





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن عمر رضي الله عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث کی اصل صحیحین میں ان الفاظ کے ساتھ ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“، بعض راویوں نے”دن (کی نماز)“ کا لفظ زیادہ کیے ہیں، جب کہ یہ زیادتی ضعیف ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جو شخص رات اور دن میں نفلی نماز ادا کرنا چاہے تو وہ ہردو دو رکعت پر سلام پھیرے جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صراحت کے ساتھ ذکر آیا ہے، جب ان سے پوچھ گیا کہ ”مثنی مثنی“ کا معنی کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہر دو رکعت پر سلام پھیر دے“۔ رات کی نماز کے متعلق یہی اکثر علما کا کہنا ہے، یعنی رات کی نفلی نماز میں دو دو رکعت سے زیادہ پڑھنا جائز نہیں سوائے وتر کے، چونکہ یہ سنت سے ثابت ہے لہذا اس مین دو دو رکعتوں سے زیادہ پڑھ سکتے ہیں۔ رہا مسئلہ دن میں نفلی نماز کا تو دو رکعت سے زیادہ پر سلام پھیرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بہتر دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ماہ محرم، جو کہ ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے اس کا روزہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے افضل ہے۔ کیونکہ یہ سال کی ابتداء ہے اور اس کا آغاز روزے جیسے بہترین عمل سے کیا جاتا ہے۔ ہر مسلمان کےلیے ضروری ہے کہ وہ اس کے روزوں کا اہتمام کرے اور بغیر عذر کے یہ روزے نہ چھوڑے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”شَهر الله“ (اللہ کا مہینہ ہے) یہ دوسرے مہینوں کی بنسبت اس کی قدر و منزلت پر دلالت کرتا ہے۔ نماز تہجد (صلوۃ اللیل) فرائض کے بعد نوافل میں سے سب سے بہترین عبادت ہے کیوں کہ اس میں خشوع وخضوع، حضورِ قلب اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوت کا بھرپور موقع موجود ہوتا ہے۔ ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا﴾ ”رات کا اٹھنا یقیناً (نفس کو) بہت زیر کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں وقت ہے“ (سورہ مزمل:6) کیونکہ رات کا وقت آرام و سکون کا ہوتا ہے اور جس وقت عبادت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو نفس پر بڑا شاق گزرتا ہے اور باعث مشقت ہوتا ہے نیز بدن تھکاوٹ سے چور ہوتا ہے تو گویا اس کو تکلیف میں ڈالا جاتا ہے اور یہ اللہ کے ہاں بڑا فضیلت والا کام ہے۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ رمضان اورغیر رمضان میں (تہجد) کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ پہلے چار رکعتیں پڑھتے، پسں نہ پوچھو کہ وہ کتنی حسین اور کتنی لمبی ہوتی تھیں؟ پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کے بارے میں نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں (وتر) پڑھتے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
متفق علیہیہ بات تو معروف ہے کہ نبی ﷺ رمضان ہو یا غیر رمضان رات معریں قیام فرماتے تھے، اور جب بات ایسی تھی تو ابو سلمہ نے قیامِ رمضان سے متعلق پوچھا کہ آپ ﷺ کی نماز رمضان کی راتوں میں رکعات کے اعتبار سے کیا غیر رمضان کی نماز کی طرح ہوتی تھی یا معاملہ کچھ اس کے علاوہ تھا ؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان، آپ ﷺ کی نماز کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ آپ ﷺ سال بھر گیارہ رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور پھر اس نماز کی کیفیت اپنے اس قول کے ساتھ بیان کی کہ آپ چار رکعتیں پڑھتے، یہاں پر مقصود یہ ہے کہ آپ ﷺ دو رکعات پڑھتے اور پھر سلام پھیرتے پھر دو رکعات پڑھتے اور پھر سلام پھیرتے، کیوں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث میں جو اجمال و اختصار ہے اس کی وضاحت و تفصیل اپنی اس حدیث میں کی ہے جس کی تخریج امام مسلم نے کی ہے، بایں طور کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”رسول ﷺ نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد نماز فجر کے بیچ گیارہ رکعت پڑھتے تھے، ہر دو رکعت كے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے“۔ اسی کے ساتھ رسول ﷺ کا یہ فرمان ہے: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“ (متفق علیہ) ”ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا؟“ یعنی ان رکعتوں کی کیفیت کے متعلق نہ پوچھو، کیوں کہ وہ تلاوت کی عمدگی، قیام، رکوع اور سجدہ کی لمبائی میں منتہائے حسن وکمال پر تھیں۔ اور اسی طرح آخر کی چاروں رکعتیں دو دو رکعت کرکے پڑھتے۔ پس ان رکعتوں میں تلاوتِ قرآن کی خوبی اور کمال، طولِ قیام اور رکوع و سجود کی طوالت کے بارے میں نہ پوچھو۔ ”پھر تین رکعتیں پڑھتے“ ظاہر کلام سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ ان تینوں رکعتوں کو فصل کئے بغیر پڑھتے، پھر آخری رکعت میں سلام پھیر دیتے تھے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور پھر ایک رکعت وتر پڑھتے،اور اس کے الفاظ یہ ہیں: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے اور پھر ایک رکعت وتر پڑھتے“ اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ آپ ﷺ تین رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟“ یعنی آپ وتر پڑھنے سے پہلے کیسے سوتے ہیں؟ ”عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا“ اس کا معنیٰ و مفہوم یہ ہے کہ: آپ ﷺ کا دل بند نہیں ہوتا جس طرح آنکھ بند ہو جاتی ہے، آپ کا دل متوجہ رہتا ہے اور ہر چیز کا ادراک کر لیتا ہے، اور اسی قبیل سے وقت کی رعایت اور پابندی بھی ہے اور اسی ناطے انبیا ء کا خواب وحی کا حصہ مانا جاتا ہے۔
عائشہ رضی الله عنها سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر اور فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔
متفق علیہعائشہ رضی الله عنها خبر دے رہی ہیں کہ نبی ﷺ ہمیشہ رات میں تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں وتر بھی ہوتی تھی۔ چاہے رمضان ہو، یا غیر رمضان، اور اسی طرح فجر کی دو رکعتوں کی مداومت کیا کرتے تھے، مداومت سے مراد کثرت سے پڑھنا ہے، جیسا کہ وارد ہے کہ نبی ﷺ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تھا، تو آپ ﷺ اس میں اتنی محنت کیا کرتے تھے جتنی کہ آپ اس کے علاوہ دوسرے میں نہیں کرتے تھے، چنانچہ اس سے مراد، نبی ﷺ رکعتوں کو لمبی کیا کرتے تھے، نہ کہ رکعتوں میں اضافہ فرماتے تھے، نبی ﷺ رات میں کبھی تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔ (کچھ روایتوں میں) یہ بھی آیا ہے کہ آپ ﷺ کبھی اس سے کم بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”صبح ہونے سے پہلے ’وتر‘ پڑھ لو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔’وتر‘ رات کی نماز ہے اور اس کے ساتھ قیام اللیل، ختم ہو جاتی ہے جس طرح کہ صبح کی نمازیں، نمازِ مغرب کے ساتھ طاق ہو کر اختتام پذیر ہو جاتی ہیں۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نماز وتر کا وقت صبح ہونے سے پہلے تک ہے یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے پہلے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”جس آدمی کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں نہیں اٹھ سکے گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں وِتر پڑھ لے اور جس آدمی کو اس بات کی تمنا ہو کہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو اسے چاہیے کہ وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ رات کے آخری حصہ کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ اس کے لیے افضل ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے وِتر کی نماز کو رات کے اول حصہ میں پڑھ لینے کا جواز معلوم ہوتا ہے اور یہ جواز اس شخص کے حق میں بدرجہ اَوْلی ہے جسے اس بات کا خوف ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر نہیں پڑھ سکے گا، اسی طرح رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر وتر پڑھنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے، کیونکہ اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: ”باجماعت نماز اکیلے شخص کی نماز سے پچیس درجے افضل ہے۔ اور فجر کی نماز میں دن اور رات کے فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں“، پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم چا ہو تو یہ پڑھو: ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ ”بے شک فجر کا قرآن( پڑھنا، فرشتوں کے)حاضر ہونے کا باعث ہے“۔ (سورہ اسراء: 78)
متفق علیہاس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آدمی کی باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے پچیس درجے زیادہ افضل ہے۔ پھر اس بات کا ذکر کیا کہ دن اور رات کے فرشتے نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بطور استشہاد اس بات کو بیان کیا کہ اگر تم چاہو تو یہ پڑھ کر دیکھو ﴿إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا﴾ ”بے شک فجر کا قرآن( پڑھنا، فرشتوں کے) حاضر ہونے کا باعث ہے“ یعنی نماز فجر میں دن اور رات کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اور اس (فجر) کا نام ’قرآن‘ اس لیے رکھا گیا ہے کہ دیگر نمازوں کی بہ نسبت اس میں قرآن کی تلاوت زیادہ لمبی کی جاتی ہے۔ اس کی لمبی قرأت کی فضیلت کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ اور دن رات کے فرشتے موجود ہوتے ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان کو سنا اور (باجماعت) نماز کے لئے نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی عذر لاحق ہو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ باجماعت نماز پر توجہ دی جائے اور اس کا انتہائی زیادہ اہتمام کیا جائے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جو شخص کسی ایسی جگہ ہو کہ باجماعت نماز کے لیے دی گئی اذان اسے سنائی دے تو اس کے لیے باجماعت نماز کے لیے آنا واجب ہے۔ اگر وہ نہیں آئے گا تو اس کی نماز ناقص اور کم ثواب والی ہوگی تاہم اس کے ذمہ واجب الاداء فرض پورا ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ بلا عذر نماز باجماعت سے پیچھے رہ جانے کا گناہ بھی اس پر آئے گا۔ رہا وہ شخص جو کسی شرعی عذرجیسے بیماری، بارش یا جان و مال یا بچوں کے خوف یا اس طرح کی کسی اور وجہ کی بنا پر نہ پہنچ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور (رمضان کی) راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے، پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے، تو ایک رات نبی کریم ﷺ کی آواز نہیں آئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ سو گئے ہیں۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنکھارنے لگے؛ تاکہ آپ باہر تشریف لائیں، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تراویح) فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیوںکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔
متفق علیہحدیث یہ بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے مسجد کے ایک کونے میں چٹائی سے حجرہ بنالیا تھا، بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ اعتکاف کی جگہ تھی، آپ ﷺ رات کو اس میں نماز پڑھتے تھے، لوگوں نے آپ کی آواز سنی، تو آپ کی اقتدا کرنے لگے، کچھ راتیں گزرنے کے بعد انہوں نے آپ کی آواز نہیں سنی، تو یہ خیال کیا کہ آپ سو چکے ہیں اور آپ کو جگانے کے لیے کچھ آوازیں نکالنے لگے۔ آپ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں سویا نہیں تھا، بلکہ مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور فرمایا کہ اگر یہ تم پر فرض کردی جائے، تو تم اسے قائم نہیں کرسکوگے اور فرمایا کہ تمہارے لیے اپنے گھروں میں نفل نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔