Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز کے اندر دو سجدوں کے بیچ یہ پانچ چیزیں مانگا کرتے تھے، جن کی ایک مسلمان کو بڑی ضرورت ہوتی ہے اور جن کے اندر دنیا اور آخرت دونوں جہان کی بھلائیاں سمٹ آئی ہيں۔ آپ اللہ سے گناہوں پر پردہ ڈالنے اور انھیں بخش دینے، اپنے اوپر رحمت کی چادر تان دینے، شکوک و شبہات، شہوتوں اور بیماریوں سے عافیت میں رکھنے، راہ حق پر چلانے اور اس پر مضبوطی سے قائم رکھنے اور ایمان، علم، عمل صالح اور رزق حلال عطا کرنے کی دعا کیا کرتے تھے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز ختم کرتے، تو "أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله." کہتے۔ اس کے بعد اپنے رب کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہتے : "اللَّهمَّ أنتَ السَّلامُ، ومنْكَ السَّلامُ، تباركْتَ ذا الجَلالِ والإكرامِ۔" یعنی اللہ اپنی صفات میں سالم و کامل ہے، ہر عیب و نقص سے پاک ہے، دنیا و آخرت کی تمام برائیوں سے سلامتی اسی سے مانگی جائے گی، دونوں جہان میں اس کی بھلائیوں کی بہتات ہے اور وہ صاحب عظمت و احسان ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اصل یہ ہے کہ نماز کھڑے ہوکر پڑھی جائے۔ ہاں! اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنا ممکن نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھی جائے اور اگر بیٹھ کر پڑھنا بھی ممکن نہ ہو، تو پہلو کو بل لیٹ کر پڑھی جائے۔
ایک نابینا شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جو میری مدد کرے اور پانچ وقت کی فرض نمازوں کے لیے ہاتھ پکڑ کر مجھے مسجد لے آیا کرے۔ دراصل وہ چاہتا تھا کہ آپ اسے جماعت میں شامل نہ ہونے کی اجازت دے دیں۔ آپ نے اجازت دے بھی دی۔ لیکن جب وہ جانے لگا، تو اسے بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟ جب انھوں نے ہاں میں جواب دیا، تو فرمایا : نماز کی ندا لگانے والے کی ندا قبول کرو۔
جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے آئے اور امام قیام یا رکوع یا سجدے یا قعود (بیٹھنے) کی حالت میں ہو تو تمہیں چاہیے کہ قیام یا رکوع وغیرہ میں امام کی اتباع کرو، امام کے کھڑے ہونے کا انتظار نہ کرو جیسا کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو خطبۂ حاجت سکھایا۔ دراصل خطبۂ حاجت سے مراد وہ کلمات ہیں، جو خطبوں اور ضروری کاموں کے آغاز کے وقت کہے جاتے ہیں۔ مثلا خطبۂ جمعہ اور خطبۂ نکاح وغیرہ۔ اس خطبے کے اندر کئی غیر معمولی باتیں موجود ہیں۔ مثلا اللہ کا ہر طرح کی تعریف کا حق دار ہونا، صرف اسی سے مدد اور مغفرت طلب کرنا، گناہوں پر پردہ ڈالنے اور درگزر کرنے کی گزارش کرنا، تمام برائیوں اور نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ میں جانا وغیرہ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے وہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دے نہیں سکتا۔ پھر اللہ کے ایک ہونے کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ساتھ ہی رسالت کی گواہی اور اس بات کا ذکر کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس خطبے کو تین آیتوں کے ساتھ ختم کیا، جن کے اندر اللہ عز و جل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ کے احکام کی تعمیل کی جائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔ وہ بھی، اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص یہ کام کر لے گا، اس کے نتیجے میں اس کے اقوال و اعمال درست ہو جائیں گے، اس کے گناہ مٹا دیے جائيں گے اور اسے دنیا میں خوش گوار زندگی اور آخرت میں جنت نصیب ہوگی۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عورت کی شادی صحیح ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ولی ہو، جو نکاح کرائے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس شخص کو بڑی سخت وعید سنا رہے ہیں، جس نے کسى ایسے کافر کو جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو قتل کیا۔ وعید یہ ہے کہ وہ جنت کی بو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت تک جاتی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو رشوت دیتے اور لیتے ہوں۔ اس کے اندر وہ چیزیں بھی شامل ہیں، جو قاضیوں کو ان فیصلوں کے بارے میں دی جاتی ہیں، جو ان کو کرنا ہوتا ہے اور جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دینے والا غلط طریقے سے اپنے حق میں فیصلہ دلوا لے۔