی ہو یا والدہ کی جانب کی۔ 4- رات کے وقت، جب لوگ سو رہے ہوں، جاگ کر نفل نماز پڑھنا۔
نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ وہ شخص جو اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ آپ ﷺ سے مزید دریافت کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں عزلت نشین ہوکر اللہ کی عبادت کرنے والا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کردینے والا شخص۔ یعنی جو اللہ کی عبادت میں لگا رہتا ہے، لوگوں سے تعرض کرنے سے باز رہتا ہے اور یہ نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ کچھ بُرا کرے۔
جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لیے بلائے تو اس پر یہ واجب ہے کہ اس کی بات کو قبول کرے اگرچہ وہ ایسے کام میں مشغول ہو کہ اس کے علاوہ وہ کام کوئی نہ کر سکے، جیسے کہ وہ روٹی، یا کھانا پکا رہی ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سماج میں رہنے والے ہر مسلمان کی کچھ ذمے داریاں ہيں، جو اسے اٹھانی ہی ہوں گی۔ امام اور امیر اپنے ماتحت لوگوں کا ذمے دار ہے۔ اس کا کام ان کے دين وشريعت کی حفاظت کرنا، ظالموں سے ان کی حفاظت کرنا، ان کے دشمنوں سے جہاد کرنا اور ان کے حقوق کو محفوظ رکھنا ہے۔ ہر شخص اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنے، ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے، ان کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور ادب سکھانے کا مکلف ہے۔ ایک عورت پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کو اچھے سے سنبھالے اور بچوں کی بہتر تربیت کرے۔ خادم اور مزدور پر یہ ذمے دار عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پاس موجود اپنے آقا کے مال کی حفاظت کرے اور اس کی خدمت کرے۔ اس طرح ہر شخص اپنے ماتحت موجود لوگوں اور چیزوں کا ذمے دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پرسش ہوگی۔
ایک انسان کا مال دوسرے انسان پر حرام ہے، لہذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی اور کے حق میں سے اس کی رضامندی و خوش دلی کے بغیر کچھ بھی حصہ حاصل کرے۔ اور ناحق مال لینے کی بدترین شکل کسی کی زمین کو ظلما ہڑپ لینا ہے؛ اس لیے کہ یہ ظالمانہ قبضہ مدت دراز تک قائم رہتا ہے۔ اسی بنا پر نبی ﷺ نے آگاہ فرمادیا کہ جو شخص کسی کی زمین ہڑپ لے؛ کم ہو یا زیادہ، وہ روز قیامت سخت ترین عذاب کے ساتھ حاضر ہوگا۔ چنانچہ اس کی گردن انتہائی موٹی اور دراز تر کردی جائے گی اور پھر غاصبانہ طور پر حاصل کردہ زمین اور اس زمین کے نیچے سات گنا اراضی کا طوق بناکر اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ یہ صاحب کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کے ظالمانہ عمل کا بدلہ ہوگا۔ خیال رہے کہ اس وعید میں ان عام اراضی کا استعمال شامل نہیں، جو بغیر ملکیت اور قبضہ کے استعمال میں لائے جائیں۔