





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو جاتی ہے اس کے پچھلےگناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔“
متفق علیہنبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب امام آمین کہے تو ہم بھی آمین کہیں کیونکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب فرشتے آمیں کہتے ہیں اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منابذہ کی بیع سے منع فرمایا تھا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ ایک آدمی بیچنے کے لیے اپنا کپڑا دوسرے شخص کی طرف (جو خریدار ہوتا) پھینکتا اور اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹے پلٹے یا اس کی طرف دیکھے (صرف پھینک دینے کی وجہ سے وہ بیع لازم سمجھی جاتی تھی) اسی طرح نبی کریم ﷺ نے بیع ملامسۃ سے بھی منع فرمایا۔ اس کا یہ طریقہ تھا کہ (خریدنے والا) کپڑے کو بغیر دیکھے صرف اسے چھو دیتا (اور اسی سے بیع لازم ہو جاتی تھی)۔
متفق علیہنبی ﷺ نے بیع غرر (دھوکے کی بیع) سے منع فرمایا کیونکہ اس سے دونوں فریقین عقد میں سے کسی ایک کو نقصان ہوتا ہے بایں طور کہ خرید و فروخت میں اسے دھوکا ہو جاتا ہے۔جیسے اگر سامان تجارت فروخت کنندہ یا خریدار یا دونوں کے لئے مجہول ہو۔ اس کی ایک صورت بیعِ منابذہ بھی ہے بایں طور کہ فروخت کنندہ مثلا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینک دے یعنی اسے دیکھ لینے یا الٹ پلٹ کر جانچ لینے سے پہلے ہی وہ اس کی بیع پکی کر لیں۔اس کی ایک مثال بیعِ ملامسہ بھی ہے جس کی صورت یہ ہے کہ خریدار وفروخت کنندہ کے مابین کپڑے کو دیکھ لینے یا الٹ پلٹ کر جانچ لینے سے پہلےمحض اسے چھو لینے سے عقد بیع ہو جائے۔ یہ دونوں عقد، معقود علیہ کے سلسلے میں جہالت اور دھوکہ دہی کا سبب بنتے ہیں۔ چنانچہ دونوں فریقین میں سے ایک خطرے میں ہوتا ہے، یا تو وہ فائدے میں رہتا ہے یا پھر نقصان اٹھاتا ہےاور اپنے اس عمل کی وجہ سے بائع اور مشتری جوے بازی کے حدود میں داخل ہو جاتے ہیں جو کہ ممنوع ہے۔
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے پھلوں کو ” زہو “ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ دریافت کیا گیا کہ زہو کسے کہتے ہیں؟ فرمایا: پھلوں کا (پک کر) سرخ ہوجانا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بتاؤ اگر اللہ (کسی وجہ سے) پھل نہ لگائے تو تمہارے لیے اپنے بھائی کا مال (بلا عوض لینا) کیسے حلال ہوجائے گا؟
متفق علیہپکنا شروع ہونے سے پہلے پھلوں پر بہت سی بیماریوں کے آنے کا اندیشہ ہوا کرتا تھا اور اس وقت ان کے بیچنے میں خریدار کا فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فروخت کنندہ اور خریدار کو پھلوں کے 'زہو' سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پھلوں کی پختگی ظاہر ہوجائے۔ کھجور کے معاملے میں اس کی نشانی اس کا سرخ یا زرد ہوجانا ہے۔ نبی ﷺ نے اس قسم کی خرید و فروخت کی ممانعت کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان پھلوں پر کوئی آفت آ جائے یا ان کا کچھ حصہ بیماری کی زد میں آ جائے تو پھر تم یعنی فروخت کنندہ کے لیے یہ کیسے روا ہو گا کہ وہ اپنے خریدار بھائی کا مال لے لے؟۔ تم کسی ایسے بدل کے بغیر کیسے اس کا مال لے سکتے ہو جس سے اس کو کوئی فائدہ ہوا ہی نہیں؟۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا۔ آپ ﷺ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہنبی اکرم ﷺ نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ایک کھجور برابر حلال کمائی میں سے صدقہ کرے، اور جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صرف مال حلال قبول کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور پھر اس صدقہ کو صدقہ دینے والے کے لیے اسی طرح پروان چڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ (صدقہ یا اس کا ثواب) پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے“۔
متفق علیہجو شخص ایک کھجور کی قیمت کے برابر حلال مال سے صدقہ کرتا ہے جس میں کوئی ملاوٹ اور دھوکہ دہی نہیں ہوتی اور اللہ تعالی قبول ہی حلال و پاکیزہ مال کو کرتا ہے، تو اللہ تعالی اس صدقے کو اپنے داہنے ہاتھ سے وصول کرتا ہے۔ بغیر کسی تاویل و تحریف کے اس کا ظاہری معنی ہی مراد لیا جائے گا جو اللہ تعالی کے شایانِ شان ہو۔ یعنی ’لیتا ہے‘ (ہی مُراد لیا جائے) جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ پھر اسے اللہ بڑھاتا ہے اور اس کا ثواب کئی گنا زیادہ کر دیتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ بڑا ہوجاتا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: "اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے۔ کیوں کہ نکاح نظر کو نیچی رکھنے اور شرم گاہ کو (بُرائی سے) محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے اور اگر کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو، تو اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیوں کہ روزہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جماع اور نکاح کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت رکھنے والے تمام افراد کو شادی کرنے کی ترغیب دی ہے۔ کیوں کہ نکاح کر لینے کے بعد اس کی نظر اور شرم گاہ حرام چيزوں سے زیادہ محفوظ رہے گی اور بے حیائی کے کاموں میں پڑنے کے امکانات گھٹ جائيں گے۔ اگر کسی کے پاس نکاح کے اخراجات برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو اور وہ جماع کی قوت رکھتا ہو، تو اسے روزے کا اہتمام کرنا چاہیے، کیوں کہ روزہ شہوت گھٹانے کا کام کرتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے لوگوں کو نماز پڑھائے، تو ہلکی نماز پڑھے؛ اس لیے کہ ان میں کوئی ناتواں، کوئی بیمار اور کوئی ضروت مند ہوتا ہے۔ البتہ جب تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے، تو جتنی چاہے، لمبی کرے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے امت کو حکم دیا کہ وہ نماز میں سنت کے مطابق اختصار برتیں۔ آپ ﷺ نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے کمزورجسم والے اور ناتواں لوگ بھی ہوتے ہیں اور مریض اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو ضروریات زندگی میں مشغول ہوتے ہیں۔ تاہم جب وہ تنہا نماز پڑھیں، تو پھر اختیار ہے کہ نمازی چاہے تو نماز لمبی کر لے اور چاہے تو مختصر۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو“۔ ایک انصاری شخص نے سوال کیا : یا رسول اللہ! شوہر کے قریبی رشتہ دار (بھائی، چچا زاد وغیرہ) کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”شوہر کا قریبی رشتہ دار تو موت ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اجنبی عورتوں کے ساتھ اختلاط سے منع فرمایا۔ فرمایا کہ خود کو عورتوں کے پاس جانے سے بچاؤ اور عورتوں کو تمھارے پاس آنے سے بچاؤ۔ یہ سن کر ایک انصاری شخص نے عرض کیا : شوہر کے رشتے داروں، جیسے شوہر کے بھائی، بھتیجے، چچا اور چچیرے بھائی وغیرہ، جن سے شادی شدہ نہ ہونے کی صورت میں اس کى شادی جائز ہوتی ہے، کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا: ان سے اسی طرح خبردار رہو، جس طرح موت سے خبردار رہتے ہو۔ کیوں کہ شوہر کے رشتے داروں کے ساتھ خلوت دینی فتنے اور ہلاکت کا سبب ہے۔ باپ اور بیٹوں کو چھوڑ کر شوہر کے دیگر رشتے داروں سے گھلنے ملنے کی ممانعت اجنبیوں کے بالمقابل تو بدرجۂ اولی ہونی چاہیے۔ کیوں کہ ان سے خلوت کے مواقع زیادہ رہتے ہيں اور برائی وفتنے کے امکانات بھی کہیں زیادہ رہتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کیوں کہ ان کى پہونچ عورت تک بآسانی ہوجاتی ہے اور ان کے لئے عورت کے ساتھ تنہائى کے مواقع پالینا بھی معمولى بات ہوتی ہے اور ایسا ہونے پر اعتراض کی گنجائش بھی کم ہوتى ہے۔ عورت کا شوہر کے قریبی رشتہ داروں سے مکمل چھپ کر اور الگ تھلگ رہنا تقریب ناممکن ہوتا ہے۔ اس معامعلے میں عام طور سے تساہل بھی پایا جاتا ہے۔ کئی بار بھابھی کے ساتھ تنہائی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ برائی اور بگاڑ کے معاملے میں موت جیسی ہے۔ اس کے برخلاف اجنبی شخص سے تو اس سے احتیاط برتی ہی جاتی ہے۔
مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں یہ کہتے ہوئے آیا کہ (دینار سے) درہم بدل کر کون دے گا؟ تو طلحہ بن عبیداللہ نے، جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، کہا : مجھے اپنا سونا دکھاؤ، پھر (بعد میں) آؤ، جب ہمارا خادم آ جائے گا، تو ہم تمھیں تمھاری چاندی دے دیں گے۔ یہ سن کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! تم اسے اس کی چاندی دے دوگے یا پھر اس کا سونا واپس کر دوگے۔ کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”چاندی سونے کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ گیہوں گیہوں کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ جَو جَو کے بدلہ میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے۔ کھجور کھجور کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہوجاتا ہے“۔
متفق عليهتابعی مالک بن اوس بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس کچھ سونے کے دینار تھے۔ ان کو وہ چاندی کے درہموں سے بدلنا چاہتے تھے۔ لہذا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں اپنے دینار دیں کہ میں ان کو دیکھ لوں۔ پھر خریدنے کا ارادہ ہو گیا، تو کہا کہ جب ہمارا خادم آئے، تو آپ آجائيں، ہم آپ کو چاندی کے درہم دے دیں گے۔ اتفاق سے وہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انھوں نے اس طرح کے معاملے کو غلط بتایا اور طلحہ کو قسم دے کر کہا کہ وہ یا تو چاندی ابھی دے دیں یا پھر لیا ہوا سونا واپس کر دیں۔ انھوں نے اس کا سبب یہ بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے بيچنا ہو، تو لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو جانا چاہیے، ورنہ معاملہ سود پر مشتمل ہو جائے گا اور اس بنا پر یہ بیع حرام ہوگی۔ لہذا سونے کو چاندی کے بدلے میں یا چاندی کو سونے کے بدلے میں بیچنا اسی وقت درست ہوگا، جب لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو اور دونوں جانب سے قبضہ ہو جائے۔ اسی طرح گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے بیچنا اسی وقت درست ہوگا، جب وزن اور ناپ برابر ہو اور دونوں جانب قبضہ اسی وقت ہو جائے۔ ان چيزوں میں نہ تو ایک طرف نقد اور ایک طرف ادھار رکھا جا سکتا ہے اور قبضے سے پہلے الگ ہو جانے کو روا رکھا جا سکتا ہے۔