





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
فضالہ بن عبید، سلمان فارسی اور عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کا عمل اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں سرحد پر پہرہ دیتا ہے۔ یقیناً اس کا عمل تاروز قیامت بڑھایا جاتا رہتا ہے اور قبر کی آزمائش سے بھی اس کو محفوظ رکھا جاتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ہر مرنے والے کا عمل موت کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے اور اس کے لئے مزید اجر نہیں لکھا جاتا ما سوا اس کے جو اللہ کے راستے میں سرحد پر مقیم ہوتا ہے اور مسلمانوں کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے یہ اعزاز دیتا ہے کہ اس کے عمل کا اجر جاری رہتا ہے اور وہ فتنہ قبر سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ فرشتے اس سے سوال نہیں کرتے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو سب سے افضل عمل سمجھتے ہیں، لہذا کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : "نہیں، لیکن (تمہارے لیے) سب سے افضل جہاد حج مقبول ہے۔“
رواه البخاريصحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور دشمنوں سے جنگ لڑنے کو افضل ترین اعمال میں شمار کرتے تھے۔ لہذا عائشہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جہاد میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ تو آپ نے ان کی رہنمائی ان کے حق میں افضل ترین جہاد یعنی حج مبرور کی جانب کر دی جو کتاب و سنت کے مطابق ادا کیا گیا ہو اور گناہ و ریاکاری سے محفوظ ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے (پھر) اس سے منہ پھیر لیا، حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تم پاگل ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور سنگ سار کردو۔ ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی، جنھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”میں ان لوگوں میں شامل تھا، جنھوں نے اسے رجم کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں سنگ سار کیا۔ پس جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ گیا، ہم نے اسے میدان حَرۃ میں پایا اور سنگ سار کردیا“۔
متفق علیہماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے۔ انہوں نے آپ کو آواز دی اور زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا۔ شاید آپ کا مقصد یہ تھا کہ وہ واپس لوٹ جائیں اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں مخفی اس امر سے توبہ کرلیں، لیکن وہ اپنے گناہ سے سخت نالاں تھے اور حد رجم کے ذریعے خود کو پاک و صاف کرانے کا پختہ عزم لیے حاضر ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ دوبارہ آپ کے روبرو آئے اور پھر زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، تاآں کہ انھوں نے چار مرتبہ ارتکاب زنا کا اعتراف کیا۔ اس مرتبہ آپ ﷺ اس معاملے کی تحقیق کے لیے متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ تمھیں پاگل پن کی بیماری تو نہیں؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے گھر والوں سے ان کی عقل کے بارے میں دریافت فرمایا، تو انھوں نے ان کی عقل کو درست قرار دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آیا وہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ کہ وہ رجم کے حق دار نہیں ہوتے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ شاید انھوں نے چھونے یا بوس و کنار کرنے جیسی حرکات کی ہوں کہ جس سے حد رجم واجب نہیں ہوتی، تاہم انھوں نے واقعتا زنا کے ارتکاب کی وضاحت کر دی۔ جب نبی ﷺ نے ہر اعتبار سے معاملے کی چھان بین فرمالی اور حد رجم کے نفاذ کا وجوب ثابت ہوگیا، تو اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ انھیں لے جاکر سنگ سار کردیں۔ چنانچہ صحابۂ کرام، انھیں لے کر بقیع غرقد کی جانب نکلے -یہ نماز جنازہ کی جگہ تھی- اور انھیں رجم کرنا شروع کیا۔ جب انھیں پتھروں کی شدت محسوس ہوئی، تو اس سے بچنا چاہا اور موت سے بھاگنے کی آرزو کی؛ کیوں کہ انسانی نفس اس سزا کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ بھاگ پڑے۔ صحابہ نے انھیں مقام حرۃ (مدینے میں واقع کثرت سے پائے جانے والےسیاہ پتھروں کی سرزمین) پر آلیا اور مارنے لگے، یہاں تک کہ ان کی موت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور ان سے راضی ہو۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ (روز قیامت) اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلان بن فلاں کی عہد شکنی (کا نشان) ہے۔“
متفق علیہجب روز قیامت اللہ اگلے اور پچھلے سب لوگوں کو جمع کرے گا تو ہر عہد شکن کو لایا جائے گا جس کے ساتھ اس کی عہدشکنی کی نشانی کے طور پر ایک جھنڈا ہو گا، جس سے وہ لوگوں میں رسوا ہوگا۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ نے مانی تھی اور اس کے پورا کرنے سے پہلے ہی وہ وفات پا گئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کی طرف سے اسے پورا کرو۔
متفق علیہسعد رضی اللہ عنہ کی ماں وفات پا گئیں اور اپنے ذمہ واجب ایک نذر کو پورا نہ کر سکیں۔ ان کے بیٹے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اپنی والدہ کی طرف سے اس نذر کو پوری کرنے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ: اپنی والدہ کی طرف سے اسے پوری کرو۔
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سفر میں مشرکین کا کوئی جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور صحابہ کے ساتھ بیٹھ کر بات کرتا رہا، پھر خاموشی سے کھسک گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے ڈھونڈو اور قتل کر ڈالو“۔ میں نے اسے قتل کر دیا، تو آپ ﷺ نے اس کا سامان مجھے بطور نفل (انعام) عنایت فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے پوچھا: ”اس کو کس نے قتل کیا ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ ابن اکوع نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا سارا سامان ابن اکوع کا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاس حدیث میں ایسے کافر حربی شخص کے متعلق اسلام کا قانون بتایا جا رہا ہے، جو مسلمانوں کی جاسوسی کرتا ہو۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا۔ "العین" یعنی جاسوس۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ وہ آنکھ ہی سے کام کرتا ہے یا دیکھنے میں اس قدر منہمک رہتا ہے کہ سراپا آنکھ بن جاتا ہے۔ اس وقت آپﷺ سفر پر تھے۔ چنانچہ جاسوس صحابہ کے درمیان بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ پھر وہاں سے کھسک گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو اور قتل کر دو۔ چنانچہ میں نے اسے تلاش کر کے پکڑ لیا اور قتل کر دیا۔ آپ نے مجھے اس کا سامان بطور نفل دے دیا۔ نفل وہ غنیمت کا وہ مال ہے، جو کسی مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے۔ "سلب" یعنی اس کے کپڑے اور ہتھیار وغیرہ۔ انھیں "سلب" اس لیے کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ انھیں چھینا جاتا ہے۔ "سلب" میں سواری، اس کا زین، ہتھیار، چوپایے پر موجود مال اور ان کے ساتھ موجود سونا چاندی وغیرہ سب شامل ہیں۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے، جنازے کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب میں ”يرحمك الله“ کہنے، قسم (یا قسم کھانے والے کی قسم) كو پورا کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام پھیلانے کا حکم فرمایا تھا اور آپ صﷺ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں سے-یاسونے کیانگوٹھیاں پہننے سے-، چاندی کے برتن میں پینے سے، 'میثر' (کجاوے کے اوپر کے ریشمی گدے) اور 'قسی' (قس نامی مصری بستی کی طرف منسوب ریشمی کپڑے) کے استعمال کرنے سے اور ریشم، 'استبرق' (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹن ریشمی کپڑا) اور 'دیباج' (باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے منع فرمایا تھا۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ کو دنیا میں اس مقصد سے مبعوث کیا گیا کہ آپ اعلی اخلاق کی تکمیل فرمادیں؛ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر طرح کے اعلی و عظیم اخلاق و اعمال کی ترغیب فرماتےاور ہر قبیح و ناشائستہ اخلاق و اعمال سے منع فرمایا کرتے۔ آپ ﷺ کے انھی اوامر میں سے کچھ اشیا کا ذکر اس حدیث میں ہے۔ ان میں سے پہلا یہ ہے کہ مریض کی عیادت کی جائے۔ جو درحقیقت ایک اسلامی حق کی ادائیگی، اسے قدرے راحت رسانی اور اس کے حق میں دعاسے عبارت ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ جنازہ کے پیچھے چلا جائے؛ کیوں کہ یہ جنازے کے پیچھے چلنے والےکے لیے اجرو ثواب، میت کے حق میں دعا، اہل قبور کے حق میں سلام، وعظ و نصیحت اور عبرت و سبق آموزی وغیرہ پر مشتمل ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ چھینکنے والے کے "الحمدللہ" کہنے کے جواب میں "یرحمک اللہ" کہا جائے۔ چوتھا ہے قسم کھانے والے کی قسم پوری کرنا۔ جب وہ تمھیں (قسم دے کر) کسی کام کے لیے بلائے اوراس کی قسم پوری کرنے میں تمھیں کسی طرح کا نقصان نہ ہو، تو اس کی قسم کو پوری کردو؛ تاکہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرنے پر مجبور نہ ہوجائے۔ اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کی دل جمعی کا سامان کردو۔ پانچواں یہ ہے کہ مظلوم کی ظالم کے خلاف مدد کی جائے؛ کیوں کہ اس عمل میں ظلم کا تدارک، ظالم کو اس کی دست درازیوں سے روکنا، اس کو ایذا رسانی سے باز رکھنا، منکر و برائی سے منع کرنا، جیسے امور شامل ہیں۔ چھٹا امر ہے دعوت دینے والے کی دعوت پر لبیک کہنا؛ کیوں کہ دعوت قبول کرنا در اصل دلوں میں قربت پیدا کرنے اور شکوک وشبہات سے پاک رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے باز رہنے کی صورت میں احساس بے گانگی اور باہمی نفرت انگیزیاں پروان چڑھتی ہیں۔ دعوت اگر شادی کی ہو، تو اس کا قبول کرنا واجب ہے اور دیگر دعوتوں کا قبول کرنا مستحب ہے۔ ساتواں امر یہ ہے کہ سلام کو عام کیا جائے۔ یہ دراصل ہر کس و ناکس کے لیے سلامتی کا اعلان و اظہار، سنت کی تعمیل، مسلمانوں کی ایک دوسرے کے حق میں سلامتی کی دعا اور محبت و یگانگت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا گيا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ مرد حضرات سونے کی انگوٹھیا ں نہ پہنیں؛ کیوں کہ اس سے نسوانیت و زنانہ پن کی طرف میلان اور مردانگی کی نفی ہوتی ہے۔ دوسری یہ ہے کہ چاندی کے برتن میں نہ پیا جائے؛ کیوں کہ اس میں مال کی تباہی اور تکبر کا اظہار ہےاور جب ان برتنوں میں پینے سے روک دیا گیا، جو انسانی زندگی کی اہم ضرورت ہے، تو مابقی دیگر تمام استعمالات میں یہ ممانعت اور حرمت بدرجۂ اولی ثابت ہوتی ہے۔ تیسری یہ ہے کہ میاثر (زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا)، قسی (مصر کے قس نامی ایک دیہات سے منسوب اوراطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا، جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے)، حریر (ریشمی لباس)، دیباج (باریک ریشمی کپڑا) اور استبرق (دیباج سے زیادہ دبیز اور موٹا ریشمی کپڑا) جیسے ریشمی لباس کی تمام انواع کو مردوں کے لیے حرام قرار دیا گیا؛ کیوں کہ ملبوسات کی یہ تمام انواع، انسانی مزاج میں سستی اور عیش پرستی پیدا کرتی ہیں اور یہ دونوں چیزیں مزاج میں جمود و تعطل اور بے راہ روی کا سبب بنتی ہیں، جب کہ مردوں کی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چاق و چوبند رہیں اور جفاکشی اور اولو العزمی کی صفات کے حامل ہوں؛ تاکہ اپنے دین، اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کے دفاعی فرائض کی انجام دہی میں ہمیشہ کمر بستہ رہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کو حاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے شراب پی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ایک ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے لگوائے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں نبی کریم ﷺ کی طرح شرابی کوچالیس کوڑے لگوائے۔ لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا، جنگی فتوحات کی بہتات ہوئی اور مسلمانوں کا دیگر قوموں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہوا، تو لوگ بکثرت شراب پینے لگے۔ لہٰذا انھوں نے اہل علم صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ طلب کیا کہ شرابیوں پر کون سی حد نافذ کی جاۓ کہ ان کے لیے سخت تنبیہ کا باعث ہو، جیسا کہ اس جیسے دیگر اہم امور اور اجتہادی مسائل میں عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار ہوا کرتا تھا۔ کیوںکہ ان کے دور خلافت میں شراب پینے والے افراد کی بہتات ہوگئی تھی، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ :حدود میں سب سے ہلکی حد اسی (80) کوڑے مقرر کردیں، جو بہتان تراشی کرنے والے کی حد ہے۔ (انہی کے مشورہ کے مطابق) عمر رضی اللہ عنہ نے اس حد کو اسی کوڑوں میں تبدیل فرمادیا۔ یہ اضافہ در اصل تعزیر ہے اور امام کے اختیار کی چیز ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺنے ایک ڈھال (کی چوری) پر ہاتھ کاٹا تھا، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ بعض روایتوں میں"قيمته" کی جگہ"ثمنه" کا لفظ آیا ہے۔
متفق علیہاللہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو(ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس چور کی سزا جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس ہاتھ کو کاٹنا رکھی ہے جو اس چرائے گئے مال کو اٹھاتا ہے؛ تا کہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی جانب گامزن ہوجائے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت، مال کی اس اقل ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کو کاٹا جائے گا، جو کہ تین درھم یعنی سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے، تا کہ مال و جان محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔ اور ایک چوتھائی دینار ایک گرام اور ربع کے چوتھائی گرام کے مساوی ہوتا ہے؛ کیونکہ ایک دینار 4.25 گرام کا ہوتا ہے۔