Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نماز میں رکوع سے سر اٹھاتے، تو فرماتے : "سمع الله لِمَن حمده"۔ یعنی جس نے اللہ کی تعریف کی، اللہ اس کی تعریف کو قبول کرتا ہے اور اسے ثواب عطا کرتا ہے۔ اس کے بعد ان الفاظ میں اللہ تعالی کی تعریف کرتے : "اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ۔" یعنی اللہ کی تعریف ہے آسمانوں کی وسعتوں کے برابر، زمین کی وسعتوں کے برابر، ان دونوں کے بیچ کی وسعتوں کے برابر اور ان تمام چیزوں کی وسعتوں کے برابر جو اللہ چاہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ". (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کی بادشاہت اور اسی کی تعریف ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تو جو کچھ دے، اسے کوئی روکنے والا نہيں ہے اور تو جو روک لے، اسے کوئی دینے والا نہیں ہے۔ کسی صاحب دولت کی دولت تیرے خلاف اس کے کچھ کام نہیں آ سکتی۔) یعنی میں کلمۂ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار و اعتراف کرتا ہوں۔ برحق عبادت کو اللہ کے لیے ثابت کرتا ہوں اور کسی دوسرے کے لیے اس کی نفی کرتا ہوں۔ کیوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حقیقی اور مکمل بادشاہت اللہ کی ہے اور آسمان و زمین والوں کی ساری تعریف کا حق دار محض اللہ ہے۔ کیوں کہ وہی ہر بات کی قدرت رکھتا ہے۔ وہ کسی کو کچھ دے یا کسی سے کچھ روک لے، تو اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا۔ اس کے دربار میں کسی صاحب دولت کی دولت و ثروت اس کے کچھ کام نہيں آ سکتی۔ اس کے کام بس اس کی نیکیاں ہی آسکتی ہیں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ عليه وسلم دو سجدوں کے بیچ کے جلسے میں یہ دعا پڑھتے اور اسے بار بار دہراتے تھے : "رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي"۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے۔ اے میرے رب! مجھے بخش دے۔) دراصل اس دعا کے ذریعے بندہ اپنے رب سے اس بات کی درخواست کرتا ہے کہ وه اس کے گناہ بخش دے اور اس کے عیوب پر پردہ ڈال دے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ انسان کی موت کے ساتھ اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اسے موت کے بعد ثواب بس تین چیزوں کا ملتا ہے، کیوں کہ ان کا سبب وہ خود ہوتا ہے۔ یہ تین چيزیں درج ذیل ہيں: 1- ایسا صدقہ جس کا ثواب مسلسل اور ہمیشہ جارى رہے کبھی بند نہ ہو۔ جیسے وقف، مسجد کی تعمیر اور کنواں کھدوانا وغیرہ۔ 2- ایسا علم جس سے لوگ بہرہ ور ہوتے رہیں۔ جیسے علمی کتابوں کی تصنیف اور کسی شخص کو تعلیم سے آراستہ کرنا، جو اس کی موت کے بعد بھی علم کی نشر و اشاعت کا کام کرتا رہے۔ 3- مومن اور صالح اولاد، جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتے رہیں۔
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ فوت ہو گئيں، تو انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کی جانب سے کون سا صدقہ سب سے اچھا رہے گا؟ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ سب سے افضل صدقہ پانی کا انتظام ہے۔ لہذا انھوں نے ایک کنواں کھدوا دیا اور اسے اپنی والدہ کے لیے صدقہ کر دیا۔
نبی ﷺ نے اس بات کی رغبت دلائی ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ہدیوں کا تبادلہ کریں، کیونکہ ہدیہ محبت اور قلبی الفت کا سبب بنتا ہے۔
نبی ﷺ کی بیٹی زینب کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ ان عورتوں کے پاس تشریف لائے جو انھیں غسل دینے والی تھیں اور ان سے فرمایا: انھیں بیری کے پتے اور پانی سے تین یا پانچ مرتبہ یا اگر ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اور آخری غسل میں کچھ کافور ملا دینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا۔ جب وہ خواتین ان کو غسل دے چکیں تو انہوں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے اپنا تہ بند (ازار) غسل دینے والیوں کو دیا اور فرمایا: ان کو اس میں لپیٹ دو اور اسے اس کے جسم سے متصل پہلا کپڑا بناؤ۔ پھر ان کے سر کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دی گئیں۔
مسلمانوں کی حفاظت کی غرض سے ایک دن رات کی پہرے داری کرنا ایک ماہ کے روزوں اور اس کی راتوں کو عبادت کی غرض سے قیام کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ جب مجاہد شہید ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا اجر لکھا جاتا رہتا ہے اور وہ منقطع نہیں ہوتا۔ اسی طرح اسے جنت سے رزق بھی دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہوتا ہے اور اسے یہ عزت و شرف ملتا ہے کہ اس کے پاس فرشتے سوال و جواب کے لیے نہیں آتے۔ کیونکہ اس کی موت اللہ کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے آتی ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ سرحدوں پر پہرہ دینا جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے کیونکہ اس سے مراد مسلمانوں کی کفار سے حفاظت کی غرض سے سرحدوں پر جمے رہنا ہے۔
جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع سے لوٹے، تو ایک انصاری خاتون سے، جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حج نہیں کیا تھا، فرمایا : تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چيز نے روکا؟ اس نے عذر پیش کرتے ہوئے جواب دیا کہ اس کے گھر میں دو ہی اونٹ ہیں۔ ایک پر سوار ہو کر اس کے شوہر اور بیٹے نے حج کیا، جب کہ دوسرا کنویں سے پانی لانے کے لیے گھر پر چھوڑ گیا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بتایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے۔