





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے (صحبت کرے)اور پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو درمیان میں وضو کرے“۔ امام حاکم کی روایت میں ہے: کیونکہ وضو کرنا دوبارہ جماع کرنے کے لیے زیادہ باعث نشاط ہے۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس شخص کی خاطر نبوی طریقہ بیان کرنے کے لیے لائی گئی ہے، جو اپنی بیوی سے دوبارہ صحبت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور پھر دوبارہ صحبت کا ارادہ کرے“ یعنی ایک شخص اپنی بیوی سے صحبت کرنے کے بعد دوبارہ سہ بارہ کا ارادہ رکھتا ہو۔ ”توان درمیان میں وضو کرے“ اس میں اس حکم کی رہنمائی ملتی ہے، یعنی پہلی بارصحبت کرنے کےبعد اور دوبارہ صحبت کرنے سے پہلے۔ اور یہاں وضو سےمراد نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرناہے؛ کیوں کہ وضو کا لفظ جب مطلق بولا جائے، تو اس سے مراد شرعی وضو ہی ہوتا ہے اور اس بات کی وضاحت صحیح ابن خزیمہ اور سنن بیہقی کی ایک روایت سے ہوتی ہے، جس میں اس بات کی صراحت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کرو۔ یہ وضو مستحب ہے۔
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعے کے دن وضو کیا، اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ بہت عمدہ سنت ہے اور جس نے غسل کیا، تو یہ افضل ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔”من توضَّأَ يوم الجُمعة“ اس سے مراد نماز جمعے کے لیے وضو ہے۔ ”فَبِهَا“ یعنی اس نے سنت اور رخصت کو اختیار کیا۔ ”ونِعْمَتْ“ یعنی سنت کو اختیار کر کے اس نے اچھا کیا اور اس پر اس کی تحسین کی گئی ہے۔ ”ومن اغْتَسَل فهو أفْضَل“ یعنی جس نے وضو کے ساتھ ساتھ جمعے کے لیے غسل بھی کیا، وہ اس وضو سے افضل ہے، جو غسل سے خالی ہے۔ جمہور علماء اور ائمۂ اربعہ نے اسی سے استنباط کیا ہے اور ان کے دلائل میں سے ایک دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے: ”جو شخص اچھے طریقے سے وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے چلے، خاموش رہے اور توجہ سے سنے تو ایک جمعے سے دوسرے جمعے تک، نیز مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں“۔
عمرو بن سلیم انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ ابو سعید نے کہا اور انھوں نے گواہی دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جمعہ کے دن ہر بالغ پر غسل کرناواجب ہے۔ اس دن آدمی کو چاہیے کہ مسواک کر لے اور اگر خوش بو میسر ہو، تو لگا لے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ مسلمان مرد پر، جس پر جمعہ کی نماز فرض ہے، واجب کی طرح تاکیدی حکم کا حامل ہے۔ اسی طرح مسواک وغیرہ کے ذریعے دانت صاف کرنے کا حکم بھی تاکید کا حامل ہے۔ یہی حال خوشبو لگانے کا بھی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو چیزیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں ان سے بچو۔ صحابہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ دو چیزیں کون سی ہیں جو لعنت کا سبب بنتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو لوگوں کے راستوں یا ان کی سایہ دار جگہوں پر قضائے حاجت کرے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔دو ایسی باتوں سے پرہیز کرو جن کی وجہ سے لوگ لعنت کرتے ہیں بایں طور کہ جو ان کو کرتا ہے اسے عموماً بُرا بھلا کہا جاتا ہے اور اس پر لعنت کی جاتی ہے یعنی عموماً لوگ انھیں کرنے والے کو لعنت ملامت کرتے ہیں۔ چنانچہ اس وجہ سے لعنت کو ان دو باتوں کی طرف منسوب کیا گیا۔ ان سے مراد لوگوں کی گزر گاہوں اور ان کی سایہ دار جگہوں میں قضائے حاجت کرنا ہے۔ یہ ایسا ہی جیسا کہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: ﴿وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ﴾ ”اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیوں کہ پھر وه براهِ جہل حد سے گزر کر اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے“۔ (الانعام: 108) یعنی تم اس بات کا سبب بنو گے کہ وہ اللہ کو برا بھلا کہیں کیوں کہ تم نے ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے باپ یا ماں کو گالی دے۔ صحابہ کرام نے پوچھا کہ: کیا کوئی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے!؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ آدمی کسی اور شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ جواباً وہ بھی اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔ چنانچہ یہ ایسے ہی ہو گیا کہ گویا اس نے اپنے ہی باپ کو گالی دی کیوں کہ وہی اس کا سبب بنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسی جگہوں پر پیشاب پاخانہ کرتا ہے جہاں لوگوں کا گزر ہوتا ہے اور جہاں ان کا آنا جانا رہتا ہے۔ اس عمل کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، چاہے ایسا حالت اقامت میں ہو یا دورانِ سفر، کیوں کہ ایسا کرنے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا﴾ ”اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں“۔ (الاحزاب: 58) تاہم اگر راستہ غیر آباد ہو تو اس پر قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ اب حرمت کی علت باقی نہیں رہی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی ایسی سایہ دار جگہ پر قضائے حاجت کرے جہاں لوگ دوپہر کو قیام کرتے ہوں اور پڑاؤ ڈالتے ہوں۔ تاہم ویران علاقوں میں موجود جگہیں جہاں لوگوں کا آنا جانا نہیں ہوتا، ان میں قضائے حاجت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوں کہ یہاں بھی علت نہیں پائی جاتی اس لیے کہ آپ ﷺ خود کھجوروں کے جھنڈ میں قضائے حاجت کے لیے بیٹھے جو سایہ دار تھا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں“۔
متفق علیہابوہریرہ رضی اللہ عنہ بتارہے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں۔ یہ تینوں امور رمضان میں پیش آتے ہیں۔ پہلا: جنت کے دروازے عمل گزاروں کے لیے بطور ترغیب کھول دیے جاتے ہیں تاکہ وہ کثرت کے ساتھ نیکیاں یعنی نماز، صدقہ، ذکر، اور قرآن پاک کی تلاوت وغیرہ کریں۔ دوسرا: جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں کیوں کہ اس مہینے میں مومنوں سے بہت کم گناہ سرزد ہوتے ہیں۔ تیسری چیز: شیطانوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں یعنی سرکش شیطانوں کو جیسا کہ دوسری روایت میں آیا ہے جسے امام نسائی نے اپنی سنن میں اور امام احمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے اور شیخ البانی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے شواہد کی وجہ سے ’جید‘ حدیث ہے۔ المردۃ (سرکش شیاطین) سے مراد وه شياطين ہیں جو بنی آدم کے سخت دشمن اور ان کے ساتھ بہت عداوت رکھنے والے ہیں۔ التصفید (جکڑنا) کا معنی بیڑی پہنانا ہے، یعنی ان کے ہاتھوں میں بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں تاکہ وہاں تک ان کی پہنچ نہ ہو سکے جہاں تک رمضان کے علاوہ مہینوں میں ان کی پہنچ رہتی ہے۔ یہ سب کچھ جس کی نبی ﷺ نے خبر دی ہے برحق ہے اور آپ ﷺ نے یہ اپنی امت کے لئے بطورِ نصیحت، انہیں نیکی کی رغبت دلانے اور برائی سے ڈرانے کے لئے بیان کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور (دوسروں کو بھی) اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
متفق علیہعلماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عاشوراء کا روزہ سنت ہے، واجب نہیں ہے تاہم ابتدائے اسلام میں جب رمضان سے پہلے اس دن کا روزہ مشروع ہوا تو اس کے حکم کے سلسلے میں ان کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ واجب تھا یا نہیں؟ اگر اس گروہ کی رائے کو درست مان بھی لیا جائے جن کا کہنا ہے کہ یہ واجب تھا تو پھر بھی صحیح احادیث کی وجہ سے اس کا وجوب منسوخ ہوچکاہے۔ انہی احادیث میں سے ایک اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث ہے جس میں وہ فرماتی ہیں کہ قریش دورِ جاہلیت میں عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تاوقتیکہ کہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہے وہ اس دن روزہ رکھے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ (بخاری ومسلم)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول الله ﷺ جنابت کی حالت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ جماع کرنے کے بعد پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جایا کرتے تھے، نہ وضو کرتے اور نہ ہی غسل فرماتے، یہاں تک کہ اپنی شرم گاہ کو بھی نہیں دھوتے تھے; کیونکہ حدیث میں "ماء" کا لفظ نکرہ ہے اور سیاقِ نفی میں استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ پانی کے ہر قسم کے استعمال کو عام ہے۔ دوسرا احتمال: یہ ہے کہ آپ ﷺ غسل کے لیے پانی کو نہ چھوتے تھے نہ کہ وضوء کے لیے۔یہ مفہوم صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ان احادیث سے موافقت رکھتا ہے جن میں صراحت کے ساتھ اس بات کا بیان ہے کہ آپ ﷺ بعد ازجماع سونے کے لیے اور کھانے، پینے اور دوبارہ جماع کے لیے اپنی شرمگاہ کو دھوتے اور وضو کرتے تھے۔ ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے جس میں آتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں بشرطیکہ وہ وضوء کرلے“۔ متفق علیہ۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جنبی شخص کو رخصت دی کہ جب اس کا کھانے پینے یا سونے کا ارادہ ہو تو نماز کے لئے کیا جانے والا وضو کر لے۔۔ اس حدیث کو امام احمد اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ تاہم اس تاویل کو حدیث کا عموم مسترد کرتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ: نبی ﷺ جواز کو بیان کرنے کے لیے بعض اوقات بالکل بھی پانی کو نہیں چھوتے تھے۔ کیونکہ آپ ﷺ اگر ہمیشہ ایسا کیا کرتے تو اس سے اس کے فرض ہونے کا وہم ہوتا۔ لہٰذا آپ ﷺ نے امت کے لیے آسانی اورسہولت پیدا کرنے کی غرض سے بعض اوقات پانی کے استعمال کو چھوڑ دیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر پہلے آنے والوں کے نام بالترتیب لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے، اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا، لیکن جب امام (خطبہ دینے کے لیے) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں“۔
متفق علیہجمعہ کے دن مسجدوں کے دروازے پر فرشتے کھڑے ہوتے ہیں، وہ پہلے داخل ہونے والوں، پھر اس کے بعد داخل ہونے والوں کو لکھتے ہیں، سب سے پہلے داخل ہونے والے کے اجر کی مثال اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے اونٹنی یا اونٹ ذبح کرنے والے کے اجر کی طرح ہے اور اس کے بعد میں آنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ کا تقرب پانے کے لیے گائے ذبح کرنے کے اجر کی طرح ہے، اور اس کے بعد آنے والے کا اجر اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے مینڈھا ذبح کرنے کے اجر کی طرح ہے، اور اس کے بعد آنے والے کا اجر اس اجر کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے مرغی ذبح کرے اور اس کے بعد جو آئے اس کا اجر انڈے کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی طرح ہے، پھر جب امام نکلتا ہے اور منبر پر خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو فرشتے اپنے ان دفاتر کو بند کر دیتے ہیں جس میں وہ درجہ بدرجہ جمعہ پڑھنے والوں کا نام لکھتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جب ابنِ آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! -اور ابو کریب کی روایت میں ہے: ہائے میری ہلاکت!- ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کر دیا، سو میرے لیے آگ ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جب ابنِ آدم سجدہ والی آیتوں میں سے کسی آیت کو پڑھتا ہے، یعنی وہ آیت کہ جس میں سجدے کا حکم ہوتا ہے اور وہ اللہ کے حکم کی بجاآوری اور اطاعت و بندگی میں رغبت کی وجہ سے سجدہ کرتا ہے تو شیطان پڑھنے والے کے پاس سے ہٹ جاتا ہے اور ابن آدم کی حصول یابی پر بطورِ حسد اپنی اس کرتوت پر حسرت و افسوس کرتے ہوئے روتا ہے کہ اس نے اس کرامت و بزرگی کو ترک کر کے لعنت و ناکامی کو پالیا۔ اور کہتا ہے: ”ہائے میری ہلاکت! ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا، سو میرے لیے آگ ہے“ یعنی ہائے میری افسردگی اور ہلاکت، اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کو سجدے کا حکم دیا اس نے اپنے رب کی اطاعت کی اور سجدہ کیا تو اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا میں نے تکبر کرتے ہوئے انکار کر دیا تو میرے لیے آگ ہے۔