





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب (الْبِتْعِ) کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے“۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ سے شہد کی شراب پینے کا حکم دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسا جواب مرحمت فرمایا، جو عام نوعیت کا حامل اور اس جیسے ہر مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے، جب تک کہ معنی اور حقیقت ایک ہو۔ لہٰذا ہر وہ پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہی ہوگی؛ چاہے کسی بھی نوع سے اسے تیار کیا گیا ہو۔ نبی کریم ﷺ کا یہ مختصر سا جملہ آپ کے جامع کلمات (دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف) اور اپنے پروردگار کی جانب سےآپ کو عطا کردہ عمدہ و دل نشین اندازِبیان کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت کی مدت میں اس قدر علم عام فرمایا کہ تمام نوع انسانی کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجائیں۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں، جس میں دشمن سے سامنا تھا، سورج ڈھلنے کا انتظار کیا۔ پھر ان کے بیچ کھڑے ہوکر فرمایا: ”لوگو! دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے مقابلہ ہو جائے، تو صبر سے کام لو اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“۔ پھر فرمایا:”اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے اور جتھوں کو شکست دینے والے! انھیں شکست سے دوچار کردے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما“۔
متفق علیہصحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا کسی لڑائی میں دشمن سے سامنا تھا، آپ ﷺ نے انتظار کرتے ہوئے جنگ کی ابتدا سورج ڈھلنے تک نہیں کی۔ جب سورج ڈھل گیا، تو صحابۂ کرام سے خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے-جب کہ عام معمول کے مطابق آپ کے خطبے، نماز بعد ہوا کرتے تھے- آپ ﷺ نے دوران خطاب دشمن سے مقابلہ کرنےکی تمنا کرنے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ اس میں خود پسندی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ (اس کی بجائے ) آپ ﷺ نے انھیں ہدایت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کریں۔ پھر فرمایا کہ جب دشمن سے مڈبھیر ہوجائے، تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ جنگ برپا کردے اور دشمنوں سے مقابلے میں تمھاری آزمائش کا موقع آجائے، تو میدان جنگ میں جم جاؤ، تشویش و اضطراب کو بالاطاق رکھ دو اور جان رکھو کہ تمھیں دو بھلائیوں میں سے ایک ضرور حاصل ہوکر رہے گی؛ یاتو اللہ تعالیٰ تمھیں دشمنوں پر فتح و نصرت عطا فرمائے گا اور تمھیں غلبہ حاصل ہوگا، اس طرح اللہ تعالی تمھیں دنیا میں دشمن پر غلبہ اور آخرت میں اجر وثواب دونوں ہی سے نوازے گا یا یہ کہ جہاد میں پوری طاقت صرف کرنے کے باوجود تمھیں شکست سے دوچار ہونا پڑجائے، تو (اپنی جاں بازی و جاں نثاری کے بدلے) تمھیں اخروی اجر و ثواب حاصل ہوگا۔ آپ ﷺ کے قول " اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایے تلے ہے" کے معنی یہ ہیں کہ جہاد دخول جنت کا باعث ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے پروردگار سے، اس کی نازل کردہ شریعت اور اس کی قدرت کاملہ کا وسیلہ لیتے ہوئے، اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی مدد و نصرت کی دعا فرمائی۔ وباللہ التوفیق۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اما بعد، اے لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔ خمر ہر وہ شے ہے، جو عقل کو زائل کردے۔ تین مسائل کی نسبت میری تمنا ہی رہ گئی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سلسلے میں ہمیں کوئی ایسی وصیت کر دیتے، جس کی طرف ہم رجوع کر سکتے: دادا کی میراث، کلالہ اور سود کے کچھ مسائل“۔
متفق علیہیہ خطبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی ﷺ میں آپ ﷺ کے منبر شریف پر کھڑے ہو کر دیا اور اس میں انھوں نے ہر اس شے کو خمر قرار دیا، جو عقل کو زائل کر دیتی ہو۔ چنانچہ ”خمر“ کا اطلاق صرف اس شراب پر نہیں ہوتا، جو انگور سے بنائی گئی ہو، بلکہ ہر وہ نشہ آور مشروب خمر کہلاۓ گا، جو کھجور، شہد یا گندم سے تیار کردہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ تین مسائل ایسے ہیں، جن میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اور ان کی تمنا ادھوری رہ گئی کہ نبی ﷺ ان تین مسائل کے بارے میں اپنی امت کو کوئی ایسی وصیت فرما جاتے،جس کی طرف وہ رجوع کر سکتے۔ یہ تین مسائل یہ ہیں: دادا کی میراث، ہر اس شخص کی میراث جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والد اور سود کے کچھ مسائل۔ الحمدللہ ان تینوں مسائل کا حکم معلوم ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بیان نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے رسالت کی ذمہ داری پوری فرمادی، امانت ادا کر دی اور اللہ تعالی کی وہ باتیں بھی پہنچا دیں، جو ان تینوں امور سے کم اہمیت کی حامل تھیں۔ در اصل عمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ ان امور میں کوئی ایسی صریح اور واضح نص ہوتی، جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہوتی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی ہے (اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ نے اس شخص کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے)، جو اس کے راستے میں (جہاد کے لیے) نکلے۔ (اللہ فرماتا ہے:) اگر اس کا یہ نکلنا محض میری راہ میں جہاد کے لیے اور مجھ پر ایمان اور میرے انبیا کی تصدیق کے جذبے سے ہو، تو میں اسے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے جنت میں داخل کردوں گا، یا ثواب یا غنیمت کے ساتھ اس کے گھر میں واپس پہنچا دوں گا، جس سے وہ نکلا تھا“۔ مسلم کی روایت میں ہے: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال -اور اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے- قیام کرنے والے روزے دار کی طرح ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کی حفاظت کی ذمے داری لے لی ہے؛ اس کی وفات ہوگئی، تو جنت میں داخل کرے گا۔ ورنہ صحیح سالم ثواب اور مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا“۔
اس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔اس حدیث میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف سے اس ضمانت کا بیان ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا محض اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے خالص جہاد کے لئے نکلتا ہے، تو اللہ اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک یا دو چیزوں کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر وہ شہید کردیا گیا، تو اللہ اسے جنت میں داخل کرنے کا ضامن ہے اورباقی بچ گیا تو اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ گھر واپس پہنچائے گا۔ یعنی یا تو ثواب کے ساتھ بغیر غنیمت کے یا ثواب اور غنیمت دونوں کے ساتھ۔ رہی دوسری روایت، جسے صاحبِ 'عمدہ' نے مسلم کی طرف منسوب کیا ہے، حالاں کہ وہ متفق علیہ ہے، اس میں بیان کیا گيا ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کی فضیلت یعنی ایسا عمل جو جہاد کے قائم مقام ہو، انسانی طاقت سے باہر کی چیز ہے؛ کیوں کہ وہ عمل لگاتار نماز، روزہ اور قیام اللیل میں لگے رہنا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے پر جھگڑے کا شور سنا، تو آپﷺ ان جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”میں ایک انسان ہی ہوں۔ میرے پاس کوئی فیصلے کے لیے جھگڑا لےکر آتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بہ نسبت زیادہ عمدگی سے بات کرے، جس کی بنا پر میں سمجھ لوں کہ وہ سچا ہے اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔ تو جس شخص کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں، اسے جان لینا چاہیے کہ یہ دوزخ کا ایک ٹکڑا ہے، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے کچھ جھگڑنے والوں کی ملی جلی آوازیں سنیں، جو آپ ﷺ کے دروازے کے پاس جھگڑا اور بحث کر رہے تھے۔ آپ ﷺ ان کے مابین فیصلہ کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے،اور فرمایا:"میں تمھاری ہی طرح ایک انسان ہوں، میں غیب نہیں جانتا اور نہ مجھے مخفی امور کے بارے میں بتایا جاتا ہے، جن کی بنا پر مجھے معلوم ہو جائے کہ تم میں سے کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ جن لوگوں کے مابین جھگڑا ہوتا ہے، وہ میرے پاس فیصلہ کرانے آتے رہتے ہیں اور میرا فیصلہ فریقین کے پیش کردہ دلائل اور قسموں پر مبنی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی زیادہ فصیح و بلیغ اور قادر الکلام ہو اور میں اسے سچا سمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ کردوں حالاںکہ اندرونی حقائق کی رو سے اس کا مد مقابل حق پر ہو۔ تو جان لو کہ میرا فیصلہ ظاہری امور پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ باطنی امور پر۔ چنانچہ میرے فیصلے کی وجہ سے کوئی حرام شے حلال نہیں ہوجاتی۔ اس لیے اگر میں کسی کو کسی دوسرے کا حق دے دوں، حالاںکہ وہ جانتا ہو کہ وہ باطل پر ہے۔ تو میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں، چاہے تو وہ اسے لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ اس کا عقاب اسی کو ہو گا اور اللہ تعالی ظالم لوگوں کی گھات میں رہتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا“۔
متفق علیہاللہ عز و جل نے لوگوں کی جان، آبرو اور مال کو ان تمام ذرائع سے تحفظ فراہم کیا ہے، جو فسادی اور سرکش افراد کو (ان کی شر انگیزیوں سے) باز رکھنے کی ضمانت دیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے چور کی سزا، جو مخفی طریقے سے مال کو اس کے محفوظ مقام سے لے اڑتا ہے، اس عضو کا کاٹنا متعین کی ہے، جس کے ذریعے وہ چرایا ہوا مال اٹھاتا ہے؛ تاکہ ہاتھ کاٹنا اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے اور آئندہ وہ اور دیگر لوگ (حصول مال کے) ان گھٹیا طریقوں سے باز رہیں اور شرعی اور باعزت طریقوں سے مال کمائیں، جس کے نتیجے میں کام کاج کو فروغ ملے، منافع کا حصول ہو، یہ عالم تعمیر و ترقی کی طرف بڑھے اور لوگ باعزت زندگی گزاریں۔ اللہ نے اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت مال کی اس کم ترین مقدار کا تعین فرما دیا، جس کے چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا، جو کہ سونے سے بنے دینار کے ایک چوتھائی کے مساوی ہے؛ تا کہ جان و مال محفوظ رہیں، امن کا دور دورہ ہو، دل پر سکون ہوں اور حصول رزق اور سرمایہ کاری کی غرض سے لوگ اپنا مال (بلا خوف و خطر) لگائیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ھند بنت عُتبۃ رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان بخیل آدمی ہے، وہ مجھے اتنا نفقہ نہیں دیتا، جو میرے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو، تاہم میں اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ لے لیتی ہوں۔ کیا اس میں میرے اوپر کوئی گناہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مناسب انداز سے اس کے مال میں سے اتنا لے لو، جو تمھارے اور تمھاری اولاد کے لیے کافی ہو“۔
متفق علیہھند بنت عتبہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ مانگا کہ ان کا شوہر انھیں اتنا خرچ نہیں دیتا، جو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے کافی ہو، تو کیا وہ اپنے شوہر ابو سفیان کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر لے سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار اچھے طریقے سے لینے کے جواز کا فتویٰ دیا، جو ان کے لیے کافی ہو۔ یعنی زیادتی اور تعدی نہ ہو۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد میں ایک دن کی پہرے داری دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، اور بندے کا ایک شام یا ایک صبح اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن پہرے داری پر کھڑے رہنا یا ایک صبح اللہ کی راہ میں نکلنا اور جنت میں کسی کے کوڑے کے برابر جگہ ، یہ سب دنیا و مافیہا سے بہتر ہیں کیوں کہ جنت باقی رہنے والی جگہ ہے جب کہ دنیا فانی ہے اور تھوڑی باقی رہنے والی چیز بہت زیادہ فنا ہوجانے والی چیز سے بہتر ہوتی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ میں عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے انھیں ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی اور میں نے انھیں ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔
متفق علیہدینِ اسلام کی فراہم کردہ آسانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی ایسی علت کی بنا پر جس کی وجہ سے رخصت (چھوٹ) ضروری ہو جائے یہ حرام اشیاء کی بھی رخصت دے دیتا ہے۔ شارع علیہ السلام نے ریشم کے مردوں پر حرام ہونے کے باوجود زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی رخصت دی کیونکہ ریشم جوؤں کو دور کرتا ہے اس لیے کہ قدرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا ہی ایسے ہے کہ اس میں جوؤں کا توڑ اور خارش کا علاج ہے۔ یہ رخصت ہر اُس شخص کو شامل ہے، جس کی حالت ان صحابہ جیسی ہو۔