





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
بُریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت پیچھے رہ جانے والوں (یعنی جہاد کے لیے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں میں سے جو شخص، مجاہدین میں سے کسی کے گھر والوں کا جانشین (نگران) بنے اور پھر اس کے ساتھ ان کے بارے میں خیانت کرے، تو اس کو قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور وہ اس کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے۔ پھر رسول اللہ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ایسی حالت میں تمہارا کیا خیال ہے؟
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔بنیادی اصول یہ ہے کہ اجنبی عورت اجنبی مردوں پر حرام ہے۔ لیکن ان مجاہدین کی عورتوں کے بارے میں حرمت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلے ہیں اور اپنی بیویوں کو پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں، اور مقیم لوگوں کو ان پر امین بناکر گئے ہیں۔ لہٰذا ان پر واجب ہے کہ مجاہدین کی بیویوں کی عزتیں پامال کرنے سے ڈریں، نہ ان کے ساتھ تنہائی میں رہیں، نہ ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کوئی بے ہودہ گفتگو کرے، کیوں کہ وہ ان پر اسی طرح حرام ہیں جیسے ان کی اپنی مائیں ان پر حرام ہیں۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے واضح فرمادیا کہ انسان کے اوپر لازم ہے کہ ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے معاملے میں خیانت نہ کرے، نہ تو ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کسی حرام چیز کے ارتکاب کی کوشش کرے۔ اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال کرنے، ان سے ہمدردی و بھلائی کرنے اور ان سے نقصان کو دور کرنے میں کوئی کوتاہی کرے۔ ”ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى“ یعنی جس شخص نے مجاہدین کی عدم موجودگی میں ان کی بیویوں پر جسارت کیا اور ان کی بیویوں کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کیا، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجاہد کو خیانت کرنے والے پر قادر بنا دے گا، چنانچہ وہ مجاہد اس خائن کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے گا اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ”فما ظنكم“ (تو تمہارا کیا خیال ہے؟)یعنی اس مقام پر مجاہد کے اس کی نیکیوں کو لینے کی خواہش اور انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یعنی ان نیکیوں میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ جائے گی، وہ سب لے لے گا۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا، جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈا گیا تھا اور کچھ بنا مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ”یا تو اس کا سارا سر مونڈ دو یا پھر سارا چھوڑ دو“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بالوں کو مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ کو بغیر مونڈے چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بچے کے ساتھ دوبارہ ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا: ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جائے اور بقیہ کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے۔ یہ ممانعت یا تو کراہت کے لیے ہے یا پھر حرمت کے لیے، لہذا اس کام سے مطلقا پرہیز کرنا ہی بہتر ہے۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی آدمی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتی پہن کر نہ چلے جب تک کہ اپنی اس جوتی کے تسمہ کو ٹھیک نہ کرالے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے مسلمان کو اس بات سے منع فرمایا کہ جب اُس کی جوتی کا ایک تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک وہ اس کو درست نہ کر لو اکیلی دوسری جوتی میں نہ چلے۔ بلکہ اس پر لازم ہے کہ ٹوٹے تسمے کو درست کرے یا پھر دوسری جوتی کو بھی اتار کر ننگے پاؤں چلے۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں شیطان سے مشابہت ہوتی ہے جیسا کہ دوسری احادیث میں اس کا ذکر آیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس (ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں) کی طرح سفید تھے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا: ”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ گھاس کی طرح سفید ہوگیے تھے۔ ثغامہ ایک قسم کا سفید رنگ کا گھاس ہے۔ جب آپ ﷺ نے انہیں اس حال میں دیکھا، تو فرمایا:”اس کو کسی اور رنگ سے بدل لو، لیکن کالے رنگ سے دور رہنا“۔ آپ ﷺ نے ان کے بالوں کی سفیدی کو تبدیل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اس کو کالا کرنے سے بچو، اس لیے کہ بالوں کو کالا کرنا انسان کو دوبارہ جوان بنانا ہے۔ یہ تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی فطرت اور اس کی سنت کے منافی ہے۔ جہاں تک باقی رنگوں کا تعلق ہے جیسے لال اور نیلا رنگ یا مہندی اور وسمہ ملے ہوئے رنگ، تو ان میں کوئی حرج نہیں۔ اگر کالےکے علاوہ ایسا رنگ ہو جو کالے اور سُرخ کے درمیان ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ممانعت صرف خالص کالے رنگ کی ہے۔ صحیح مسلم میں انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مہندی اور وسمہ لگایا کرتے تھے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفید بال نہ اکھاڑو کیوں کہ وہ قیامت کے دن مسلمان کا نور ہوں گے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے مسلمان کو سفید بال اکھاڑنے سے منع فرمایا چاہے وہ اس کے سر کے بال ہوں یا داڑھی کے ہوں یا جسم کے کسی اورحصے کے۔ یہ سفید بال اس شخص کے لئے روز قیامت نور ہوں گے۔
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی مرنے والا مر جاتا ہے تو اس پر رونے والے کھڑے ہوکر کہتے ہیں: ہائے پہاڑ! ہائے میرے سردار! یا اس طرح کے اور الفاظ۔ تو اس مرنے والے پر دو فرشتے متعین کردیے جاتے ہیں جو اسے سینے پر مکے مارتے ہیں (اور کہتے ہیں): کیا تو ایسا ہی تھا؟“
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔مسلمان کی جب وفات ہوتی ہے اور كوئی اس کی میت پر کھڑا ہو کر روتا اور نوحہ کرتا ہے اورجھوٹ موٹ ہی کہتا جاتا ہے کہ مرنے والا اس کے لئے پہاڑ کی مانند تھا جس کی طرف وہ مصائب میں رجوع کیا کرتا تھا اور یہ کہ وہ اس کا سہارا اور پناہ گاہ تھا یا اس طرح کی دیگر باتیں کرتا ہے تو اس مرنے والے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کے سینے پر مارتے ہوئے اس سے مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں : کیا تم ایسے ہی تھے جیسے کہا جا رہا ہے؟
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسجد وں میں پیشاب اور نجاست مناسب نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ عز وجل کے ذکر، نماز اور قرآن پڑھنے كے لئے بنائی گئی ہیں“۔ یا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث کے پیچھے ایک قصہ ہے جسے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں تھے۔ اسی دوران ایک اعرابی آیا اور اس نے اٹھ کر مسجد ہی میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اسے منع کرنے کے لیے اسے آوازیں دیں کہ: نہ، نہ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انھوں نے اسے جھڑکا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اس کا پیشاب نہ روکو، اسے کرنے دو۔ اس پر انھوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ان مساجد میں پیشاب اور گندگی کرنا مناسب نہیں۔۔۔۔۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ مساجد میں گندگی اور نجاست پھیلانا جیسے قضائے حاجت کرنا، کوڑا کچرا پھینکنا اور آوازیں بلند کرنا مناسب نہیں بلکہ یہ تو نماز، قرآن اور ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں۔ چنانچہ مومن مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مساجد کا احترام کرے۔ یہاں انتہائی ادب کے ساتھ رہے کیوں کہ مساجد اللہ کے گھر ہیں۔
بُریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔بُریدۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے؟ یعنی وہ اپنے گمشدہ سُرخ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا کہ جو اسے جانتا ہو وہ اسے اس کے بارے میں بتلائے۔ ”تجھے وہ نہ ملے“ یعنی اللہ کرے کہ تجھے تیرا اونٹ نہ ملے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔ ”کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے بدعا کی وجہ بھی بتلائی کہ اللہ تعالیٰ کے گھر دنیا کے امور یعنی گمشدہ چیزوں اور خرید و فروخت کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ یہ نماز ، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور آخرت کی طلب میں بنائے گئے ہیں۔
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن، جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو، گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث منسوخ ہے جیسا کہ امام ابو داود نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ: معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ کے دوران ”حبوہ“ سے منع فرمایا ہے۔ ”حبوہ“ کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی رانوں کو اپنے پیٹ سے اور پنڈلیوں کو رانوں سے ملا لے، اور خود کو تسمے یا پگڑی وغیرہ سے باندھ لے۔ نبی ﷺ نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران اس طرح بیٹھنے سے دو وجہوں سے منع فرمایا ہے: اول: اس طرح بیٹھنے سے اسے نیند آ سکتی ہے اور یوں وہ سو جانے کی وجہ سے خطبہ سننے سے محروم ہو جائے گا۔ دوم: اس سے ستر کے کھل جانے کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ زیادہ تر عرب لوگوں پر ایک ہی کپڑا ہوتا تھا۔ چنانچہ اگر وہ حبوہ باندھتا تو اس کا ستر کھل جاتا۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس سے بالکل ہی منع فرما دیا۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں اس طرح حبوہ باندھ کر بیٹھے کہ اس کی شرم گاہ ظاہرہو۔ یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے جس نے ایک کپڑا پہنا ہوا ہے اور یہ حکم ہر وقت میں لاگو ہوگا۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حبوہ باندھنا عربوں کی ان کی مجلسوں میں ایک عادت تھی، اگر اس کے ساتھ اس کی کچھ شرم گاہ ظاہر ہو جائے تو وہ حرام ہے۔ البتہ اگر شرم گاہ کے کھلنے کا خوف نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اگر ممانعت کسی معقول علت کی بنا پر ہے اور وہ علت ختم ہوگئی تو ممانعت بھی ختم ہو جائے گی۔ بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں عباد بن تمیم کی حدیث سے ثابت ہے جسے وہ اپنے چچا کے واسطے سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔