





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نےرسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین پر ہونے کی جھوٹی قسم قصداً کھائے، وہ ویسا ہی ہو جائے گا، جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ جو شخص خود کو دھار دار چیز سے ذبح کر لے، اسے جہنم میں اسی ہتھیار سے عذاب ہوتا رہے گا اور آدمی پر اس چیز کی نذر نہیں، جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مسلمان پر لعنت بھیجنا ،اس کا خون کرنے کے برابر ہے“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”جس نے (مال میں) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا“۔
متفق علیہثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ، جو ان صحابۂ کرام میں سے ہیں، جنھوں نے صلح حدیبیہ کے دن بیعت رضوان کے موقع پر درخت کے نیچے نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین و مذہب کی قسم کھاتے ہوئے یوں کہے:اگر اس نے اس طرح اور ایسے کیا تو وہ یہودی، نصرانی یا مجوسی ہوجائے گا یا کافر ہوجائے گا یا اللہ اور اس کے رسول سے بری و بیزار ہوجائے گا، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے، تو وہ انھی کافر ملتوں میں شمار کیا جائے گا، جن کی جانب اس نے خود کو منسوب کیا۔ جس نے تلوار یا چاقو یا پستول کی گولی جیسے دیگر کسی قتل کے اوزار سے خود کو قتل کرلیا، اس کو اسی اوزار سے قیامت تک عذاب دیا جائے گا۔ جو شخص کوئی ایسی نذر مانے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، جیسے کوئی یہ نذر مانے کہ وہ فلاں غلام کو آزاد کردے گا یا فلاں کے مال میں سے اتنا صدقہ و خیرات کرے گا، تو اس کی نذر بے کار و کالعدم ہوگی؛ کیوں کہ وہ نذر ،صحیح موقع و محل میں وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی۔ جو شخص کسی مومن پر لعنت کرے، تو گویا اس نے اس کو قتل کردیا؛ کیوں کہ لعنت کرنے والا اور قاتل دونوں، اللہ تعالیٰ کی قابل حرمت مخلوق کی پامالی کے مرتکب ہونے میں برابر کے شریک ہیں، اسی بنا پر دونوں کے حق میں ایک ہی طرح کا گناہ لکھا جائے گا اور دونوں ایک ہی طرح کے عذاب کے مستحق قرار پائیں گے۔ جو شخص اپنی بڑائی کے اظہار میں اور مال، علم، حسب و نسب،فضل و شرف، منصب و جاہ اوردیگر امور کی کثرت کے بارے میں ایسےجھوٹے دعوے کرے،جو حقیقت سے پرے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر چیز میں ذلت وخواری اور پستی کو زیادہ کردے گا؛ کیوں کہ اس شخص نے اپنی شخصیت کو ایسے امور کے ذریعے اونچاو بلند کرنا چاہا، جن کا اس میں وجود ہی نہیں۔ لہٰذا اس کو اسی قبیل سے تعلق رکھنے والی سزا دی جائے گی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مؤذّن کو (اذان دیتے ہوئے) سنو، تو ویسے ہی کہو، جیسے وہ کہتا ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اذان سنتے وقت مؤذن کا جواب دینے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ جواب میں ہمیں جملہ در جملہ وہی کچھ کہنا چاہیے، جو مؤذن کہتا ہو۔ جب وہ تکبیر کہے، تو ہم اس کے بعد تکبیر کہیں گے اور جب وہ دونوں گواہیاں پیش کرے، تو ہم اس کے بعد دونوں گواہیاں پیش کريں گے۔ لیکن "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کے الفاظ اس سے مستثنی ہیں۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہا جائے گا۔
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "انہیں رہنے دو۔ میں نے ان کے اندر اپنے پاؤں طہارت کی حالت میں داخل کیے تھے"۔ پھر آپ نے موزوں پر مسح فرمایا۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک سفر میں تھے۔ سفر کے دوران آپ نے وضو کیا۔ وضو کرتے ہوئے جب پاؤں دھونے کی باری آئی، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ کے موزوں کو اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تاکہ آپ اپنے پیروں کو دھو سکیں۔ ان کو ہاتھ بڑھاتے ہوئے دیکھ کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: انھیں رہنے دو۔ ان کو مت اتارو۔ کیوں کہ جب میں نے موزے پہنے تھے، اس وقت میں باوضو تھا۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پیروں کو دھونے کے بجائے ان پر مسح کیا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابو حبیش رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا : میں استحاضے کی شکار ہوں اور پاک نہیں ہو پاتی۔ کیا میں نماز چھوڑ سکتی ہوں؟ آپ نے جواب دیا : "نہیں، یہ ایک رگ سے نکلنے والا خون ہے۔ بس اتنے ہی دن نماز چھوڑو، جتنے دن اس سے پہلے حیض آیا کرتا تھا۔ پھر غسل کر لو اور نماز پڑھو۔"
متفق عليهفاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ ان کا خون بند نہيں ہوتا اور حیض کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی خون جاری رہتا ہے، تو کیا یہ خون حیض کا خون مانا جائے گا اور وہ نماز چھوڑ سکتی ہیں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ یہ حیض کا نہیں، بلکہ استحاضہ کا خون ہے۔ یہ رحم کی نس پھٹ جانے کی وجہ سے نکلتا ہے۔ لہذا جب حیض کے وہ دن آئيں، جن دنوں میں تم کو استحاضہ کی شکار ہونے سے پہلے حسب معمول خون آیا کرتا تھا، تو نماز اور روزہ وغیرہ وہ چیزیں چھوڑ دو، جو حیض کے دنوں میں منع ہیں۔ پھر جب حیض کی مدت کے برابر وقت گزر جائے، تو تم حیض سے پاک ہو گئی۔ اس لیے خون کی جگہ کو دھو ڈالو اور مکمل طریقے سے حیض سے پاکی کا غسل کر لو اور پھر نماز پڑھو۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"
متفق عليهیہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مصلیوں کو اس بات کا حکم دے رہے ہيں کہ صفیں برابر کر لیا کریں۔ کوئی کسی سے آگے رہے، نہ پیچھے۔ صفوں کو برابر کرنا نماز کو کامل بنانے والی چيزوں میں سے ہے اور ان کا ٹیڑھى رہ جانا نماز میں نقص اور خلل کا باعث ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی وضو کرے، تو اپنی ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑے، اور جو ڈھیلوں سے اسنتجا کرے، وہ طاق عدد میں ڈھیلے استعمال کرے۔ اور جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھوں کو وضو کے پانی میں ڈالنے سے پہلے دھو لے، کیوں کہ تم میں سے کسی کو نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے؟" صحیح مسلم کے الفاظ ہيں : "جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے، تو اپنے ہاتھ کو برتن میں اس وقت تک نہ ڈبوئے، جب تک اسے تین بار نہ دھو لے۔ کیوں کہ اسے نہیں پتہ کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں کہاں گیا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طہارت کے بعض احکام بیان کیے ہیں۔ جیسے : 1- وضو کرنے والا اپنی ناک میں سانس کے ساتھ پانی اندر داخل کرے اور پھر سانس کے ساتھ ہی اسے باہر نکال دے۔ 2- جو شخص پیشاب پاخانے کے بعد پانی کی بجائے کسی اور چیز، جیسے پتھر اور ڈھیلوں وغیرہ کے ذریعے گندگی کو صاف کرنا چاہے، وہ پتھر اور ڈھیلوں کا استعمال طاق عدد میں کرے۔ کم سے کم تعداد تین ہو اور زیادہ سے زیادہ اتنی، جس سے پیشاب پاخانہ وغیرہ نکلنا بند ہو جائے اور نکلنے کی جگہ صاف ہو جائے۔ 3- جو شخص رات کے وقت سوکر اٹھے، وہ وضو کے لیے اپنا ہاتھ برتن کے اندر اس وقت تک نہ ڈالے، جب تک اسے برتن سے باہر تین بار دھو نہ لے۔ کیوں کہ اسے نہیں پتہ کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں گیا ہوگا۔ ایسے میں اس کے گندہ ہونے کا امکان رہتا ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ کے ساتھ شیطان نے کھیلا ہو اور اس میں کوئی ایسی چیز لگا دی ہو، جو انسان کے لیے نقصان دہ اور پانی کو گندہ کرنے والی ہو۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دنیا شیریں اورسرسبز وشاداب ہے اور اللہ اس میں تمہیں یکے بعد دیگرے بھیجنے والا ہے اور وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ لہذا دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں رونما ہونے والا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ دنیا چکھنے میں میٹھی اور دیکھنے میں سرسبز و شاداب ہے، اس لیے انسان اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے، اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور اسے اپنا سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے۔ جب کہ اللہ نے اس دنیوی زندگی میں ہمیں ایک دوسرے کا جانشیں بنا دیا ہے، تاکہ یہ دیکھے کہ ہمارا عمل کیسا رہتا ہے؟ ہم اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارتے ہیں یا اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہيں؟ اس کے بعد آپ نے بتایا : اس بات سے خبردار رہنا کہ دنیا کے ساز و سامان اور چمک دمک تم کو دھوکے میں ڈال دیں اور اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں میں ملوث ہونے پر آمادہ کر لیں۔ دنیا کے جن فتنوں سے سب سے زیادہ بچنا ضروری ہے، ان میں سے ایک فتنہ عورتوں کا فتنہ ہے۔ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں سے ہی متعلق تھا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں۔ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں، دو رکعت عشا کے بعد گھر میں اور دو رکعت صبح کی نماز سے پہلے۔ دراصل یہ ایسا وقت تھا، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں کوئی جاتا نہيں تھا۔ مجھے حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب مؤذن اذان دیتا اور فجر طلوع ہو جاتا، تو آپ دو رکعت پڑھتے۔ جب کہ ایک روایت کے الفاظ ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
متفق عليه بجميع رواياتهعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے نوافل کی دس رکعتیں محفوظ کی ہیں، جنھیں سنن رواتب کہا جاتا ہے۔ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد۔ دو رکعت مغرب کے بعد گھر میں۔ دو رکعت عشا کے بعد گھر میں۔ دو رکعت فجر سے پہلے۔ اس طرح کل دس رکعتیں ہوئیں۔ رہی بات جمعے کی نماز کی، تو اس کے بعد آپ دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات کى نیند سے بیدار ہوتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسواک کا بڑا اہتمام کرتے اور اس کا حکم دیا کرتے تھے۔ کچھ اوقات میں مسواک کا تاکیدی حکم ہے۔ جیسے رات کى نیند سے اٹھتے وقت مسواک کرنا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سوکر اٹھتے، تو اپنے منہ کو مسواک سے رگڑ کر صاف کرتے تھے۔