Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں آخری تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے اور ہمیں بھی ان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔ 1- قبر کے عذاب سے۔ 2- جہنم کے عذاب سے۔ یعنی قیامت کے دن۔ 3- زندگى کے فتنے سے، جیسے اس کی حرام خواہشات اور گمراہ کن شبہات سے- اور موت کے فتنے سے، یعنی حالت نزع میں اسلام یا سنت سے بھٹک جانے سے یا پھر قبر کے فتنے سے، جیسے دونوں فرشتوں کے سوال سے۔ 4- مسیح دجال کے فتنے سے، جو آخری زمانے میں نکلے گا اور جس کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو آزمائے گا۔ یہاں بطور خاص دجال کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کا فتنہ بڑا بھیانک فتنہ ہوگا اور وہ لوگوں کو بہت بڑے پیمانے پر گمراہ کرے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز کی تکبیر کہتے، تو سورہ فاتحہ پڑھنے سے پہلے ذرا دیر رکتے۔ اس وقفے میں کچھ دعاؤں کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے۔ ان میں سے ایک دعا یہ ہے : "اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری ڈال دے، جس طرح تونے مشرق اور مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک صاف کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے دھودے، برف کے ساتھ، پانی کےساتھ اور اولوں کے ساتھ"۔ آپ اللہ عز و جل سے دعا کرتے کہ وہ آپ کو گناہوں میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے آپ کے اور آپ کے درمیان اتنی دوری بنا دے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل نہ سکيں۔ جیسے کہ مشرق اور مغرب کبھی آپس میں مل نہیں سکتے۔ اور اگر اس میں ملوث ہو بھی جائيں، تو ان سے آپ کو ایسے صاف ستھرا کر دے کہ جیسے سفید کپڑے سے میل کچیل کو دھو کر صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ کو پانی، برف اور اولہ جیسی ٹھنڈی چیزوں کے ذریعے گناہوں سے دھو دے اور گناہوں کی تپش اور گرمی کو ٹھنڈا کر دے۔
نبی ﷺ نے سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نمازی سجدے میں اچھی ہیئت اختیار کرے بایں طور کہ اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر ٹکا لے، اپنے بازوؤں کو اوپر اٹھا لے اور انھیں پہلوؤں سے دور رکھے۔ کیوں کہ یہ حالت نماز میں چستی اور دلچسپی کی غمازی کرتی ہے اور ا س اچھی ہیئت میں تمام اعضاء اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنے اپنے حصے کی عبادت سر انجام دے سکیں۔ سجدے میں بازوؤں کو بچھانے سے منع کیا گیا کیوں کہ یہ سستی اور اکتاہٹ کی دلیل ہے اور اس میں کتے کی مشابہت ہوتی ہے جو کہ ایک غیر مناسب مشابہت ہے۔
یہود کی مخالفت اور اس چیز کا ازالہ جس میں مسلمانوں کے لیے کوئی تنگی یا مشقت ہو اس کو دور کرنا مقاصدِ شریعت میں شامل ہے۔ سعید بن یزید جو کہ ثقات تابعین میں سے ہیں انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کےبارے میں پوچھا کہ کیا آپ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے، تاکہ یہ ان کے لیے اس سلسلے میں قابلِ تقلید نمونہ بن جائے؟ یا آپ ﷺ جوتے دور رکھتے کیوں کہ ان میں زیادہ طور پر گندگی اور تکلیف دہ چیزیں لگی ہوتی ہیں! تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب دیا کہ: ہاں رسول اللہ ﷺ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے اور یہ آپ کی سنت مطہرہ سے ہے، یہ کسی خاص جگہ یا مخصوص وقت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جب کتا برتن ميں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھویا جائے۔ سات میں سے پہلی بار مٹی سے دھویا جائے، تاکہ اس کے بعد جب پانی سے دھویا جائے، تو برتن پوری طرح صاف ہو جائے۔ گندگی اور نقصان دہ چيزیں باقی نہ رہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب اس جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے، جہاں قضائے حاجت کرنی ہوتی، تو اللہ کی پناہ مانگتے اور دعا کرتے کہ آپ کو خبیث جنوں اور خبیث جنیوں کی برائی سے بچائے۔ اس دعا میں آئے ہوئے الفاظ "الخبث" اور "الخبائث" کی تفسیر برائی اور نجاستوں سے بھی کی گئی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ جس شخص نے شہادت اور اللہ کی راہ میں ہونے والی موت طلب کی، اگر وہ اپنی اس نیت میں سچا اور اللہ عز و جل کی خوش نودی حاصل کرنے والا رہا، تو اسے اللہ اس کی سچی نیت کی بنا پر شہیدوں کا درجہ عطا کرے گا، اگرچہ اس کی موت بستر ہی پر کیوں نہ ہوئی ہو۔
بیت اللہ شریف کی اپنی عظمت و کرامت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے سامنے خشوع و عاجزی کی نشانی ہے، سینوں میں اس کا رعب اور دلوں میں اس کا جلال، تعلق اور محبت سمائی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ نے حاجی کو سفر سے پہلے حکم دیا کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ میں گزرے، یہ طوافِ اخیر ہے جسے طوافِ وداع کہتے ہیں، سوائے حائضہ عورت کے، اس لیے کہ اس کے داخل ہونے سے مسجد میں گندگی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، چنانچہ اس سے بغیر فدیہ کے طواف ساقط ہوگیا، یہ حدیث صرف حج کے بارے میں ہے عمرے کو یہ (حکم) شامل نہیں۔
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کر رہی ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے آپ کا پردہ کیا تو آپ نے درج ذیل کام کیے: 1- دونوں ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ان پر پانی انڈیل کر انہیں دھویا۔ 2- دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اپنی شرم گاہ کو دھویا، تاکہ جنابت کے اثر سے صاف ستھری ہو جائے۔ 3- اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اس سے رگڑا اور گندگی کے ازالے کے لیے ہاتھوں کو دھویا۔ 4- کلی کی۔ یعنی منہ میں پانی ڈالا، اسے ہلایا، گھمایا اور پھینک دیا۔ پھر ناک جھاڑی۔ یعنی سانس کے ساتھ ناک کے اندر پانی ڈالا اور باہر نکال دیا، تاکہ صفائی ہو جائے۔ 5- چہرے اور دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ 6- سر پر پانی ڈالا۔ 7- باقی جسم پر پانی ڈالا۔ 8- اپنی جگہ پر ہٹ کر کھڑے ہوئے اور دونوں قدموں کو دھویا، کیوں کہ ان کو پہلے نہيں دھویا تھا۔ پھر میمونہ رضی اللہ عنہا نے جسم کو خشک کرنے کے لیے ایک کپڑا پیش کیا، تو اسے نہيں لیا۔ اس کی بجائے اپنے ہاتھ سے جسم کا پانی پونچھنے لگے اور ہاتھوں کو جھاڑنے لگے۔