





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”خرید وفروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے گرم بازاری تو ہو جاتی ہے لیکن برکت جاتی رہتی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: خرید و فروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو اگرچہ سچی ہی ہوں کیوں کہ بہت زیادہ قسمیں کھانے سے جھوٹ میں پڑنے کا امکان ہے۔ مثلاً انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یوں کہے: اللہ کی قسم! میں نے اس چیز کو سو میں خریدا ہے اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے اسے سو میں خریدا ہے حالانکہ اس نے اسے اسّی (80) میں خریدا ہو تو یہ اور بھی شدید ظلم ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بیع میں جھوٹ بولنے والا اور جھوٹی قسم کھانے والا ہو گا جب کہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ خرید و فروخت میں قسمیں اٹھانے سے سامان تجارت تو آناً فاناً بک جاتا ہے، تاہم اللہ تعالی اس سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ کمائی رسول ﷺ کی نافرمانی سے حاصل ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی درحقیقت اللہ ہی کی نافرمانی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملے میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے اہل خانہ سے متعلق قسم اٹھا لے، حالانکہ اس کے پورا کرنے میں ان کا نقصان ہو اور اس سے رجوع کرنا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا باعث بھی نہ ہو، پھر وہ اس قسم کو پورا کرنے پر اصرار کرے۔ وہ زیادہ گناہ گار ہوتا ہے اور اس کا جرم اس سے رجوع کر لینے اور کفارہ دینے سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اس کے حق میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے فرض کردہ کفارہ ادا کرے اور قسم پورا کرنے پر اصرار نہ کرے۔ بشرطیکہ قسم سے رجوع کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی لازم نہ آتی ہو۔ بلکہ اس کا قسم پورا کرنے پر اصرار کرنا بڑا گناہ ہے، کیونکہ اس میں اس کے گھر والوں کا نقصان ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے معاملات میں گنجائش رکھی ہے۔ صحیحین میں یہ روایت ہے: ”اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو“۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو حالتِ حیض میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لیتا ہے کہ ’’وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں اس شخص کا کفارہ بیان فرما رہے ہیں جو اپنی بیوی سے حالتِ حیض میں ہمبستری کر لے۔ اُس کا کفارہ ایک یا نصف دینار صدقہ کرنا ہے۔ اور حدیث سے حائضہ عورت سے ہمبستری کرنے کی حرمت کا علم ہوتا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اس پر کفارہ لاگو کیا ہے۔ اور یہ اس صدقہ کے واجب ہونے کی بھی دلیل ہے کیونکہ یہ گناہ کے مقابلے میں ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ نبى ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے (اس بارے میں) دریافت کیا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222)۔ ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوائے صحبت کے تم سب کچھ کرو۔ یہ بات یہودیوں تک پہنچی تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی چاہتا ہے۔ اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) صحبت نہ کر لیا کریں؟ اس پر رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ اس سے انہیں اندازہ ہو گیا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض نہیں ہوئے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔انس رضی اللہ عنہ بيان كر رہے ہیں کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو وہ اس کے ساتھ نہ کھاتے تھے اور نہ اس کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ یعنی یہودی لوگ حائضہ عورت کو نہ تو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرتے، نہ ہی اس کا جھوٹا پانی پیتے اور نہ ہی اس کے ہاتھ کا بنا کھانا کھاتے تھے، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق حائضہ عورت اور اس کا پسینہ ناپاک تھا۔ ” ولم يُجَامِعُوهُن في البيوت“ یہاں مجامعت سے مراد رہائش اختیار کرنا اور مل جل کر رہنا ہے۔ جب عورت کو حیض آتا تو یہودی اس سے میل جول نہ رکھتے بلکہ اسے گھر سے نکال دیتے تھے جیسا کہ سنن ابی داود میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے درمیان کسی خاتون کو حیض آجاتا تو اسے گھر سے نکال دیتے تھے۔ وہ نہ تو اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی گھر میں اس کے ساتھ رہتے تھے۔ ”صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے دریافت کیا“ یعنی اصحابِ رسول ﷺ کو جب یہودیوں کا حال معلوم ہوا کہ وہ مدتِ حیض میں عورتوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا۔ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وه گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے صحبت کے تم سب کچھ کر سکتے ہو“۔ شریعت نے ان کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے، انہیں چھونے، ان کے ساتھ ایک بستر میں سونے اور سوائے شرم گاہ میں وطی کرنے کے سب کچھ کرنا مباح کر دیا۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”سوائے جماع کے تم سب کچھ کرو“ اس ميں آیت کے اجمال کی وضاحت ہے۔ کیونکہ اعتزال کا لفظ مل جل کر رہنے، اکٹھے کھانے پینے اور ایک ساتھ رہنے جیسے سب معانی کو محیط ہے۔ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اعتزال سے مراد صرف اور صرف جماع (صحبت) کو ترک کرنا ہے۔ ”یہ بات یہودیوں تک پہنچی“یعنی یہودیوں تک یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو اجازت دے دی ہے کہ وہ مدتِ حیض میں اپنی بیویوں کے ساتھ سوائے وطی کے سب کچھ کر سکتے ہیں۔ تو وہ کہنے لگے کہ یہ شخص تو ہر بات میں ہماری مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے۔ یعنی جب یہ ہمیں کوئی کام کرتے دیکھتا ہے تو اس کی مخالفت کا حکم دیتا ہے اور اس کا الٹ کرنے کو کہتا ہے۔ پس وہ ہر بات میں ہماری مخالفت کرنے کے درپے رہتا ہے۔ تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے آکر کہا: یا رسول اللہ! یہودی لوگ ایسے ایسے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا ہم (ان کی مخالفت میں) عورتوں سے (ایام حیض میں) جماع نہ کرلیا کریں؟۔ یعنی اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے سامنے یہودیوں کی اس بات کا تذکرہ کیا جو انہوں نے اس وقت کہی تھی جب انہیں یہ علم ہوا تھا کہ نبی ﷺ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے۔ پھر انھوں نے آپ ﷺ سے وطی کو بھی جائز ٹھہرا دینے کے بارے میں پوچھا تاکہ یہودیوں کی ہر چیز میں مخالفت ہو سکے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ جب ہم نے عورتوں کے ساتھ میل جول رکھنے کے معاملے میں یہودیوں کی مخالفت کی ہے اور اس کی بنا پر ہم ان کے ساتھ ملتے جلتے ہیں، ان کے ساتھ سوتے اور ان کے ساتھ اکٹھے کھاتے پیتے ہیں اور سوائے جماع کے ہر چیز کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم ان سے جماع بھی کر لیا کریں تاکہ تمام امور میں ان کے مخالفت ہو سکے؟ ”تو رسول اللہﷺ کا چہرہ بدل گیا“ یعنی نبی ﷺ نے ان کے اجتہاد کی تائيد نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ غصے میں آگئے اور غصے کے آثار بھی آپ ﷺ کے چہرے پر ظاہر ہوگئے۔ کیونکہ ان کی بات شریعت کے برخلاف تھی۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ (البقرۃ: 222) ”حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو“۔ اور آپ ﷺ نے وضاحت فرما دی کہ آیت میں مذکور اعتزال سے کیا مراد ہے اور وہ یہ کہ مدت حیض میں تمہارے لیے ان کے ساتھ جماع کرنا جائز نہیں ہے۔ ”یہاں تک کہ ہمیں لگا کہ آپ ﷺ ان پر ناراض ہو گئے ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان کی بات کی وجہ سے ان پر غصہ ہو گئے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں صحابی وہاں سے نکلے تو اس کے فوراً بعد نبی ﷺ کے پاس دودھ کا تحفہ آیا۔ آپ ﷺ نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور ان دونوں کو دودھ پلایا۔ یعنی وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس سے نکلے۔ اور ان کے نکلنے کے دوران ایک شخص نبی ﷺ کے لئے بطور تحفہ دودھ لے کر آیا۔ جب یہ تحفہ لے کر آنے والا شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو بلانے کے لیے ایک آدمی ان کے پیچھے بھیجا۔ جب وہ دونوں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اظہارِ شفقت اور انہیں یہ باور کرانے کے لیے کہ آپ ﷺ ان سے راضی ہیں انہیں یہ دودھ پلایا۔ ”پس انہیں معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ ان سے ناراض نہیں ہیں“ یعنی آپ ﷺ ان سے غصہ نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ اچھی نیت کے ساتھ کہا تھا۔ یا پھر (ابتدا ميں آپ ﷺ کو غصہ آیا) لیکن وہ غصہ جاری نہ رہا بلکہ ختم ہو گیا۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کے مکارمِ اخلاق اور آپ ﷺ کے اپنے صحابہ کے ساتھ لطف و مہربانی کا برتاؤ کرنے کا ایک مظہر ہے۔
حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت ہی کثرت اور شدت سے استحاضہ کا خون آتا تھا۔ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کرنے اور آپ ﷺ کو بتانے کے لیے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں پایا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ميں ايسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، اس کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیونکہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔‘‘ حمنہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ تو اس سے زیادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لنگوٹ باندھ کر اس کے نیچے کپڑا رکھ لو‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے بھی زيادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میں تمھیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے کافی ہو گا اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھ سکو تو تم زیادہ بہتر جانتی ہو۔“ (یعنی تم اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے جو چاہو کرو)۔” چنانچہ آپ ﷺنے حمنہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: “یہ استحاضہ تو دراصل شیطانی کچوکا ہے لہٰذا تم (ہر مہینہ) اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات روز حیض کے ایام شمار کرو۔ پھر غسل کر لو اور جب تم جان لو کہ تم پاک وصاف ہوگئی ہو تو تیئیس (23) دن یا چوبیس (24) دن نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ اوراسی طرح ہر ماہ کیا کرو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں۔ اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لو تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اور گر تم قادر ہو تو روزہ رکھو۔‘‘ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ’’مجھے استحاضہ کا خون بہت زیادہ آتا تھا۔‘‘ یعنی ان کا خون بہت لمبے عرصے تک جاری رہتا اور بہت شدت اور تیزی سے نکلتا تھا۔ ’’میں رسول اللہ ﷺ سے حکم دریافت کرنے اور آپ ﷺ کو بتانے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔‘‘ ” یعنی حمنہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس یہ دریافت کرنے آئیں کہ اس کا شرعی حکم کیا ہے اور اس سلسلے میں ان پر کیا کرنا واجب ہے۔ ’’چنانچہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت اور شدت سے آتا ہے، جس نے مجھے نماز روزے سے روک رکھا ہے۔‘‘ ” یعنی وہ اس آنے والےخون کی وجہ سے نماز روزے سے رکی ہوئی تھیں اس خیال سے کہ یہ حیض کا خون ہے اور شروع میں انہیں ایسے ہی لگا تھا۔ بعد ازاں نبی ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ ان کا اس انداز میں بہنے والا خون حیض کا نہیں بلکہ شیطان کے کچوکے کا اثر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، کیوں کہ اس سے خون بند ہو جائے گا۔‘‘ یعنی روئی کا استعمال کرو بایں طور کہ اسے اپنی شرم گاہ پر رکھ کر باندھ لو تاکہ خون رک جائے۔ ’’انھوں نے کہا: وہ تواس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘ یعنی نکلنے والا خون بہت زیادہ اور شدید ہے اور روئی سے مقصد پورا نہیں ہوگا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر کپڑا رکھ لو۔‘‘ یعنی روئی کے ساتھ ساتھ کپڑا بھی رکھ لو تاکہ یہ دبیز (موٹا) ہوجائے اور اس سے خون رک جائے۔ ’’تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اس سے بھی زيادہ ہے، مجھے بہت تیزی سے خون بہتا ہے۔‘‘ یعنی خون کثرت اور زور سے بہ رہا ہے، لھٰذا وہ نہ تو روئی سے رکنے والا ہے اور نہ ہی کپڑے سے، کیونکہ وہ بہت زیادہ ہے۔ ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ یعنی دو حکموں میں سے کسی ایک کا، اور ان دونوں کی تفصیل اس طرح ہے: پہلا: ہر نماز کے لیے غسل کیا جائے۔ دوسرا: ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے پڑھی جائیں اور تیں بار غسل کیا جائے۔ ایک غسل ظہر اور عصر کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لیے اور ایک غسل فجر کے لیے۔ ’’ان دونوں میں سے تم جو بھی کر لو تمہارے لیے دوسرے کی طرف سے کافی ہو گا۔‘‘ یعنی تمہیں ان دونوں باتوں میں اختیار ہے کہ جو چاہو کر لو۔ ’’اگر تم میں ان دونوں کو کرنے کی طاقت ہے تو تم بہتر جانتی ہو۔‘‘ یعنی پہلے اور دوسرے دونوں کاموں کو کرنے کی اگر تم میں طاقت ہے تو تم اپنے بارے میں زیادہ جانتی ہو۔ بہر حال ان میں سے جو چاہو اختیار کر لو۔ ’’پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ در اصل شیطان کے کچوکے مارنے کا اثر ہے۔‘‘ یعنی شیطان کو ان کے دین، پاکیزگی اور نماز کے بارے میں انہیں اشتباہ میں ڈالنے کا موقع مل گیا یہاں تک کہ اس نے انہیں ان کی عادت بھلوا دی اور وہ اندازہ کرنے کے زمرے میں ہو گئی۔ گویا یہ شیطان کی طرف سے ایک ٹھوکر ہے۔ جبکہ یہ بات اس کے منافی نہیں کہ اس کا سبب "عاذل" نام کی ایک رگ بھی ہو جیسا کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: ’’میں ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون آتا ہے، جس کی وجہ سے میں پاک نہیں ہوتی۔ تو کیا میں نماز کو چھوڑے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ حیض نہیں بلکہ ایک رگ سے بہنے والا خون ہے۔‘‘ چنانچہ یہ کہا جائے گا کہ شیطان اس رگ پر لات مارتا ہے جس سے یہ پھٹ جاتی ہے۔ راجح یہی ہے کہ وہ حقیقت میں لات مارتا ہے کیونکہ یہ معنیٰ مراد لینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ’’چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو۔‘‘ یعنی چھے یا سات دن تک یہ سمجھو کہ تم حیض میں ہو اور ان میں نماز و روزے کو ترک کر دو۔ یہ اس اعتبار سے ہے کہ عموماً عورتوں کو چھ یا سات دن ہی حیض آتا ہے۔ ’’اللہ کے علم میں‘‘ یعنی اللہ کے حکم اور اس کے شریعت کی رو سے۔ آپ ﷺ کے فرمان: ’’چھے یا سات دن‘‘ میں (یا) بیانِ شک کے لیے نہیں ہے، بلکہ تنویع کے لیے اور یہ اس بات پر دلالت کرنے کے لیے ہے کہ بعض عورتوں کو چھے دن حیض آتا ہے اور بعض کے ایامِ حیض سات دن ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی ان قریبی رشتہ دار خواتین کو دیکھے گی جو اس کی ہم عمر ہوں اور ان کا مزاج اس سے ملتا جلتا ہو۔ (اور پھر فیصلہ کریں گی کہ ان کے ایام حیض چھے دن ہوں گے یا سات دن)۔ ’’پھر غسل کر لو اور جب تم جان لو کہ تم پاک وصاف ہوگئی ہو تو تیئیس (23) دن یا چوبیس (24) دن نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔ یہ تمہارے لیے کافی ہے۔‘‘ یعنی چھے یا سات دن گزر جائیں تو پھر حیض ختم ہو جانے کی وجہ سے تم پر غسل کرنا واجب ہو گا۔ پھر چھے یا سات دن گزرنے کے بعد جتنے دن بچیں گے جو یا تو تیئیس دن ہوں گے یا پھر چوبیس دن، وہ ایامِ طہر ہوں گے۔ ان میں تم وہ سب کچھ کرو گی جو حیض سے پاک عورتیں کرتی ہیں یعنی نماز پڑھو گی اور روزہ رکھو گی۔ تمہارے لئے ایسا کرنا کافی ہے۔ ’’اوراسی طرح ہر ماہ کیا کرو جیسا کہ حیض والی عورتیں کرتی ہیں: حیض کے اوقات میں حائضہ اور پاکی کے وقتوں میں پاک رہتی ہیں۔ ‘‘ یعنی ہر مہینے میں چھے یا سات دن حیض کے شمار کرو جیسا کہ دیگر عورتوں کے دن ہوتے ہیں۔ پھر غسل کر کے نماز پڑھو۔ اس طرح سے تمہاری مدتِ طہر اتنی ہی ہو گی جتنی عموماً دیگر عورتوں کی ہوتی ہے یعنی تیئیس یا چوبیس دن۔ ’’اور اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ ظہر کو کچھ دیر سے پڑھو اور عصر کو قدرے جلدی پڑھ لو تو غسل کر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھ لیا کرو، پھر مغرب کو ذرا دیر کر کے اور عشاء کو کچھ پہلے کر کے پھر غسل کر کے یہ دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھ لو تو ایسا کر لیا کرو، اور صبح کے لیے الگ غسل کر کے فجر پڑھو، اور گر تم قادر ہو تو روزہ رکھو۔‘‘ يعنی اگر تم میں اس بات کی قدرت ہو کہ ظہر کی نماز کو اس کے آخری وقت تک موخر کر دو اور عصر کی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لو اور اسی طرح مغرب کو اس کے آخری وقت تک موخر کر دو اور عشاء کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھ لو، جسے علماء جمعِ صوری کہتے ہیں، جب کہ فجر کی نماز کے ليے الگ سے غسل کرليا کرو، اگر تم میں ایسا کرنے کی طاقت ہو تو ایسا کرلو۔ اس طرح سے مستحاضہ عورت تین دفعہ غسل کرے گی۔ ایک غسل ظہر اور عصر کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے اور دو دو نمازوں کے مابین جمعِ صوری کرے گی۔ ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔” یعنی ظہر اور عصر کی نمازوں اور مغرب اور عشاء کی نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنا اور تمہارا تین دفعہ غسل کرنا بایں طور کہ ایک غسل ظہر اور عصر کے لئے، ایک غسل مغرب اور عشاء کے لئے اور ایک غسل فجر کے لئے مجھے زیادہ پسند ہے۔ پہلی بات ہر نماز کے لیے غسل کرنا ہے لیکن اس حدیث میں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا ذکر نہیں ہے، تاہم سنن ابو داود کی ایک اور روایت میں ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کریں۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “اگر تم میں طاقت ہو تو پھر ہر نماز کے لئے غسل کرو، ورنہ ایک غسل کے ساتھ دو دو نمازوں کو اکٹھا کر کے پڑھ لو۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر نماز کے لیے غسل کرنے میں واضح مشقت ہے اسی لیے نبی ﷺ نے دوسری صورت کے بارے میں فرمایا: ’’ان دونوں میں سے یہ دوسری بات مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘ یعنی ان دونوں میں سے یہ مجھے زیادہ پسند ہے کیونکہ یہ پہلی صورت سے زیادہ سہل اور آسان ہے۔
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے دنوں سے استحاضہ کا خون آرہا ہے اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں اور ان کے مابین وضوء کرتی رہیں۔‘‘
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا (استحاضہ کے) اس خون کے بارے میں بتا رہی ہیں جو فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو لاحق ہوا تھا اور اس نے ایک عرصے سے انہیں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا۔ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ“ آپ ﷺ کا یہ فرمانا اظہارِ تعجب کے لیے تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ان کے نماز نہ پڑھنے پر تعجب کا اظہار فرمایا حالانکہ یہ خون حیض کا خون نہیں بلکہ شیطان کا ايک کچوکا ہے، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے۔ ”انہیں چاہیے کہ وہ ایک ٹب میں بیٹھ جائیں، جب پانی کے اوپر زردی دیکھیں“ پھر نبی ﷺ نے انہیں حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کرنے کا طریقہ بتایا کہ وہ ایک ٹب (لگن) میں بیٹھ جائیں۔ اور وہ ایسا برتن ہوتا ہے جس میں کپڑے دھوئے جاتے ہیں۔ جب اس پانی کے اوپر جس ميں وہ بیٹھی ہوں زردی ديکھيں تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو چکی ہیں کیونکہ حیض کا خون سیاہ اور گاڑھا ہوتا ہے، اس کے علاوہ ہر خون استحاضہ کا خون ہوتا ہے۔ ”تو ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، اسی طرح ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے کر لیا کریں“ یعنی جب پانی پر زردی دیکھ لیں تو پھر دن رات میں تین دفعہ غسل کریں۔ ایک غسل ظہر اور عصر کی نمازوں کے لیے، ایک غسل مغرب اور عشاء کی نمازوں کے لیے اور ایک غسل فجر کی نماز کے لیے۔ ”اور ان کے مابین وضو کرتی رہا کریں“ یعنی ان (فرض) نمازوں کے مابين اگر کوئی اور نماز پڑھنا چاہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے وضو کریں جب کہ انہوں نے ایک ناقضِ وضو کو دیکھا ہے۔ اس صورت میں وہ غسل نہیں کریں گی کیونکہ غسل پنچ وقتہ فرض نمازوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ یہ غسل مستحب ہے، واجب نھیں ہے، جیسا کہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“، ہم نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:”میری رعب کے ساتھ مدد کی گئی، مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں، میرا نام احمد رکھا گیا، مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا اور میری امت کو بہترین امت بنایا گیا“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وہ کچھ دیا گیا جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دیا گیا“ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے وہ تمام باتیں جو ذکر ہوئیں ان میں سے کوئی بھی آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: ”میری رعب کی ساتھ مدد کی گئی“ یعنی دشمن کو مجھ سے خوفزدہ کر کے۔ جس نے دشمنوں کے دلوں کو چیر کر رکھ دیا، ان کی شان و شوکت کو ختم کر دیا اوران کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا‘‘۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وأعطيت مفاتيح“ یہ مفتاح کی جمع ہے جو ایک ایسے آلے کا نام ہے جس کے ساتھ (تالا وغیرہ) کھولا جاتا ہے۔ دراصل اس سے مراد وہ شے ہے جس کے ذریعے ان تالہ بند اشیاء کو نکالا جاتا ہے جن تک اس کے بغیر رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ ”زمین کے خزانے“ یہ اللہ کی طرف سے ممالک کے فتح ہونے کے وعدے کا استعارہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا نام احمد رکھا گیا“ آپ سے پہلے کسی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے بطور حفاظت تھا تاکہ اس نام سے موسوم شخص کے متعلق کمزور دل والے التباس اور شک میں مبتلا نہ ہوں کہ سابقہ کتابوں میں احمد کی صفت کے ساتھ موصوف شخص یہی ہے۔ ”وجعل لي التراب طهوراً“ یعنی مٹی کو مطَہِّرْ ( پاک کرنے والی شے) بنادیا گیا ہے جس وقت کہ پانی کا ملنا دشوار ہو۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے: ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں، ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے“۔ آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس امت کے مقام ومرتبے اور بعض امتیازی خصوصیات کی بنا پر باقی امتوں پر اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں تمام انسانوں پر تین اعتبار سے فضیلت دی گئی“ یعنی تمام سابقہ امتوں پر اللہ تعالی نے ہمیں تین خصلتوں کے ساتھ فضیلت بخشی۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ اس امت کی خصوصیات صرف تین تک محدود ہیں، کیوں کہ آپ ﷺ پر اس امت کی خصوصیات کا نزول درجہ بدرجہ ہوتا تھا اور ان کے نازل ہونے پر جو بات مناسب ہوتی، اس کے بارے میں آپ ﷺ بتادیا کرتے تھے۔ ”ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند رکھی گئیں“ وہ اس طرح کہ نماز میں ہم ایسے کھڑے ہوتے ہیں، جیسے فرشتے اپنے رب کےحضور کھڑے ہوتے ہیں، بایں طور کہ وہ پہلے اگلی صف کو پورا کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد والی صفوں کو اور صف میں باہم جڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ سنن ابی داود اور دیگر کتب ِحدیث میں اس کی تصریح آئی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا): کیا تم اس طرح سے صفیں نہیں باندھوں گے، جیسے فرشتے اپنے رب کے حضور صف بستہ ہوتے ہیں؟۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! فرشتے اپنے رب کے حضور کیسے صف بستہ ہوتے ہیں؟۔ آپ ﷺنے فرمایا: پہلے وہ پہلی صفوں کو پورا کرتے ہیں اور صف میں باہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ سابقہ امتیں ایسے نہیں کرتی تھیں، بلکہ وہ لوگ جیسے بھی ہوتے، نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ ”ساری زمین کو ہمارے لیے مسجد بنا دیاگیا اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصول طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا“ یعنی اللہ تعالی نے زمین کی تمام جگہوں کو نماز کے لیے موزوں قرار دے دیا۔ چنانچہ نمازی جہاں بھی نماز کا وقت ہو جائے، وہیں نماز ادا کر سکتا ہے اور لوگوں کو سہولت اور آسانی کے پیش نظر کسی جگہ کو نماز کی ادائیگی کے لیے مخصوص نہیں کیا گیا، بخلاف سابقہ امتوں کے۔ وہ لوگ صرف اپنے گرجا گھروں اور کلیساؤں میں نماز پڑھتے تھے۔ اسی لیے مسند احمد میں اس حدیث کی کچھ روایات میں آیا ہے کہ ”مجھ سے پہلے والے لوگ اپنے گرجا گھروں میں نماز پڑھتے تھے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”کوئی بھی نبی اس وقت تک نماز نہ پڑھتا جب تک کہ وہ اپنے محرابِ عبادت تک نہ پہنچ جاتا“۔ تاہم اس حدیث کے عموم کی ان مقامات کے ساتھ تخصیص کی گئی ہے، جن میں نماز پڑھنے سے شارع علیہ السلام نے منع فرمایا ہے، جیسے غسل خانہ، قبرستان، اونٹوں کے باڑے اور ناپاک جگہیں۔ ”اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا“ یعنی تیمم کی طرف منتقل ہونےکے لیے پانی کا نہ ملنا شرط ہے۔ اس کی دلیل بھی قرآن میں ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ ”اورتمھیں پانی نہ ملے، تو پاک مٹی کا قصد کرو“۔ اس پر علما کا اجماع ہے۔ جس شخص کو پانی کے استعمال سے کوئی ضرر پہنچتا ہو، اس کا بھی وہی حکم ہے، جو اس شخص کا ہے، جسے پانی دستیاب نہ ہو۔ ”اور آپ ﷺ نے ایک اور خصلت کا بھی ذکر فرمایا“ ما قبل گزرنے والی عبارت میں دو خصلتوں کا بیان ہے؛ کیوں کہ زمین کے بارے میں جو آیا کہ وہ مسجد ہے اور حصول طہارت کا ذریعہ ہے، یہ دونوں ایک ہی خصلت شمار ہوتی ہیں، جب کہ تیسری خصلت کا یہاں بیان نہیں ہے۔ اس کا ذکر سنن نسائی کی روایت میں ہے، جو اسی راوی یعنی ابو مالک سےمروی ہے، جو مسلم شریف کی اس حدیث کا بھی راوی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سورۂ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش تلے موجود خزانے سے دی گئی ہیں، جس میں سے نہ تو مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا اور نہ ہی میرے بعد کسی کو اس میں سے دیا جائے گا“۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن (میں موجود پانی) سے غسل جنابت کرتے اور (چلو بھرنے کے لیے) ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اور (ہمارے ہاتھ ایک دوسرے سے) ملتے تھے۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاماں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ غسل کرتے ہوئے ایک ہی برتن میں موجود پانی استعمال کرتی تھیں تاکہ حدثِ اکبر یعنی جنابت کو دور کر سکیں۔ اپنی اس شراکت کی ہیئت کو بیان کرتے ہوئے وہ فرماتی ہیں: "تختلف أيدينا فيه'' یعنی کبھی میں اپنے ہاتھ کو چلو بھرنے کے لیے برتن میں داخل کرتی اور کبھی آپ ﷺ اس سے چلو بھرنے کے لیے اپنا ہاتھ اس میں لے جاتے۔جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ”میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے اور ہم دونوں ہی اس سے چلو بھرتے“۔ جب کہ ابن حبان کی دوسری روایت میں انہوں نے اکٹھے غسل کرنے کی اس ہیئت کو بڑے دقیق انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ: ”وتَلْتَقِي“ یعنی برتن سے پانی لیتے ہوئے اور چلو بھرتے ہوئے ہمارے ہاتھ اکٹھے ہو جاتے۔ اس روایت کی بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ کبھی تو ہاتھ باری باری چُلّو بھرتے اور کبھی اکٹھے چلو بھرتے۔