





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد نے اس پر غصہ ہو کر رات گزاری، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں“۔
متفق علیہاس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو ہم بستری کی غرض سے بلائے تو بیوی پر لازم ہے کہ وہ اس کی اس ضرورت پوری کرے ورنہ خود کو فرشتوں کی لعنت کے حوالے کردے۔ لیکن یہ وعید اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ شوہر غصے کی حالت میں رہے جیسا کہ بخاری کی روایت میں یہ بات وارد ہے، تاہم اگر شوہر اس سے مطمئن و راضی ہو تو کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر کوئی شرعی عذر ہو جیسے اگر وہ اس قدر بیمار ہو کہ اس کی ازدواجی ضرورت پوری کرنے کے قابل نہ ہو یا اس کو ایسا عذر لاحق ہو جس کی بناء پر وہ ہمبستری نہ کرسکتی ہو تب بھی کوئی حرج نہیں، بصورت دیگر بیوی پر واجب ہے کہ وہ ہمبستری کے لیے تیار ہوجائے اور اس کی دعوت پر لبیک کہے اور اگر بیوی پر شوہر کا یہ حق ہو تو شوہر پر بھی ضروری ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کی جانب سے محسوس کرے کہ وہ ازدواجی ضرورت کی خواہشمند ہے تو وہ بھی اس کی اس خواہش کو پوری کرے تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ حُسنِ معاشرت کا وہی برتاؤ پیش کرے جو بیوی نے اس کے ساتھ کیا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو“۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر لعنت کی ہے۔
متفق علیہیہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کا اپنے بالوں کے ساتھ دوسرے بال کا جوڑنا حرام ہے ایسے ہی زینت و خوبصورتی کے لیے گودنا گدوانا حرام ہے اور یہ سارے اعمال کبیرہ گناہوں میں سے ہیں؛ کیوں کہ اس میں دھوکہ اور یہود کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، نیز گودنے میں اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہ (یہودی) سب سے ہلے جوڑا لگانے والے ہیں۔ اسی بنا پر ان امور کے ارتکاب کرنے والے یعنی فاعل اور مفعول ( جوڑنے والی اور جوڑوانے والی) دونوں لعنت میں شامل ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو، وہ قیامت کے دن اِس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں کہ جس شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور ان کے درمیان طاقت بھر انصاف نہ کرے، مثلا اخراجات، رہنے کے لیے گھر کی فراہمی، لباس اور رات گزارنے میں برابری نہ کرے، قیامت کے دن اس کی سزا یہ ہوگی کہ اس کے جسم کا آدھا حصہ ایک جانب جھکا ہوا ہوگا۔ بالکل اسی طرح جیسے اپنے معاملات میں ایک جانب جھکا ہوا تھا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان خیالات کو معاف کر دیا ہے، جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کر لیا جائے یا زبان سے ادا نہ کر دیا جائے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ایک مسلمان کے دل میں آنے والے برے خیالات کی بنا پر اس وقت تک اس کا مواخذہ نہيں ہوگا، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا ان کو بولا نہ جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے خیالات معاف ہيں۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ امت محمدیہ کے افراد کے ذہن و دماغ میں گردش کرنے والے اور ان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات کو اس وقت تک قابل مواخذہ قرار نہيں دیا ہے، جب تک دل کے اندر بیٹھ نہ جائیں اور دل ان سے مطمئن نہ ہو جائے۔ ہاں جس کے دل میں تکبر، گھمنڈ اور نفاق وغیرہ برے خیالات بیٹھ جائيں اور جگہ بنالیں، یا جو اپنے اعضاء سے ان پر عمل کر لے یا زبان سے ان کا اظہار کر دے، تو پھر وہ قابل مواخذہ ہوگا۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے؛ سوئے ہوئے شخص سے جب تک بیدار نہ ہو جائے، بچے سے جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے اور دیوانے سے جب تک اسے عقل نہ آ جائے"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ تین افراد کو چھوڑ کر تمام انسان مکلف ہیں۔ یہ تین افراد اس طرح ہیں: چھوٹا بچہ بڑا اور بالغ ہونے تک۔ فاقد العقل مجنوں دوبارہ عقل و شعور واپس آنے تک۔ سویا ہوا انسان جاگنے تک۔ یہ تینوں مکلف نہيں ہیں اور ان سے غلط کام ہو جائے تو ان کے کھاتے میں گناہ نہیں لکھا جاتا۔ البتہ چھوٹے بچے کے کھاتے میں نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن مجنون اور سوئے ہوئے انسان کے کھاتے میں وہ بھی نہیں لکھی جاتی۔ کیوں کہ شعور نہ ہو نے کی وجہ سے دونوں اس قابل ہی نہیں ہوتے کہ ان کی عبادت صحیح ہو۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، ہاں مگر اُس نے اس سے نکاح کیا ہو، یا ایسا قریبی رشتہ دار ہو جس کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے آدمی کو کسی اجنبی عورت اور خاص طور پر ثیبہ یعنی شادی شدہ عورت کے پاس رات گزارنے سے منع فرمایا ہے، یہاں پر ثیبہ یعنی شادی شدہ عورت کو خاص کیا ہے، کیونکہ غالباً ایسی عورتوں کے پاس لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے بر خلاف باکرہ عورت کے یعنی غیرشادی شدہ عورت کے، کیونکہ عام طور پر ایسی عورتیں مردوں سے سخت دوری بنائے ہوتی ہیں، اور اس وجہ سے بھی کہ اولویت کی بنیاد پر تعلیم دی ہے، کہ جب ثیبہ عورت کے پاس داخل ہونے سے منع فرمایا تو باکرہ کے پاس جانا بدرجہ اولی منع ہوگا۔ آپ ﷺ نے شوہر کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے نیز انہیں بھی جن پر وہ نسب کے ذریعہ حرام ہے جیسے ماں، بیٹی، اور بہن، یا رضاعت کے ذریعہ حرام ہو، جیسے اس کی رضاعی ماں، یا رشتہ مصاہرت کی وجہ سے جیسے اس کی بیوی کی ماں۔ ’’لا يَبِيتَنَّ‘‘ رات نہ گزارے، اس قول کا مفہوم مخالف مراد نہیں، کہ دن میں کسی اجنبیہ یا اس کے علاوہ کسی دوسری عورت کے پاس خلوت کرنا جائز ہے، اس کے لیے صحیح بخاری میں نہی عام ہے۔ اس میں رات کی قید نہیں۔ تاہم اگر محرم سے بھی خوف ہو تو ایسی صورت میں اس عورت کے ساتھ دوسری عورتوں کی موجودگی ضروری ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں: پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کربیٹھے۔ ایسے شخص کو سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے۔ (اس جرم کی پاداش میں) اسے قتل کیا جائے گایا سولی پر چڑھایا جائے گا یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اسے بھی (قصاصاً) قتل کر دیا جائے گا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔حدیث میں اُن مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اشارہ ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جن سے نواقضِ اسلام میں سے کسی بھی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جو شہادتین کے برخلاف ہو۔ کیونکہ شارع حکیم (اللہ تعالی) نے جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دی ہے اور اپنی شریعت کو اس کا پاسبان اور محافظ بنایا ہے اور اُس نے شرک باللہ کے بعد کسی بھی ایسی جان کے قتل کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو ۔ اس حدیث میں شارع نے ہر اس مسلمان کے قتل کو حرام قرار دیا جو شہادتین کا اقرار کرتا ہو سوائے اس کے کہ وہ تین میں سے کسی ایک با ت کا مرتکب ہو: اول: وہ زنا کرے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شادی کی نعمت سے نوازا ہو اور صحیح نکاح کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو عفت بخشی ہو۔ دوم: زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ کسی معصوم جان پر دست دراز ہو کر اسے قتل کر دے۔ ایسے شخص کے حق میں عدل و مساوات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اس نے کیا تاکہ حق قائم ہو اور ظالم لوگوں کو سرکشی سے باز رکھا جا سکے۔ سوم: جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل پڑے بایں طور کہ ان پر ڈاکہ زنی کرے، انہیں دہشت زدہ کرے، ان کا مال ان سے چھینے اور ان میں فساد برپا کرے۔اس طرح کے شخص کو یا تو قتل کر دیا جائے گا یا سولی پرچڑھا دیا جائے گا یا پھر جلا وطن کر دیا جائے گا تا کہ لوگ اس کے شر اور ظلم و زیادتی سے نجات پا سکیں۔ یہ وہ تین لوگ ہیں جنہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے قتل کرنے میں دین و جان اور عزت و ناموس کی سلامتی ہے۔
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ۔ اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت یا خون یا دین کے دفاع میں قتل ہو جائے وہ بھی شہید ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہےکہ اگر کسی شخص کو چور، لٹیرے یا ایسے شخص کاسامنا ہو جو اس سے اس کا مال بغیر شرعی حق کے قوت و اختیار کے ساتھ لینا یا غصب کرنا چاہتا ہو تو اس شخص پر ضروری ہے کہ وہ اپنے مال کے دفاع میں اس سے لڑائی کرے۔ اگر وہ اپنے مال کے دفاع میں مارا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس کی موت کا ثواب شہید کی موت کی طرح ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس شہید کی طرح ہے جو میدان جنگ میں ہوتا ہے، جس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ اسی طرح جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا، یا عزت کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا جو اس کی بیوی یا کسی بھی محرم کے ساتھ برائی کا ارادہ رکھتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے چنانچہ وہ شخص ان کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے مارا جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے اجر جیسا ہو گا۔ فقہاء کے نزدیک یہ حدیث ظالم حملہ آور کا دفاع کرنے کے سلسلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: "اللہ تعالی نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے شراب کی حرمت کی آیت نازل کی، اس وقت مدینہ منورہ میں جتنی طرح کی شراب بنتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شراب کے حرام ہونے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے، قطع اس سے کہ وہ کس چیز سے بنی ہے۔