Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
ہر وہ شخص جو جہاد کرنے کی قدرت رکھتا ہو اور اس کی اس حال میں موت آ جائے کہ اس نے کبھی جہاد نہ کیا ہو اور نہ اس کا خیال ہی اس کے دل میں گزرا ہو یعنی کبھی اس نے جہاد کا ارادہ نہ کیا ہو تو جان لینا چاہیے کہ اس میں نفاق کے کچھ اثرات ہیں۔ ظاہری طور پر جہاد کے ارادے کی علامت یہ ہے کہ جنگ کے آلات کو تیار کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً﴾ ”اوراگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے سامان تیارکرتے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مَاتَ عَلى شُعْبَةٍ مِن نِفَاقٍ“ یعنی نفاق کی ایک نوع پر مرا۔ یعنی جو اس حال میں مرا، (اس کا مطلب یہ ہے کہ) یہ منافقین اور جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں سے مشابہت رکھتا ہے اور جو کسی قوم سے مشابہت رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر مومن پر یہ واجب ہے کہ وہ جہاد کی نیت کرے۔ جہاد کرنے سے مراد جہاد کے تمام شروط پائے جانے پر جہاد کرنا ہے ورنہ مومن اپنی نیت بر باقی رہے گا جب تک کہ اسے جہاد میں جانے کے لیے تمام شروط متوفر نہ ہو جائیں۔
عرفہ کے دن کے علاوہ کسی دن اتنے لوگوں کو اللہ تعالی جہنم سے خلاصی نہیں دیتا ہے جتنا عرفہ کے دن دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حاجی بندوں سے حقیقتاً قریب ہوتا ہے اور فرشتوں کے سامنے رشک کرتا ہے اور ان کے سامنے حاجیوں کی فضیلت اور ان کا شرف بتاتا ہے۔ اہل السنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جلالت و عظمتِ شان کے مطابق سچ مُچ اپنے بندوں سے قریب ہے، وہ عرش پر مستوی ہے، مخلوق سے الگ ہے اور حقیقت میں ان سے قریب اور پاس ہوتا ہے۔ اور پوچھتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یعنی یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ کہ انہوں نے اپنے گھر بار کو اور وطنوں کو چھوڑا، اپنا مال خرچ کرکے، جسموں کو تھکا کر آئے، یعنی یہ اپنے گناہوں کی مغفرت، اللہ کی رضا، اس کے قرب اور ملاقات کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ جو وہ چاہیں گے وہ انہیں ملے گا، ان کے درجات ان کی نیتوں کے بقدر ہوں گے۔
ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : ہم شکار، تجارت اور اس طرح کے دوسرے مقاصد کے تحت کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر کا سفر کرتے ہيں۔ ہمارے ساتھ پینے کا پانی بس تھوڑا سا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کا استعمال وضو اور غسل میں کریں گے، تو وہ ختم ہو جائے گا اور پینے کا پانی نہیں بچے گا۔ لہذا کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا جائز ہوگا؟ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سمندر کے پانی کے بارے میں فرمایا : اس کا پانی خود بھی پاک ہے اور اس کے اندر دوسرے کو پاک کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس سے نکلنے والی مچھلیوں وغیرہ کا کھانا بھی جائز ہے۔ اگرچہ وہ مردہ حالت میں پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی ہی کیوں نہ پائی جائيں اور کسی نے ان کا شکار نہ بھی کیا ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ وہ پانی پاک ہے یا نہیں، جس پر چوپائے اور درندے پانی پینے وغیرہ کے لیے آتے جاتے رہتے ہوں، تو آپ نے جواب دیا کہ جب پانی دو بڑے بڑے گھڑوں کے برابر ہو ، جو موجودہ حساب سے 210 لیٹر ہوتا ہے، تو وہ ماء کثیر یعنی زیادہ پانی ہے اور وہ ناپاک نہيں ہوتا۔ ہاں، اگر کوئی ناپاک چيز ملنے کی وجہ سے اس کے رنگ، مزہ یا بو میں سے کوئی وصف بدل جائے، تو بات الگ ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک فقہی حکم شرعی بیان کررہے ہیں جس كا تعلق بعض اشیاء کے کھانے كى حلت سے ہے۔ ان میں سے ایک تو مردہ ٹڈی اور مردہ مچھلی کےکھانے کو حلال قرار دینے کے بارے میں ہے۔ جبکہ دوسرا: دو قسم کے خون کے کھانے کے جائز ہونے سے متعلق ہے اور وہ دونوں جگر اور تلی ہیں۔ یہ دونوں حکم مردار اور خون کھانے کی حرمت سے مستثنی ہیں۔
آپ ﷺ نے مکھی کے بارے میں بتایا کہ جب وہ کسی پینے کی چیز میں گِر جائے تواس میں کچھ بھی اثر نہیں کرتی، بلکہ اس کو پورا ڈبو دینا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے ایک پَر میں بیماری ہوتی ہے اور یہ وہ پَر ہوتا ہے جسے وہ پانی میں ڈبوتی ہے اور دوسرے پَر میں اس بیماری کی شفاء ہوتی ہے۔ جو چیز کئی صدیوں سے مسلمان جانتے تھے، جدید طب نے اس کو درست ثابت کردیا ہے۔ مذہبِ اسلام کی اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔
اس حدیث میں ان افراد کو سخت وعید سنائی گئی ہے، جو سونا اور چاندی سے تیار کردہ یا سونا اور چاندی سے ملمع شدہ یا ان دونوں سے تزیین شدہ برتن استعمال کرتے ہیں۔ اس گناہ کے مرتکب شخص کو اس کے پیٹ میں جہنم کا عذاب وارد ہونے کی وجہ سے ڈراؤنی اور ناگوار آواز سنائی جائے گی؛ کیوں کہ یہ عمل کافروں اور متکبروں کی نقالی اور فقرا و محتاجوں کی دل شکنی کے مترادف ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ اسلام، بندۂ مسلم کو اخلاقی گراوٹ اور عیش پرستی سے بچاتا ہے۔ حرمت کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ نقدی مال کے طور پر زمانہ قریب تک سونا چاندی کا چلن رہتا آیا ہے؛ لہذا انھیں برتنرں اور تحفوں وغیرہ کے طور پر اپنانا اور استعمال کرنا ایک طرح سے تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج بنا دینا اور حاجات و ضروریات کی قدر و قیمت کو ناکارہ بنا دینا ہے۔ جب کہ ان کے اپنانے اور استعمال کرنے میں کوئی مفاد کا پہلو بھی نہیں ہے۔ ان برتنوں میں کھانے اور پینے پر اس حدیث کی ممانعت، ہر قسم کی منفعت کو شامل ہے، سوائے اس کے جس کی شریعت نے اجازت دی ہو، جیسے عورتوں کے زیورات۔
اس حدیث میں نبی ﷺ یہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی امت اور اہل ایمان کے صبر آزما محنت و مشقت اور دشواری سے دوچار ہونے کا خدشہ نہ ہوتا، تو آپ انھیں وجوبی طور پر حکم دیتے کہ وہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کیا کریں، لیکن آپ نے اپنی امت پر رحمت و شفقت کا خیال رکھتے ہوئے وجوبی حکم سے احتراز فرمایا اور اس عمل کو حتمی و قطعی فرائض میں شامل نہیں کیا؛ لہٰذا یہ ان مستحب سنتوں میں سے ہے، جن پر عمل کرنے والے کو اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے اور چھوڑنے والا سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑ لے۔ اس حدیث میں آئے ہوئے لفظ "استنثار" کے معنی ہیں ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ شیطان انسان کی ناک کے اندر رات گزارتا ہے۔