





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
یحی بن عمارہ مازنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے عمرو بن ابو حسن کو دیکھا کہ انھوں نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور انہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح وضو کر کے دکھایا۔ انھوں نے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور تین بار اپنے ہاتھ دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین چلوؤں سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور اسے صاف کیا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دو بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ ہاتھ کو ایک مرتبہ آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لے آئے۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا۔
متفق عليهیہاں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عملی طور پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے وضو کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ انھوں نے پانی کا ایک چھوٹا سا برتن منگوایا۔ سب سے پہلے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا۔ وہ اس طرح کہ برتن کو جھکا کر دونوں ہتھیلیوں پر پانی ڈالا اور ان کو تین بار برتن سے باہر دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر تین چلو پانی لیا اور ہر چلو سے کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک جھاڑی۔ پھر برتن سے تین چلو پانی لے کر تین بار اپنے چہرے کو دھویا۔ پھر اس سے دو دو چلو پانی لے کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین بار دھویا۔ پھر برتن میں ہاتھ ڈالا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا اور گردن کے اوپری حصے میں واقع گدی تک پہنچے۔ پھر دونوں ہاتھوں کو واپس وہیں لائے، جہاں سے آغاز کیا تھا۔ پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا۔
ابن شماسۃ المہری سے روایت ہے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ قریب المرگ تھے کہ ہمارے پاس آئے، کافی دیر تک روتے رہے اور اپنا رُخ دیوار کی طرف پھیر لیا اور ان کے بیٹے کہنے لگے، ابا جان! کیا آپ کو اللہ کے رسول ﷺ نے یہ یہ خوشخبری نہیں دی؟ کیا آپ کو اللہ کے رسول ﷺ نے یہ یہ خوشخبری نہیں دی؟ پھر متوجہ ہوئے اور کہا کہ ہمارے ہاں سب سے افضل لاَ إِلَهَ إِلاَّ الله مُحَمَّد رسولُ الله کی گواہی دینا ہے۔ مجھ پر تین قسم کے حالات گزرے ہیں۔ (پہلی حالت) میرے خیال میں آپ ﷺ سے بغض رکھنے میں مجھ سے زیادہ کوئی سخت نہیں تھا، نہ ہی کسی کو مجھ سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ مجھے قدرت ہو تو میں آپ کو قتل کردوں۔ اگر میں اس حال میں مرتا تو میں جہنمی ہوتا۔ (دوسری حالت) جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا اپنے ہاتھ پھیلا ئیں، تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا، تو میں نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، آپ نے فرمایا: عمرو تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا میں شرط لگانا چاہتا ہوں۔ فرمایا: کیا شرط لگانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: شرط یہ ہے کہ اسلام لانے سے میری مغفرت کردی جائے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام چیزوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کردیتی ہے اور حج پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے؟“ پھر میری نظر میں آپ ﷺ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا اور نہ ہی میرے لئے آپ سے کوئی بڑا تھا۔ میں آپ کے جلال کی وجہ سے آپ کو جی بھر کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اگر مجھ سے پوچھا جاتا کہ میں آپ کے اوصاف بیان کروں تو میں بیان نہیں کرسکتا تھا، اس لئے کہ میں جی بھر کر آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اگر میں اس حال میں مرتا تو مجھے امید تھی کہ جنتی ہوتا۔ (تیسری حالت) پھر کچھ اور چیزیں ہماری زندگی کا حصہ بن گئی، میں نہیں جانتا کہ ان میں میرا کیا حال ہے؟ لہذا جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ کرنے والی اور آگ میرے قریب نہ لانا، جب تم مجھے دفن کر لو تو میری قبر پر پانی کے چھینٹے چھڑک دینا، پھر اتنی دیر تک میری قبر پر کھڑے ہو جانا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے، تاکہ میں تمہاری وجہ سے مانوس رہوں اور اپنے رب کے فرشتوں کے سوال کا انتظار کروں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث خیر کی خوشخبری اور بھلائی کو متضمن ہے۔ اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کی موت کے وقت ان کے کچھ دوست آئے تو یہ بہت زیادہ روئے اور اپنا چہرہ دیوارکی طرف پھیر دیا،وہ موت کی کشمکش میں تھے عنقریب دنیا کو چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ ان کے بیٹے نے کہا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں آپ کو تو نبی ﷺ جنت کی خوشخبری دے چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: اے پیارے بیٹے! میری تین حالتیں رہی ہیں، پھر انہوں نے تینوں حالتیں ذکر کیں کہ وہ آپ ﷺ سے بہت زیادہ بغض رکھا کرتے تھے، روئے زمین پر ان سے زیادہ کوئی آپ ﷺ سے بغض نہیں رکھتا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ اگر موقع ملے تو وہ آپ ﷺ کو قتل کر دیں، یہ بہت سخت کفر تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کی محبت پیدا کی،تو آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے رسول! اپنا ہاتھ پھیلا دیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کرلوں، آپ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن عمرو بن العاص نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، یہ تکبّر کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ آنے والے واقعے کی پختگی کے لیے تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کہا اے اللہ کے رسول! میں ایک شرط پر اسلام قبول کروں گا۔ آپ نے فرمایا:کیا شرط ہے؟ کہا شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ کفر اور پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردے گا۔ اس کی عمرو کو سب سے زیادہ فکر دامن گیر تھی۔ ان کا یہ گمان تھا کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف نہیں کرے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے اور ہجرت پہلے کے تمام گناہوں کو ختم کرتی ہے اور حج پچھلے تمام گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں۔ جہاں تک اسلام لانے سے گزشتہ گناہوں کا معاف کرنا ہے تو یہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے {قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف وإن يعودوا فقد مضت سنت الأولين}۔ [الأنفال: 38]۔ ترجمہ:’’آپ ان کافروں سے کہہ دیجیے! کہ اگر یہ لوگ باز آجائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دیے جائیں گے اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے‘‘۔ الهجرة: جب انسان اس علاقے سے ہجرت کرے جس میں وہ رہتا ہے اور وہاں کفر کا غلبہ ہو، تو اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ حج بھی اپنے سے پہلے کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیعت کی اور لوگوں میں سب سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت کرنے والے بنے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کے جلال کی وجہ سے آپ کو مسلسل دیکھ نہیں سکتے تھے۔ پاک ہے دلوں کو پھیرنے والی ذات! کہ کل تک وہ آپ سے سب سے زیادہ بغض کرنے والے تھے اور آپ کو قتل کرنے کے خواہش مند تھے اور اب وہ آپ کے جلال کی وجہ سے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتے، اور نہ ہی آپ کی صفات بیان کر سکتے ہیں اس لیے کہ آپ ﷺ کے خوف سے آپ کو پوری طرح دیکھا ہی نہیں، جو پوری طرح ادراک کرسکیں۔ حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ اگر میں پہلی حالت پر مرتا تو جہنمی ہوتا۔ کہتے تھے اگر میں دوسری حالت پرمرتا تو مجھے اپنے جنتی ہونے کی امید تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی احتیاط کو دیکھیے کہ فرمایا اگر پہلی حالت پر مرتا تو یقیناً جہنمی ہوتا اور اگر دوسری حالت پر مرتا تو مجھے اپنے جنتی ہونے کی امید تھی۔ یہ نہیں کہا کہ میں جنتی ہوتا۔ اس لیے کہ جنتی ہونے کی گواہی دینا بہت سخت ہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے امارت اورقیادت کے بہت سارے امورسنبھالے اورحضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی لڑائیوں میں کچھ واقعات پیش آئے۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ معروف تھا کہ عرب کے ذہین وفطین شخص ہیں، اورفرماتے کہ: مجھے دوسری حالت کے بعد خوف ہے کہ کہیں میرے اعمال کا احاطہ نہ کیا جائے۔ پھر انہوں نے نصیحت کی کہ ان کی موت کے بعد کوئی عورت نوحہ نہ کرے۔ النائحة: وہ عورت جو میت پر نوحہ کرتی ہے اور اس پر نوحہ خواں کبوتر کی طرح خوب روتی ہے۔ اور حکم دیا کہ انہیں دفن کرنے کے بعد اتنی مقدار قبر پر رُکے رہنا جتنی مقدار میں اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جا سکے، تاکہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے آجائیں جو مُردے کو دفنانے کے بعد آتے ہیں۔ مُردے کو دفنانے کے بعد دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے تین سوال کرتے ہیں؛ تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اپنے اہلِ خانہ کو اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کرنے کی مقدار ٹھہرنے کا حکم فرمایا تاکہ وہ ان کی وجہ سے مانوس رہے۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ مُردہ قبر میں اپنے گھر والوں کو محسوس کرتا ہے۔ آپ ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ لوگ جب مُردے کو دفنا کر واپس لوٹتے ہیں تو مُردہ لوگوں کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے۔ آپ ﷺ سے حسن درجے کی حدیث میں یہ منقول ہے کہ مُردے کو دفنانے کےبعد قبر پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ’’اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی مانگو کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا‘‘۔ لہٰذا میت کو دفنانے کے بعد اس کی قبر پر کھڑے ہو کر تین دفعہ اللهم ثبته اورتین دفعہ اللهم اغفر له کہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب سلام کرتے تو تین دفعہ کرتے اور جب دعا کرتے تو بھی تین دفعہ کرتے۔ خلاصہ یہ کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری سنائی ہے۔ یہ خیر کی بشارت اور مبارک باد ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسواک کا کنارہ آپ ﷺ کی زبان پر تھا اور آپ مسواک منہ میں لے کر منہ سے اس طرح اع، اع کی آواز نکال رہے تھے، جیسےآپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔
متفق علیہابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے؛ کیوں کہ یہ زیادہ اچھے طریقے سے صفائی کرتی ہے اور منہ میں ٹوٹ کر تکلیف نہیں دیتی۔ آپ ﷺ مسواک کو اپنی زبان پر رکھے ہوۓ تھے اور بہت اندر تک مسواک فرما رہے تھے اور یوں لگ رہا تھا، جیسے آپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے کسی کام سے بھیجا۔ (دورانِ سفر) میں جنبی ہو گیا اور (غسل کے لیے) پانی نہ مل سکا، اس لیے میں زمین پر لوٹنے لگا، جس طرح جانور لوٹتا ہے۔ بعد ازاں جب اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے آپ ﷺ کو اس واقعے کے بارے میں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے بس اتنا کر لینا کافی تھا"۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا، پھر اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ، ہتھیلیوں کی پشت اور اپنے چہرے کا مسح کیا۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کسی کام سے ایک سفر میں بھیجا۔ دوران سفر ان کو جماع یا شہوت کے ساتھ نزول منی کی وجہ سے جنابت لاحق ہو گئی اور غسل کے لیے پانی نہ مل سکا۔ اس وقت ان کو معلوم نہيں تھا کہ جنابت کے بعد تیمم کیا جا سکتا ہے۔ صرف اتنا جانتے تھے کہ حدث اصغر کے بعد تیمم کی اجازت ہے۔ لہذا اجتہاد سے کام لیا۔ سمجھا کہ جس طرح حدث اصغر سے پاکی حاصل کرنے کے لیے بعض اعضائے وضو کا مٹی سے مسح کیا جاتا ہے، اسی طرح جنابت کے تیمم لیے پورے بدن پر مٹی لگانا ضروری ہے۔ لہذا مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے اور پورے بدن میں مٹی لگائی اور اس کے بعد نماز پڑھی۔ بعد ازاں جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو یہ جاننے کے لیے کہ ان کا عمل درست تھا یا نہيں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں حدث اصغر، جیسے پیشاب اور حدث اکبر، جیسے جنابت دونوں سے پاکی حاصل کرنے کا طریقہ بتا دیا۔ طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا جائے اور اس کے بعد اپنے بائيں ہاتھ سے دائيں ہاتھ، دونوں ہتھیلیوں کی پشت اور چہرے کا مسح کیا جائے۔
طارق ابن شہاب بجلی احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (بغرضِ سفر) نبی ﷺ کا پاؤں رکاب میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ (اے اللہ کے رسول ﷺ!) کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ سفر کے لیے تیار تھے کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے سوال کیا: کس جہاد کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی ﷺ نے اسے بتایا کہ افضل ترین جہاد یہ ہے کہ آدمی کسی ظالم بادشاہ کو نیکی کی تلقین کرے اور اسے برائی سے منع کرے۔ جہاد صرف کفار کےساتھ قتال تک محدود نہیں بلکہ اس کے کئی مراتب ہیں جن میں سے مذکورہ جہاد کا ثواب سب سے زیادہ ہے کیونکہ اس میں بادشاہ کے ظلم کی وجہ سے قتل یا قید ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس قسم کا جہاد کرتے ہیں۔
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کی کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقيقي معبود نہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دوں گا، نماز قائم کروں گا، زکوۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں گا۔
متفق عليهصحابی جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ توحید پر قائم رہنے، دن اور رات میں پانچ نمازیں ان کے شروط وارکان، واجبات اور سنن کے ساتھ ادا کرنے، فرض زکاۃ دینے، جو ایک مالی عبادت ہے اور جسے مال داروں سے لے کر حق دار فقیروں وغیرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے، حکمرانوں کی بات ماننے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کا عہد کیا، اور اس خیر خواہی طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو فیض یاب کرنے کی کوشش کی جائے، اس تک خیر پہنچائی جائے اور قول و فعل کے ذریعے اس سے برائی کو دور رکھا جائے۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : "اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تم سے محبت رکھتا ہوں"۔ آگے فرمایا : "اے معاذ! میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔)
رواه أبو داود والنسائي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے فرمایا : اے معاذ! میں تم سے محبت رکھتا ہوں اور وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا ہرگز نہ چھوڑنا : (اللهم أَعِنّي على ذكرك) یعنی اے اللہ! طاعت گزاری سے قریب کرنے والے ہر قول و عمل میں تیرا ذکر کرنے، (وشُكْرِك) نعمتیں حاصل ہونے اور نقمتیں زائل ہونے پر تیرا شکر ادا کرنے، (وحُسْن عبادتك) اور اخلاص و اتباع نبوی کے مطابق بہتر انداز میں اللہ کی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔
ابو ہریرہ، عبد اللہ ابن عمرو اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔نبی ﷺ وضو کے معاملے میں سستی اور کوتاہی سے پرہیز برتنے اور اسے مکمل طور پر کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ چوں کہ پاؤں کے پچھلے حصے تک عموما وضو کا پانی نہیں پہنچتا اور اس کی وجہ سے طہارت اور اس سے پڑھی جانے والی نماز میں خلل رہ جاتا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ پاؤں کے اس حصے اور اس شخص کو عذاب ہو گا، جو شرعی طہارت کے حصول میں سستی برتتا ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (ایک دن) عشا کی نماز میں تاخیر فرما دی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نکلے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو چکے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے، اس حال میں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: اگر مجھے اپنی امت (یا آپ ﷺ نے فرمایا) اگر مجھے لوگوں کے دشواری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو انھیں حکم دیتا کہ وہ اس گھڑی میں یہ نماز پڑھا کریں۔
متفق علیہنبی ﷺ نے (ایک دن) عشا کی نماز میں دیر کر دی، یہاں تک کہ رات کا بہت سارا حصہ گزر گیا اور عورتیں، بچے اور وہ لوگ سو گئے، جو زیادہ دیر تک انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آکر کہا: (یا رسول اللہ!) نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائیے، عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ اپنے گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لائے، اس حال میں کہ غسل کی وجہ سے آپ ﷺ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نماز کا انتظار کرنے والوں کی مشقت کا اندیشہ نہ ہو، توعشا کی نماز میں تاخیر افضل ہے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا): اگر مجھے اپنی امت کے دشواری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انھیں حکم دیتا کہ وہ اسی وقت دیر کر کے یہ نماز پڑھا کریں۔