





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
متفق عليهانس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عیدالاضحی کے دن سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور فرمایا: اللہ کے نام سے ذبح کر رہا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ ذبح کرتے وقت آپ نے اپنا پاؤں مینڈھے کی گردن پر رکھ دیا۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اللہ کی راہ میں صبح یا شام نکلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے“۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے صبح یا شام چلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہان دونوں احادیث میں جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت کا بیان ہے؛ اگرچہ اس کی مدت بہت کم، یعنی ایک صبح یا ایک شام کے لیے ہی ہو۔ پھر اندازہ کیجیے کہ لمبا جہاد، جس میں دشمنوں کے سامنے ثابت قدم رہنا پڑتا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، اس کی کیا فضیلت ہو گی؟ ”سبیل اللہ“ سے در اصل کفار سے ہاتھ کے ذریعہ جہاد ہی مراد ہے۔ یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ شرعی علم کا حصول جہاد فی سبیل اللہ کی ایک بہت بڑی قسم ہے۔ حق کو غالب کرنا اور زندیق و ملحد لوگوں اور مغربی عیسائی مبلغین کے دلائل کا رد کرنا، جو اسلام کے خلاف برسرپیکار رہتے ہیں اور اسے مٹانے کی ناپاک کوششیں کرتے ہیں، در اصل یہ جہاد فی سبیل اللہ کی سب سے بڑی قسم ہے۔ جہاد سے مقصود اسلام کا غلبہ اور اس کی نصرت ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگوں کا سدباب کرنا ایک عظیم جہاد ہے۔ اے اللہ! مسلمانوں کو توفیق عطا فرما کہ وہ اپنے دین کی نصرت کریں اور تیرے حکم کو سربلند کریں۔ بے شک تو بہت قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
زہدم بن مضرب جرمی نے بیان کیا کہ ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھےکہ انھوں نے کھانا منگوایا، جس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ تم بھی شریک ہو جاؤ۔ اس نے پس و پیش کا اظہار کیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے پھر کہا کہ تم بھی شریک ہوجاؤ؛ کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔
متفق علیہزھدم بن مضرب روایت کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے ہم راہ کچھ لوگ، ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انھوں نے کھانا منگوایا اور جب لوگوں کے روبرو کھانا رکھا گیا، تو دیکھا گیا کہ اس میں مرغی کا گوشت تھا۔ اتنے میں سرخ رنگت اور غلاموں -یعنی عجمی لوگ- جیسی مشابہت رکھنے والا، قبیلہ بنو تیم اللہ کا ایک شخص بھی حاضر ہوا۔ چنانچہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس کو کھانے میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ کھانے پر آجاؤ۔ اس شخص نے پس وپیش کرتے ہوئے کھانے میں شریک ہونے سے انکار کردیا، تو ابو موسی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مرغی کا گوشت کھاتے دیکھا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فلاں کو اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کرے! کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ ان پر چربی حرام کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اسے پگھلا کر فروخت کر دیا“۔
متفق علیہعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایک شخص نے حیلہ سازی کے ارادے سے شراب فروخت کرکے نفع خوری کی تاہم اس نے اس کو پیا نہیں۔ ایسی حیلہ سازی بالکلیہ حرام ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ویسی ہی بد دعا دی، جیسی نبی ﷺ نے حیلہ سازی کرنے والے یہودیوں کو دی تھی۔ نیز عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو برباد کردے، کیا اس کو معلوم نہیں کہ حیلہ سازی کرنا حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دھوکہ بازی ہے اور اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان بھی موجود ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا، تو انھوں نے اس سے نفع خوری کے لیے حیلہ سازی کا سہارا لیا؛ کیوں کہ انھوں نے چربی کی صفت و کیفیت میں تبدیلی کردی، اس کو پگھلایا اور پھر اس کو فروخت کرتے ہوئے اس کی قیمت کو کھایا اور -حیلہ سازی اور دھوکہ بازی اپناتے ہوئے- انھوں نے کہا: "ہم نے حرام کردہ چربی تونہیں کھائی" اور اس گمان میں رہے کہ وہ اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور اللہ انھیں اس چال بازی کا بدلہ دینے واﻻ ہے۔
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان ایک کنویں کو لے کر جھگڑا تھا، چنانچہ ہم دونوں اس مقدمے کے فیصلے کے لیے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا“۔ میں نے عرض کیا: وہ تو قسم کھالے گا اور کچھ پروا نہ کرے گا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے اور اس کی نیت بری ہو، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا“۔
متفق علیہاس حدیث میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے قصہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کا اور ان ایک شخص سے ایک کنویں کو لے کر جھگڑا پیدا ہوگیا، تو وہ اس جھگڑے کے تصفیے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا!“ اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کا گمان تھا کہ ان کا مخالف قسم کھالے گا اور اسے اس کے گناہ کی چنداں پروا نہ ہوگی۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس امکان کا اظہار بھی کردیا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص جھوٹی قسم اس لیے کھائے کہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہتھیا لے...“۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت قسم کی وعید ہے، جو کسی شخص کا مال ناحق ہڑپ لیتے ہیں، وہ اپنے گناہ آمیز جھگڑے اور جھوٹی قسم کے ذریعے اس پر قبضہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ تعالیٰ سے ملیں گے، تو وہ ان پر سخت غضب ناک ہوگا اور جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگیا، اس کی ہلاکت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریمﷺ لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ لوگوں نے ( بھوک کے مارے) جلد بازی سے کام لیا، جانور ذبح کیے اور ہانڈیاں چڑھادیں۔ بعد میں نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر آپ (ﷺ) نے غنیمت کی تقسیم شروع کی، دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن اونٹ نے سب کو تھکادیا ۔ آخر ایک صحابی (خود رافع رضی اللہ عنہ) نے اسے تیرمارا ۔ اللہ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا، وہیں رہ گیا۔ اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ( پالتو) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ میں ( رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کل ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ ادھر ہمارے پاس چھری بھی نہیں ہے، توکیا ہم بانس کی کھپچیوں سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں“۔
متفق علیہرافع بن خدیج رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں ایک جگہ پر تھے، جیسے ذوالحلیفہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس بہت سارے جانور تھے۔ انھوں نے ان کی تقسیم کا انتظار کیے بغیر ،تقسیم سے پہلے ہی ان کو ذبح کر دیا۔ رسول اللہﷺ پیچھے تھے، جب پہنچے تو لوگوں نے ہانڈیاں چڑھا دی تھیں۔ آپ ہانڈیوں کے پاس جاکر انھیں انڈیل دیا اور مٹی ڈال دی۔ نیز فرمایا: لوٹ مار کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے! پھر آپﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا اور ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں مقرر کیں۔ پھر لوگوں نے اپنے اپنے حصے کے جانور ذبح کیے۔ ان جانوروں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا اور گھوڑوں کی قلت کی وجہ سے وہ اسے قابو میں نہ کر سکے۔ ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اللہ کے حکم سے وہ وہی رک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی جانور قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ پھر رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ ذبح کس طریقے سے کیا جائے؟ تو ان کو بتایا کہ ہر وہ چیز جس سے خون بہنا شروع ہو جائے اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے۔ جب کہ ناخن چاہے وہ انسانی ہاتھ کے ساتھ ہو یا الگ، اس سے ذبح کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ کافر وں کی چھری ہے اور دانت سے ذبح کرنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ ہڈی ہے۔
ابو بردۃ ھانی بن نیار بلوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں“۔
متفق علیہاللہ تعالیٰ کے حدود سے مراد اس کے اوامر اور نواہی ہیں۔ ان کے لیے کچھ عبرتناک سزائیں مقرر ہیں۔ یہ یا تو معین سزائیں ہیں، جیسے زناکاری اور بہتان تراشی۔ یا غیر معین، جیسے ماہ رمضان میں دن کے وقت کھانا، زکاۃ ادا کرنے سے انکار کر دینا اور دیگر حرام کردہ امور کا ارتکاب کرنا یا واجبات کو ترک کردینا۔ اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی سے ہٹ کر بھی خواتین اور بچوں کے لیے کچھ تادیبی اور تعزیری سزائیں ہیں، جو ان کے اصلاح احوال اور انھیں تہذیب کے دائرے میں رکھنے کی غرض سے دی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ تعزیری سزائیں دس کوڑوں سے زائد نہیں ہوسکتیں، الا یہ کہ وہ اپنے کسی دینی واجب کو چھوڑ دیں یا اپنے پروردگار کی جانب سے حرام کردہ کسی امر کا ارتکاب کربیٹھیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”اگر کوئی آدمی یا پھر آپ ﷺ نے (”رَجُلٌ“ کے بجائے) ”امرأ“ کا لفظ بولاــــــــــــــ تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے اور تم کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پرکوئی مواخذہ نہیں“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کے دروازے کے پیچھے سے یا دیوار وغیرہ کے اوپر سے جھانکے اور وہ کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے یا پھر اس کی آنکھ میں کوئی آہنی چیز گھونپ دے تو اس آنکھ تلف کرنے والےکو نہ تو کوئی گناہ ہو گا اور نہ ہی اس پر اس کا قصاص آئے گا کیوں کہ زیادتی اور جرم کا ارتکاب اس جھانکنے والے شخص کی طرف سے ہوا ہے، جس نے ایسا کیا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے زخمی ہوا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا لیکن خوشبو مشک کی سی ہوگی“۔
متفق علیہنبی ﷺ جہاد فی سبیل اللہ کی فضلیت اور اس بہترین ثواب کو بیان فرما رہے ہیں جو جہاد کرنے والے کو ملے گا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا زخمی ہو جائے اور پھر یا تو اس کی موت واقع ہو جائے یا وہ صحت یاب ہو جائے ( توہر دو صورتوں میں) وہ روز قیامت تمام لوگوں کے سامنےجرأت و بہادری کے ساتھ جہاد کرنے کا تمغہ سجائے آئے گا۔ اس کا زخم بالکل تازہ ہو گا جس کا رنگ تو خون کا ہوگا لیکن اس سے خوشبو مشک کی پھوٹ رہی ہو گی۔