





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر اصل خریداروں سے) بڑھ کر بولی نہ لگائے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے۔ کوئی شخص (کسی عورت کو) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائےکہ جو اس کے برتن میں ہے اُسے اپنے میں انڈیل لے (اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے)۔
متفق علیہشریعت ہر اس چیز کو ختم کرنے پر زور دیتی ہے جو اسلامی معاشرے کے افراد کے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ یہ نص اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس سامان کی قیمت بڑھانے سے منع فرمایا ہے، جس کے خریدنے کی نیتنہ ہو، بلکہ ارادہ قمیت بڑھا کر بیچنے والے کو فائدہ پہنـچانا ہو یا سامان مہنگا کرکے خریدار کو نقصان پہنچانا۔ آپ ﷺ نے اس سے اس لیے منع کیا کہ یہ جھوٹ، خریداروں کے حق میں دھوکہ اور مکر و فریب کے ذریعے سامان کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا سامان بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ کیوں کہ شہری قیمت کنٹرول کر لیتا ہے۔ اسے گھٹنے نہیں دیتا، جو خریداروں کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ”لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دے گا“۔ جب سامان کا مالک سامان بیچتا ہے، تو خریدنے والوں کو کچھ آسانی فراہم ہو جاتی ہے۔ مسلمان بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجنا حرام ہے۔ جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے پیغام بھیجنے والے کا پیغام نامنظور ہو گیا ہے۔ دوسرے کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجنے سے اس لیے منع فرمایا کہ یہ دشمنی، بغض اور رزق کو روکنے کا سبب ہے۔ عورت کا اپنے شوہر سے سوکن کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنا، اسے اس کے خلاف بھڑکانا یا ان کے درمیاں فتنہ پیدا کرنا؛ تاکہ ان کے درمیان ناچاقی پیدا ہو اور شوہر بیوی کو الگ کر دے۔ یہ سب حرام ہے۔ اس لیے کہ یہ بڑے بڑے مفاسد پیدا کرتا ہے، جیسے دشمنی، کینہ، مطلقہ کا رزق ختم کرنا_جسے اس کے برتن کی خیر کو اپنے برتن میں انڈیل لینے سے تعبیرکیاگیا ہے_ یعنی وہ رزق جس کا سبب نکاح ہے۔ اس کے علاوہ یہ طرزِ عمل نفقہ، کپڑے وغیرہ اور دوسرے حقوقِ زوجیت کو بھی ختم کرنے کا سبب ہے۔
ابوالمنہال کہتے ہیں کہ میں نے بیع صرف کے بارے میں براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو ان میں سے ہر ایک نے یہی کہا کہ وہ مجھ سے زیادہ بہتر ہیں (اس لیے ان سے پوچھ لو)۔ ان دونوں ہی کا کہنا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی اُدھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہابو المنہال نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کا حکم دریافت کیا۔ بیع صرف سے مراد ثمن (سونا، چاندی) کو ایک دوسرے کے ساتھ بیچنا ہے۔ اپنے تقوی کی بنا پر ان (دونوں صحابہ) میں سے ہر ایک فتوی کو دوسرے کی طرف ریفر کرنے لگا (کہ اس سے پوچھ لیا جائے۔) اور ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے مقابلے میں اپنے آپ کو کم تر سمجھ رہا تھا۔ تاہم یہ حدیث دونوں ہی کو یاد تھی کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے سے روکا ہے۔ کیونکہ ان میں علتِ ربا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں ضروری ہے کہ مجلسِ عقد ہی میں ان پر قبضہ کیا جائے ورنہ بیع صرف درست نہیں ہو گی اور یہ ربا النسیئہ بن جائے گی۔ نوٹ: ’ربا‘ لین دین کی ایک حرام صورت ہے جس کی دو قسمیں ہیں: اول: ربا الدیون: اس سے مراد یہ ہے کہ قرض کی پہلے سے موجود مقدار میں قرض کی ادائیگی کی مدت میں بڑھوتری کی وجہ سے اضافہ کردیا جائے۔ دوم: ربا البیوع: اس سے مراد کچھ اشیاء میں بڑھوتری کرنا یا پھر ان کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ہے۔ ان اشیاء کو ربوی اشیاء کہا جاتا ہے مثلاً سونے کی سونے کے بدلے میں بیع اور گندم کی گندم کے بدلے میں بیع۔
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے چاندی کی چاندی اور سونے کی سونے کے ساتھ خرید و فروخت سے منع فرمایا ماسوا اس کے کہ دونوں برابر سرابر ہوں اور ہمیں اجازت دی کہ ہم چاندی کو سونے کے بدلے میں جیسے چاہیں اور سونے کو چاندی کے بدلے میں جیسے چاہیں خرید سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سوال کیا کہ: نقد بہ نقد؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: میں نے ایسے ہی سنا ہے۔
متفق علیہچوں کہ سونے کی سونے اور چاندی کی چاندی کے ساتھ زیادتی کے ساتھ خرید و فروخت سود ہوتی ہے اس لیے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا اِلاّ یہ کہ دونوں کا وزن برابر نہ ہو (دریں صورت دونوں کا تبادلہ جائز ہے)۔ تاہم سونے کی چاندی اور چاندی کی سونے کے بدلے میں خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ (وزن میں) زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ تاہم اس خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ مجلس عقد ہی میں دونوں اطراف كا قبضہ ہو جائے بصورت دیگر یہ ربا النسیئہ بن جائے گا جو کہ حرام ہے کیونکہ جنس کے مختلف ہونے کی وجہ سے مقدار میں زیادتی تو جائز ہے تاہم (مجلس عقد ہی میں) باہمی طور پر قبضہ میں لینے کی شرط ہنوز باقی ہے کیونکہ دونوں میں ربا کی علت پائی جاتی ہے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بڑے بزرگ گواہی اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارتے تھے۔
متفق علیہیہ اثر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بعضِ سلف اپنے بچوں کو بکثرت عہد اور وعدہ کرنے سے منع فرماتے تھے تاکہ وہ اس عہد اور وعدے کی خلاف ورزی کے سبب گناہگار نہ ہو جائیں، اسی طرح گواہی کا مسئلہ ہے تاکہ گواہی کے متعلق بچے لاپرواہی نہ برتے۔
عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اپنے جسم کے اندر اسلام قبول کرنے کے وقت سے ہی محسوس ہونے والی ایک تکلیف کی شکایت کی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ’’جسم کے جس حصے میں تکلیف ہو اس پر اپنا ہاتھ رکھو اور تین دفعہ کہو : "بسم اللہ" ’یعنی اللہ کے نام سے۔ اور سات دفعہ کہو : " أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ مانگتا ہوں اور اس کى قدرت کے ذریعہ پناہ طلب کرتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں محسوس کرتا ہوں اور جس کا مجھے اندیشہ ہے۔
رواه مسلمعثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو ایک تکلیف تھی، جس سے وہ بے حال تھے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ایک دعا سکھائی، جس سے اللہ ان کی تکلیف دور کر دے۔ آپ نے انھیں بتایا کہ تکلیف کی جگہ پر اپنی انگلی رکھیں، پھر تین بار بسم اللہ کہیں اور اس کے بعد سات بار یہ دعا پڑھیں : "أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ"۔ یعنی میں اللہ تعالی کى پناہ کا طلب گار ہوں اور اس کی قدرت کے ذریعہ (اس کى) پناہ چاہتا ہوں، اس چیز کے شر سے، جو میں اس وقت محسوس کرتا ہوں اور جس کا غم یا خوف آنے والے وقت میں دامن گیر ہونے کا اندیشہ ہے۔ یا پھر اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ یہ بیماری آنے والے وقت میں دائمی طور پر رہ جائے اور اس کی تکلیف پورے بدن میں پھیل جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لئے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے چنانچہ اس کی مخالفت نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تکبیر کہو، جب رکوع کرے تو رکوع کرو، جب ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تو کہو: ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ اور جب سجدہ کرے تو سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔
متفق علیہنبی ﷺ مقتدیوں کو امام متعین کرنے کی حکمت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ حکمت یہ ہے کہ نمازی اپنی نماز میں امام کی پیروی کریں اور نماز کے کسی بھی عمل میں اس کی مخالفت نہ کریں۔ منظم انداز میں امام کی حرکات کا خیال رکھے۔ بایں طور کہ جب وہ تکبیر تحریمہ کہے تو تم بھی اسی طرح تکبیر کہو، جب وہ رکوع کرے تو اس کے پیچھے تم بھی رکوع کرو، جب وہ ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہہ کر تمہیں یاد دلائے کہ اللہ کی ذات اس شخص کی بات سنتی ہے، جو اس کی حمد کرتا ہے، تو اس پر تم ”رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ کہتے ہوئے اس کی حمد بیان کرو۔ یا اس کی جگہ پر حدیثوں میں وارد ہونے والے دیگر الفاظ کہو۔ جیسے: ”رَبَّنَا ولَكَ الْحَمْدُ“، ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ اور ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“۔ جب وہ سجدہ کرے، تو اس کی اتباع میں تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ کسی وجہ سے کھڑا ہونے سے عاجز ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تم بھی اس کی پیروی میں بیٹھ کر ہی نماز پڑھو، اگرچہ تم کھڑے ہونے کی قدرت بھی رکھتے ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے امر (حکم) حاصل نہ کرلیا جائے۔ اور کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ (اجازت طلب کرنے پر) خاموشی اختیار کرے“۔
متفق علیہعقد نکاح کی بہت زیادہ اہمیت ہے جس کی وجہ سے شوہر کے لئے وہ شے حلال ہو جاتی ہے جس کی عورت سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہے یعنی اس کی شرم گاہ۔ اس عقد کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کی قید میں چلی جاتی ہے۔ اس لئے اس عادل و رحیم اور حکیم شارع نے اجازت دی ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کو دیکھ کر اس کا انتخاب کرے کیونکہ اس کے ساتھ اسی کو زندگی گزارنی ہے اور وہ اپنی رغبتوں اور خواہشات کو زیادہ اچھے انداز میں جانتی ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے ثیبہ عورت کا صریح انداز میں حکم دیے بنا اس کا نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔ اسی طرح کنواری لڑکی سے متعلق بھی منع فرمایا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کیا جائے۔ چونکہ کنواری لڑکی پر حیا غالب ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے سلسلے میں اس کے کہنے سے کم تر چیز کافی ہے یعنی اس کی اجازت اور اس سلسلے میں بھی اس کی خاموشی کافی ہے جو اس کی رضا کی دلیل ہوتی ہے۔
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمارے اور یہود و نصاریٰ کے روزوں کے درمیان پایا جانے والا فرق و امتیاز اس کھانے کو قرار دے رہے ہیں، جو مسلمان سحری کے وقت کھاتے ہیں؛ کیوں کہ اہل کتاب سحری نہیں کرتے اور مسلمانوں کے لیے سحری کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے۔ اس لیے کہ اس میں ایک جانب یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، تو دوسری جانب اس میں سنت کی مکمل پیروی کا مظاہرہ، جس میں برکت اور خیر ہی مضمر ہے، جیسا کہ سنت سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جب کہ اہل کتاب کا روزہ نصف شب سے شروع ہوتا ہے، اس لیے وہ نصف شب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں اور سحری کے وقت نہیں کھاتے۔ چنانچہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان حد فاصل قائم کی جائے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوا کرتے تھے، جب جبریل عليہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے۔ جبریل عليہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملتے تھے اور قرآن کا دور کراتے تھے۔ لہذا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خير کے کاموں میں تيز ہوا سے بھی زیادہ تیز رفتار ہوا کرتے تھے۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سب سے سخی انسان تھے اور آپ کی سخاوت کو ماہ رمضان میں اور زیادہ جلا مل جاتی تھی۔ جس کو جو دینا چاہیے، اس ماہ میں آپ خوب دیتے تھے۔ اس کے دو اسباب تھے: 1- جبریل سے آپ کی ملاقات ہوتے رہنا۔ 2- قرآن کا دور کرنا یعنی اسے زبانی پڑھنا۔ جبریل آپ کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصے کا دور کرتے تھے اور اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فیاضی، داد و دہش، خیر کے کاموں اور لوگوں کو فیض یاب کرنے میں اس خوش گوار ہوا سے بھی تیز ہوا کرتے تھے، جسے اللہ بارش اور رحمت کے ساتھ بھیجتا ہے۔