





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بيان کرتی ہيں کہ ميں نے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سر کے بالوں کو مضبوطی سے باندھ ليتى ہوں تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہيں کھولوں [ایک اور روایت میں ہے کہ: اور غسلِ حیض کے لیے انہيں کھولوں]؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے بس اتنا کرنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو اور پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو۔ اس سے تم پاک ہو جاؤگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا بتلا رہی ہیں کہ وہ اپنے سر کے بالوں کو چوٹيوں کی صورت ميں باندھ ليا کرتی تھیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ حدثِ اکبر سے پاک ہونے کے لیے غسل (يعنى غسلِ حیض اور غسل ِجنابت) کیسے کریں؟ کیا پانی کو اندر تک پہنچانے کے لیے ان کا اپنے بالوں کو کھولنا ضروری ہے یا انھیں کھولنا ضروری نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لیا کرو“ یعنی تمہارے لیے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے، بلکہ تمہارے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تم چلو بھر کر تین دفعہ اپنے سر پر پانی ڈال لیا کرو بایں طور کہ غالب گمان ہو جائے کہ بالوں کی جڑیں تر ہو گئی ہیں، چاہے پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ کیونکہ اگر پانی کا بالوں کی تہ تک پہنچانا واجب ہوتا تو پھر بالوں کا کھولنا ضروری ہوتا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی اندر تک پہنچ گیا ہے یا نہیں۔ ”تین چلو“ تین چلو سے معین طور پر صرف تین کا عدد مراد نہیں ہے، بلکہ پانی کو بالوں کی جڑوں تک پہنچانا مطلوب ہے۔ اگر پانی ایک ہی دفعہ میں جڑ تک پہنچ جائے تو پھر تین دفعہ ڈالنا سنت ہو گا اور اگر نہ پہنچے تو پھر اس سے زیادہ دفعہ ڈالنا واجب ہو گا یہاں تک کہ جڑوں تک پہنچ جائے اور ان کے تر ہو جانے کا غالب گمان ہو جائے۔ ”پھر اپنے اوپر پانی بہا لو“ یعنی اپنے پورے بدن پر پانی بہا لو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ پھر تم اپنے سر پر پانی انڈیلو۔ ”تم پاک ہو جاؤ گی“ سنن ابو داود وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”فإذا أنت قد طَهُرت“ (تو سمجھ لو کہ تم پاک ہو گئیں) یعنی لاحق ہونے والے حدثِ اکبر سے تم پاک ہو جاؤگی۔ حاصل یہ کہ نبی ﷺ نے انہیں فتوی دیا کہ غسلِ جنابت یا غسلِ حیض کرتے ہوئے ان کے لیے اپنے بالوں کو کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ ان کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ تین چلو بھر کر اپنے سر پر ڈال لیں اور اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیں۔ ا س سے وہ حدث اکبر سے پاک ہو جائیں گی۔
میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ آپ ﷺ نے پہلے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر بہا یا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرم گاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر مار کر مٹی کے ساتھ اسے رگڑا اور پھر اسے دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر آپ کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ ﷺ نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: میمونہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے پانی تیار کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے داہنے ہاتھ سے برتن کو تھاما اور اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیلا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک ساتھ دونوں ہاتھوں کو دھویا؛ کیوں کہ ہاتھ پانی منتقل کرنے کا آلہ ہیں۔ چنانچہ ان کی اچھی طرح سے طہارت و صفائی کے لیے آپ ﷺ نے انھیں دھونا پسند فرمایا۔ ”دونوں ہاتھوں کو دھویا“ صحیح بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے : آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دو یا تین دفعہ دھویا۔ اپنے ہاتھ دھو لینے کے بعد شرم گاہ پر منی وغیرہ کی گندگی کے اثرات کو دور کرنے لیے آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو دھویا۔ یہاں شرم گاہ سے مراد سامنے کی شرم گاہ ہے، جس کی وضاحت بخاری شریف کی روایت سے ہوتی ہے (جس میں یہ الفاظ ہیں کہ): ”پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اوراس سے اپنے عضو تناسل كو دھويا“۔ ”ثم قال بِيَدِه الأرض“ یعنی اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا۔ یہاں ہاتھ سے مراد بایاں ہاتھ ہے، جس کی وضاحت بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ: پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور زور سے رگڑا۔ آپ ﷺ نے اسے مٹی کے ساتھ رگڑا، تا کہ اس کے ساتھ لگی گندگی اور بدبو زائل ہو جائے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ کو اس پر لگی مٹی اور میل کچیل دور کرنے کے لیے دھویا۔ اپنے ہاتھوں سے لگے میل کچیل کو دھولینے اور صاف کر لینے کے بعد آپ ﷺ نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پھر اپنا چہرہ مبارک دھویا۔ اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے وضو بھی فرمایا، تاہم صحیح بخاری و صحیح مسلم میں میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو فرمایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی ایسے ہی مروی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر پانی ڈالا اور ایک اور روایت میں ہے کہ پھر آپ ﷺ نے اپنے سر پر تین چلو ہتھیلی بھر کر ڈالے اور پھر سارےجسم کو دھویا۔ ایک دفعہ پر بھی اکتفا کیا جا سکتا ہے، بشرطے کہ پانی سارے جسم تک پہنچ جائے۔ پھر آپ ﷺ نے غسل کی جگہ سے دور ایک دوسری جانب ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، یعنی جب آپ ﷺ اپنے وضو اور غسل سے فارغ ہو چکے، تو آپ ﷺ نے دوسری دفعہ اپنے پاؤں دھوئے۔ پھر آپ ﷺ کے پاس رومال لایا گیا، تو آپ ﷺ نے پانی کی تری کو اس سے خشک نہ کیا اور نہ ہی اس سے پونچھا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک اور حدیث میں ہے : پھر میں آپ ﷺ کے پاس رومال لائی، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: آپ ﷺ کے پاس ایک رومال لایا گیا، لیکن آپ ﷺ نے اسے چھویا تک نہیں اور اس طرح سے پانی جھٹکنے لگے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر نماز کی وضو کی طرح وضو کرتے اور اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، یہاں تک کہ جب بالوں کی جڑوں تک تَرِیْ دیکھ لیتے تو پھر اپنے سر پر تین لپ (دونوں ہاتھوں سے بھر کر) پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی گراتے اور اپنے پاؤں دھوتے۔
متفق علیہام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا، نبی کریم ﷺ کے غسل کا طریقہ بیان فرما رہی ہیں کہ آپ ﷺ جب غسلِ جنابت کا ارادہ فرماتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے تاکہ وہ اس وقت پاک و صاف رہیں جب طہارت کے لیے ان ہاتھوں سے پانی لیں پھر نماز کے لیے کیے جانے والے وضو کی طرح وضو فرماتے۔ اور چوں کہ آپ ﷺ کے بال بہت زیادہ گھنے تھے،اس لیے آپ ﷺ اپنے تر شدہ ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے، یہاں تک کہ جب پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا اور آپ اپنے تمام جلد پر پانی پہنچا دیتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے، پھر باقی جسم کو غسل دیتے اور سب سے آخر میں اپنے پاؤں دھوتے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے (انھیں) بتایا کہ انھوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے“۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں اس بات پر شرما گئی۔ (پھر) آپ بولیں :کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہاں، (ورنہ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ مرد کا پانی (منی) گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جو بھی غالب ہوجائے یا سبقت لے جائے تو اسی سے (بچے کی) مشابہت ہوتی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریمﷺ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو نیند میں وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟) یعنی جیسے خواب میں مرد جماع کا منظر دیکھتا ہے اسی طرح عورت بھی اگر دیکھے تو؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: ”إذا رَأَت ذلك المرأة فَلْتَغْتَسِل“ یعنی جب عورت وہ کچھ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو غسل کرے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اس کو انزال ہو جائے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :فرمایا: ”قال: نعم إذا رأت الماء“ ہاں اگر وہ پانی دیکھے ۔یعنی نیند سے بیداری پر اگر منی دیکھے۔ اگر نیند میں احتلام دیکھے لیکن منی خارج نہ ہو تو اس پرغسل نہیں کیوں کہ یہ حکم انزال کے ساتھ معلق ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ سے ایسے شخص کےبارے میں سوال کیا گیا جو تری دیکھے لیکن اس کو احتلام یاد نہ ہو تو فرمایا:وہ غسل کرے۔ اورایسا شخص جو احتلام دیکھے لیکن تری نہ دیکھے تو اس کے بارے میں فرمایا کہ اس پر غسل نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر عورت بھی یہ دیکھے تو اس پر غسل ہے؟ فرمایا :ہاں۔ بے شک عورتیں اصل خلقت وطبیعت میں مردوں کی ہم مثل ہیں۔ اس کو احمد و ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے اس طرح جواب سنا تو اس سے بڑی شرم محسوس کی اور کہنے لگیں : ”کیا ایسے بھی ہوتا ہے؟“ یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ جیسے مرد کو احتلام ہوتا ہے ویسے ہی عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "نعم" (ہاں) یعنی عورت کو بھی احتلام اور انزال ویسے ہی ہوتا ہے جیسے مرد کو ہوتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی توجیہہ بیان کی کہ: ”پھر یہ مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے؟“ صحیحین کی ایک اور روایت میں ہے: ”تو بچے کی مشابہت پھر کیسے ہوتی ہے“ یعنی بچہ ماں کے مشابہ کیسے ہوتا ہے اگر اس کی منی خارج نہیں ہوتی ؟ پھر نبی کریمﷺ نے مرد اور عورت کی منی کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ”مرد کا پانی (منی) گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے“ یہ وصف باعتبارِ غالب کے لحاظ سے ہے یا پھر اس کی اصل حالت کے اعتبار سے۔ کیوں کہ بسااوقات آدمی کی منی بیماری کی وجہ سے پتلی ہو جاتی ہے اور کثرتِ جماع کی وجہ سے سرخ اور عورت کی طاقت کی وجہ سے منی سفید ہو جاتی ہے۔ علمائے کرام نے مرد کی منی کو پہچاننے کی دیگر علاماتیں بھی بیان کی ہیں جیسا کہ اس کے خروج کے وقت اچھال پے اچھال پایا جاتا ہے اور قرآن کریم نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ﴾ ”اچھلتے پانی سے“ یہ شہوت اور لذت کے ساتھ خارج ہوتا ہے اور جب یہ خارج ہوتا ہے تو جوش بھی ختم ہو جاتا ہے اور اس کی بوکھجور کے گودے کی طرح ہوتی ہے۔ جب کہ عورت کی منی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں دو خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کے ذریعے پہچان سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی بو بھی آدمی کی منی کی بو کی طرح ہوتی ہے اور دوسری اس کے خارج ہونے سے لذت محسوس ہوتی ہے اور خروج کے بعد شہوت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ منی کے ثبوت کے لیے سابقہ تمام شروط کا اکٹھا ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کے لیے اتنا ہی کافی کہ کسی ایک علامت سے اس کے منی ہونے کا حکم ثابت ہو جائے۔ اور اگر ان علامات میں سےکوئی علامت موجود نہ ہو تو اس کا حکم منی کا نہیں ہوگا اور ظن غالب بھی یہی ہے کہ وہ منی نہیں ہو گی۔ ان میں سے کوئی ایک بلند ہو جائے یا سبقت لے جائے تو اس سے مشابہت پیدا ہوتی ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے: ”غالب آجائے“ یعنی مرد یا عورت کے پانی میں سے کسی کی منی کا غالب آنا۔ جس کی منی دوسرے پر زیادتی یا طاقت کے اعتبار سے غالب ہو جائے تو مشابہت بھی اسی سے ہوگی۔ یا ان دونوں میں سے جو انزال میں سبقت لے گیا اس سے مشابہت ہو گی۔ بعض علماء نے یہ کہا : ’علا ‘بمعنی ’سبق ‘ہے ۔اگر مرد کی منی سبقت لے جائے تو بچہ مرد کے مشابہ ہو گا اور اگر عورت کی منی غالب ہو جائے تو اس کے مشابہ ہو گا کیوں کہ مرد اورعورت دونوں کا پانی رحم میں اکٹھا ہوجاتا ہے۔ عورت کو انزال ہوتا ہے اور مرد کو بھی انزال ہوتا ہے اوران دونوں کا پانی جمع ہوتا ہے اور ان کے اجتماع سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ﴾ ”بے شک ہم نے انسان کو مِلے جُلے نطفہ سے پیدا کیا“ (سورہ انسان: 2) یعنی مرد اور عورت کے اختلاط والے پانی (منی) سے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی ﷺ نے گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی۔
اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔راوی اسلام ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو استنجا کے سلسلے میں دو چیزوں کو شرمگاہ سے نکلنے والی غلاظت کو صاف کرنے کے لیے استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ یہ دو چیزیں گوبر اور ہڈی ہیں۔ گوبر سے تو اس لیے منع فرمایا کیونکہ یہ نجس ہوتا ہے یا پھر اس لیے منع کیا گیا تا کہ جنات کے چوپائے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا جیسا کہ ترمذی میں ہے کہ: ”گوبر اور ہڈیوں سے استنجاء نہ کرو، یہ تمہارے ’جنّ‘ بھائیوں کی خوراک ہیں“، جب کہ ہڈی سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے جس کے بسبب یہ نجاست کو زائل نہیں کرتی۔ ایک اور قول کی رو سے اس کی علت یہ ہے کہ بوقتِ ضرورت اسے چوسا اور چبایا جا سکتا ہے۔ ایک اور قول یہ ہے کہ یہ ممانعت اس لیے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہڈی تمہارے جنّ بھائیوں کی خوراک ہے“ یعنی وہ اس پر پہلے سے بھی زیادہ گوشت پاتے ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ممانعت اس لیے ہے کیوں کہ ہڈی زخم کر سکتی ہے۔ پھر حدیث کا اختتام استنجا کے لیے گوبر اور ہڈیوں کے استعمال کی ممانعت کی علت کے بیان کے ساتھ کیا گیا کہ ان سے استنجا کا مقصد پورا نہیں ہوتا جو کہ طہارت کا حصول ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے طہارت حاصل نہیں ہوتی“۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ سے باہر آتے تو فرماتے: "غفرانك" (اے اللہ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں)
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب قضائے حاجت یعنی پاخانہ کی جگہ سے نکلتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں تجھ سے تیری مغفرت مانگتا ہوں۔
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ان سے کہا گیا کہ تمھارے نبی تمھیں ہر چیز سکھاتے ہیں، حتیٰ کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ ہمیں آپ ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے روکا ہے، اسی طرح داہنے ہاتھ سے استنجا کرنے، تین سے کم پتھروں کے استعمال کرنے اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی روکا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم:سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: ”قد عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُم ﷺ كل شيء حتى الخِرَاءَةَ“ یعنی آپ ﷺ اپنے صحابہ کو بیت الخلا میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک، قضاے حاجت کے آداب سکھلاتے ہیں۔ اسی میں سے قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ اور پیٹھ کرنا اور داہنے ہاتھ، گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کرنا ہے۔ ہاں! ہمیں اللہ کے رسول ﷺ نے بول و براز کے وقت قبلہ رُخ ہونے سے منع فرمایا کہ قضاے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ بھی نہیں کرنا چاہیے اور پیٹھ بھی۔ اس لیے کہ یہ نماز وغیرہ میں مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ یہ سب سے محترم جہت ہے، اس کی عزت اور تکریم ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّه﴾ ”جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔“ (الحج:30). داہنے ہاتھ سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ داہنا ہاتھ پاکیزہ، محترم اور اچھے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ جن کاموں میں ذلت اور توہین کا پہلو ہوتا ہے، جیسے پاخانہ صاف کرنا تو یہ بائیں ہاتھ کے کام ہیں۔ دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ”ولا يَتَمَسح من الخلاء بيمنيه“ (اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے)۔ تین سے کم پتھر استنجا میں استعمال کرنا بھی ممنوع ہے، اگرچہ صفائی اس سے کم سے بھی حاصل ہو جائے۔ اس لیے کہ اکثر تین سے کم پتھروں سے پاکی حاصل نہیں ہوتی، تین پتھروں کی قید اس وقت ہے جب پتھروں کے بعد پانی استعمال نہ کیا جارہا ہو۔ اگر پتھروں کے بعد پانی کا استعمال بھی ہو، تو تین پتھروں سے کم پر بھی اکتفا کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت یہاں پتھروں سے مقصود نجاست کا کم کرنا ہے، مکمل طہارت حاصل کرنا نہیں۔ گوبر سے استنجا کرنا بھی ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کے جانوروں کی غذا ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ جنات کا ایک وفد آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھارے لیے ہر وہ ہڈی ہے، جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمھارے ہاتھوں میں آجائے، اس پر پہلے سے زیادہ گوشت آجاتا ہے اور ہر مینگنی یا لید تمھارے جانوروں کا چارہ ہے“۔ ہڈیوں سے استنجا کرنا بھی شریعت میں ممنوع ہے۔ اس لیے کہ یہ جنات کی خوراک ہے۔ جیسے کہ گزشتہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان سے استنجا نہ کیا کرو؛ کیوںکہ یہ تمھارے جن بھائیوں کی خوراک ہے“۔ اس طرح، حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ ہڈیوں سے استنجا نہ کرنے کی حکمت یہ ہے کہ انھیں گندہ نہ کیا جاۓ؛تاکہ انھیں بطور غذا استعمال کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ کیوں کہ جب انھیں نجاست صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جاۓ گا، ان کی غذا خراب ہو جاۓ گی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمايا :”تھو، تھو! اسے پھینک دو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقے کی چيز نہیں کھاتے؟“ ایک اور روایت میں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا): ”ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہحسن بن علی رضی اللہ عنہما نے زکوۃ کی جمع شدہ کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ تو نبى ﷺ نے فرمايا: ”تھو، تھو!“ یعنی یہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اسے منہ سے نکالنے کا حکم دیا اور فرمایا: ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔ چنانچہ آل محمد کے لیے صدقہ لينا حلال نہیں ہے کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے معزز ہیں۔ جب کہ صدقات اور زکات لوگوں کے میل کچیل ہیں اور معزز لوگوں کے لیے میل کچیل کو لینا مناسب نہیں ہے۔ جیسا کہ نبى ﷺ نے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ہم آل محمد کے لیے صدقہ جائز نہیں ہے، یہ تو محض لوگوں کا میل کچیل ہے“۔
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک زمانہ پلٹ کر اسی حالت پر آگیا جیسا اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے جن میں سے چار حرمت والے ہیں تین مسلسل؛ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، اور (چوتھا) رجب مُضَر جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ (آپ ﷺ نے پوچھا بتاؤ) یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ اس پر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ آپ ﷺ اسے کوئی اور نام دیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں (یہ ذوالحجہ ہی ہے)۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ ہم گمان کرنے لگے کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا: کیوں نہیں (یہ حرمت والا شہر ہی ہے)۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔اس پر آپﷺ خاموش ہو گئے۔ یہاں تک کہ ہمیں خیال گزرا کہ آپ ﷺ اس دن کا نام تبدیل کرکے کوئی اور نام رکھیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے؟ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں (یہ یوم النحر ہی ہے)۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاریں جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں اور اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔ خبردار! یہاں موجود شخص غیر موجود تک یہ پیغام پہنچا دے۔کیونکہ بعض وہ لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جائے اس بات کو سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں۔ کیا میں نے (احکامِ الہی کو) پہنچا دیا۔ کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہم نے جواب دیا: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! تم گواہ رہنا.
متفق علیہنبی ﷺ نے یوم النحر کو خطبہ دیا۔ یہ حجۃ الوداع کا موقع تھا۔ نبی ﷺ نے خبر دی کہ اس سال میں اتفاقاً ’نسئ‘ اللہ عزّ و جلّ کی طرف سے مقررہ حرمت والے مہینوں کے موافق ہو گئی ہے۔ کیونکہ جاہلیت میں انہیں بدل دیا گیا تھا جب کہ لوگ نسئ کا طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے حرمت والے مہینے کو حلال کر دیتے اور حلال مہینے کو حرمت والا قرار دے دیتے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے جو کہ یہ ہیں: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاول، جمادی الثانی، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذو القعدہ، ذو الحجہ۔ یہ مہینے کل بارہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس وقت سے اپنے بندوں کے لیے مہینے قرار دے رکھا ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ان بارہ مہینوں میں سے چار حرمت والے ہیں جن میں سے تین تو مسلسل آتے ہیں اور ایک الگ سے آتا ہے۔ تین مسلسل آنے والے مہینے ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے جن میں لڑنا حرام ہے اور نہ ہی ان میں یہ جائز ہے کہ کوئی کسی پر ظلم و زیادتی کرے۔ کیونکہ یہ مہینے لوگوں کے بیت اللہ کی طرف حج کے لیے جانے کے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حرمت والا قرار دیا تاکہ ان مہینوں میں جب کہ لوگ بیت اللہ کی طرف رواں دواں ہوں قتال نہ ہو۔ یہ اللہ عزّ و جلّ کی خاص حکمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اور رجب مُضَر جو جمادی الاخری اور شعبان کے مابین ہے۔ یہ چوتھا حرمت والا مہینہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اس میں عمرہ کیا کرتے تھے اور انہوں نے رجب کے مہینے کو عمرہ کے لیے اور تین مہینوں کو حج کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ چنانچہ یہ مہینہ بھی حرمت والا ہو گیا جس میں قتال کرنا حرام ہے جیسا کہ یہ ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم میں حرام ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا دن ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے یہ باتیں انہیں متوجہ اور چوکنا کرنے کے لیے پوچھیں کیونکہ معاملہ بہت بڑا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی ﷺ کا مہینے کے بارے میں پوچھنا انہیں بعید از امکان معلوم ہو رہا تھا جب کہ آپ ﷺ کو اس کا بخوبی علم تھا کہ یہ ذو الحجہ ہے۔ تاہم ادب کے تقاضے کے تحت انہوں نے یہ نہ کہا کہ یہ ذو الحجہ کا مہینہ ہے کیونکہ یہ بات سب کو معلوم تھی۔ بلکہ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔ کیونکہ انسان جب بول کر چپ ہو جائے تو لوگ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ خاموش ہو گئے۔ ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہاں تک کہ جب ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھ دیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذو الحجہ نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یہ ذو الحجہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں؟ وہ جانتے تھے کہ یہ مکہ ہے تاہم رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے یہ نہ کہا کہ یا رسول اللہ! یہ بات تو سب کو معلوم ہے، آپ اس کے بارے میں کیونکر پوچھ رہے ہیں؟ بلکہ اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہونے لگا کہ آپ ﷺ اس کا نام تبدیل کر کے کوئی اور نام رکھ دیں گے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ بلدہ نہیں؟ بلدہ مکہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، یہ بلدہ ہی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں جیسا کہ انہوں نے پہلے سوال کے جواب میں کہا تھا۔آپ ﷺ نے پوچھا: کیا یہ یوم النحر نہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ! کیوں نہیں، یہ یوم النحر ہی ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ مکہ حرام ہے، ذو الحجہ کا مہینہ بھی حرام ہے اور یوم النحر بھی حرام ہے۔یعنی یہ سب حرمت والے اور محترم ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لیے ایسے ہی حرمت والی ہیں جیسے تمہارے اس دن کی اس شہر میں اس مہینے میں حرمت ہے۔ آپ ﷺ نے ان تینوں یعنی جانوں، اموال اور عزتوں کے حرام ہونے پر زور دیا کہ یہ سب حرام ہیں۔ "الدماء" کے لفظ میں جانیں اور اس سے کمتر سب اشیاء آتی ہیں۔ اموال میں کم اور زیادہ سب قسم کے اموال آتے ہیں۔ عزتوں (کی پامالی) میں زنا، لواطت اور تہمت سب گناہ آتے ہیں اور شاید غیبت اور گالم گلوچ بھی اس میں شامل ہیں۔ مسلمان پر حرام ہے کہ وہ اپنے بھائی کی ان تین اشیاء کی حرمت کو پامال کرے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:" خبردار! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔" کیونکہ مسلمان اگر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں تو وہ کافر ہو جاتے ہیں اس لیے کہ مسلمان کے خون بہانے کو صرف کافر ہی حلال سمجھتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ موجود لوگ غیر موجود لوگوں تک یہ بات پہنچا دیں۔ یعنی جو بھی آپ ﷺ کے سامنے موجود تھا اور جس نے آپ ﷺ کا خطبہ سنا وہ باقی امت تک اسے پہنچا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بسا اوقات جس تک بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ بات کو ذہن نشین رکھتا ہے۔ اس دن جو لوگ موجود تھے انہیں یہ رسول اللہ ﷺ کی وصیت تھی اور اسی طرح قیامت تک کے لیے ہر اس شخص کو یہ وصیت ہے جو آپ ﷺ کی حدیث کو سنے۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں نے پہنچا دیا؟ کیا میں نے پہنچا دیا؟ آپ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھ رہے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں یعنی آپ نے پہنچا دیا ہے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:اے اللہ! تو گواہ رہ۔