





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ سے منہ نہ پھیرو (یعنی اپنے نسب کا انکار نہ کرو)، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا، اس نے کفر کیا“۔
متفق علیہجو شخص جان بوجھ کر حقیقی باپ سے اپنے نسب کا انکار کرتا ہے، وہ کفر اصغر کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس سے مراد حقیقی کفر نہیں ہے، جس کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہے گا؛ بلکہ یہ حقیقی کفر سے فروتر کفر ہے۔ اس پیرائے میں اس فعل کے حرام ہونے اوراس کی سخت قباحت کا بیان ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مال غنیمت لے کر صحیح و سالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی (یعنی اسی دنیا میں ) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی ہوئے یا شہید کر دیے گیے تو ان کا پورا اجر باقی رہا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث میں دو احتمال ہیں: پہلا احتمال: ہر وہ لشکر جس کی دشمنوں سے جنگ ہوئی اور وہ اس میں بچا رہا اور مال غنیمت بھی حاصل کیا تو اس کا اجر اس لشکر سے کم ہوگا جو صحیح سالم نہیں رہا یا اگرصحیح سالم رہا بھی تو اسے مال غنیمت حاصل نہ ہوا۔ امام نووی نے اسی احتمال کو ترجیح دی ہے۔ دوسرا احتمال: یہ حدیث غنیمت کے حلال ہونے اور اس بات کی دلیل ہے تاہم اس سے اجر میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ بس اس میں ہوتا یہ ہے کہ اجر کا کچھ حصہ جلدی مل جاتا ہے۔ باقی مال غنیمت حاصل کرنے والے یا حاصل نہ کرنے والے دونوں برابر ہیں تاہم مال غنیمت پانے والے کو اس کا دو تہائی اجر جلدی مل جاتا ہے جب کہ کل کے اعتبار سے وہ دونوں برابر ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص کو جسے مال غنیمت نہیں ملتا اسے اتنا اجر بطور عوض عطا فرمائے گا جتنی مقدار میں وہ غنیمت سے محروم رہا ہوگا اور اللہ جسے چاہتا ہے بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔ ابن عبد البر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان بردہ (غلام یا لونڈی) کو غلامی سے نجات دے گا، اللہ تعالٰی اس کے ہر عضو کو اس بردہ کے ہر عضو کے بدلے، دوزخ کی آگ سے نجات دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو اس بردہ کی شرم گاہ کے بدلے (نجات دے گا)“۔
متفق علیہاس حدیث میں مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کرے گا، وہ اپنا پورا بدن جہنم کی آگ سے آزاد کرا لے گا۔ نیز واضح ہو کہ مسلمان غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرنے میں مسلمانوں کی عزت ہے، بایں طور کہ ان سے غلامی کی ذلت دور ہو جاتی ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے راستے ميں ايک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالی اس کے اور جہنم کی آگ کے درميان آسمان اور زمين کے درمیانی فاصلے کے بقدر خندق ڈال ديتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو محض اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے نجات دیتے ہوئے اسے جہنم سے اتنا دور کردے گا جتنا کہ آسمان, زمین سے دور ہے۔
ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی میت کو غسل دے اور اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالی اسے چالیس مرتبہ معاف فرمائے گا“۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس شخص کی فضیلت کا بیان ہے جو میت کو غسل دیتا ہے اور اس کے کسی عیب کو دیکھ کر اس پر پردہ ڈالتا ہے۔ میت کی کسی ناپسندیدہ حالت کو دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ جو اس کی حالت سے تعلق رکھے اور دوسرے وہ جو اس کے جسم اور بدن سے تعلق رکھے۔ پہلی قسم جیسے نہلانے والا دیکھے کہ میت کا چہرہ تبدیل ہوگیا ہے، کالا اور بدصورت ہوگیا ہے، عموماً یہ اس کے بُرے خاتمے کی علامت سمجھی جاتی ہے، اللہ کی پناہ، سو نہلانے والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ لوگوں کو یہ کہتا پھرے کہ میں نے اس شخص کو اس حالت میں دیکھا، اس لیے کہ یہ اس کے عیوب کو بیان کرنا ہے، حالانکہ یہ میت اپنے رب کے ہاں چلا گیا ہے اور عنقریب وہ اپنے عدل و فضل کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ دوسرے یہ کہ نہلانے والا میت کی پیٹھ پر کوئی عیب دیکھے جسے وہ اپنی زندگی میں لوگوں سے چھُپاتا رہا، تو اس عیب کو چُھپانے والے کے لیے اجرِ عظیم چالیس مرتبہ معافی کی صورت میں ملے گا۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”'جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبر گیری نہ کی تو اللہ روز قیامت سے پہلے اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں جہاد پر نکلنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس شخص کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے آخرت سے پہلے دنیا ہی میں سخت سزا کی وعید ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر مجاہدین کی مال کی صورت میں اعانت نہیں کرتا یا ان کے اہل و عیال کی خبرگیری اور ان کی حفاظت کرکے ان کی مدد نہیں کرتا۔ جو شخص ان تمام امور کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے دین کی نصرت میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے سخت مصائب میں مبتلا ہوتا ہے۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں سکھائے ہوئے کتوں کو بسم اللہ پڑھ کر( شکار پر )چھوڑتا ہوں اور وہ شکار کو روک کر رکھتے ہیں۔ (تو اس بارے آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟)آ پ نے فرمایا: اگر تم نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو وہ جو شکار روک کر رکھے اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: اگر کتے شکار کو مار ڈالیں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ( ہاں ) اگر چہ مار ڈالیں۔ جب تک اس کے ساتھ (شکار کرنے میں) دوسرا کتا شریک نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ ہم بے پر کے تیر یا لکڑی سے شکار کرتے ہیں۔ (اس کے بارے کیا خیال ہے؟) آپ نے فرمایا کہ اگر ان کی دھاراس کو زخمی کرکے پھاڑ ڈالے، تو کھاؤ، لیکن اگر ان کے عرض سے شکار مارا جائے، تو اسے نہ کھاؤ۔ (یعنی وہ مر دار ہے۔) عدی سے شعبی کی روایت بھی اسی جیسی ہے۔ اس میں ہے: الا یہ کہ کتا اس میں سے کھالے، اگر اس نے کھالیا، تو پھر نہ کھاؤ؛ کیوں کہ یہاں یہ ڈر ہے کہ اس نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہو۔ اسی طرح اگر اس کے ساتھ دیگر کتے بھی مل جائیں، تو بھی نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، باقیوں پر نہیں۔ اسی روایت میں یہ بھی ہے: اگر تمنے اپنے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا اور اس نے تمھارے لیے شکارے روکے رکھا اور تم نے اسے زندہ پایا، تو اس کو ذبح کر لو اور اگر اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اس نے مار دیا ہو، لیکن اس میں سے کھایا نہ ہو، تو بھی اس کو کھا لو؛ کیوں کہ کتے کا پکڑنا ذبح کرنے کے حکم میں ہے۔ اس میں یہ بھی ہے: جب تیر چلاؤ تو بسم اللہ پڑھ لو۔ اس میں یہ بھی ہے: اگر وہ (شکار) تم سے ایک یا دو دن -اور ایک روایت کے مطابق دو یا تین دن- غائب رہا - اور اس پر تمھارے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی نشان نہ ہو، تو اگر چاہو تو کھا سکتے ہو۔ البتہ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تجھے یہ معلوم نہیں کہ اسے پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے موت آئی ہے یا تیرا تیر لگنے سے؟
متفق علیہعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سدھائے ہوئےکتوں کے شکار کے بارے میں پوچھا، جن کو مالک نے شکار کے لیے سدھا رکھا ہو، تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کو چھوڑتے وقت 'بسم اللہ' پڑھی تھی اور ان کے ساتھ (شکار کے عمل میں) کوئی دوسرا کتا شریک نہیں ہوا، تو ان کے پکڑے ہوئے شکار کو کھا لو۔ اگر ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک ہو گیا، تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر 'بسم اللہ' پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں۔ اسی طرح اگر تیر چلاؤ اور اس کا پھل شکار کے جسم میں داخل ہو جائے اور خون بہنے لگے، تو اس کو بھی کھا لو؛ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کو 'بسم اللہ' پڑھ کر چھوڑا گیا ہو۔ البتہ اگر تیر چوڑائی میں لگے اور شکار مر جائے، تو مت کھاؤ، کیوں کہ وہ چوٹ لگنے سے مرنے کی وجہ سے 'متردیہ' (اوپر سے گر کر مرنے والا جانور) اور نطیحہ (سینگ لگ کر مرنے والا جانور) کے حکم میں ہوگا۔ جب کسی نے شکار کے پیچھے کتا دوڑایا اور شکار کو زندہ پایا، اسے کتے نے جان سے نہیں مارا تھا، تو ذبح کرنا ضروری ہوگا اور شکار حلال ہوگا، گرچہ اسے پکڑنے میں دوسرا کتا بھی شریک رہا ہو۔ انھوں نے 'بسم اللہ' کہہ کر تیر سے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے اس کے شکار کو کھانے کا حکم دیا۔ اگر شکار ایک یا دو دن غائب رہنے کے بعد ملے اور اس کے جسم پر اس کے تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ہو، تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پائے، تو نہ کھائے، کیوں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ پانی میں ڈوبنے سے مرا ہے یا تیر لگنے سے۔
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ جھگڑا ہے۔ چنانچہ رسول ﷺ چند لوگوںکے ساتھ ان کے درمیان مصالحت کرانے کی غرض سے تشریف لے گئے، رسول کریم ﷺ وہاں کچھ رکنا پڑا اور نماز کا وقت ہوگیا۔ تو بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے ہيں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو کيا آپ لوگوں کی امامت کرائیں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے ليے اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تکبير تحریمہ کہہ کر نیت باندھی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ صفوں کے درميان چلتے ہوئےتشریف لے آئے يہاں تک کہ (اگلی)صف ميں کھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ بحالت نماز کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ جب لوگوں کی تالیاں زیادہ ہوگئیں تو متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کھڑے ہیں۔ رسول ﷺ نے ان کی جانب اشارہ فرمایا (کہ نماز پڑھاتے رہيں)، ليکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھايا، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور الٹے پاؤں پیچھے چلے آئے یہاں تک کہ صف میں کھڑے ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: لوگو! تمھیں کیا ہے کہ جب تمہيں نماز میں کوئی نئی چیز پيش آتی ہے تو تم تالیاں بجانا شروع کرديتے ہو؟ تالیاں بجانا تو خواتین کے ليے (مشروع) ہے، جب نماز میں کسی کو کوئی نئی چیز پيش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے اس لیے کہ جو بھی اسے سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا تو اس کی طرف متوجہ ہوگا۔ (پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا:) ’’اے ابو بکر! تمھیں جب میں نے اشارہ کر دیا تھا (کہ نماز پڑھاتے رہو) تو پھر تمھیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟‘‘ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بيٹے (ابو بکر) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔
متفق علیہرسول کریم ﷺ کو خبر ملی کہ عمرو بن عوف کی اولاد کےدرمیان کچھ اختلاف ہے۔ اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی ہے۔ آپ ﷺ بعض صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے، تو وہاں تاخير ہوگئي اور نماز کا وقت ہوگيا۔ وہ عصر کی نماز تھی جيسا کہ بخاری نے اپنی روايت ميں اس کی صراحت کی ہے۔ صحيح بخاری کی روايت کے الفاظ يہ ہيں: ”جب نماز عصر کا وقت ہوا، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے (نماز پڑھانے کے ليے) کہا تو وہ آگے بڑھے“۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے ابوبکر! رسول اللہ ﷺ وہاں رک گئے ہيں اور نماز کا وقت ہوگیا ہے، تو کیا آپ لوگوں کی امامت کرائیں گے؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہتے ہو۔ بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے ليے اقامت کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور تکبير تحریمہ کہہ کر نیت باندھی اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ اتنے میں رسول کریم ﷺ صفوں کے درميان چلتے ہوئے تشریف لے آئے۔ بخاري نے ایک روايت ميں یہ اضافہ کیا ہے: ”صفوں کو چيرتے ہوئے تشريف لائے“، يہاں تک کہ پہلی صف ميں کھڑے ہوگئے جيسا کہ صحيح مسلم کی روايت ميں ہے کہ صفوں کو چيرتے ہوئے آئے يہاں تک کہ اگلی صف ميں کھڑے ہوگئے، جب لوگوں کو نبی کريم ﷺ کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ تالياں بجانے لگے کیونکہ وہ نبی کريم ﷺ کے پيچھے نماز پڑھنا پسند کرتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کی تالياں سن رہے تھے ليکن اس کی وجہ کیا تھی؟ اس سے بے خبر تھے۔ اور وہ ادھر اُدھر متوجہ نہيں ہوتے تھے، کیونکہ انہيں علم تھا کہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ ہونا ممنوع ہے اور يہ شيطان کا بندے کی نماز ميں سے اچک لينا ہے جيسا کہ ترمذي وغيرہ ميں اس کا ذکر ہے، ليکن جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو ابو بکر رضی اللہ عنہ متوجہ ہوئے اور ديکھا کہ رسول کریم ﷺ تشریف لا چکے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے ان کی جانب اشارہ کیا کہ لوگوں کی امامت کراتے رہيں،جيسا کہ صحيح بخاری کی روايت ميں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر برقرار رہيں، ليکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھايا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ جو حسن معاملہ فرمايا تھا، اس پراللہ تعالیٰ کی حمد بيان کی، پھر وہ الٹے پاؤں چند قدم پیچھے آگئے یہاں تک کہ مقتديوں کی صف میں شامل ہوگئے، اور رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب اپنا رخ کیا اور ارشاد فرمایا: اےلوگو! تمھیں کیا ہے کہ جب تمہيں نماز میں کوئی نئی چیز پيش آتی ہے تو تم تالیاں بجانا شروع کرديتے ہو؟ تالیاں بجانا تو خواتین کے ليے (مشروع) ہے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے وضاحت فرمائی کہ اگر نماز میں انھیں کوئی چیز پیش آجائے تو ان کے لیے کیا کرنا مسنون ہے، چنانچہ فرمايا: ”جب نماز میں کسی کو کوئی نئی چیز پيش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے اس لیے کہ جو بھی اسے سبحان اللہ کہتے ہوئے سنے گا تو اس کی طرف متوجہ ہوگا“۔ پھر فرمایا: ”اے ابو بکر! تمھیں جب میں نے اشارہ کر دیا تھا (کہ نماز پڑھاتے رہو) تو پھر تمھیں لوگوں کو نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابو قحافہ کے بيٹے (ابو بکر) کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔ يہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا اللہ کے رسول ﷺ سے محبت اور آپ کی تعظيم وتوقير اظہار تھا۔
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں (اس پر) یہ ظاہر کروں کہ مجھے خاوند کی طرف سے خوب مل رہا ہے جب کہ وہ مجھے چیزیں نہیں دیتا؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز اس کو نہیں دی گئی، اس کا جھوٹ موٹ اظہار کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے“۔
متفق علیہايک عورت نے نبی ﷺ سے عرض کيا کہ: اس کی ايک سوکن ہے، اور وہ چاہتی ہے کہ اپنے سوکن سے کہے: ميرے شوہر نے مجھے فلاں فلاں چيزیں دی ہیں حالانکہ وہ اپنی بات میں جھوٹی ہے، لیکن اس سے اپنی سوکن کو تکلیف دے کر غصہ دلانا چاہتی ہے، تو کيا اس عمل کی وجہ سے اس پر کوئی گناہ ہے؟ تو نبی ﷺ نے بتلایا کہ: جس کے پاس کوئی چيز نہیں ہے اور وہ اسے بڑھا چڑھا کر بيان کرے تو وہ جھوٹھا اور دروغ گو ہے۔