





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر نَو کا ارداہ کیا، تو لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس (مسجد) کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیا جائے۔ توعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جو اللہ کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔"
متفق عليهعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہتر انداز میں مسجد نبوی کی تعمیر نو کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے ان کے اس ارادے کو ناپسند کیا۔ کیوں کہ اس سے مسجد نبوی اپنی اس شکل میں قائم نہ رہ پاتی، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں موجود تھی۔ آپ کے زمانے میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی۔ اب عثمان رضی اللہ عنہ اس کی تعمیر پتھر اور چونے سے کرنا چاہتے تھے۔ لوگوں کی ناپسندیدگی دیکھ کر عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جس نے ریا و نمود اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک ہوکر اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایک مسجد بنائی، اللہ تعالی اسے اسی نوعیت کا بہترین بدلہ عطا کرتے ہوئے اس کے لیے جنت میں اسی جیسا ایک گھر بنائے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "میری اس مسجد میں پڑھی گئی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مسجدوں میں پڑھی گئی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ اس میں پڑھی گئی ایک نماز مسجد حرام کو چھوڑ کر دیگر مسجدوں میں پڑھی گئی ایک ہزار نماز سے بہتر ثواب کى حامل ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ مکہ میں واقع مسجد حرام میں پڑھی گئی نماز مسجد نبوی سے بھی افضل ہے۔
ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ جو شخص کسی بھی وقت اور کسی بھی مقصد سے مسجد میں داخل ہو، وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔ ان دو رکعتوں کو تحیۃ المسجد کہا جاتا ہے۔
ابو حُمَید یا ابو اُسَید سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی امت کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتِكَ"۔ دراصل اس کے ذریعے وہ اللہ سے اپنی رحمت کے اسباب مہیا کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اسی طرح آپ نے تعلیم دی ہے کہ مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: "اللَّهُمَّ إني أَسْأَلُك مِن فَضْلِكَ" اور اس کے ذریعے اللہ سے اس کا فضل اور روز افزوں احسان، جیسے حلال روزی وغیرہ مانگے۔
سالم بن ابو جعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو صحابہ نے ایک طرح سے ان کی بات کو برا جانا۔ لہذا اس نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اے بلال! نماز قائم کرو، اس کے ذریعے مجھے راحت پہنچاؤ۔"
رواه أبو داودایک صحابی نے کہا : کاش میں نماز پڑھتا اور راحت حاصل کرتا، تو ان کے آس پاس کے لوگوں نے ایک طرح سے ان کی اس بات کو برا جانا، لہذا انھوں نے بتایا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: اے بلال! نماز کے لیے اذان دو اور جماعت کھڑی کرو، تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ ایسا اس لیے کہ نماز میں اللہ سے سرگوشیاں ہوتی ہیں اور اس سے قلب و روح کو راحت ملتی ہے۔
ابو حازم بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کے درمیان اس بات کے سلسلہ میں بحث ہو گئی تھی کہ اللہ ﷺ کا منبر کس لکڑی سے تیار ہوا تھا؟ انہوں نے اس کی بابت حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں خوب جانتا ہوں کہ وہ کس لکڑی سے تیار ہوا تھا۔ میں نے اسے پہلے دن بھی دیکھا جب اسے تیار کر کے رکھا گیا تھا اور اس وقت بھی دیکھا جب اس پر پہلے دن رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری عورت کو، جس کا نام سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، یہ کہلا بھیجا: ’’تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنا دے، تاکہ میں جب لوگوں سے مخاطب ہوں، تو اس پر بیٹھا کروں۔‘‘ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام کو یہ حکم دیا، تو وہ جنگل کے جھاؤ درخت سے (منبر) تیار کر کے اس کے پاس حاضر کر دیا اور اس نے اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے یہاں رکھ دیا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھنا شروع کیا۔ تکبیر تحریمہ اس کے اوپر کہی، پھر آپ نے رکوع بھی اسی کے اوپر کیا، پھر پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے اتر آئے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا۔ پھر واپس منبر پر آ گئے۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’لوگو! میں نے یہ سب کچھ اس لیے کیا، تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھ لو۔‘‘
متفق عليهایک شخص ایک صحابی کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جو منبر بنوایا تھا، وہ کس لکڑی کا تھا؟ دراصل ان کے بیچ اس سلسلے میں بحث ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس صحابی نے بتایا کہ آپ نے ایک انصاری عورت کو، جس کے پاس ایک بڑھئی غلام تھا، کہلا بھیجا کہ اپنے غلام سے کہو کہ میرے لیے ایک منبر بنا دے، جس پر بیٹھ کر میں لوگوں سے بات کر سکوں۔ چنانچہ اس عورت نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے غلام کو آپ کے لیے جھاؤ درخت کی لکڑی کا ایک منبر بنانے کا حکم دیا۔ جب منبر بن کر تیار ہو گیا، تو اس عورت نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیج دیا۔ پھر آپ کے حکم سے اسے مسجد کے اندر اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔ تکبیر اسی پر کھڑے ہوکر کہی، پھر رکوع اسی پر کھڑے ہوکر کیا، پھر منبر سے اتر کر چہرہ گھمائے بغیر کچھ پیجھے ہٹے، منبر کے پاس سجدہ کیا اور پھر منبر پر آ گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگو! میں نے ایسا اس لیے کیا، تاکہ تم میرا اتباع کر سکو اور میری نماز سیکھ سکو۔
حِطَّان بن عبداللہ رَقَّاشی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے ایک بار ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب وہ قعدہ میں تھے، تو پیچھے نماز پڑھ رہے ایک شض نے کہا : نماز کو بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ ملاکر بیان کیا گيا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ جب ابو موسی رضی اللہ عنہ کی نماز پوری ہو گئی اور سلام پھیر چکے، تو لوگوں کی جانب منہ کر کے بیٹھ گئے اور فرمایا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ جب کسی نے جواب نہيں دیا، تو انھوں نے پھر پوچھا: تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے؟ پھر جب کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو فرمایا : اے حطان! شاید یہ بات تم نے کہی ہے! انہوں نے کہا: میں نے نہیں کہی ہے‘ ویسے مجھے اس بات کا ڈر بھی تھا کہ اس کی وجہ سے آپ مجھے ہی ڈانٹیں گے۔ لیکن اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک شخص نے کہا: یہ بات میں نے کہی ہے اور میرا ارادہ اچھا ہی تھا۔ اس کی بات سننے کے بعد ابو موسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمھیں نماز میں کیسے کیا کہنا ہے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں مخاطب کیا اور ہمیں ہماری نماز بتائی اور ہماری سنت سکھائی۔ آپ نے فرمایا: "جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست کر لو۔ پھر تم میں سے ایک شخص تمھارا امام بن کر نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر کہے، تو تم تکبیر کہو اور جب وہ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} [سورہ فاتحہ : 7] کہے، تو تم آمین کہو، اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب وہ تکبیر کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع کرو۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔" اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے رکوع میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب امام "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے، تو تم "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ" کہو، اللہ تمھاری دعا سن لے گا۔ اور جب وہ تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدے میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے سجدے میں جائے گا اور تم سے پہلے اٹھے گا۔" اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے سجدے میں جانے میں جو لمحے بھر کی دیر ہوگی، وہ سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی۔ اور جب جلسے میں بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"۔
رواه مسلمصحابی ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک نماز پڑھی۔ دوران نماز جب وہ اس قعدہ میں تھے، جس میں تشہد پڑھا جاتا ہے، تو پیچھے نماز پڑھ رہے ایک شخص نے کہا کہ قرآن میں نماز کا ذکر بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ لہذا جب نماز ختم ہو گئی، تو وہ لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ان سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے کہا ہے کہ قرآن میں نماز کا ذکر بھلائی اور زکوۃ کے ساتھ کیا گیا ہے؟ جب سب لوگ خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو دوبارہ سوال کیا۔ لیکن جب پھر بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے حطان سے کہا کہ اے حطان! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے؟ دراصل انھوں نے حطان سے یہ بات اس لیے کہی کہ وہ ایک دلیر انسان تھے، ان سے ان کے گہرے تعلقات اور بڑی قربت تھی، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان نہيں تھا کہ وہ اس الزام سے اذیت محسوس کرتے۔ ساتھ ہی پیش نظر یہ بات بھی تھی کہ دوران نماز گفتگو کرنے والا سامنے آکر اعتراف کر لے۔ چنانچہ حطان نے یہ صاف کر دیا کہ یہ بات انھوں نے نہیں کہی ہے اور بتایا کہ مجھے پہلے ہی سے اس بات کا ڈر تھا کہ آپ یہ سمجھ کر مجھ ہی کو ڈانٹیں گے کہ یہ بات میں نے کہی ہے۔ اتنا سننے کے بعد وہاں موجود ایک شخص نے کہا کہ یہ بات میں نے کہی ہے اور میرا مقصد کچھ برا نہیں تھا۔ لہذا ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اسے تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم نہيں جانتے کہ تمھیں اپنی نماز میں کیا کچھ کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے؟ یہ دراصل ایک طرح سے اس کی تردید تھی۔ پھر ابو موسی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان سے مخاطب ہوئے اور ان کو ان کی شریعت اور نماز سکھائی۔ اس دوران آپ نے فرمایا : جب تم نماز پڑھو، تو اپنی صفیں درست اور سیدھی کر لیا کرو۔ پھر ایک شخص امام بن کر لوگوں کو نماز پڑھائے۔ چنانچہ جب امام تکبیر احرام کہے، تو تم بھی اسی کی طرح تکبیر احرام کہو اور جب وہ سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} [سورہ فاتحہ : 7] تک پہنچے، تو تم آمین کہو۔ جب تم ایسا کروگے، تو اللہ تمھاری دعا قبول کرے گا۔ پھر جب امام تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، تو تم بھی تکبیر کہو اور رکوع میں جاؤ۔ امام تم سے پہلے رکوع میں جائے گا اور تم سے پہلے رکوع سے اٹھے گا۔ لہذا تم اس سے آگے نہ بڑھو۔ اس دوران تمھارے رکوع میں جانے میں جو ایک لمحے کی دیر ہوگی، وہ تمھارے رکوع سے اٹھنے میں ہونے والی ایک لمحے کی دیر سے پوری ہو جائے گی اور اس طرح تمھارے رکوع کی لمبائی امام کے رکوع کے لمبائی کے برابر ہو جائے گی۔ پھر جب امام "سمع الله لمن حمده" کہے، تو تم "اللهم ربنا لك الحمد" کہو۔ جب نمازی ایسا کہتے ہیں، تو اللہ ان کی دعا اور قول کو قبول فرماتا ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی کہا ہے کہ اللہ نے اس کی سن لی، جس نے اس کی تعریف کی۔ پھر جب امام تکبیر کہے اور سجدے میں جائے، تو مقتدیوں کو بھی تکبیر کہنا اور سجدے میں جانا ہے۔ یہاں اس بات کا دھیان رہے کہ امام مقتدیوں سے پہلے سجدے میں جائے گا اور ان سے پہلے سجدے سے اٹھے گا۔ اس طرح ان کے سجدے میں جانے میں جو ایک لمحے کی دیر ہوگی، وہ ان کے سجدے سے اٹھنے میں ہونے والی لمحے بھر کی دیر سے پوری ہو جائے گی اور اس طرح ان کے سجدے کی لمبائی امام کے سجدے کے برابر ہو جائے گی۔ پھر جب تشہد کے لیے بیٹھے، تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھے : "التحيات الطيبات الصلوات لله" ملک، بقا اور عظمت یہ ساری چیزیں اللہ کے لیے ہیں۔ اسی طرح پانچوں نمازیں بھی اللہ کے لیے ہیں۔ "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" اس لیے اللہ سے ہر عیب، آفت، نقص اور فساد سے سلامتی مانگو۔ ہم اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو خاص طور سے سلام بھیجتے ہیں، پھر اپنے آپ کو سلام بھیجتے ہیں، پھر اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے اللہ کے نیک بندوں کو سلام بھیجتے ہیں، پھر اس بات کی گواہی دیتے ہيں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے۔ خواہ وہ نماز فرض ہو یا نفل۔ ماہ رمضان میں بھی اور دیگر مہینوں میں بھی۔ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب رکوع کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر (رکوع سے اٹھتے وقت) سمع الله لمن حمده کہتے۔ بعد ازاں سجدہ کرنے سے پہلے ربنا ولك الحمد کہتے۔ اس کے بعد جب سجدے کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ اس کے بعد (دوسرا) سجدہ کرتے تو بھی اللہ أکبر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے۔ پھر جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے، تو بھی اللہ اکبر کہتے۔ الغرض ہر رکعت میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ جب اپنی نماز ختم کر لیتے تو فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا میں تم سب کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔ بےشک یہی آپ کی نماز ہوتی تھی تا آں کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
متفق عليهابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کے طریقے کا ایک حصہ روایت کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر احرام کہتے، پھر رکوع میں جاتے وقت، سجدہ کرتے وقت، سجدے سے سر اٹھاتے وقت، دوسرے سجدے میں جاتے وقت، دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے وقت اور تین یا چار رکعت والی نمازوں میں پہلے تشہد میں بیٹھنے کے بعد پہلی دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے وقت اللہ اکبر کہتے اور پھر آخر تک پوری نماز میں ایسا ہی کرتے۔ جب کہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت "سمع الله لمن حمده" کہتے اور اس کے بعد کھڑے ہوکر "ربنا لك الحمد" کہتے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پوری کرنے کے بعد کہتے : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے زیادہ ملتی جلتی نماز پڑھنے والا شخص ہوں۔ آپ دنیا سے رخصت ہونے تک ایسے ہی نماز پڑھتے رہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔" کسی صحابی نے پوچھا کہ نماز میں چوری کرنے کا کیا مطلب ہے، تو آپ نے جواب دیا : "نماز میں چوری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی رکوع اور سجدہ مکمل طور پر ادا نہ کرے۔"
رواه ابن حباناللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برا چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہو۔ ایسا اس لیے کہ دوسرے کا مال چرانے سے ہو سکتا ہے کہ انسان کو دنیوی فائدہ ہو جائے، لیکن نماز میں چوری کرنے والا خود اپنے حق کی نیکی اور ثواب چراتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! نماز میں چـوری کرنے کا مطلب کیا ہے، تو آپ نے جواب دیا : اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان مکمل طور پر رکوع اور سجدہ نہ کرے۔ یعنی جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کر لے اور مکمل طور پر ان کو ادا نہ کرے۔