





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا ہم بئرِ بضاعہ کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں، جو کہ ایسا کنواں ہے، جس میں حائضہ عورتوں کے کپڑے اور کتوں کا گوشت اور گندگی پھینکی جاتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پاک ہے؛ اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ پانی پاک ہے اور صرف نجاست کے گرنےسے پاک پانی ناپاک نہیں ہوتا، جب تک کہ پانی کا رنگ، مزہ یا بو تبدیل نہ ہو۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے (غسل سے) بچے ہوئے پانی سے غسل کر لیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل فرما لیا کرتے تھے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج میں سے کسی زوجہ نے ایک بڑے برتن میں (موجود پانی سے) غسل کیا۔ بعد ازاں نبی ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ اس برتن (میں موجود پانی) سے وضوء یا غسل کرنا چاہتے تھے۔ آپ کی اس زوجہ نے کہا کہ یارسول اللہ! میں تو جنبی تھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانی جنبی نہیں ہوتا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ کی کسی بیوی نے غسلِ جنابت کیا۔ آپ ﷺ وضو یا غسل کے ارادے سے تشریف لائے۔ آپ ﷺ اپنی زوجہ رضی اللہ عنہا کے غسل سے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ جنبی تھیں (اس لیے انہوں نے اُس پانی سے غسلِ جنابت کیا تھا)۔ آپ ﷺ نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ کہ پانی تو پاک ہوتا ہے اور پاک کرنے والا ہوتا ہے۔
کبشہ بنت کعب بن مالک (جو ابو قتادہ کے بیٹے کے نکاح میں تھیں) بیان کرتی ہیں کہ ابو قتادہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کا پانی انڈیل کر رکھا۔ اسی دوران ایک بلی آئی اور اسی برتن میں سے پانی پینے لگی۔ ابو قتادہ نے برتن کو جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے اچھی طرح پانی پی لیا۔ کبشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو فرمایا: بھتیجی! کیا تمہیں اس سے تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے گھروں میں بکثرت آنے جانے والوں اور بکثرت آنے جانے والیوں میں سے ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وضو شروع کیا تو اسی دوران ایک بلی آ گئی۔ - اور بلی گھروں میں گھس آتی ہے، لوگوں میں گھل مل جاتی ہے اور ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہے - چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے سامنے برتن کو جھکا دیا تا کہ وہ وضو کا پانی پی سکے۔ ایسا کرنے پر ان کی بھتیجی کبشہ بہت حیران ہوئیں۔ کیونکہ یہ وضو کا پانی تھا جس کے لیے پاکیزہ اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ بلی ناپاک نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے پانی پر کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ تو ان جانوروں میں سے ہیں جو ہر وقت انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔
ابو واقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے، تو وہاں کے لوگ (زندہ) اونٹوں کے کوہان اور (زندہ) بکریوں کی پٹھ کاٹتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”زندہ جانور کا کاٹا ہوا گوشت مردار ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ فوائد بیان کیے گئے ہیں کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اوراہل مدینہ کے نزدیک یہ طریقہ رائج تھا کہ وہ (زندہ) اونٹ کی کوہان اور (زندہ) بکریوں کا چوتڑ کاٹ کر کھاتے اور ان سے استفادہ کرتے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے انھیں اس عمل سے روک دیا اور اس مسئلے کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے ایک قاعدہ کلیہ بیان فرمادیا کہ زندہ چوپایوں کا جو حصہ کاٹ لیا جائے، جیسے اونٹ کی کوہان یا بکری کا چوتڑ وغیرہ، چاہے آدمی خود کاٹے یا کٹا ہوا حاصل کرے، اس کا حکم اس جانور کے مردار کا حکم ہے؛ اگر اس جانور کا مردار طاہر ہے، تو طاہر ہوگا اور اگر اس جانور کا مردار نجس ہے، تو نجس ہوگا۔ چنانچہ آدمی کا ہاتھ طاہر ہوگا، جب کہ مینڈھے کا چوتڑ نجس ہوگا۔ اسی سے اور بھی مسائل کا استخراج ہو سکتا ہے۔ البتہ ماکول اللحم جانوروں کے بال، ان کی اون، ان کے پر، ان کا رواں، ان کا مشک اور مشک دان، یہ ساری چیزیں طاہر و پاک ہیں۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا:نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شراب کا حکم دریافت کیا گیا، جسے اس وقت تک رکھا جائے کہ وہ سرکے میں تبدیل ہوجائے۔ یہ شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ اسی کے مطابق اگر شراب کو کسی بھی طریقہ سے سرکے میں تبدیل کردیا جائے؛ چاہے اس میں روٹی، پیاز، خامرہ (انزیم) یا پتھر اور اس طرح کی کوئی شے ڈالی جائے یا اسے سایہ سے دھوپ میں لاکر رکھا جاۓ یا اس کے برعکس دھوپ سے سایے میں لاکر رکھا جاۓ یا اسے اور کسی چیز کے ساتھ ملادیا جائے، ان ساری صورتوں میں وہ اپنی اصل حرمت پر باقی رہے گی اور اس تصرف وتبدیلی سے اس کا حکم تبدیل نہیں ہوگا۔ تاہم اگر کسی کے عمل دخل کے بغیر از خود سرکہ میں تبدیل ہوجائے تو اس صورت میں وہ پاک اور مباح ہے۔
ابو سمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا۔ جب آپ ﷺ غسل کرنا چاہتے، تو مجھ سے فرماتے کہ تم اپنی پیٹھ میری جانب کر دو، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا۔ (ایک مرتبہ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو انھوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا۔ میں اسے دھونے کے لیے بڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ابو سمح رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور جب کبھی آپ ﷺ غسل کا ارادہ فرماتے، تو ابو سمح کو ہدایت دیتے کہ وہ اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے کھڑے ہوجائیں اور ابو سمح اپنے جسم کے ذریعے نبی ﷺ کو یوں آڑ میں لے کر کھڑے ہوجاتے کہ ان کی پشت نبی ﷺ سے قریب ہوتی۔ اس طرح آپ ﷺ کا لوگوں سے اور خود سے ستر فرماتے۔ انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو ان کی موجودگی میں نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا کہ آپ کی خدمت میں حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو لایا گیا اور انھوں نے آپ کے سینے کی جگہ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ لیکن جب ابو سمح رضی اللہ عنہ نے اس کو دھونا چاہا، تو آپ ﷺ نے ان سے اس مسئلے کی بابت وضاحت فرمائی کہ تاحال کھانا کھانا شروع نہ کرنے والے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کی پاکی کے لیے (اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے) بس اتنا کافی ہے کہ جہاں پیشاب لگا ہو ،اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا جائے، اسے دھونا واجب نہیں۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کو کپڑوں سے دھونا واجب ہے؛ چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔ لڑکا اور لڑکی کے مابین کیے گئے فرق کی وجوہات کے تئیں اہل علم کا کہنہا ہے کہ نرینہ اولاد کو مرد اور خواتین بکثرت اٹھائے پھرتے ہیں، جس کی بنا پر اس کے پیشاب کی وجہ سے ہونے والی مشقت بہت عام ہوتی ہے اور اس طرح اسے دھونا دشواری کا باعث ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکے کے پیشاب کے بالمقابل، لڑکی کے پیشاب میں گندگی اور بدبو کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے؛ کیوں کہ بچے کے پیشاب میں حرارت اور لڑکی کے پیشاب میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا حرارت، پیشاب کی بدبو کے اثرات کی شدت کو گھٹا دیتی ہے اور پیشاب سے اس چیز کو تحلیل کردیتی ہے، جو رطوبت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ لڑکا اور لڑکی کے پیشاب میں جو فرق ہے اس کے متعلق یہ کچھ حکمتیں ہیں جنہیں علماء کرام نے بیان کی ہیں، اگر یہ صحیح ہیں تو بہت ہی معقول حکمتیں ہیں اس لیے کہ فرق بلکل واضح ہے، اور اگر یہ حکمتیں صحیح نہیں ہیں تو اس حکم میں اصل حکمت تو ہے ہی، یعنی کہ یہ اللہ تعالی کا حُکم ہے، اور ہم یہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت ہی عین حکمت ہے، یقینا شریعت بظاہر ایک جیسی دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کرتی مگر یہ کہ حقیقی معنوں میں ان میں فرق موجود ہو، اسی طرح شریعت کسی دو چیزوں کو جمع نہیں کرتی مگر یہ کہ ان کو جمع کرنا ہی حکمت کا عین تقاضہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کے احکام مصلحت کے عین موافق ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ مصلحتیں کبھی ظاہر ہو جاتی ہیں تو کبھی مخفی رہتی ہیں۔
اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ذرا یہ بتائیں کہ ہم میں سے کسی کو کپڑے میں حیض آ جائے، تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (پہلے) اسے کھرچے، پھر پانی سے رگڑے اور پانی سے دھو ڈالے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے۔
متفق علیہاسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سے کپڑوں کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے کپڑے سے اس کو زائل کرنے کی کیفیت یوں بیان فرمائی کہ عورت سب سے پہلے اس کو کھرچے گی؛ تاکہ جما ہوا خون نکل جائے، پھر خون لگے مقام کو اپنی انگلیوں کے کناروں سے رگڑے گی؛ تاکہ اس کے ذریعہ اس کی سختی دور ہو جائے اور کپڑے میں جذب شدہ خون نکل جائے اور پھر اس کے بعد اس کو دھو ئے گی؛ تاکہ بچی ہوئی نجاست زائل ہوجائے۔ اس ضمن میں اس ترتیب کا لحاظ رکھے، جو خشک نجاست کو دور کرنے میں نہایت ہی قابل عمل نمونہ ہے؛ کیوں کہ اگر اس ترتیب کا خیال نہ رکھا جائے، تو نجاست پھیل کر اس جگہ بھی لگ جائے گی، جہاں قبل ازیں نہ لگی تھی۔ اس طرح اس عورت کے لیے جائز ہوگا کہ اس طریقے سے اس حیض کے کپڑے کو پاک کرنے کے بعد اسی میں نماز پڑھے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا، نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں، اسی میں مجھے حیض آتا ہے، میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم پاک ہو جاؤ( حیض رک جائے)، تو اسے دھو ڈالو، پھر اس میں نماز پڑھو“، اس پر خولہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: اگر خون زائل نہ ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خون کو دھو لینا تمھارے لیے کافی ہے، اس کا اثر (دھبہ) تمھیں نقصان نہیں پہنچائے گا“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں یہ بات ذکر فرمائی کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنھا، نبی ﷺ کی خدمت میں مسئلہ دریافت کرنے حاضر ہوئیں اور بتایا کہ ان کے پاس ایک کپڑے کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں ہے اور عادت کے مطابق جب کبھی حیض کا خون آتا ہے، تو کچھ خون اس میں لگ جاتا ہے، ایسی صورت میں کیا کروں گی؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں اس بات کا حکم دیا کہ جب وہ حیض سے پاک ہوجائیں، تو اس کپڑے کو پانی سے دھولیں اور پھر اس میں نماز ادا کرلیں۔ انھوں نے مزید دریافت کرتے ہوئے کہا کہ کھرچنے، پانی سے رگڑنے اور پانی سےدھونے (دوسری احادیث میں انھوں نے ان تین چیزوں کا ذکر کیا ہے) کے بعد بھی کبھی کبھی خون کا رنگ باقی رہ جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ کپڑے کی پاکی کے لیے پانی کافی ہے اور پاکی حاصل کرنے میں محنت اور حتی المقدور کوشش کے بعد باقی رہ جانے والےخون کے رنگ میں کوئی حرج نہیں۔