





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آدم کی اولاد کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ایک ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو فحش گوئی نہ کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں مشک کی خوش بو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ روزے دار کے لیے دو خوشی کے مواقع ہیں، جن میں وہ خوش ہوتا ہے : جب وہ روزہ افطار کرتا ہے، تو خوش ہوتا ہے اور جب اپنے رب سے ملے گا تو (اس کی جزا دیکھ کر) اپنے روزے سے خوش ہوگا"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتا ہے : آدم کی اولاد کے ہر عمل کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ سوائے روزے کے۔ کیوں کہ روزہ میرے لیے ہے۔ اس میں ریا نہیں ہوتی۔ اس کا بدلہ بھی میں ہی دوں گا اور مجھے ہی پتہ ہے کہ اسے کتنا ثواب ملنا ہے اور اس کی نیکیوں کو کتنا گنا بڑھایا جانا ہے۔ اس کے بعد فرمایا : "روزہ ڈھال ہے۔" یعنی جہنم کی آگ سے حفاظت کا ذریعہ، پردہ اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔ کیوں کہ روزہ انسان کو خواہشات کا شکار ہونے اور گناہوں میں پڑنے سے روکتا ہے۔ جب کہ جہنم خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔ (جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو، تو فحش گوئی نہ کرے)۔ یعنی جماع اور اس کے مقدمات سے متعلق کوئی بات نہ کرے۔ ساتھ ہی مطلقا کوئی دوسری فحش گوئی بھی نہ کرے۔ (اور نہ شور و غل کرے) یعنی نہ جگھڑے اور نہ چیخ و پکار کرے۔ (اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ کرے يا اس سے لڑنے پر آمادہ ہو)۔ یعنی رمضان کے مہینے میں تو کہہ دے کہ اس وقت میں روزے سے ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ لڑنا ترک کر دے۔ لیکن اگر ہر حال میں لڑنے پر آمادہ ہو، تو جہاں تک ہو سکے کم سے کم زور صرف کر کے اس سے بچ نکلے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس ہستی کی قسم کھاکر بتایا، جس کے ہاتھ میں آپ کی جان تھی کہ روزے کی وجہ سے روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ کے یہاں اس سے کہیں زیادہ پاکیزہ ہے، جتنا انسان کے یہاں مشک کی بو۔ اسی طرح انسان کے جمعہ اور ذکر کی مجلسوں میں مشک لگانے کا جتنا ثواب ملتا ہے، اس سے کہیں زیادہ ثواب کی حامل ہے یہ بو ہوتی ہے۔ روزے دار کے لیے خوشی کے دو مواقع ہیں۔ افطار کے وقت افطار کی خوشی کہ بھوک اور پیاس ختم ہو گئی، روزہ پورا ہوا، عبادت مکمل ہوئی اور اس کے ذریعے اللہ نے معاملہ آسان کر دیا کہ اگلے کل پھر روزہ رکھا جا سکے۔ (اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہوگا) اللہ کی جانب سے ملنے والے اجر و ثواب کو دیکھ کر۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور وہ ان کے سامنے لیٹی ہوتیں۔ جب وتر باقی رہ جاتی، تو آپ ﷺ انھیں بھی جگا دیتے اور وہ اٹھ کر وتر پڑھتیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جب وتر باقی رہ جاتی، تو آپ ﷺ فرماتے:”اے عائشہ! اٹھو اور وتر پڑھو“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: نبی ﷺ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتی تھیں۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: ”نبی ﷺ رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ ﷺ کے اور قبلہ کے مابین ایسے پڑی ہوتی، جیسے جنازہ پڑا ہوتا ہے“۔ جب نبی ﷺ نماز تہجد سے فارغ ہو جاتے، تو وتر کی نماز شروع کرنے سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کو جگا دیتے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب وتر باقی رہ جاتی، تو آپ ﷺ فرماتے: اے عائشہ! اٹھو اور وتر پڑھو۔ ابوداود کی روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وتر پڑھنے کا ارادہ فرماتے، تو انھیں جگا دیتے اور وہ وتر پڑھتیں“۔ یعنی آپ ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کو چھوڑے رکھتے اور انھیں نہیں جگاتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو جاتے اور صرف وتر باقی رہ جاتی، تو انھیں جگا دیتے؛ تاکہ وہ اپنی وتر پڑھ لیں اور وہ اٹھنے کے فورا بعد وتر پڑھا کرتی تھیں، اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں ان پر نیند کی سستی غالب نہ آ جائے اور تاخیر کی صورت میں کہیں یہ چھوٹ ہی نہ جائے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: مجھے ایک رات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بستر پر نہيں ملے۔ ڈھونڈنا شروع کیا، تو میرے ہاتھ آپ کے پیروں کے تلووں سے جا لگے۔ آپ مسجد میں (سجدے کی حالت میں) تھے اور آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے۔ آپ فرما رہے تھے: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ (اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عفو و کرم کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری ذات کے ذریعے تیرے قہر وغضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تو نے خود اپنی تعریف کى ہے۔"
رواه مسلمعائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغل میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں آپ بستر پر نہیں ملے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے حجرے کی اس جگہ کو ٹٹولا، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھا کرتے تھے، تو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، آپ کے دونوں قدم کھڑے ہيں اور کہہ رہے ہیں: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ". یعنی اے اللہ! مجھے تیری رضا چاہیے۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر یا میری امت پر ناراض ہو جائے۔ "وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ"۔ میں تیرے بے پایاں عفو و درگزر کے ذریعہ تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ". میں تیری صفات جمالی کے وسیلے سے تیری صفات جلالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ تجھ سے پناہ بس تو ہی دے سکتا ہے۔ اللہ کے دربار کے علاوہ نہ کوئی بچ کر نکلنے کی جگہ ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ۔ "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ"۔ میں ہزار کوشش کے باوجود تیری ان نعمتوں اور احسانات کو کما حقہ شمار نہيں کر سکتا، جن سے تونے مجھے نواز رکھا ہے۔ "أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تونے اپنی تعریف کرتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ تونے اپنی تعریف اپنے شایان شان انداز میں کی ہے۔ تیری تعریف کا حق دوسرا کوئی ادا کر نہیں سکتا۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: کون سی نماز افضل ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لمبے قیام والی نماز“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟۔ یہ سوال اس لئے کیا گیا کیونکہ صحابہ کو اس بات کی چاہت تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر سکیں۔ اس سے مرادیہ ہے کہ: کس قسم کی نماز افضل ہے؟ یا پھر یہ مراد ہے کہ: نماز کا کون سا عمل افضل ہے؟ قیام کرنا یا رکوع کرنا یا سجدہ کرنا؟۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بتایا کہ نماز میں لمبا قیام کرنا افضل عمل ہے۔
شریح بن ہانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے، تو کون سا عمل سب سے پہلے کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: آپ ﷺ (سب سے پہلے) مسواک کیا کرتے تھے۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا کہ گھر میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے مسواک کرتے۔ وقت چاہے جو بھی ہو۔ رات ہو کہ دن۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس اس آدمی کا ذکر کيا گيا جو رات کو سویا اور صبح ہونے تک سویا رہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا آدمى ہے کہ شیطان نے پیشاب کر دیا اس کے دونوں کانوں میں، یا فرمایا: جس کے کان میں“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہ وہ سورج نکلنے تک سویا رہا اور فرض نماز کے لیے اٹھا ہی نہیں۔ تو آپ نے فرمایا: بے شک وہ ایسا شخص ہے کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دس باتیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا، بغل کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال مونڈنا اور پانی سےاستنجاء کرنا“۔ روای کہتے ہیں کہ میں دسویں چیز بھول گیا، شاید کلی کرنا ہو۔ وکیع جو کہ اس حدیث کے راویون میں سے ہیں کہتے ہیں کہ انتقاص الماء کا مطلب ہے پانی سے استنجا کرنا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے فطرت کی جملہ سنتوں کو بیان کر رہی ہیں۔ ”الفِطْرة“ سےمراد وہ ہیئت ہے جس پر اللہ نے اپنے بندوں کی تخلیق فرمائی اور اس پر انہیں وجود بخشا اور یہ کہ اس میں خیر موجود ہے۔ یہاں مراد فطرت سلیمہ ہے کیونکہ کج رو فطرت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس لیے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”ہر نوزائدہ بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں“۔ سننِ فطرت میں سے سب سے پہلی سنت ”مونچھ کاٹنا“ ہے۔ یعنی اسے ہلکا سا تراشنا یہاں تک کہ ہونٹ ظاہر ہو جائے۔ کیونکہ ایسا کرنے میں صفائی کا حصول اور ناک سے نکلنے والے مادوں سے بچاؤ ہوتا ہے۔ اگر مونچھ کے بال ہونٹ پر آ رہے ہوں تو اس کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء لگ جاتی ہیں اور مونچھوں کی کثرت سے شکل میں بھی بگاڑ آتا ہے، اگرچہ اس شخص کو یہ اچھی ہی لگیں جو ان کی پرواہ نہ کرتا ہو۔ لھٰذا مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ کاٹ تراش کرکے اپنی مونچھوں کی دیکھ بھال کرتا رہے اور اسے چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔ کیونکہ مسلم شریف میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ: ”مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے سلسلے میں ہمارے لئے وقت مقرر کیا گیا کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں“۔ دوسری سنت ”داڑھی کو( بڑھنے کے لیے) چھوڑ دینا“ ہے۔ ”اللحية“ سے مراد وہ بال ہیں جو ٹھوڑی اور دونوں جبڑوں پر اگ آتے ہیں۔ داڑھی کے اعفاء سے مرادیہ ہے کہ آدمی اسے زیادہ ہونے دے بایں طور کہ نہ تو اسے منڈائے اور نہ ہی کم یا زیادہ اسے چھوٹا کرے۔ کیونکہ اعفاء کا لفظ کثرت اور زیادہ کرنے کے معانی پر دلالت کرتا ہے۔ مراد یہ کہ اسے زیادہ کرو اور اس کی کثرت ہونے دو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (حتى عَفَوا) [الأعراف:95] ترجمہ: یہاں تک کہ وہ زیادہ ہوگئے۔ نبی ﷺ سے بہت سی احادیث مروی ہیں جن میں متعدد الفاظ کے ساتھ داڑھی کو بڑھانے کا حکم آیا ہے۔ ایک حدیث میں ”وفّروا“ کا لفظ ہے، ایک میں ”أرخوا“ کا لفظ ہےاور ایک میں ”أعفوا“ کا لفظ ہے۔ یہ تمام الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اسے اپنے حال پر باقی رکھتے ہوئے زیادہ ہونے دینا چاہیے اور اس سے تعرض نہیں کرنا چاہیے۔ اس بنا پر مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی داڑھی کو منڈائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو نبی ﷺ کے طریقے سے انحراف اور آپ ﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہو گا اور مشرکین سے مشابہت اختیار کرے گا، اسی کا فتوی دائمی کمیٹی کے علماء وغیرہ نے دیا ہے۔ "مسواک کرنا"۔ یعنی مسواک کرنے کا شمار ان خصالِ فطرت میں ہوتا ہے جن کی شریعت نے ترغیب دی ہے۔ "مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا سبب ہے" اسی لیے اس کا کرنا کسی بھی وقت مشروع ہے، تاہم وضوء اور نماز کے اوقات میں، نیند سے بیداری پر، منہ کی بو میں تغیر پیدا ہونے اور دانتوں پر پیلاہٹ ظاہر ہونے اور اس طرح کےديگر مواقع پر اس کے کرنے کی زیادہ تاکید ہے۔ "ناک میں پانی چڑھانا"۔ یعنی ناک میں پانی چڑھانا بھی فطرت میں سے ہے۔ کیونکہ اس سے ناک میں موجود ایسی گندگیوں کی صفائی اور ان کا ازالہ ہوتا ہے جو انسان کے لیے تکلیف اور ضرر رسانی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ناک میں پانی چڑھانا دوران وضوء بھی ہو سکتا ہے اور وضوء کے علاوہ بھی یعنی جب بھی آپ کو ناک صاف کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو اپنی ناک میں پانی چڑھا کر اسے صاف کرلیں۔اس سلسلے میں لوگ مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو اس کی صرف وضوء کرتے ہوئے ضرورت پڑتی ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جنھیں بہت زیادہ ناک صاف کرنا پڑتا ہے۔ سننِ فطرت میں سے ایک "کلی کرنا "بھی ہے۔ یہ بھی فطرت میں سے ہے۔ منہ اور ناک میں بہت سی گندگیاں در آتی ہیں۔ چنانچہ ان پر توجہ دینا فطرت کا جزء ہوا۔ ”ناخن کاٹنا“ يعنی ناخن کاٹنا فطرت ميں سےہے۔ اس سے مراد دونوں ہاتھ پاؤں کے ناخن ہیں۔ انہیں بھی کاٹے بنا چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں، جیسا کہ گزشتہ حدیث میں آیا ہے۔ ”جوڑوں کو دھونا“ یعنی انگلیوں کے بیرونی اور اندرونی جوڑوں کو دهلنا کیونکہ ان جگہوں ميں جھریاں اور سلوٹیں ہونے کی وجہ سے ان پر گندگی جمع ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات ان تک پانی نہیں پہنچ پاتا۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے بایں طور کہ انہیں ملا جائے اور دوسرا ہاتھ ان پر پھیرا جائے تو ان تک پانی پہنچ جاتا ہے۔ لھٰذا ان کا خیال رکھنا بھی فطری امور میں سے ہے۔ جسم میں موجود ہر اس جگہ کا حکم انگليوں کے جوڑوں ہی کی طرح ہے جہاں پسینے یا کسی اور وجہ سے میل کچیل جمع ہو جاتی ہو جیسے کان کا سوراخ اور رانوں کا اندرونی حصہ اور اس طرح کی دیگر جگہیں جو عموماً چھپی رہتی ہیں۔ ”بغل کے بال اکھیڑنا“ یعنی خصالِ فطرت میں سے ایک خصلت بغل کے بال کو کھینچ کر انہیں جڑ سے اکھیڑنا بھی ہے۔ کیونکہ اس جگہ بہت زیادہ پسینہ آتا ہے اور میل کچیل جمع ہوتی رہتی ہے جس سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے بھی چالیس دن سے زیادہ نہیں چھوڑنا چاہیے جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ کی سابق الذکر حدیث میں آیا ہے۔ اگر طاقت ہو تو بغل کے بالوں کو اکھیڑنا ہی افضل ہے۔ تاہم اگر ایسا کرنا مشقت کا باعث ہو تو پھر انھیں مونڈنے یا بال صفا کریموں کے استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اصل غرض تو ان بالوں کو دور کرنا اور جگہ کو صاف کرنا ہے جو کہ حاصل ہو جاتا ہے۔ ”زیر ناف بال مونڈنا“ یعنی زیر ناف بال صاف کرنا بھی خصالِ فطرت میں سے ہے۔ "العانة" سے مراد وہ سخت بال ہیں جو مرد اور عورت کی اگلی شرم گاہ کے گرد اگ آتے ہیں۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ انہیں زائل کیا جائے چاہے ایسا مونڈكر، یا اكھيڑ كر يا كاٹ کر ہو یا پھر جدید مواد (لوشن وغیرہ) کو استعمال کر کے ہو۔ کیونکہ اصل مقصد صفائی ہے اور ان تمام طریقوں سے یہ مقصود حاصل ہوتا جاتاہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی سابقہ حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ رہنے دیا جائے۔ ”انتقاص الماء“ یعنی انتقاص الماء بھی فطرت میں سے ہے جس کی تفسیر استنجاء کرنے سے کی گئی ہے۔ اس معنی کی تائید ابو داود اور ابن ماجہ کی اس روایت سے ہوتی ہے جو عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کلی کرنا، ناک میں پانی چڑھانا اور پانی چھڑکنا فطرت میں سے ہیں۔ استنجاء کا معنی ہے: دونوں شرم گاہوں سے نکلنے والی شے کو کسی پاک چیز جیسے پانی، پتھر، چیتھڑوں اور رومال وغیرہ سے صاف کرنا جس میں (گندگی کو) زائل کرنے کی صلاحیت ہو۔ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں:”میں دسویں خصلت بھول گیا، لیکن ہو سکتا ہے وہ کلی کرنا ہو“۔ یہ راوی کا شک ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ تمام اشیاء انسان کے ظاہر کی تکمیل کرتی ہیں اور اسے پاک صاف کرتی ہیں اور نقصان دہ اور قبیح چیزوں کو اس سے دور کرتی ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شیطان تم میں سے ہر آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ پھونک مارتا ہے کہ سوجا، ابھی رات بہت باقی ہے۔ پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کو یاد کرنے لگے تو ایک گرہ کھُل جاتی ہے۔ پھر اگر وضو کر لے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر نماز پڑھے تو ایک اور گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق وچو بند اور خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ غمگین اور سست رہتا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب انسان تہجد یا فجر کی نماز کے لیے اٹھنا چاہتا ہے، تو کس طرح شيطان اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک مومن شخص جب سو جاتا ہے، تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ جاگ کر اللہ کو یاد کرتا ہے اور شیطان کے وسوسوں کو خلل ڈالنے نہيں دیتا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر وضو کرتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ نتیجے کے طور انسان صبح اس حال میں کرتا ہے کہ وه خوش مزاج اور چاق وچوبند رہتا ہے کیوں کہ طاعت کے لئے توفیق الہی ملنے کى وجہ سے وہ مسرور ہوتا ہے ساتھ ہی اللہ نے جو ثواب ومغرفت کا وعدہ کیا ہے اس سے اچھی امید رکھتا ہے اور اس بات پر بھی خوش ہوتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس اگر وہ عبادت کے لیے کھڑا نہيں ہوا، تو اس کی صبح بدمزاجی، کبیدگی اور بھلائی و نیکی کے کاموں میں سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیوں کہ دراصل وہ شیطانى زنجیر میں قید اور رحمن کی قربت سے دور کر دیا گیا ہوتا ہے۔
مَعدان بن ابی طلحہ یَعمَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔ یا پھر یہ کہا کہ مجھے کوئی ایسا کام بتائيں، جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ یہ سن کر ثوبان رضی اللہ عنہ چپ ہو رہے۔ میں نے ان سے دوبارہ پوچھا، تو پھر چپ رہے۔ تیسری بار پوچھا تو فرمایا : میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ”تو کثرت سے سجدہ کیا کر۔ اس لیے کہ ہر سجدے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تیرا ایک درجہ بلند کرے گا اور تیرا ایک گناہ معاف کرے گا۔“ مَعدان کہتے ہیں : پھر میں نے ابو دردا سے ملاقات کی اور ان سے بھی یہی سوال کیا، تو انھوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، جو ثوبان نے کہی تھی۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی ایسا عمل پوچھا گیا، جو جنت میں داخلے کا سبب بن جائے یا پھر جو اللہ کو سب سے محبوب ہو۔ جواب میں آپ نے سائل سے کہا : تم کثرت سے نماز میں سجدے کیا کرو۔ کیوں کہ جب تم اللہ کے لیے ایک سجدہ کروگے، تو اس کےبدلے میں تمھارا مقام ایک درجہ اونچا کر دے گا اور تمھارا ایک گناہ مٹا دے گا۔