





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا، جسے انھوں نے اپنے گھر کے ایک حصے میں بطور پردہ لٹکا دیا تھا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیوںکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک باریک اونی کپڑا تھا، جو مختلف رنگ اور نقش ونگار والا تھا، اس کے ذریعے عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرے کے سوراخ کو بند کردیتی تھی، آپ ﷺ نے اسے ہٹانے کا حکم دیا اور اس کا سبب بھی بیان فرمایا کہ نماز کے دوران اس کے نقوش اور رنگ مسلسل سامنے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو خوف ہوا کہ کہیں یہ نماز میں کامل توجہ، اس کے اذکار میں غور وفکر، اس کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور اطاعت جیسے مقاصد سے غافل نہ کردے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے یہ بات بڑی سخت لہجے میں کی، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی۔
متفق علیہاس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ی کے لیے ضروری ہے کہ حالت نماز میں وہ پر سکون رہے اور خشوع و خضوع اختیار کرے۔ خشوع قلب کی علامت اعضا کا پرسکون ہونا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو نماز میں فضولیات اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے ڈرایا ہے۔ کیوں کہ یہ نماز کے آداب اور رتبے کی منافی چیزيں ہیں؛ اس لیے کہ نمازی قبلہ رو، اپنے کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے محو گفتگو ہوتاہے۔ چنانچہ اس موقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانا اللہ کے ساتھ بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انذار اور وعید میں مبالغہ سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو دوران نماز اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں کہ اس سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی اور یہ اتنی تیزی سے ہو گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور نعمت بصارت سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ نماز کی توہین کی سزا کے طور پر ہو گا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دورانِ نماز جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ جہاں تک ہو سکے اسے روکے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے کیوں کہ یہ جسم کے بوجھل اور ڈھیلے پن اور اس کی فربہی و سستی اور نیند آنے کی وجہ سے آتی ہے۔ یہ شیطان ہی تو ہوتا ہے جو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ نفس کو اس کی شہوات دی جائیں اور خوب کھایا پیا جائے۔ چنانچہ نمازی کو جب جمائی آنے لگے یا پھر وہ جمائی لینا چاہے تو اسے چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اسے ہٹائے اور روکے بایں طور کہ دانتوں اور ہونٹوں کو بھینچ کر اسے روکے تاکہ شیطان کی چاہت پوری نہ ہو سکے یعنی وہ اس کی صورت کو بگاڑ کر اور اس کے منہ میں داخل ہو کر اس پر ہنس نہ سکے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس روایت میں ”البزاق“ اور ایک روایت میں ”البصاق“ کا لفظ ہے۔ مسجد کے فرش یا اس کی دیواروں پر تھوکنا گناہ ہے اور ایسا کرنے والا اللہ تعالی کی سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ لھٰذا مسلمان کے لئے کسی بھی حال میں مسجد میں تھوکنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے اللہ کے گھروں کی توہین ہوتی ہے اور یہ انھیں آلودہ اور گندا کرنا ہے۔ بلکہ انہیں ہر اس چیز سے بچانا واجب ہے جو انہیں ناپاک اور گندا کرتی ہے؛ کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالی کے شعائر کی تعظیم کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ﴾ ”اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رب کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے“۔ (الحج: 30) تاہم اگر وہ اپنے کپڑے یا شماغ یا رومال میں تھوکتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ علت باقی نہیں رہی۔ اگر بلا ارادہ غلطی سے تھوکا جائے تو یہ ایک غلطی ہے جس کا گناہ معاف ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی جان بوجھ کر مسجد میں تھوکے اور پھر اسے دفن کر دے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے مسجد میں محض تھوک کی موجودگی کو گناہ قرار دیا ہے۔ اس کی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (414) اور صحیح مسلم (548) میں آئی ہے کہ آپ ﷺ کو مسجد کی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا جس کی موجودگی آپ ﷺ پر بہت گراں گزری۔ آپ ﷺ نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔ جو شخص بلا ارادہ مسجد میں تھوک بیٹھے اور پھر وہ چاہے کہ اللہ اسے معاف کر دے اور اس کے اس گناہ کو مٹا دے تو اسے چاہیے کہ وہ فوراً اسے مسجد سے زائل کردے، بایں طور کہ اگر مسجد کنکریوں والی ہو تو اسے دفن کر دے اور اگر مسجد فرش والی ہو تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے کھرچ ڈالے یہاں تک کہ وہ زائل ہو جائے۔ اگر یہ باقی رہ گیا تو یہ ایک پاپ ہے اور جب تک باقی رہے گا وہ شخص گناہ گار ہوتا رہے گا۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کئے گئے۔ میں نے اپنی امت کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ شے کو ہٹانا بھی دیکھا اور اس کے برے اعمال میں مسجد میں پڑا وہ بلغم بھی پایا جسے دفن نہ کیا گیا ہو“۔ (مسلم)
عباده بن صامت رضي الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نمازِ فجر پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے قراءت شروع کی مگر آپ ﷺ کے لیے (قرآن) پڑھنا مشکل ہو گیا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:شاید تم اپنے امام کے پیچھے (کچھ) پڑھتے ہو؟ہم نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! یہی بات ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (امام کے پیچھے) سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو۔ کیونکہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نمازِ فجر پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے قراءت شروع کی مگر آپ ﷺ کے لیے (قرآن) پڑھنا مشکل ہو گیا، یعنی آپ ﷺ کے لیے قرأت کرنا مشکل ہو گیا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کہ شاید تم اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ اس پرصحابہ کرام نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ!۔ گویا کہ نبی ﷺ پر تلاوت کرنا مشکل ہو رہا تھا لیکن آپﷺ کو اس کی وجہ معلوم نہ تھی اسی لیے آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا۔ جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے کہ میں قرآن کی تلاوت میں الجھ رہا ہوں؟ ہو سکتا ہے کہ اس بوجھل پن کا سبب اس نقص کی وجہ سے ہو جو ان کے آپ ﷺ کی قرأت پر اکتفا نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہو۔ اور کامل شخص اپنے پیچھے موجود لوگوں کے نقص کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔ سنت یہ ہے کہ مقتدی خاموشی سے پڑھے بایں طور کہ ہر کوئی اپنے آپ کو سنائے۔ نماز میں سورہ فاتحہ کی قراءت اکیلے نماز پڑھنے والے، امام اور مقتدی سب پر واجب ہے چاہے نماز سری ہو یا جہری کیونکہ بطورخاص سورہ فاتحہ پڑھنا دلائل سے ثابت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو ہدایت فرمائی کہ وہ سورہ فاتحہ پڑھنے کا اہتمام کریں: ”صرف سورہ فاتحہ پڑھا کرو“ ہو سکتا ہے کہ یہاں ممانعت جہرا پڑھنے سے ہو اور ہو سکتا ہے کہ ممانعت کا تعلق فاتحہ سے زائد پڑھنے کے ساتھ ہو۔ یہ حکم اس لیے دیا تاکہ امام اور نمازی حضرات تشویش میں نہ پڑیں۔
برا بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جب تم سجدے کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ دیا کرو اور اپنی کہنیوں کو اوپر اٹھائے رکھو"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نماز کے دوران سجدے کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو کس طرح رکھنا چاہیے۔ بتایا کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر اچھے سے رکھ دیا جائے، انگلیاں آپس میں ملی ہوئیں اور قبلہ رو ہوں، دونوں کہنیاں زمیں سے الگ اور پہلوؤں سے ہٹی ہوئی ہوں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ کو میں نے چہار زانوں ہو کر نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔تربُّع یہ ہے کہ نمازی اپنے دائیں پاؤں کے نچلے حصے کو بائیں ران تلے اور بائیں قدم کے نچلے حصے کو دائیں ران تلے رکھ کر سرین کے بل بیٹھ جائے۔ نبی ﷺ ایسے اس وقت بیٹھا کرتے تھے جب گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاؤں کا جوڑ نکل گیا تھا۔ جب نمازی فرض نماز میں قیام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ چار زانوں بیٹھ کر نماز پڑھے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ قیام کی جگہ بیٹھے۔ لیکن اگر یہ بیٹھنا دونوں سجدوں کے درمیان ہو یا قعدۂ تشہد کے لیے ہو، تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ پہلے تشہد میں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے اور دوسرے تشہد میں تورک کرے۔ ان تمام صورتوں کا تعلق استحباب اور افضیلت سے ہے۔ اگر نمازی سابق الذکر حالتوں کے علاوہ کسی اور حالت میں بیٹھ گیا تو تب بھی درست ہے۔ کیوںکہ نماز میں مطلوب تشہد کے لیے بیٹھنا ہے اوربیٹھنے کی یہ تمام صورتیں واجب سے زائد چیزیں ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، اسے چاہیے کہ گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) رکھے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث شریف میں سجدے میں جانے کے طریقۂ کار کا بیان ہے اور وہ یہ ہے کہ نمازی گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو نیچے رکھے۔ دوسری احادیث میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو نیچے ٹکانے کا ذکر آیا ہے۔ لہٰذا دونوں امور جائز ہیں اور ان دونوں میں سے کسی بھی عمل کر نے والے پر نکیر نہیں کی جائے گی۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں سجدے میں جاتے ہوئے) اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں سے پہلے (زمین پر) رکھتے تھے اور فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نمازی سجدے میں جاتے وقت گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے گا۔ تاہم وائل بن حجررضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس سے ٹکراتی ہے، جس میں آیا ہے کہ: نمازی جب سجدے کے لیےجھکے، تو اپنے ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھے۔در حقیقت یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے، جس میں کشادگی ہے۔ اسی وجہ سے بعض فقہا نے نمازی کو دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کا اختیار دیا ہے؛ اس بنا پر کہ یا تو دونوں طرح کی حدیثوں میں ضعف ہے یا پھر ان میں تعارض پایا جاتا ہے اور ان کی نظر میں ترجیح کی کوئی صورتبھی نہیں بنتی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں کشادگی ہے اور دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی اپنا لینے کا اختیار ہے۔