





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور بال کٹوانے والوں پر۔
متفق علیہبال مونڈنا اور انہیں چھوٹا کرنا حج اور عمرہ کے مناسک میں سے ہے۔ بال چھوٹے کرنے کی بنسبت مونڈنا زیادہ افضل ہے کیوں کہ اس میں اللہ کے سامنے بندگی اور فروتنی کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ بندہ اللہ کی اطاعت میں سر کے بالوں کو جڑ ہی سے کاٹ دیتا ہے۔ اسی لئے نبی ﷺ نے بال مونڈنے والوں کے لیے تین دفعہ دعائے رحمت کی حالانکہ وہاں موجود لوگ آپ ﷺ کو بالوں کو چھوٹا کرنے والوں کی بھی یاد دہانی کرا رہے تھے لیکن آپ ﷺ ان کی بات سنی ان سنی کر دیتے۔ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ساتھ بالوں کو چھوٹا کرانے والوں کو شامل فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے مردوں کے حق میں بال مونڈنا زیادہ افضل ہے۔ یہ اس وقت ہے جب وہ بندہ عمرہ تمتع نہ کر رہا ہو اور وقت اتنا کم ہو کہ بال دوبارہ حج کی مناسبت سے مونڈنے کے لیے نہ اگیں، اس صورت حال میں اس کے لیے بالوں کو کٹوا کر چھوٹا کرانا زیادہ بہتر ہے کیوں کہ وہ اس کے بعد (حج میں) بالوں کو منڈا سکے گا۔
عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمع (مزدلفہ) میں مغرب اورعشاء(کی نماز) کو ایک ساتھ پڑھی، ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی اور نہ ان دونوں کے درمیان اور نہ ہی ان کے بعد کوئی نفل پڑھی۔
متفق علیہعرفہ کے دن کا سورج ڈوبنے کے بعد نبی اکرم ﷺ وہاں سے مزدلفہ کی طرف پلٹے اور وہاں پہونچ کرآخری وقت میں مغرب اورعشاء کی نماز دوالگ الگ اقامتوں سے ایک ساتھ پڑھی اوران کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی تاکہ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا جو مقصد ہےاس کو حا صل کرسکیں اور نہ ہی ان دونوں کے بعد کوئی نفل پڑھی تاکہ بھر پور آرام حاصل کر سکیں اور حج کے جو بقیہ کام ہیں ان کی ادائیگی بخوبی ہو سکے۔
ابو جہیم بن حارث بن صمّہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا گناہ ہے تو وہ اس کے سامنے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک کھڑے رہنے کو اپنے لیے بہتر سمجھے گا“۔ ابو نضر (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال کہا۔
متفق علیہنماز پڑھنے والا اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر اس سے مناجات کر رہا ہوتا ہے اور اسے پکار رہا ہوتا ہے۔ جب اس حالت میں کوئی گزرنے والا اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ مناجات میں انقطاع پیدا کرتا ہے اور نمازی کی عبادت میں خلل ڈالتا ہے۔ اس لئے جو شخص اپنے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل انداز ہوتا ہے اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اسے علم ہو جائے کہ اس کے گزرنے پر کیا گناہ ہوتا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے چالیس تک اپنی جگہ پر کھڑے رہنے کو ترجیح دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل سے بچنا چاہئے اور اس سے گریز کرنا چاہئے۔ چالیس کے عدد کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ آیا اس سے مراد دن، یا مہینے، یا سال ہیں؟ تاہم اس مذکور عدد سے مراد حصر کا مفہوم پیدا کرنا نہیں، بلکہ اس سے مراد ممانعت کی شدت کا بیان ہے۔
ام عطیہ نسیبہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین (کی نماز) کے لیے بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو لے کر جائیں اور حکم دیا کہ حیض والی عورتیں مسلمانوں کی نماز کی جگہ سے الگ رہیں“۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”ہمیں حکم تھا کہ ہم سب عید کے دن عیدگاہ میں آئیں، یہاں تک کہ ہم کنواری لڑکیوں کو بھی ساتھ لے جاتے اور حیض والی عورتوں کو بھی۔ جب مرد تکبیر کہتے تو یہ بھی کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی کرتیں اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی کو پانے کی امیدوار رہتیں“۔
متفق علیہعید الفطر اور عید الاضحی کے دن ان فضیلت کے حامل دنوں میں سے ہیں، جن میں اسلامی شعار ظاہر ہوتا ہے اور مسلمانوں کے ایک جگہ جمع ہونے اور مل مل کر کھڑے ہونے سے ان کے بھائی چارے کی جھلک ملتی ہے۔ ہر علاقے والے اپنے اتحاد، دلوں کی ہم آہنگی اور اسلام کی نصرت، اللہ کے دین کی سربلندی، اس کے ذکر کو قائم کرنے اور اس کے شعائر کے اظہار پر اپنی یک جہتی اور اتفاق کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک ہی میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ اسی لیے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ سبھی عورتیں یہاں تک کہ اپنے گھروں میں بیٹھی پردہ نشیں لڑکیاں اور حائضہ عورتیں بھی عیدگاہ کی طرف نکلیں۔ البتہ وہ نمازیوں سے دور کسی جانب رہیں، تاکہ وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اس موقع کی خیر و برکت سے بہرہ ور ہو سکیں، اللہ کی رحمت اور رضامندی حاصل کر سکیں اور تاکہ اللہ کی رحمت اور قبولیت ان کے زیادہ قریب رہے۔ عیدین کی نماز فرض کفایہ ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صلاۃ کے لیے کھڑے ہوتے تو (’’اللہ اکبر‘‘ کہتے پھر) یہ دعا پڑھتے: ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا [مُسْلِمًا] وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ؛ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ [لِي] إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، [إِنَّهُ] لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ“ میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں تمام ادیان سے کٹ کر سچے دین کا تابع دار اور مسلمان ہوں، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے سا تھ دوسرے کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ میری صلاۃ، میری قربانی ، میرا جینا ا ور مر نا سب اللہ ہی کے لیے ہے، جو سارے جہاں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا تا بع دار ہوں۔ اے اللہ! تو باد شاہ ہے، تیرے سوا میرا کوئی اور معبود برحق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، مجھے اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف ہے، تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت فرما، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کرنے والا کوئی نہیں، مجھے حسن اخلا ق کی ہدایت فرما، ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تو ہی رہنمائی کرنے والا ہے، بری عا دتوں اور بدخلقی کو مجھ سے دور کر دے، صرف تو ہی ان بری عادتوں کو دور کرنے والا ہے۔ میں حاضر ہوں، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، تیری طرف برائی کی نسبت نہیں کی جاسکتی، میں تیر ا ہوں اور میرا ٹھکانا تیری ہی طرف ہے، تو بڑی بر کت والا اور بہت بلند وبالا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا اور تیرے حضو ر توبہ کرتا ہوں۔ اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑ ھتے: ”اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي“ اے اللہ ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع دار ہوا، میری سماعت، میری بصارت، میرا دماغ، میری ہڈی اور میرے پٹھے تیرے لیے جھک گئے، اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے: ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَ[مِلْئَ] مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ“ اللہ نے اس شخص کی سن لی (قبول کرلیا) جس نے اس کی تعر یف کی، اے ہمارے رب !تیرے لیے حمد و ثنا ہے آسمانوں اور زمین کے برابر اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس کے بعد جو کچھ تو چا ہے اس کے برابر۔ اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے : ”اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، وَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ“ اے اللہ!میں نے تیرے لیے سجدہ کیا ، تجھ پر ایمان لایا اور تیرا فرماں بر دار و تابع دار ہوا، میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کا جس نے اسے پیدا کیا اور پھر اس کی صورت بنائی تو اچھی صورت بنائی ، اس کے کان اور آنکھ بنائے۔ اللہ کی ذات بڑی با بر کت ہے وہ بہترین تخلیق فرما نے والا ہے۔ اور جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ“ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے، چھپے اور کھلے گناہوں کی مغفرت فرما اور مجھ سے جو زیادتی ہوئی ہو ان سے اور ان سب باتوں سے در گزر فرما جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ جب صلاۃ (نماز) کے لیے کھڑے ہوتے تو پڑھتے: ”وَجَّهتُ وجهي للذي فطر السماوات والأرض“ یعنی اپنی عبادت کے ساتھ میں متوجہ ہوتا ہوں۔ معنیٰ یہ ہے کہ میں اپنی عبادت کو خالصتاً اللہ کے لیے کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور اس کے علاوہ تمام اشیاء سے میں منہ موڑتا ہوں۔جس نے اس طرح کی مخلوقات پیدا کی ہیں جو انوکھے پن اور اتقان میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں وہ اس لائق ہے کہ چہروں کا رخ اسی کی طرف ہو اور تمام احوال میں دل اسی پر تکیہ کریں اور اس کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوں اور اس کی رضا و خیر کے دوام کے سوا ان کی کوئی اور آرزو نہ ہو۔ ”حنيفًا وما أنا من المشركين“ یعنی میں ہر باطل دین سے ہٹ کر دین حق کی طرف آنے والا اور اس پر ثابت قدم رہنے والا رہوں۔ عربوں کے ہاں اس لفظ کا استعمال اس شخص کے لیے عام ہو گیا تھا جو ابراہیم علیہ السلام کے دین پر قائم ہوتا۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”إنَّ صلاتي، ونُسُكي، ومَحياي، ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له، وبذلك أُمِرتُ وأنا من المسلمين“ یعنی میری نماز، میری عبادت اور میری نیکی سب کچھ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ اس میں میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ اسی طرح میری زندگی اور موت اللہ کے لیے ہے۔ وہی ان کا خالق اور ان کا مقدر کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کسی کو ان میں تصرف کا اختیار حاصل نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں پاک ہے۔ میرے رب نے مجھے اس توحید و اخلاص کا حکم دیا ہے اور میں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے والے فرماں بردار اور اطاعت گزار بندوں میں سے ہوں۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”اللهمَّ أنت المَلِك لا إله إلَّا أنت، أنت ربي، وأنا عبدك، ظلمتُ نفسي، واعترفتُ بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعًا، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت“ یعنی اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔ بادشاہت درحقیقت تیرے سوا کسی کی نہیں۔ الوہیت میں تو یکتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ تیرے ذکر سے غافل ہو کر اور معاصی و گناہوں کا ارتکاب کر کے میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔ تو ہی غفار و غٖفور ہے۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئَها لا يصرف عني سيئها إلا أنت“ کہ بہترین اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرما، مجھے انہیں اپنانے اور ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق مرحمت فرما۔ اپنی عبادت اور دیگر معاملات میں مجھے ظاہری و باطنی بہترین اور پاکیزہ اخلاق تک رسائی عطا فرما۔ان کی طرف رہنمائی کرنے والا تو ہی تو ہے۔ تیرے سوا کوئی راہنما نہیں۔ برے اخلاق سے مجھے دور رکھ اور ان سے میری حفاظت فرما۔ان سے دور رکھنے والا اور ان سے حفاظت کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”لبَّيْك وسَعْدَيْك“ یعنی تیری اطاعت پر میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قائم ہوں اور اس اطاعت پر قائم رہنے اور تیری پکار کا جواب دینے کی مجھے خوشی در خوشی ہے۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”والخيرُ كله في يديك“ خیر سب کی سب تیرے تصرف میں ہے۔ تو ہی اس کا مالک ہے اور اس میں تیری منشا کے مطابق بس تیرا ہی اختیار چلتا ہے۔ ”والشر ليس إليك“ یعنی شر تیرے مفعولات اور مخلوقات میں ہوتا ہے نہ کہ فعل میں۔ شر کی نسبت کسی بھی صورت میں اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف نہیں کی جاسکتی، نہ اس کی ذات کی طرف اور نہ ہی صفات کی طرف اور نہ ہی اس کے افعال و اسماء کی طرف۔ اللہ کی ذات کو ہر طرح سے کمال مطلق حاصل ہے اور اس کی تمام صفات کامل صفات ہیں جن پر اس کی حمد و ثنا کی جاتی ہے۔ اللہ کے تمام افعال خیر و رحمت اور عدل و حکمت سے مرکب ہیں۔ ان میں کسی بھی طور پر شر نہیں ہوتا۔ اس کے تمام اسماء حُسن وخوبی سے متصف ہیں۔ چنانچہ اس کی طرف شر کی نسبت کیسے کی جا سکتی ہے؟ بلکہ شر اس کے مفعولات و مخلوقات میں ہوتا ہے جو اس کی ذات سے الگ ہے۔ کیونکہ اس کا فعل، مفعول نہیں ہے۔ اس کا فعل تو سب کا سب خیر ہے۔ جب کہ مخلوق جو فعل کا نتیجہ ہوتی ہے اس میں خیر بھی ہوتی ہے اور شر بھی۔ جب شر ایک ایسی شے ہے جو الگ سے ایک مخلوق ہے اور رب تعالی شانہ کے ساتھ اس کا وجود قائم نہیں تو اس کی نسبت بھی اس کی طرف نہیں کی جائے گی۔ اس میں معتزلہ کی حجت نہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شر کو پیدا نہیں کیا۔ اللہ خیر و شر اور ہر شے کا خالق ہے۔ ”أنا بك وإليك“ یعنی میں تجھ ہی سے پناہ مانگتا ہوں، تجھ ہی پر تکیہ کرتا ہوں، تیری حفاظت میں آتا ہوں اور تیرے سہارے ہی قائم ہوں۔ میرا رخ تیری طرف ہے اور میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔یا پھر یہ معنی ہے کہ میں تجھ ہی سے مربوط ہوں اور میرے معاملے کی انتہا تو ہی ہے۔ تو ہی مبدأ ہے اور تو ہی منتہا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے: میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ ”تباركتَ وتعاليتَ“ یعنی تو عظیم و بزرگ ذات ہے اور تیری بھلائیاں بہت زیادہ ہیں۔ تو ان تمام باتوں سے بالا تر ہے جنہیں اوہام اور عقلیں تصور کرتی ہیں اور تو ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ ”أستغفرك وأتوب إليك“ میں تجھ سے گزشتہ گناہوں پر مغفرت طلب کرتا ہوں اور باقی زندگی میں، مَیْں گناہ سے منہ موڑتا ہوں اور تاوقتِ مرگ توفیق و ثابت قدمی سے تیری طرف متوجہ رہنے کا عزم کرتا ہوں۔ جب آپ ﷺ رکوع فرماتے تو کہتے: ”اللهمَّ لك ركعتُ، وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، خشع لك سمعي، وبصري، ومُخِّي، وعظمي، وعَصَبي“ یعنی میرا رکوع خالصتاً صرف تیرے لیے ہے، میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء یعنی کان، آنکھ، مغز، ہڈی اور اعصاب سب کے سب تیرے حکم کے سامنے ہیچ اور اس کے پابند ہیں۔ جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے: ”اللهم ربنا لك الحمد مِلءَ السماوات، ومِلءَ الأرض، ومِلءَ ما بينهما، ومِلءَ ما شئتَ من شيء بعد“ یعنی میں تیری ایسی حمد کرتا ہوں کہ اگر اس کا جسم ہوتا تو یہ آسمانوں اور زمین اور آسمانوں اور زمین کے بعد ہر اس شے کو بھر دیتی جسے تو چاہتا۔ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اللهم لك سجدتُ،وبك آمنتُ، ولك أسلمتُ، سجد وجهي للذي خلقه، وصوَّره، وشقَّ سمعَه وبصرَه، تبارك الله أحسنُ الخالقين“ یعنی میرا سجدہ خالصتاً صرف تیرے لیے ہے۔میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا مطیع ہوا۔ میرے تمام اعضاء جنہیں تو نے پیدا کیا ہے اور انہیں شکل دی ہے وہ سب تیرے حکم کے پابند ہیں۔ ”تبارک اللہ احسن الخالقین“بابرکت ہے وہ ذات باری تعالیٰ جو سب سے بہتر پیدا کرنے والی ہے۔ تشہد اور سلام کے مابین آخر میں آپ ﷺ یہ کہتے: ”اللهم اغفر لي ما قدَّمتُ وما أخَّرتُ، وما أسررتُ وما أعلنتُ، وما أسرفتُ، وما أنت أعلم به مني، أنت المُقَدِّم وأنت المؤَخِّر، لا إله إلا أنت“ یعنی اے اللہ! میرے گزشتہ اور آئندہ گناہ معاف فرما۔ گویا کہ آپ ﷺ یہ کہتے کہ میرے پرانے اور نئے سب گناہ معاف فرما۔ ”وما أسررتُ وما أعلنتُ“ یعنی میرے پوشیدہ اور ظاہری گناہ معاف فرما یا وہ گناہ معاف فرما جن کا خیال میرے دل میں آیا اور وہ بھی جو میری زبان تک آ گئے۔ ”وما أسرفت“ یعنی میرے اُن گناہوں اور معصیتوں کو معاف فرما جن میں میں نے حد سے تجاوز کیا۔ ”وما أنت أعلم به مني“ یعنی میرے وہ گناہ بھی معاف فرما جن کو میں نہیں جانتا۔ ”أنت المقدِّم وأنت المؤخِّر“ معنی یہ کہ اپنی حکمت کے تقاضے کے تحت اپنی طاعت وغیرہ کی بدولت تو جسے چاہتا ہے آگے کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے پیچھے کر دیتا ہے۔ تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ذلیل کر دیتا ہے۔ ”لا إله إلا أنت“ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور سورۃ البقرۃ پڑھی۔ آپ ﷺ جب کسی رحمت والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر رحمت طلب کرتے اور جب کسی عذاب والی آیت سے گزرتے تو ٹھہر کر پناہ مانگتے۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے بقدر قیام رکوع کیا اور آپ ﷺ اپنے رکوع میں فرما رہے تھے: ’’سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمة‘‘ (پاک ہے وہ ذات جو بڑے قہر وغلبے، بڑی بادشاہت، نہایت بڑائی اور بے حد عظمت والی ہے)۔ پھر قیام ہی کے بقدر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں بھی آپ ﷺ نے یہی دعا پڑھی۔ پھر آپ ﷺ ( دوسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے اور سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورت پڑھی۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز تہجد ادا کی۔آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور سورۂ بقرہ کی تلاوت فرمائی۔ آپ ﷺ جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں رحمت اور جنت کا ذکر ہوتا تو اللہ سے اس کی رحمت اور جنت کا سوال کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر لمبا رکوع کیا اور اپنے رکوع میں آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے: " سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ "۔ یعنی میں پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس ذات کی جو زبردست اور غالب ہے، جو ظاہری وباطنی بادشاہت کا مالک ہے اور بڑائی وعظمت والا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں وہی دعا پڑھی جو آپ ﷺ نے اپنے رکوع میں پرھی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی اور پھرایک ایک سورت کی تلاوت فرمائی۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ لَكَ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ الحَقُّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ“ اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے۔ تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے۔ تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود چیزوں کا نور ہے۔ تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرے ہی لیے تابع ہوا اور تجھی پر میں ایمان لایا، اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے (دشمن سے) جھگڑا کیا اور تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا۔ پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
متفق علیہنبی ﷺ جب رات کی نماز (تہجد) کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد فرماتے: ”اے اللہ، اے ہمارے رب! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے“ یعنی تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے واجب ہیں اور وہی ان کا حق دار ہے۔ چنانچہ وہ اپنی صفات اور اپنے اسماء پر، اپنی نعمتوں اور اپنے احسانات پر، اپنی تخلیق اور اپنے افعال پر اور اپنے امر اور حکم پر لائقِ تعریف ہے، نیز وہی اول و آخر میں اور ظاہر و باطن میں لائقِ ستائش ذات ہے۔ پھر آپ فرماتے: ”تو آسمانوں اور زمین کا سنبھالنے والا ہے“ یعنی تو ہی وہ ذات ہے جس نے ان آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود دے کر قائم کیا اور تو ہی ہے جو ان کی اس طرح سے دیکھ بھال کرتا ہے کہ یہ درست اور اپنی حالت پر قائم رہتے ہیں۔ پس تو ہی خالق و رازق، مالک و مدبر اور زندگی و موت دینے والا ہے۔ پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں بسنے والی تمام مخلوقات کا پروردگار ہے“ یعنی تو ان دونوں کا اور ان میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے، تو جیسے چاہتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے اور تو ہی ان کو عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ پس بادشاہت صرف تیرے لیے ہےاور تیرے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں اور نہ ہی کوئی اور مدبر ہے۔ تو با برکت اور بلند ہے۔ پھر فرماتے: ”تمام تعریفیں تجھے ہی زبیا ہیں، تو آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود تمام مخلوقات کا نور ہے“ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نور ہے اور اپنے اس نور کے ذريعہ وہ اپنے مخلوق سے مستور ہے۔ اور اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو منور کرنے والا ہےاور ان میں بسنے والوں کو راہ سجھاتا ہے۔ اللہ تعالی سے صفتِ نور کی نفی کرنا یا اس کی تاویل کرنا کسی بھی طورپر درست نہیں ہے۔ پھر فرماتے: ”تو حق ہے“ حق اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ پس اللہ اپنی ذات اور صفات میں حق ہے۔ وہ واجب الوجود ہے (ایسا موجود کہ جس کا وجود ضروری اور کسی پیدا کرنے والے سے بے نیاز ہے) اور اس کی صفات کامل ہیں، اس کا وجود اس کی ذات کے لوازم میں سے ہے اور ہر شے کا وجود اللہ ہی کے ذريعہ ہے۔ پھر فرماتے: ”تیرا فرمان حق ہے“ یعنی تو نے جو کچھ کہا وہ سچ، حق اور عدل ہے۔ اس میں آگے پیچھے کسی بھی طرف سے باطل کے در آنے کی گنجائش نہیں، نہ اس کی خبر میں، نہ اس کے حکم اور اس کی تشریع میں اور نہ ہی اس کے وعدے اور وعید میں۔ پھر فرماتے: ”تیرا وعدہ حق ہے“ یعنی تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ تو نے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور ویسے ہی ہو کر رہے گا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے۔ اس ميں نہ ہی وعدہ خلافی کی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ پھر فرماتے: ”تیری ملاقات حق ہے“ یعنی بندے ضرور تجھ سے ملاقات کریں گے اور تو ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ملاقات میں اللہ سبحانہ تعالی کی رؤیت بھی شامل ہے۔ پھر فرماتے: ”جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے“ یعنی دونوں ثابت و موجود ہیں جیسا کہ تو نے بتایا ہے کہ یہ دونوں ان کے اندر جانے والوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں دار البقاء (ہمیشہ رہنے والے) ہیں اور یہی دونوں تمام بندوں کا آخری ٹھکانہ ہیں۔ پھر فرماتے: ”قیامت حق ہے“ یعنی روز قیامت کا آنا حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یہ ضرور آ کر رہے گی۔ یہ دنیا کا اختتام اور آخرت کی ابتدا ہے۔ ”اے اللہ میں تیرا تابع فرمان ہوا“ یعنی میں تسلیم و رضا کے ساتھ تیرے حکم کا مطیع و فرماں بردار ہوں۔ ”میں تجھ پر ایمان لایا“ یعنی میں نے تیری اور تو نے جو کچھ نازل کیا اس کی تصدیق کی اور اس کے تقاضے پر عمل کیا۔ ”میں نے تجھی پر توکل کیا“ یعنی میرا بھروسہ تجھی پر ہے اور میرے تمام معاملات تیرے سپرد ہیں۔ ”تیری مدد کے ساتھ ہی میں نے جھگڑا کیا“ یعنی تو نے مجھے جو دلائل دیے ہیں ان کے ساتھ میں نے مخالفِ حق سے بحث کیا اور اس پر غلبہ پالیا۔ ”تیری ہی طرف میں فیصلہ لے کر آیا“ یعنی جس نے بھی حق کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اسے تسلیم نہیں کیا، اس کا معاملہ میں تیری بارگاہ میں لے کر آیا اور اپنے اور اس کے مابین تجھی کو فیصل بنایا اور کسی بھی طاغوت جیسے خود ساختہ قانون، یا کاہن یا ایسے ہی دیگر شرعاً باطل ذرائع سے فیصلہ کرانے سے گریز کیا جن سے لوگ اپنے فیصلے کراتے ہیں۔ ”پس تو مجھے معاف فرما دے جو کچھ میں نے پہلے کیا اور جو کچھ بعد میں کیا، جو میں نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ سرِ عام کیا اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے“ یعنی میرے وہ تمام گناہ معاف فرما جن کا میں مرتکب ہوا ہوں اور جن کا میں آگے بعد میں مرتکب ہوں گا، اور اس میں سے جو کچھ تیرے کسی مخلوق کے سامنے ظاہر ہیں اور جو ان سے چھپے ہوئے ہیں اور تیرے علاوہ انہیں کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ ﷺ اپنی دعا کا اختتام اپنے ان الفاظ کے ساتھ کیا: ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“چنانچہ میں تیرے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ تیرے سوا جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور اس سے دعا کرنا گمراہی اور وبال ہے۔ یہی وہ توحید ہے جسے اللہ کے تمام رسول لے کر آئے اور اللہ تعالی نے اسے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو پیٹ کی بیماری لاحق ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پھر دوسری بار آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ۔ پھر (تیسری بار) آیا اور عرض کیا کہ میں نے پلایا (لیکن فائدہ نہیں ہوا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سچا ہے، اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کو شہد پلاؤ۔ چنانچہ اس نے پھر شہد پلایا، تو وہ تندرست ہوگیا۔
متفق علیہایک آدمی نبیﷺکے پاس آیا اور اس نے آپﷺ کو بتایا کہ اس کا بھائی پیٹ کے مرض کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ یہ اسہال کا مرض تھا جیسا کہ اسی حدیث کی دیگر روایات سے واضح ہوتا ہے۔ نبیﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ اپنے بھائی کو شہد پلائے۔ اس نے اسے شہد پلایا، لیکن وہ صحت یاب نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ آپﷺ نے دوبارہ اسے حکم دیا کہ وہ اسے شہد پلائے۔ اس نے پھر پلایا لیکن اسے کچھ افاقہ نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو صورت حال بتائی۔ آپﷺ نے تیسری مرتبہ پھر اسے حکم دیا کہ اسے شہد پلائے۔ اس نے پھر شہد پلایا، لیکن وہ شفایاب نہ ہوا۔ وہ پھر آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کو اس کے بارے میں بتایا۔ آپﷺنے فرمایا: ”اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے۔ اسے شہد پلاؤ“۔ اس میں دو احتمالات کا امکان ہے: پہلا احتمال: یہ کہ نبیﷺ نے یہ بات غیبی طور پر بتائی ہو، جس سے آپ ﷺ کو اللہ تعالی نے مطلع کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس کی شفا شہد میں ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے بار بار اسے شہد پلانے کا حکم دیا؛ تا کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے۔ دوسرا احتمال: ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ تعالی کے اس قول کی طرف اشارہ ہو کہ: ﴿فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ﴾ ”اس (شہد) میں لوگوں کے لیے شفا ہے“، اور آپ ﷺ کو اس بات کا علم ہو کہ اس قسم کے مرض کی شفا شہد ہی میں ہے۔ جب آپ ﷺنے چوتھی دفعہ شہد پلانے کا حکم دیا، تو اس آدمی نے جا کر اپنے بھائی کو شہد پلایا، جس سے وہ اللہ کے حکم سے شفایاب ہو گیا۔ اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ تمام حالات اور ہر بیماری سے شہد کی ہر قسم کے ذریعہ شفا ملے گی البتہ ہر بیماری کی ایک دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہوجاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم سے شفایاب ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم: 2204)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اللہ کے نبی ﷺ جب قیام اللیل (تہجد) کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا آپ ﷺ قیام اللیل کرتے تو اپنی نماز اس دعا سے شروع کر تے تھے: ”اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ“ اے اللہ! جبریل ومیکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمان اور زمین کے پیدا کر نے والے! غیب اور ظاہر کے جا ننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، فیصلہ فرمائے گا، جن چیزوں میں اختلاف ہے، ان میں اپنی منشاء سے حق کی طرف میری رہنمائی فرما۔ بے شک تو جسے چاہتا ہے اُسے سیدھی راہ دکھلا دیتا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دعا کے بارے میں دریافت کیا جس سے نبی ﷺ قیام اللیل میں نماز کا آغاز کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی ﷺ جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ’’اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ ، وَمِيكَائِيلَ ، وَإِسْرَافِيلَ‘‘: ان تین فرشتوں کی بطور خاص اللہ تعالی کی طرف اضافت کی گئی حالانکہ اللہ تعالی تو ہر شے کا رب ہے۔ ایسا ان فرشتوں کی بزرگی اوردوسرے فرشتوں پر ان کی فضیلت کی وجہ سے کیا گیا۔ گویا کہ آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کو سب پر اس لیے مقدم کیا کیونکہ وہ آسمانی کتابوں کے امین ہیں اور تمام دینی امور انہی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام کو آخر میں ذکر کیا کیونکہ وہ صور پھونکنے والے ہیں اور جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔ میکائیل علیہ السلام کو درمیان میں ذکر فرمایا کیونکہ وہ بارش و روئیدگی وغیرہ جیسی ان تمام اشیاء کے نگران ہیں جن کا تعلق رزق کی ان تمام شکلوں کے ساتھ ہے جن پر دنیا کا مدار ہے۔ ’’فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘: یعنی انہیں عدم سے وجود بخشنے والے اور انہیں پیدا کرنے والے۔ ’’عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ‘‘: یعنی جو کچھ انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہے اور جو کچھ ان کے سامنے ہے سب کو جاننے والے۔ ’’أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ‘‘: یعنی دنیا میں جن دینی امور میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ان میں تو ان کے مابین فیصلہ کرے گا۔ ’’اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ‘‘: لوگ دین و دنیا کے جن امور میں اختلاف میں پڑے ہیں ان میں اپنی توفیق سے اور اپنی طرف سے آسانی پیدا فرماتے ہوئے میری حق اور راہ راست کی طرف رہنمائی فرما۔ ’’إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ‘‘: تو جسے چاہتا ہے اسے حق اور راہ راست کی طرف ہدایت دیتا ہے۔