





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مہینے کے تین روزے رکھو، تو تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کرو“۔ قتادہ بن ملحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ہمیں ایّامِ بِیض یعنی تیرہویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے رکھنے کا حکم کرتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایّامِ بِیض کے روزے حضر و سفر دونوں میں رکھا کرتے تھے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ابو ذر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”إذا صمت“ یعنی اے ابو ذر!جب تم روزے رکھو۔ ”من الشهر“ یعنی کوئی بھی مہینہ ہو، ”ثلاثا“ یعنی تین دنوں تک تم نفلی روزے رکھنا چاہو۔ ”فَصُمْ ثلاث عشرة، وأربع عشرة، وخمس عشرة“ یعنی مہینے کی تیرہویں تاریخ اور اس کے بعد دو دن کا روزہ رکھا کرو۔ ان تین ایام کو ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان سے مراد روشن راتوں کے دن ہیں، اس لیے کہ یہ راتیں چاند کی وجہ سے روشن ہوتی ہیں۔ ان دونوں کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایامِ بیض میں افطار نہیں کیا کرتے تھے۔ ایّامِ بیض یعنی روشن راتوں کے دن، یہ تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں راتیں ہیں، اس لیے کہ ان راتوں میں چاند رات کے ابتدا سے انتہا تک روشن رہتا ہے، بنابریں ان میں اللہ کے شکر کے طور پر روزہ رکھنا مناسب ہے، ”سفر اور حضر میں“ یعنی آپ ﷺ نے سفر اور حضر دونوں میں روزوں کا اہتمام کیا۔ ان میں روزے رکھنا سنتِ مؤکدہ ہے، آپ ﷺ مہینے میں ایامِ بیض کے روزوں کو ترجیح دیتے، اس لیے کہ یہ مہینے کے درمیان کے روزے ہیں اور کسی بھی چیز کا درمیانی حصہ سب سے معتدل ہوتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب نماز کے لیےاذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے یہاں تک کہ اذان نہ سن سکے، جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے، پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے: فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، وہ چیزیں جو اس سے پہلے اسے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے“۔
متفق علیہجب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگتا ہے اور اذان کی جگہ سے بھاگ کر دور نکل جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سنے۔ بظاہر شیطان جان بوجھ کر ہوا خارج کرتا ہے تاکہ وہ اپنی اس نکلنے والی آواز کو سننے میں مشغول ہوکر مؤذن کی آواز سننے سے غافل ہوجائے، یا وہ تحقیر کرتے ہوئے ایسا کرتا ہے جیسے بیوقوف لوگ کرتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ بالقصد ایسا کرتا ہے تاکہ وہ نماز کے مناسب چیز طہارت (پاکیزگی) کا مقابلہ حدث (ناپاکی) کے ذریعہ کرے۔ اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اذان کی آواز سن کر وہ بہت خوفزدہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ آواز نکلتی ہے۔ ” جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے، پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگتا ہے“ یعنی اذان یا اقامت مکمل اور ختم ہو جائے۔ ”حَتَّى يَخْطِرَ“ یعنی وسوسے ڈالتا ہے۔ اس جملے کی اصل خطر البعير بذنبه ہے، یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹ اپنی دُم کو حرکت دے کر رانوں پر مارتا ہے۔ شیطان انسان کو گمراہ کرنے کے لیےآتا ہے۔ اذان کے کلمات سن کر شیطان اس لیے بھاگتا ہے کیونکہ وہ کلمۂ توحید، اسلامی عقائد کے اعلان اور دینی شعائر کے قیام کو دیکھتا ہے، نیز اللہ تعالیٰ کے ذکر کو سننا ناپسند کرتا ہے۔ اور یہی مطلب اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ﴾ "وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے“ کا یے، یعنی جو اللہ کے ذکر کے وقت پیچھے ہٹ جاتا، چھُپ جاتا اور دور نکل جاتا ہے۔ ”بَيْنَ المَرْءِ وَنَفْسِهِ“ یعنی نماز کے دوران شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور کہتا ہے: فلاں بات یاد کر، فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر، ”وہ چیزیں جو اس سے پہلے اسے یاد نہ تھیں“ یعنی ایسی باتیں جنہیں نمازی اپنی نماز شروع کرنے سے پہلے یاد نہیں کیا تھا۔ ”یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے“ یعنی بھول جاتا ہے اور اسے خیال نہیں رہ جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی ہے، شیطان نماز کے دوران آتا ہے باوجود اس کے کہ نماز میں قرآن بھی پڑھا جاتا ہے؛ کیوں کہ نماز کا اکثر حصہ اللہ تعالیٰ سے مناجات اور رازدارانہ ہوتا ہے۔ لہٰذا شیطان نمازی کے دل میں وسوسے ڈال کر اس کی نماز یا خشوع خراب کرتا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اذان کے وقت شیطان اس لیے بھاگتا ہے تاکہ قیامت کے دن وہ انسان کے لیے گواہی دینے پر مجبور نہ ہو جیسا کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے۔
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا ’ہاں‘ ۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ مہینے کے کس حصے میں روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ اس کی فکر نہیں کیا کرتے تھے کہ مہینے کی کن تاریخوں میں روزے رکھیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔معاذہ عدویہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’ہاں‘۔ یعنی کم از کم آپ ﷺ مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔ ”میں نے پوچھا کہ وہ مہینے کے کس دن روزہ رکھا کرتے تھے“ اس میں ہفتے کے دنوں سے احتراز ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ آپ ﷺ مہینے کے ابتدائی حصے میں روزہ رکھا کرتے تھے یا پھر اس کے درمیانی یا آخری حصے میں اور پہ درپہ رکھا رکھا کرتے تھے یا پھر الگ الگ؟۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ ﷺ مہینے کے دنوں کو متعین کرنے کی فکر نہیں کیا کرتے تھے بلکہ بلا تخصیص روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ ثواب ہر صورت میں ملتا ہے چاہے کوئی بھی دن ہو۔ یعنی آپ ﷺ اپنی مرضی سے روزے رکھا کرتے تھے کیونکہ آپ ﷺ کی مشغولیت ایسی ہوتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ اس بات کی رعایت نہیں کرسکتے تھے یا پھر آپ ﷺ ایسا بیان جواز کے لئے کرتے تھے۔ بہرطور جیسے بھی رکھیں آپﷺ کے حق میں وہ افضل ہی ہیں۔
شریح بن ہانی بیان بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھنے آیا (کہ اس کی مدت کتنی ہے؟)، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابن ابی طالب کے پاس جا کر پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے (موزوں پر مسح کرنے کی مدت)تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔شریح بن ہانی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کی مدت کے بارے میں استفسار کے لئے آئے۔ یہ استفسار اس وقت ہوا جب کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا؛ کیونکہ وہ مسح کی سنت کو زیادہ جاننے والے تھے۔ شریح ابن ہانی کہتے ہیں کہ: ”ہم نے ان سے مسح کے بارے میں پوچھا“یعنی اس کی مدت کے بارے میں دریافت کیا۔ مسح کا معنی ہے عضو پر گیلا ہاتھ پھیرنا۔ خُف (موزہ) چمڑے سے بنا جوتا ہوتا ہے جو ٹخنوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور ’جَورَب (پائتابہ) کسی بھی شے سے بنے ہوئے پاؤں کے غلاف کو کہتے ہیں چاہے وہ بال کا ہو یا اون کا، چاہے وہ موٹا ہو یا پتلا، یہ ٹخنوں سے اوپر تک ہوتا ہے اور سردی سے بچاؤ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مسح کرنے میں جورب کا حکم بھی وہی ہے جو خُف کا ہے۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ اس میں جمہور علماء کے مسلک کی دلیل ہے کہ مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور مقیم کے لئے ایک دن اور ایک رات ہے۔ مسافر کی مدت زیادہ اس لیے رکھی گئی ہے کیونکہ سفر کی مشقت کی وجہ سے وہ مقیم کی بنسبت رخصت کا زیادہ حق دار ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو اپنی اور رسول ﷺ کی بیتی سناؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور، فرمایا: نبی ﷺ میرے پاس میری باری کی رات میں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اوڑھ لی اور جوتے اتارے اور ان کو اپنے پاؤں کے پاس رکھ دیا اور اپنی چادر کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا اور لیٹ گئے اور آپ ﷺ اتنی ہی دیر ٹھہرے کہ آپ ﷺ نے گمان کرلیا کہ میں سو چکی ہوں، آپ ﷺ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکلے پھر اس کو آہستہ سے بند کردیا، (یہ دیکھ کر) میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہنا اور آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلی یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور بہت لمبی مدت تک کھڑے رہے، پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار اٹھایا اور پھر آپ ﷺ واپس لوٹے، میں بھی لوٹی آپ ﷺ تیز چلے تو میں بھی تیز چلنے لگی، آپ ﷺ دوڑے تو میں بھی دوڑی، آپ ﷺ (گھر) پہنچے اور میں بھی پہنچی گئی، میں آپ ﷺ سے سبقت لے گئی اور داخل ہوتے ہی لیٹ گئی، آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! پھر پورے قصہ کی خبر میں نے آپ ﷺ کو دے دی، فرمایا میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے، جب تو نے (مجھے جاتے ہوئے) دیکھا، (انہوں نے) مجھے پکارا اور تم سے چھپایا تو میں نے بھی تم سے چھپانے ہی کو پسند کیا اور وہ تمہارے پاس اس لیے نہیں آئے کہ تم نے اپنے کپڑے اتار دیے تھے اور میں نے گمان کیا کہ تم سو چکی ہو اور میں نے تمہیں بیدار کرنا پسند نہ کیا، میں نے یہ خوف کیا کہ تم گھبرا جاؤ گی، جبرائیل نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور ان کے لیے مغفرت مانگیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں جو رسول ﷺ کے ساتھ پیش آیا ،یہ واقعہ اس رات کا ہے جب ان کے یہاں آپ ﷺ کی باری تھی، فرمایا: ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تھے کہ آپ ﷺ نے کروٹ لی اور اپنی چادر اور اپنی جوتی اپنے پاؤں کے آگے رکھی اور پھر لیٹ گئے اور جب یہ گمان ہو گیا کہ میں سو گئی ہوں، آپ ﷺ نے اپنی چادر آہستہ سے لی، تاکہ مجھے پتہ نہ چلے اور آہستہ سے جوتی پہنی، اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے اور پھر آہستہ سے اس کو بند کر دیا۔ آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا تاکہ میں بیدار نہ ہو جاؤں اور اکیلے چلے جائیں تاکہ مجھے رات کی تاریکی میں اکیلے رہتے ہوئے خوف نہ محسوس کریں۔ عائشہ ضی اللہ عنہا نے بھی اپنے لباس زیب تن کیے دو پٹہ سر پر اوڑھا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ بقیع پہنچے، جو مدینہ کا قبرستان ہے اور دیر تک کھڑے رہے، پھر دعا کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ تین بار اٹھائے اور پھر واپس گھر آنے کے لیے پلٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تیزی سے پلٹیں، نبی ﷺ تیزی سے چلنے لگے میں بھی تیزی سے چلنے لگی، پھر آپ ﷺ دوڑنے لگے اور میں بھی دوڑی اور گھر آپ سے پہلے پہنچ کر لیٹ گئی آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے عائشہ! تجھے کیا ہوگیا ہے؟ کہ تمہارا سانس پھول رہا ہے“، یعنی اے عائشہ! کیا ہوا تم کو ، تمہارے تیز چلنے کی وجہ سانس پھولا ہوا ہے جس کی وجہ سے بات کرنے میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے۔ ”رابِية“ یعنی پیٹ پھولا ہوا ہونا، میں نے کہا: کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم بتادو ورنہ مجھے لطیف وخبیر (باریک بین اور انتہائی باخبر) یعنی اللہ تعالیٰ خبر دے دے گا، چنانچہ جو کچھ ہوا تھا میں نے بتا دیا، فرمایا اچھا تو میں اپنے آگے آگے جو سیاہ سی چیز دیکھ رہا تھا وہ تم تھیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر اس طرح مارا کہ مجھے تکلیف ہوئی، پھر فرمایا تم نے خیال کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار لیں گے؟ یعنی کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے کہ تمہارے پاس رات گزارنے کے وقت دوسری ازواج کے یہاں چلا جاؤں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ (کسی بات کو) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کو جانتا ہے، یعنی جو کچھ بھی لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالی اس سے خوب باخبر ہے، جب آپ رضی اللہ عنہا نے یہ جملہ کہا تو گویا اپنے تئیں اس خیال کی تصدیق کر دی، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے کپڑے نکال کر نیند کے لیے تیار ہو چکی تھیں، نبی ﷺ نےسمجھا کہ وہ سو چکی ہیں اور یہ ناپسند کیا کہ انہیں بیدار کر دیں کہ وہ رات کی تاریکی میں اکیلے گھبرا نہ جائیں، جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کریں چنانچہ نبی ﷺ اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے نکلے اور بقیع پہنچ کر اہل بقیع کے لیے مغفرت طلب کی اور ان کے حق میں دعا کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں ان کے حق میں (دعا کے لیے) کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہو: ”السَّلَامُ عَلَی أَهْلِ الدِّيَارِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ“ یعنی کہو سلام ہو ایمان والے گھر والوں پر اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اور ہم ان شاء اللہ ضرور تم سے ملنے والے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک برتن لے کر چلتے تھے جو آپ کے ﷺ قضاء حاجت اور وضو کے کام آتا تھا، ایک بار یہی برتن لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺکے پیچھے جا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کون آرہا ہے؟ میں نے کہا میں ابوہریرہ، آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ، میں ان سے استنجا کروں گا، اور ہڈی و گوبر نہ لانا، چنانچہ میں چند پتھر اپنے کپڑے میں رکھ کر لایا اور آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا، پھر میں وہاں سے لوٹ آیا ، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ فارغ ہوگئے تو میں آپ ﷺ کے ساتھ چلا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہیں اور میرے پاس نصیبین (یہ شام اور عراق کے درمیان مشہور قصبہ ہے) کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور وہ بہت اچھے جن تھے، چنانچہ انہوں نے مجھ سے توشہ مانگا، میں نے اللہ سے ان کے لیے یہ دعا کی کہ جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انہیں اس پر سے کھانا ملے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ چلتے تھے، وہ آپ ﷺ کے لیے ایک برتن لے کر چلتے تھے جس میں پانی ہوا کرتا تھا جو آپ ﷺ کے قضاء حاجت اور وضو کے کام آتا۔ ایک بار یہی برتن لیے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آپﷺکے پیچھے جا رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا کون آرہا ہے؟ انہوں نے کہا میں ابوہریرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے چند پتھر تلاش کر کے لے آؤ تاکہ آپ اُن سے استنجا کریں، اور ہڈی و گوبر نہ لانا، چنانچہ میں چند پتھر اپنے کپڑے میں رکھ کر لایا اور آپ ﷺ کے پاس رکھ دیا، پھر میں وہاں سے لوٹ آیا ، یہاں تک کہ جب نبی ﷺ فارغ ہوگئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ! ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:یہ دونوں چیزیں جنوں کی خوراک ہیں۔ اور میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا (نصیبین:یہ شام اور عراق کے درمیان مشہور قصبہ ہے) اور نبی ﷺ نے ان کی بہت تعریف کی تھی اور انہوں نے نبی ﷺ سے توشہ مانگا۔میں نے اللہ سے ان کے لیے یہ دعا کی کہ جب یہ کسی ہڈی یا گوبر پر سے گزریں تو انہیں ان پر سے کھانا ملے۔ اور صحیح مسلم میں اس کی تقیید آئی ہے: تمہارے لیے ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے وہ تمہارے ہاتھ میں آتے ہی اس پر وافر مقدار میں گوشت چڑھ جائے گا، اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج کے ڈھل جانے سے آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جانے تک (یعنی) عصر کا وقت داخل ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک، مغر ب کا وقت سرخی غائب ہونے تک، عشا کی نماز کا وقت آدھی رات تک اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک رہتا ہے، جب تک سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔ جب سورج طلوع ہو نے لگے تو نماز سے رک جاؤ؛ کیوں کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عبد اللہ بن عمرو سے کی حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ اوقات نماز بیان کر رہی ہے: اولاً: ظہر کا وقت: اس کا نام ظہر اس لیے رکھا گیا ہے؛ کیوں کہ اس کی ادائیگی دوپہر میں کی جاتی ہے۔ یہی راجح ہے۔ یہاں وقت سے مراد اول وقت ہے۔ ”جب سورج ڈھل جائے“ یعنی جب سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی طرف چلنا شروع کردے۔ اس کا اندازہ سایۂ اصلی کے مشرق کی سمت بڑھنے سے لگایا جا سکتا ہے۔ آدمی کا سایہ اس کی لمبائی جیسا ہو جائے یعنی اس کے قریب، عصر کے وقت تک۔ ثانیاً: آپ ﷺ نے فرمایا: عصر کا وقت آدمی کا سایہ اس کے برابر ہونے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک بلا کراہت جاری رہتا ہے، جب تک سورج زرد نہ ہو جائے۔ ”ما لم تّصْفَرَّ الشمس“ اس سے مراد وقت اختیار ہے جیسا کہ صحیحین میں رسول اللہ ﷺ سے وارد ہے کہ ”جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پالی، اس نے عصر کو پا لیا“۔ یعنی ادائیگی کے اعتبار سے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ”عصر کا وقت اس وقت تک ہے، جب تک سورج غروب نہیں ہوتا“۔ مسلم کی روایت ہے کہ ”جب تک سورج زرد نہیں ہوتا اور اس کا پہلا سینگ نہیں گر جاتا“۔ ثالثاً: مغرب کی نماز کا وقت؛ لفظِ صلاۃ کا ذکر کچھ جگہوں پر کیا گیا ہے اور کچھ جگہوں پر اسے حذف کر دیا گیا ہے؛ تاکہ دونوں اطلاقات کا جواز ملحوظ رکھا جائے۔ جب تک شفق ختم نہیں ہوجاتا۔ شفق سے مراد و ہ سرخی ہے، جو سورج کے غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک دراز رہتا ہے۔ اگر شفق کا بعض حصہ غائب ہو گیا، تو عشا کا وقت شروع نہیں ہو گا، جیسا کہ سورج کا بعض حصہ غروب ہو جانے پر مغرب کا وقت شروع نہیں ہوتا۔ رابعاً: نماز عشاء کا وقت؛ بالاجماع عشاء کا وقت غروب شفق سے لے کر نصف رات تک رہتا ہے۔ یہاں بھی مراد وقت اختیار ہے۔ ورنہ وقت جواز طلوع فجر تک رہتا ہے۔ خامسا: صبح کی نماز کا وقت فجر کے طلوع ہونے پر شروع ہوتا ہے یعنی طلوع صبح صادق سے۔ جب تک سورج کا کچھ حصہ طلوع نہ ہو جائے۔ جب سورج طلوع ہونا شروع ہو جائے، تو نمازکی ادائیگی سے رک جاؤ۔ اس لیے کہ سورج شیطان کے سر کی دو جانبوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ یہ اس لیے کہا گیا ہے کہ شیطان طلوع آفتاب کے وقت کے انتظار میں رہتا ہے اور سورج کے سامنے، اس کی پرستش کرنے والوں کی طرف رخ کرکے سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ تاکہ سورج کے لیے سجدہ گزاروں کے سجدے اس کی عبادت میں تبدیل ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے امت کو اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمادیا؛ تاکہ اللہ کے عبادت گزاروں کی نماز، شیطان کے عبادت گزاروں کی عبادت سے الگ وقت میں ہو۔
رافع بن خدیج انصاری اوسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز نبی ﷺ کے ساتھ ادا کرتے اور جب ہم میں سے کوئی واپس پلٹتا تو (ابھی اتنا اجالا باقی ہوتا کہ) وہ اپنے تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ سکتا تھا۔
متفق علیہحدیث شریف اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ نبی ﷺ اکثر اوقات نمازِ مغرب کو اس کے اوّلِ وقت میں ادا کیا کرتے تھے۔ چنانچہ واضح ہوا کہ یہی سنت ہے۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نماز پڑھ لیتے اور ابھی تک وہاں اتنی روشنی ہوتی کہ وہ اس میں اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ لیا کرتے تھے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”جس نے طلوع آفتاب سے پہلے فجر کی ایک رکعت پا لی تو اس نے نمازِ فجر پا لی اور جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لی تو گویا اس نے عصر کی نماز پا لی“۔
متفق علیہاس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو دو نمازوں، نماز فجر اور عصر کے آخری وقت کی نشاندہی فرمائی ہے۔ آپﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ جس نے ایک رکعت پا لی یعنی جس نے نماز فجر شروع کی اور طلوع آفتاب سے پہلے پہلے رکوع سے اٹھ گیا تو اس کے وقت میں ایک رکعت کو پا لینا وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے نماز فجر اپنے وقت میں ادا کی۔ اسی طرح جس نے غروب آفتاب سے پہلے پہلے نمازِ عصر کی ایک رکعت پا لی تو اس کے وقت میں ایک رکعت کو پا لینا ایسے ہی ہے جیسے اس نے عصر کی نماز کو اپنے وقت میں ادا کی۔