





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ لوٹ رہے تھے۔ راستے میں پانی کے ایک چشمے تک پہنچے، تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے بڑی جلد بازی دکھائی۔ جلدی جلدی وضو کر لیا۔ ہم پہنچے تو ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں۔ ان کو پانی نے چھوا تک نہيں تھا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ وضو اچھی طرح کیا کرو۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مکہ سے مدینہ کے سفر پر تھے۔ ساتھ میں صحابہ بھی موجود تھے۔ راستے میں پانی ملا، تو کچھ صحابہ نے عصر کی نماز کے لیے اس طرح وضو کر لیا کہ صاف دکھ رہا تھا کہ ان کی ایڑیاں خشک ہیں ان تک پانی نہيں پہنچا ہے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ایسے لوگوں کے لیے آگ کا عذاب اور ہلاکت ہے جو وضو کرتے وقت ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرتے ہيں۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے ان کو مکمل طور پر وضو کرنے کا حکم دیا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور تم میں سے کسی نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، پھر مؤذن نے "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا اور اس نے بھی "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" کہا اور اس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، پھر مؤذن نے "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا اور اس نے بھی "اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ" کہا، پھر مؤذن نے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا اور اس نے بھی سچے دل سے "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔"
رواه مسلماذان لوگوں کے لیے نماز کا وقت داخل ہونے کا اعلان ہے اور اذان کے کلمات عقیدۂ توحید پر مشتمل بڑے ہی جامع کلمات ہیں۔ اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ اذان سننے والے کو کیا کرنا چاہیے۔ دراصل اذان سننے والے کو اسی طرح کے کلمات کہنے چاہیے، جو مؤذن کہتا ہے۔ مثلا جب مؤذن "اللہ اکبر" کہے، تو سننے والا بھی "اللہ اکبر" کہے اور اسی طرح باقی الفاظ کو بھی اس کے ساتھ دہرائے۔ البتہ جب مؤذن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کہے، تو سننے والا "لا حول ولا قوة إلا بالله" کہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے بتایا ہے کہ جس نے مؤذن کے ساتھ اس کے ذریعے کہے گئے الفاظ کو سچے دل سے دہرایا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اذان کے کلمات کے معانی : "الله أكبر" یعنی اللہ پاک ہر چیز سے عظیم، اونچے مرتبہ والا اور بڑا ہے۔ "أشهد أن لا إله إلا الله" یعنی اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے۔ "أشهد أن محمّدًا رسول الله" یعنی میں اپنی زبان اور دل سے اس بات کا اقرار کرتا اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور آپ کی اطاعت واجب ہے۔ "حيَّ على الصَّلاة" یعنی نماز کی طرف آؤ۔ جب کہ سننے والے کے قول "لا حول ولا قوَّة إلّا بالله" کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی توفیق کی بغیر انسان کے پاس نہ اطاعت کے موانع سے گلو خلاصی کا کوئی راستہ ہے، نہ عبادت کرنے کی طاقت ہے اور نہ کسی دوسری چیز کی قوت ہے۔ "حيَّ على الفلاح" یعنی کام یابی کے سبب کی جانب آؤ۔ دراصل کامیابی سے مراد جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جو شخص کسی نماز کو بھول جائے، تو وہ اسے اسی وقت پڑھ لے، جب یاد آ جائے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ {وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي} [سورہ طہ : 14] (اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو شخص کسی نماز کو ادا کرنا بھول جائے اور اس کا وقت نکل جائے، تو اسے یاد آتے ہی فورا اس کی قضا کر لینی چاہیے۔ دراصل نماز کو وقت پر نہ پڑھنے کے گناہ کو مٹانے کا طریقہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ اسے یاد آتے ہی پڑھ لیا جائے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک کے اندر فرمایا ہے : {وأقم الصلاة لذكري} [سورہ طہ : 14] یعنی بھولی ہوئی نماز کو اسی وقت پڑھ لو، جب یاد آ جائے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”نبی ﷺ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔ اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ بیس دن کا اعتکاف کیا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ ہر رمضان میں دس دن کے لیے مسجد میں اللہ کی عبادت کے لیے گوشہ نشین ہوا کرتے تھے۔ پہلے آپ ﷺ شبِ قدر کو پانے کی امید میں درمیانی عشرے میں اعتکاف پر بیٹھا کرتے تھے۔ پھر جب آپ ﷺ کو علم ہوا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے تو آپ ﷺ اس میں معتکف ہوا کرتے تھے۔ اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ ﷺ نے اللہ کی اطاعت و خوشنودی میں اضافے کی غرض سے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک عورت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی غزوے میں مقتول پائی گئی، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی جنگ میں ایک مقتول عورت کی لاش دیکھی، تو عورتوں اور چھوٹے بچوں کے قتل کی نکیر فرمائی۔
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے، تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے، تو اگر تمھیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے، تو اس میں نہ کھاؤ، لیکن کوئی دوسرا برتن نہ ملے، تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو۔
متفق علیہابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔ (1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔ انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔ جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے منت ماننے سے منع فرمایا اور کہا : "منت کوئی خیر نہیں لاتی۔ اس کے ذریعے بس کنجوس کا مال نکالا جاتا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نذر ومنت ماننے سے منع فرمایا ہے۔ نذر ومنت ماننا یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر ایسی کوئی چيز واجب کرلے، جسے شارع نے اس پر واجب نہ کیا ہو۔ آپ نے آگے فرمایا کہ منت کسی چيز کو نہ آگے کرتی ہے، نہ پیچھے۔ اس کے ذریعے تو بس بخیل آدمی سے، جو بس وہی کام کرتا ہو، جو اس پر واجب ہو، خیر نکالی جاتی ہے۔ منت کوئی ایسی چيز نہيں لاتی، جو تقدیر میں نہ لکھی ہو۔
ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اشعری قبیلے کے کچھ لوگوں کے ساتھ پہنچا۔ میں نے آپ سے سواری مانگی، تو آپ نے کہا : "اللہ کی قسم! میں تمھیں سواری نہيں دے سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری ہے، جو تمھیں دے سکوں۔" پھر ہم وہاں جتنی دیر اللہ نے چاہا، اتنی دیر رکے۔ اسی درمیان آپ کے پاس کچھ اونٹ آ گئے، تو آپ نے ہمیں تین اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم چل پڑے، تو ہمارے بیچ کے کچھ لوگوں نے دوسرے لوگوں سے کہا : اللہ ہمارے لیے برکت نہ دے۔ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آکر سواری مانگی اور آپ نے قسم کھاکر بتایا کہ ہمیں سواری نہيں دے سکیں گے اور پھر دے دی۔ ابو موسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے کہا : "سواری میں نے تمھیں نہيں دی ہے۔ سواری تو تمھیں اللہ نے دی ہے۔ جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، تو جب بھی میں کسی بات کی قسم کھاؤں گا اور دوسری بات کو اس سے بہتر دیکھوں گا، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا، جو بہتر ہو۔"
متفق عليهابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انھیں سواری کے لیے کچھ اونٹ دیں، تاکہ وہ جہاد میں شریک ہو سکیں۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھاکر بتا دیا کہ آپ انھیں سواری نہيں دے سکتے۔ آپ کے پاس انھیں دینے کے لیے سواری کا انتظام نہيں ہے۔ لہذا واپس ہو گئے۔ کچھ دیر رکے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تین اونٹ آئے، تو ان کے یہاں بھجوا دیے۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگوں نے دیگر لوگوں سے کہا : اللہ ہمار لیے ان اونٹوں میں برکت نہ دے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ لہذا وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا، تو آپ نے کہا : تمھیں سواری تو دراصل اللہ نے دی ہے۔ کیوں کہ انتظام اسی نے کیا ہے اور توفیق اسی نے دی ہے۔ میں تو بس ایک سبب ہوں کہ یہ میرے ہاتھوں انجام پایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم، جب بھی میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھاؤں گا اور بعد میں دیکھوں گا کہ میں نے جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اس سے بہتر کام دوسرا ہے، تو قسم کھائے ہوئے کام کو چھوڑ کر دوسرا کام، جو اس سے بہتر ہے، اسے کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری کی نمائش کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص مجرد حمیت کی بنا پر لڑتا ہے اور ایک شخص محض دکھاوے کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے کون اللہ کی راہ میں ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہے، صرف اسی کا لڑنا اللہ کے راستے میں ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جنگ کرنے والوں کے الگ الگ مقاصد کے بارے میں پوچھا گیا کہ ایک بہادری دکھانے کے لیے جنگ کرتا ہے، ایک شخص حمیت کی خاطر جنگ کرتا ہے اور ایک شخص نام و نمود کی خاطر جنگ کرتا ہے، ان میں سے کس کی جنگ اللہ کے راستے میں ہے؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کے راستے میں جنگ کرنے والا وہ ہے، جس نے اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جنگ کی۔