





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے چار باتیں سنی ہیں، جو مجھے بڑی اچھی لگتی ہيں۔ آپ نے فرمایا ہے : "کوئی عورت دو دن کی مسافت کے سفر پر اس وقت تک نہ نکلے، جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا اس کا کوئی محرم نہ ہو، دو دنوں میں روزہ نہیں ہے، عیدالفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن، صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہیں ہے اور سفر کر کے بس تین مسجدوں کی جانب جانا جائز ہے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار باتوں سے منع کیا ہے : 1- عورت کو دو دن کی مسافت اپنے شوہر یا کسی محرم کے بغیر اکیلے طے کرنے سے منع کیا ہے۔ محرم سے مراد بیٹا، باپ، بھتیجا، بھانجا، چچا اور ماموں وغیرہ ایسے لوگ ہيں، جن سے ہمیشہ کے لیے شادی حرام ہے۔ 2۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت۔ روزہ نذز کا ہو یا نفلی ہو یا کفارے کا۔ 3- عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نفل نماز پڑھنے کی ممانعت۔ 4- حدیث میں ذکر شدہ تین مسجدوں کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین کا سفر کرنے، اس کی فضیلت کا عقیدہ رکھنے اور وہاں زیادہ ثواب ملنے کا عقیدہ رکھنے کی ممانعت۔ ان تین مسجدوں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ کا سفر، وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ان تین مسجدوں، مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ کسی اور جگہ میں نماز پڑھنے سے نماز کے ثواب میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں؛ جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہورہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے، جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جائے، حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہوجائے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عقبہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ تین گھڑیوں میں رسول اللہﷺنے صحابہ کو نماز پڑھنے اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے۔ یہاں گھڑیوں (ساعات) سے مراد اوقات ہیں۔ یعنی ان تین اوقات میں رسو ل اللہ ﷺ نے نماز اور تدفین سے منع کیا ہے: پہلا وقت: جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ اچھی طرح ظاہر اور بلند ہو جائے اور اس کی روشنی افق پر پھیل جائے۔ ایک روایت میں ہے کہ سورج ایک نیزے کے برابر اونچا ہوجائے۔ جب کہ ایک روایت میں ہے کہ سورج ایک نیزہ یا دونیزے کے برابر بلند ہو جائے، یہ روایت ابوداؤد میں عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ’رمح‘(نیزہ) اہل عرب کے یہاں معروف ہے۔ یہ ایک ہتھیار ہے جسے وہ اپنی جنگوں میں استعمال کرتے تھے۔ دوسرا وقت: جس وقت سورج آسمان کے درمیان میں پہنچ جائے۔ جب سورج وسط آسمان میں پہنچ جاتا ہے، تو اس کے ڈھلنے تک سایے کی حرکت سست پڑ جاتی ہے، چںانچہ غور سے دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ حرکت رکی ہوئی ہے، حالاں کہ وہ جاری ہوتی ہے، البتہ وہ دھیمی ہوتی ہے، اسی مشاہداتی ٹھہراؤ کو "قائم الظھیرۃ" کہا جاتا ہے۔ اس وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع ہے، جب تک سورج درمیان آسمان سے مغرب کی طرف جھک نہ جائے اور مشرق کی طرف سایہ نمودار نہ ہوجائے۔ اسی کو "فئ زوال" کہا جاتا ہے۔ یہ وقت مختصر ہوتا ہے۔ بعض علما نے تانچ منٹ اور بعض نے دس منٹ کہا ہے۔ تیسرا وقت: جب سورج غروب ہونے لگے، اس وقت سے سورج غروب ہونے تک۔ یہ تین اوقات ہیں، جن میں دو کام ممنوع ہیں: پہلا کام: نفل نماز پڑھنا، اگرچہ نفل"ذوات الاسباب" میں سے ہو۔ جیسے تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء اور نماز کسوف۔ کیوں کہ حدیث عام ہے۔ جب کہ عموم حدیث کے باوجود ان اوقات میں فرائض کی ادائیگی حرام نہیں ہے؛ کیوں کہ اس بات کا عموم ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے خاص ہو جاتا ہے، جس میں ہے: ”جو نماز کے وقت سو جائے یا بھول جائے، تو جب یاد آئے، پڑھ لے“۔متفق علیہ۔ دوسرا کام: مردوں کو دفنانا۔ ان ممنوعہ اوقات میں میت کی تدفین جائز نہیں۔ اگر میت ان تین ممنوعہ اوقات میں قبرستان پہنچ گئی ہو تو انتظار کیا جائے گا اور ممنوع وقت نکلنے کے بعد ہی تدفین کی جائے گي۔ البتہ اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی سورج طلوع ہو جائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ یا زوال سے پہلے تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی ممنوعہ وقت آجائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ اسی اگر عصر کی نماز کے بعد تدفین کا عمل شروع ہو جائے، لیکن کسی عارض کی وجہ سے تدفین میں دیر ہو جائے اور دوران تدفین ہی ممنوعہ وقت آجائے تو تدفین کا عمل جاری رہے گا، رکنے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ان ممنوعہ اوقات میں تدفین کا ارادہ نہیں تھا۔ جیسے کسی نے نفل نماز شروع کی اور نماز ہی میں تھا کہ ممنوعہ وقت داخل ہوگیا، تو نماز مکمل کرے گا۔ علما کے یہاں قاعدہ ہے: اس عمل کا جاری رکھنا قابل درگزر ہے، جس کا شروع کرنا قابل درگزر نہیں ہوتا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بالغ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں کرتا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔بالغ و عاقل عورت کے لیےجائز نہیں ہےکہ وہ بغیر دوپٹے کے نماز پڑھے،یعنی اپنے سر اور گردن کو کھول کر نماز پڑھے۔ اگر اس نے اس حالت میں نماز پڑھ لی،تو اسکی یہ نماز باطل ہوگی۔ کیوںکہ آپ ﷺ کافرمان ہے: ”اللہ تعالی قبول نہیں فرماتے“ یہاں نفی قبول سے مراد نماز کی صحت اور اس کی ادائیگی کی نفی ہے۔ اس حدیث میں ”الحائض“ سے مراد وہ بالغ عورت ہے، جو سن حیض کو پہنچ چکی ہو اور اس میں بلوغت کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو چکی ہو، یعنی حیض یا منی آ چکی ہو، اس کے زیر ناف بال اگ آئیں ہوں یا وہ پندرہ سال کی ہو گئی ہو۔ آپ ﷺ نے بلوغت کو حیض سے تعبیر کیا؛ کیوں کہ یہ عورتوں کے ساتھ خاص ہے اور عموما یہی (پہلے) ہوتا ہے، تاہم یہاں یہ ہر گز مقصود نہیں کہ وہ عورت حیض میں ہو؛ کیوں کہ حالت حیض میں تو عورت کو نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جس کا ثبوت حدیث میں ہے اور علما کا اس پر اجماع ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کپڑے کا کوئی بھی حصہ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھنے والے کو اس بات سے منع کیا ہے کہ اپنے دونوں کندھوں کو ننگا چھوڑ دے اور ان پر کچھ نہ رکھے۔ کیوں کہ دونوں کندھے اگرچہ جسم کے ان حصوں میں داخل نہیں ہیں، جن کو چھپائے رکھنا واجب ہے، لیکن ان کو ڈھانپ لینے کے بعد ستر عورت بہتر طریقے سے ہو جاتا ہے اور یہ اللہ کے سامنے نماز میں کھڑے ہوتے وقت اللہ کی تعظیم کے زیادہ قریب ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، وہ جس طرف بھی آپ کو لیے پھرتی۔ لیکن جب فرض (نماز پڑھنے) کا ارادہ کرتے تو سواری سے اتر پڑتے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنی سواری کے اوپر سے اترنے کی زحمت نہیں کرتے تھے بلکہ اسی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ لیکن ایسا اس وقت کرتے جب آپ ﷺ سفر میں ہوتے تھے۔ اس بات کی تائید ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ کی روایت کردہ حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں اپنی سواری ہی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے جس طرف بھی وہ آپ کو لے کر چلتی۔ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ چنانچہ جب آپ ﷺ اپنی سواری پر ہوتے تھے تو اسی پر نماز پڑھ لیا کرتے تھےاس کا رخ چاہے جس طرف بھی ہوتا، چاہے اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا یا قبلہ کے علاوہ کی طرف۔لیکن جب فرض نماز ہوتی،اور وہ پانچ نمازیں ہیں تو آپ ﷺ اپنی سواری سے نیچے اترتے اور زمین پر قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ: ”آپ ﷺ ایسا، (یعنی سواری پر نماز ادا کرنا)، فرض نماز میں نہیں کیا کرتے تھے“۔ (متفق علیہ) لہٰذا فرض نماز کے لیے ضروری ہے کہ اسے زمین پر ادا کیا جائے، الا یہ کہ کوئی شرعی عذر جیسے بارش یا دشمن کا خوف ہو، تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی سواری ہی پر فرض نماز ادا کر لے یا پھر مریض ہونے کی صورت میں اپنی چارپائی ہی پر نماز پڑھ لے، خصوصاً اس وقت جب نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو۔ اس کی تائید ان دلائل سے ہوتی ہے جن میں آسانی اور سہولت پیدا کرنے اور اس امت سے تنگی دور کرنے کا بیان ہے۔ انہی دلائل میں سے ایک دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے کہ: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ ”اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا“، اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: ”جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو مقدور بھر اسے انجام دو“۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر پر جاتے اور آپ کا نفل نماز پڑھنے کا ارادہ ہوتا تو آپ ﷺ سواری کا رُخ قبلے کی طرف کرکے تکبیر کہتے اور نماز شروع کر دیتے (بعد میں) چاہے سواری کا رُخ کدھر بھی ہوتا۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی کریم ﷺ جب حالتِ سفر میں نفلی نماز ادا کرنا چاہتے تو تکبیرِ تحریمہ کے وقت اپنی سواری کا منہ قبلہ کی طرف کر لیتے پھر اس کے بعد اس کا رُخ جس طرف بھی ہو جاتا آپ ﷺ اپنی نماز پڑھتے رہتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہہ کر امام کو نماز میں متنبہ کرنا) اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: ”مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنا اور عورتوں کے لیےتالی بجانا ہے“، مسلم شریف کی ایک روایت میں ”نماز میں“ کے لفظ کا اضافہ ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جسے نماز کے اندر کوئی ایسی چیز پیش آ جائے جس کا تقاضا ہو کہ دوسرے کو اس کی خبر دی جائے جیسے نماز میں کسی خلل کے واقع ہونے پر امام کو متنبہ کرنا یا کسی اندھے کو دیکھنا جو کنویں میں گرنے والا ہو یا کسی باہر سے آنے والے کا اندر داخل ہونے کی اجازت چاہنا یا پھر نمازی کسی اور کو کسی بات کی خبر دینا چاہتا ہے تو ان صورتوں میں وہ سبحان اللہ کہے گا تاکہ جس بات پر وہ تنبیہہ کرنا چاہتا ہے، اسے وہ سمجھا سکے۔ یہ طریقہ مردوں کے لیے ہے۔ رہی بات عورت کی تو اگر اسے اپنی نماز میں کوئی ایسی صورت پیش آ جائے تو وہ تالی بجائے گی۔ تالی بجانے کی کیفیت یہ ہے کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر کسی بھی طریقے سے مارے گی۔ ایسا اس لئے ہے تاکہ نماز کو ان تمام باتوں سے دور رکھا جائے جو جنسِ نماز میں سے نہیں ہیں۔ کیونکہ نماز اللہ سبحانہ و تعالی سے مناجات کا مقام ہے۔ لہٰذا کلام کرنے کی ضرورت پیش آنے کے صورت میں وہی کہنا مشروع کیا گیاہے جو نماز کے اقوال کی جنس سے ہے اور وہ سبحان اللہ کہنا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی چیز کی طرف نماز پڑھ رہا ہو ، جو اس کے لیے لوگوں سے سترہ ہو اور کوئی اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے روک دے۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے لڑائی کرے، بلاشبہ وہ شیطان ہے“۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ :”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو آگے سے گزرنے نہ دے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑائی کرے کیوں کہ اس کےساتھ (شیطان) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہجب نمازی اپنی نماز میں داخل ہو اور وہ اپنے سامنے لوگوں سے سترہ رکھے ہوئے ہو تاکہ لوگ اس کے آگے سے گزر کر اس کی نماز میں نقص نہ پیدا کریں اور جب وہ اپنے رب سے مناجات کرنے لگے۔پھر اس کے سامنے سے کوئی شخص گزرنے کی کوشش کرے تو اس کو اچھے طریقے سے روکے، اگر وہ آرام و سکون سے نہیں رکتا تو اس کی حرمت ختم ہوئی وہ سرکشی کرنے والا بن چکا او ر اب جائز ہے کہ اس کی سرکشی کو ہاتھ سے لڑائی کرکے روکا جائے، کیوں کہ اس کا یہ عمل ان شیطانی افعال میں سے ہے جن کے ذریعے وہ لوگوں کی عبادتوں کو خراب کرنا چاہتے ہیں، اور ان کی نمازوں میں تلبیس وشکوک پیدا کرتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے آدمی کو اپنی کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔