





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نماز پڑھ چکے تھے،(پھر بھی) وضو کا پانی منگوایا، تو ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا: آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، جب کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں ؟ شاید آپ ہمیں وضو کا طریقہ سکھانا چاہتے ہوں گے! خیر پانی بھرا ہوا ایک برتن اور ایک طشت لایا گیا۔ آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی؛ آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے۔ پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا۔ پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اوراپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا۔ پھر فرمایا: ”جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے، تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس پوری حدیث میں نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ عبد خیر اس بات کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر لینے کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور پانی منگوایا۔ حاضرین کو یہ امر عجیب لگا کہ نماز پڑھ لینے کے باوجود آپ پانی طلب فرمارہے ہیں۔ پھر وہ خود جان گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں نبی ﷺ کے وضو طریقہ سکھانا چاہتے ہیں۔چنانچہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کو پانی سے بھرا برتن لاکر دیا۔ انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر برتن سے پانی انڈیلتے ہوئے اس کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی۔ ایک چلو پانی ہی سے کلی کی اور ناک بھی جھاڑی۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ چہرے کے حدود میں سر کے بالوں کے آغاز سے لے کر داڑھی کے ظاہری حصے کے ساتھ ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک کا حصہ آتا ہے۔ پھر تین تین مرتبہ اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا۔ دونوں ہاتھوں کے دھونے میں کہنیاں شامل ہیں۔ پھر ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح فرمایا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں تین تین مرتبہ دھویا۔ بعد ازاں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ جب ہم آپ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ گھر میں نہیں ملے۔ ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں۔ انھوں نے ہمارے لیے خزیر۱ (ایک قسم کا کھانا) تیار کرنے کا حکم کیا۔ وہ تیار کیا گیا۔ ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں "قناع" کا لفظ نہیں کہا ہے۔ "قناع" اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی ہوئی ہو) پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور پوچھا: ”کیا تم لوگوں نے کچھ کھایا ہے؟ یا تمھارے لیے کسی چیز کا حکم دیا گیا؟“ ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا۔ اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا، جو ممیا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے(اس سے) پوچھا:”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“ اس نے جواب دیا: مادہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”تو اس کی جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ بالکل نہ سمجھنا -لقیط رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں لفظ ”تحْسَبنَّ“ سین کے فتحہ (زبر) کے ساتھ ادا فرمایا، کسرہ (زیر) کے ساتھ نہیں-کہ ہم نے اسے تمھارے لیے ذبح کیا ہے؛ بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں۔ ہم انھیں بڑھانا نہیں چاہتے۔ اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، جو زبان دراز ہے(میں کیا کروں)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے!! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے، تو تمھاری اطاعت کرے گی اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو، جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کیاکرو اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ، الا یہ کہ تم روزے سے ہو"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔جلیل القدر صحابی لقیط بن صبرۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمارہے ہیں کہ وہ سردار کی حیثیت سے اپنی قوم کےایک وفد کو لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے۔ وفود کا یہ معمول تھا کہ وہ نبی ﷺ سے اپنے اہمیت کے حامل اور غیر واضح مسائل دریافت کرتے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے شوربا( جس میں گوشت کو ابالے جانے کے بعد آٹا یا چاول ڈالا جاتا ہے) اور کھجور پیش کیے۔ (اسی دوران) نبی ﷺ کے چرواہے پر اس وفد کی نظر پڑی، جس کے ساتھ بکری کا ایک چھوٹا نومولود بچہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس چرواہے کو حکم دیا کہ ایک بکری ذبح کردے اور وفد سے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ آپ نے اس وفد کی خاطر اس بکری کو ذبح نہیں کروایا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ گمان کربیٹھیں کہ آپ نے پرتکلف مہمان نوازی کا اہتمام فرمایا ہے۔ اس لیے آپ نے اس امکانی خیال کو دور فرمادیا۔ صحابی رسول ﷺ کے سوالات میں سے ایک سوال یہ تھا کہ بدزبان و بدگو بیوی کے ساتھ کس طرح برتاؤ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس بیوی میں کچھ خیر و بھلائی موجود ہوتو اس کے حق میں وعظ و نصیحت کارگر ہوجائے گی؛ ورنہ طلاق ہی اس کا حل ہے۔ نیز آپ نے انھیں اس بات کا بھی حکم دیا کہ اپنی بیوی کو اس طرح نہ ماریں پیٹیں، جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔ نیز صحابی رسول ﷺ نے آپ سے وضو کے بارے میں استفسار کیا، تو آپ نے واضح فرمادیا کہ کامل وضو کرنا واجب ہے۔ یعنی وضو میں دھوئے جانے والے اعضا میں سے ہر عضو کو کامل طریقے سے دھویا جائے۔ مسح کامل طریقے سے کیا جائےاور انگلیوں کے درمیان خلال کی سنت کو ملحوظ رکھا جائے۔ یہ سب اس لیے تاکہ وضو کے تمام اعضا تک پانی پہنچ جانے کا یقین ہو جائےاور اگر خلال ہی کے ذریعہ پانی انگلیوں کے درمیان پہنچ سکتا ہو تو کامل طریقے سے وضو کا پانی پہنچانا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حد درجہ ناک میں پانی چڑھانے کی سنت کو واضح فرماتے ہوئے روزے دار کو اس خدشے کے ساتھ مستثنی فرمادیا کہ کہیں اس کے پیٹ میں پانی داخل نہ ہوجائے اور اس عمل کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ صرف عدم روزہ ہی میں اس کو پسندیدہ قرار دیا گیا۔
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی داڑھی کا خلال کیا۔ ان سے دریافت کیا گیا: یا پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میرے لیے ایسا کرنے میں کیا مانع ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔حسان بن بلال بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دوران وضو اپنی داڑھی کا خلال کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے ان سے وضو میں داڑھی کا خلال کرنے کے بارے میں پوچھا۔ گویا کہ ایسے طریقے سے وضو کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا جس سے وہ پہلے واقف نہیں تھے بلکہ انہیں اس کا تب ہی علم ہوا تھا جب عمار بن یاسر کو انہوں نے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب دیا کہ کوئی ایسی بات نہیں جو داڑھی کے خلال میں مانع ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ داڑھی کے خلال کے دو طریقے ہیں: اول: ایک یہ کہ آدمی پانی کا ایک چلو لے اور اسے داڑھی کے نیچے لے جائے اور پھر اسے ملے یہاں تک کہ اس میں پانی گھس جائے۔ دوم: پانی کا چلو لے اور اپنی انگلیوں کو اس میں ایسے پھیرتے ہوئے خلال کرے جیسے کنگھی پھیری جاتی ہے۔
عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نبیﷺ کی خدمت میں دو تہائی مد پانی پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے (دھونے کے لیے) اپنے بازو کو ملنا شروع کر دیا“۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہمیں اس پانی کی مقدار کے بارے میں بتا رہے ہیں جس سے نبی ﷺ وضو کیا کرتے تھے اور وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ دو تہائی مد سے وضو فرمایا کرتے تھے (اگرچہ یہ مقدار کم تھی) تاہم اس سے بغیر کسی اسراف کے مقصود پورا ہو جاتا تھا اور یہ کہ نبی ﷺ نےاپنا بازو ملنا شروع کردیا تاکہ پانی کو دھوئے جانے والے سارے عضو تک پہنچایا جا سکے۔
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا تو ان لوگوں کو سردی نے آلیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پگڑیوں اور موزوں پر مسح کرلیا کریں۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ثوبان رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی ایک جماعت کافروں سے مد بھیڑ کے لیے روانہ فرمائی چنانچہ سفر کے دوران انہیں ٹھنڈ موسم کی وجہ سے پگڑیوں اور موزوں کو نکالنا گراں گزرا جب وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ آئے تو آپ ﷺ کو انہوں نے ٹھنڈ موسم کے بارے میں جانکاری دی، چنانچہ نبیﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پگڑیوں اور موزوں پر مسح کریں، بندوں کی آسانی اور سہولت کے لیے پھر چاہے وہ موزے چمڑے یا اون یا چیتھڑوں کے ہوں چنانچہ یہ سفر اور حضر، معذور وغیر معذور سب کے لیے سنت ثابتہ مقرر پائی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا یہاں تک انتظار کرتے کہ غلبۂ نیند کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے، پھر وہ از سرِ نو وضو کئے بغیر نماز پڑھتے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی کريم ﷺ کی زندگی ميں صحابۂ کرام عشاء کی نماز کا انتظار کرتے کرتے سو جاتے پَر گہری نیند نہ سوتے، پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔ آپ ﷺ کے زمانے میں کسی نے کوئی کام کيا اور آپ ﷺ نےاس پر نکیر نہ فرمائى تو اسے اقرار سمجھا جاتا ہے۔ اور اقرار بھی سنت نبوی کا ايک روپ (قسم) ہے جو قول، یا فعل یا تقريرپر مشتمل ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کے زمانے میں جو کام کیا جائے اور آپ ﷺ اس پر نکیر نہ فرمائیں تو اسے تقریری سنت (حدیث) شمار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر ان کی نماز باطل ہوتی یا ان کا یہ فعل جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں اس پرمتنبہ فرماتے۔ اس لیے کہ یا تو آپ کو اس کے باطل ہونے کے علم ہوتا یا بذريعۂ وحی آپ کو بتلادیا جاتا۔ بر خلاف اس کے جو آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ ”تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ“ یعنی اونگھ کے غلبے کی وجہ سے ان کے سر جھُک جاتے۔ ايک دوسری روايت ميں ہے: ”صحابی فرماتے ہیں کہ یہاں تک کہ میں کسی کے خرّاٹوں کی آواز سنتا، پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے“۔ ايک اور روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام اپنے پہلؤوں کو (زمين پر) رکھ لیتے تھے، پھر وضو کیے بغیر نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے، كيونکہ ان کی نیند گہری نہیں ہوتی تھی، اور دوسرے اس لیے کہ اگر ان کی نیند سے وضو ٹوٹتا تو آپ ﷺ انہیں اس پر برقرار نہ رکھتے۔ دلائل کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے ہم نے يہ بات کہی ہے۔ کيونکہ یہ بات ثابت ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے بول وبراز سے ٹوٹ جاتا ہے جيسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ”لیکن پیشاب، پاخانہ اور نیند سے“۔ اسی طرح آپ ﷺ کا فرمان ہے جیساکہ علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے: ”آنکھ کا کھلا رہنا دبر كا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کر لے“۔ نیز معاویہ رضی اللہ عنہ کی روایت ميں ہے کہ: ”آنکھ کا کھلا رہنا دبر كا بندھن ہے، جب آنکھيں سو جاتى ہيں تو بندھن ڈھيلا ہوجاتا ہے“ ان دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ جب کہ باب كى حديث اور اس کے ساتھ جو دوسری روايتيں ہیں، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ چنانچہ اسی کے پیشِ نظر باب كى حديث اور ”خراٹے اور پہلو رکھنے“ والی روایت کی تاویل کی جائے گی کہ یہ نیند اتنی گہری نہیں تھی جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ کيونکہ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی ابتدائی نیند میں خرّاٹے لیتا ہو، اور پہلو رکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نیند گہری ہو، جیسا کہ یہ بات ظاہر ہے۔ اس طرح تمام دلائل یکجا ہوجاتے ہیں اور ان سب پر عمل ہوجاتا ہے۔ اور جب دلائل کے درميان تطبيق ممکن ہو، تو یہ بعض روایات کو چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ خلاصۂ كلام يہ ہے کہ جب انسان سو جائے اور اس کی نیند اتنی گہری ہو جائے کہ وه پوری طرح سے شعور وادراک کوکھو دے، تواس کے لیے وضو کرنا لازم ہے۔ اور اگر نیند گہری نہ ہو تو وضو کرنا لازم نہیں ہوگا۔ اگرچہ احتیاطاً عبادت کے لیے بہتر اور محتاط رویہ يہی ہے کہ وہ وضو کرلے۔ اور اگر کسی کو شک ہو کہ آیا اس کی نیند گہری تھی یا نہیں؟ تو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کہ اصل طہارت کا باقی رہنا ہے اور یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ نیند جس میں شک ہو کہ آیا اس میں ہوا خارج ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس لیے کہ طہارت (پاکی) یقین کے ساتھ ثابت ہے، اوریقین شک کى وجہ سے ختم نہیں ہوتا۔
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مروان بن حکم کے پاس آیا۔ جن وجوہات کی بنا پر وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے بارے میں ہمارے مابین گفتگو ہوئی۔ مروان نے پوچھا کہ کیا آلۂ تناسل کو چھونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے؟۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: عروہ رحمہ اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ مروان بن حکم کے پاس گئے جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے۔ ”فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ“ یعنی ہمارے مابین ان باتوں اور اشیاء کے بارے میں گفتگو اور بحث چل نکلی جن کی وجہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔ مروان نے کہا کہ ”ومِنْ مَسِّ الذَّكَر“ یعنی جن چیزوں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان میں سے ایک آلہ تناسل کو چھونا بھی ہے۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ“ یعنی مجھے اس کی دلیل کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے مروی کوئی حدیث میرے پاس ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسْرَہ بنت صفوان نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے“۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ”وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ وضوء نہ کرلے“۔ یہ روایت تو اس بات کی کھلی وضاحت ہے کہ آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے شہوت کے ساتھ چھوا جائے یا پھر بغیر شہوت کے ساتھ اور چاہے اس شخص نے چھونے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ یہ چھونا براہ راست ہو اور درمیان میں کوئی شے حائل نہ ہو۔ اگر درمیان میں کوئی شے حائل ہو تو پھر چھونے سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اب درحقیقت مس ہوا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مس کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک عضو براہ راست دوسرے عضو کے ساتھ لگے۔ اس پر نسائی کی روایت کردہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے ” إذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إلَى فَرْجِهِ وَلَيْسَ بَيْنَها سِتْرٌ وَلَا حَائِلٌ فَلْيَتَوَضَّأْ“ یعنی جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو اس طرح سے ہاتھ لگا لے کہ درمیان میں کوئی پردہ یا آڑ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وضوء کرے۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کیا میں بکری کے گوشت (کو کھانے) سے وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر چاہو تو وضو کر لو اور اگر نہ چاہو تو نہ کرو۔ اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹ کے گوشت (کو کھانے) سے وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! اونٹ کے گوشت ( کو کھانے) سے وضو کرو۔ عرض کیا: میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اس نے مزید پوچھا کہ کیا میں اونٹوں کے بیٹھنے کے مقام میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”أأتَوضأ من لحوم الغنم“ یہ صحابی کی طرف سے بکریوں کے گوشت کے بارے میں استفسار ہے کہ کیا اس کے کھانے سے وضو واجب ہو جاتا ہے، جب کہ نماز پڑھنے کا ارادہ ہو یا کوئی ایسا کام کرنا ہو، جس کے لیے طہارت شرط ہے؟ آپ ﷺ نے اسے وضو کرنے اور نہ کرنے کے مابین اختیار دیا۔ دونوں ہی صورتیں جائز ہیں۔ ”قال أتوضأ من لحوم الإبل“ یعنی جب نماز پڑھنے کا یا کسی ایسے کام کا ارادہ ہو، جس کے لیے طہارت شرط ہے، تو کیا اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنا واجب ہو جاتا ہے؟ ”نعم فتوضأ من لحوم الإبِل“ یعنی اونٹ کا گوشت کھا کر تمھارے لیے وضو کرنا واجب ہے، اگرچہ بہت کم ہی کیا کھایا ہو۔ جب کہ اس کے دودھ یا یخنی پینے سے وضو واجب نہیں ہوتا؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے قبیلۂ عرینہ کے لوگوں کو اونٹ کا دودھ پینے کے بعد وضو کا حکم نہیں دیا تھا، حالاں کہ آپ ﷺ نے انھیں اونٹ کا دودھ پینے کا حکم دیا تھا اور یہ معلوم ہے کہ بوقت ضرورت وضاحت میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔ ”قال: أُصَلي في مَرَابِضِ الغَنم؟“ یعنی جن جگہوں پر بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں، کیا ان جگہوں پر نماز پڑھنا جائز ہے؟ فرمایا ہاں، یعنی ان جگہوں پر تمھارے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؛ کیوں کہ بھیڑ بکریوں سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔ ”قال: أُصلي في مَبَارِكِ الإبِل؟“ یعنی جن جگہوں پر اونٹ رہتے ہیں اور جہاں وہ بیٹھتے ہیں، کیا ان میں میرے لیے نماز پڑھنا جائز ہے؟ فرمایا نہیں، یعنی ان جگہوں میں نماز نہ پڑھو؛ کیوں کہ ان کے بدکنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس سے ہو سکتا ہے کہ نمازی کو کوئی ضرر ٹھوکر وغیرہ کی شکل میں لاحق ہو جائے۔ بھیڑ بکریوں سے اس بات کا خوف نہیں ہوتا؛ کیوں کہ وہ پرسکون رہتی ہیں اور بہت کم بدکتی ہیں اور ان سے اذیت پہنچنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میت کو نہلائے، اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے، اسے چاہیے کہ وضو کر لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث کا پہلا جملہ یہ بتاتی ہے کہ جو شخص کسی میت کو غسل دے؛ چاہے میت کسی چھوٹے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی اور چاہے براہ راست اپنے ہاتھ سے غسل دے یا دونوں کے درمیان کوئی آڑ ہو، جیسے ہاتھ پر کوئی کپڑے کا چیتھڑا یا دستانہ ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنابت جیسا معروف غسل کرلے۔ حدیث کے دوسرے جملے میں میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کاحکم دیا جارہا ہے اور یہاں وضو کی تفسیر و توضیح محض دونوں ہاتھوں کو دھولینے سے کی گئی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے حکم سے مقصود وہ لوگ ہوں، جو میت کو اٹھانے کے خواہاں ہوں؛ تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ خیال رہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کسی بھی اہل علم کی جانب سے میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کے واجب ہونے کا فتویٰ موجود نہیں ہے۔