Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے، کیونکہ اسلام کا رشتہ سب سے قوی اور مضبوط ترین رشتہ ہے۔ لہذا، اگر نسبی قرابت داروں کے بیچ یہ مقدس رشتہ مفقود ہو، تو سارے رشتے ناتے بے معنی ہو جاتے ہیں اور قرابت کے رشتے کی قوت غیر مؤثر ہو جاتی ہے، اس لیے ایک دوسرے کے وارث بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جس کی بنیاد مدد اور باہمی تعاون پر رکھی گئی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اعمال کی چھ قسمیں ہیں اور لوگوں کی چار۔ چھ قسم کے اعمال یہ ہیں: پہلی قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ دوسری قسم: جو شخص اس حال میں وفات پائے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو تو اس پر جہنم واجب ہوجاتی ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ یہ دونوں عمل واجب کردینے والے ہیں۔ تیسری قسم: نیت پر مبنی نیکی۔ جو شخص کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اپنی نیت میں سچا ہو، یہاں تک کہ اپنے دل میں اس نیت کو محسوس کرنے لگے اور اللہ تعالی اس کی اس نیت کو دیکھ لے۔ پھر کسی پیش آمدہ سبب کی بنا پر وہ اس نیکی کو انجام دینے سے قاصر رہے، تو اس کے حق میں پورے طور پر وہ نیکی لکھ دی جاتی ہے- چوتھی قسم: انجام کردہ گناہ۔ جو شخص کوئی برائی کرے تو اس کے حق میں ایک برائی لکھ دی جاتی ہے۔ ان دونوں عمل کا بدلہ ان کے برابر ملتا ہے۔ بغیر کسی اضافہ کے۔ پانچویں قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ دس گنا ملتا ہے۔ یہ اس شخص کے حق میں ہوتا ہے جو کسی نیکی کا ارادہ کرے اور اسے انجام بھی دے دے۔ اس کے حق میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ چھٹی قسم: ایسی نیکی جس کا بدلہ سات سو گنا ملتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں کوئی مال خرچ کرے، تو اس کے حق میں اس نیکی کے بدلے سات سو گنا اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ یہ بندوں پر اللہ تبارک وتعالی کا خاص فضل واحسان ہے۔ جہاں تک لوگوں کی چار قسموں کی بات ہے، تو وہ یہ ہیں: پہلی قسم: وہ شخص جسے دنیا میں کشادہ رزق ملتا ہے۔ چنانچہ وہ دنیا کے اندر ناز ونعم کی زندگی گزارتا ہے اور اپنی ساری خواہشات پوری کرتا ہے، لیکن آخرت میں اسے تنگی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اس سے مال دار کافر مراد ہے۔ دوسری قسم: وہ شخص جسے دنیا میں رزق کی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن آخرت میں اسے فراخی ہی فراخی ملے گی اور اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ اس سے مراد فقیر مؤمن ہے۔ تیسری قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ تنگی ہی تنگی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد فقیر کافر ہے۔ چوتھی قسم: وہ شخص جسے دنیا وآخرت ہر جگہ فراخی ہی فراخی نصیب ہوتی ہے۔ اس سے مراد مال دار مؤمن ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالی کو یہ پسند ہے کہ اس نے جو رخصتیں مشروع کی ہیں، ان پر عمل کیا جائے۔ یعنی جن احکام و عبادات میں عذر کی بنا پر بندۂ مکلف کے لیے اس نے تخفیف اور آسانی کی ہے، اس کو برتا جائے- جیسے سفر کی حالت میں قصر اور جمع کے ساتھ نماز ادا کرنا- بالکل اسی طرح جس طرح اسے یہ محبوب ہے کہ اس کے مشروع کردہ واجب احکام واوامر پر عمل کیا جائے، کیوں کہ رخصت اور عزیمت ہر ایک میں اللہ کا حکم یکساں ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے، چاہے وضو نہ بھی ٹوٹے۔ ایسا آپ اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے کرتے تھے۔ انسان جب تک باوضو رہے، ایک ہی وضو سے ایک سے زیادہ نمازیں پڑھ سکتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کبھی کبھی وضو کرتے وقت وضو کے سارے اعضا کو ایک ایک بار ہی دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک ہی بار چہرہ دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو بھی ایک ایک بار ہی دھوتے۔ دراصل واجب ایک بار دھونا ہی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم وضو کرتے وقت کبھی کبھی وضو کے اعضا کو دو دو بار دھویا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنے چہرے کو دو بار دھوتے (جس میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر ناک جھاڑنا بھی شامل ہے) اور اپنے ہاتھوں اور پیروں کو بھی دو دو بار دھوتے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب نمازی کے پیٹ میں کوئی چیز ادھر سے ادھر آئے جائے اور اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو کہ پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں، تو نماز توڑ کر دوبارہ وضو کرنے کے لیے اس وقت تک باہر نہ نکلے، جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹ ہی گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ ریح خارج ہونے کی آواز سن لے یا اس کی بدبو محسوس ہونے لگے۔ کیوں کہ یقین شک کی بنیاد پر زائل نہيں ہوتا اور یہاں طہارت کا ہونا ایک یقینی امر ہے، جب کہ وضو ٹوٹا ہے یا نہیں، اس بات میں شک ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ہر بالغ و عاقل مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ طہارت و نظافت حاصل کرنے کے لیے ہر ہفتہ سات دنوں میں ایک دن غسل کرے۔ اس دن وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ان سات دنوں میں سب سے بہتر دن جمعہ کا دن ہے، جیسا کہ بعض روایتوں سے سمجھ میں آتا ہے۔ جمعہ کے دن جمعے کی نماز سے پہلے غسل کرنا بالتاکید مستحب ہے۔ کسی نے جمعرات کے دن غسل کر لیا ہو، تب بھی یہ استحباب برقرار رہے گا۔ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب نہیں ہے، اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ہے : "لوگ اپنے گھر کے کام کاج خود ہی کرتے تھے اور جب جمعہ کی نماز کے لیے جاتے، تو اسی حالت میں چلے چاتے تھے۔ لہذا ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو، تو بہتر ہے۔" اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے : "ان سے بدبو آتی تھی۔" یعنی پسینے وغیرہ کی بدبو۔ لیکن اس کے باجود یہ کہنا کہ اگر غسل کر لیا کرو، تو بہتر ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ جب بدبو نہ آئے، تو غسل کرنے کی اور بھی ضرورت نہیں ہے۔
قیس بن عاصم اسلام قبول کرنے کے ارادے سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے، تو آپ نے ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا، کیوں کہ بیری کے پتوں کا استعمال صفائی کے لیے ہوتا ہے اور اس سے اچھی بو بھی آتی ہے۔