





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب نہ کرے، اور پھر اسی میں غسل کرنے لگے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول ﷺ نے فرمایا) ”تم میں سے کوئی بھی حالتِ جنابت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہنبی ﷺ نے ایسے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا جو ٹھہرا ہوا ہو اورجاری نہ ہو۔ کیونکہ اس کی وجہ سے یہ نجاست سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ وہ امراض جو پیشاب کے بسبب در آ سکتے ہیں ہر اس شخص کو نقصان دے سکتے ہیں جو پانی کو استعمال کرے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود پیشاب کرنے والا ہی اس پانی کو استعمال کرے اور اس سے غسل کرے۔ چنانچہ اس کے لیے کیسے روا ہے کہ وہ ایسی شے میں پیشاب کرے جو بعد میں اس کے لیے حصولِ طہارت کا ذریعہ ہو گی۔ اسی طرح نبی ﷺ نے جنبی شخص کو ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ایسا کرنا پانی کو جنابت کی گندگی سے آلودہ کر دیتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ”عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، کیوں کہ عورت کو پسلی سے پیداکیاگیاہے اورپسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھاپن اس کے اوپروالے حصے میں ہوتاہے۔اگرتم اسے سیدھاکرنے لگ جاؤگے،تواسے توڑ بیٹھو گے اور اگر اس کو یوں ہی چھوڑدوگے،تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ اس لیے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت قبول کرو“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”عورت پسلی کی مانند ہے۔اگر تم اسے سیدھا کرنے لگ جاؤ گے،تواسے توڑ بیٹھوگے۔اگرتم اس سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہو،تو ٹیڑھے پن ہی کی حالت میں فائدہ اٹھاسکتے ہو“۔ ایک دوسری روایت میں ہے:”عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ کسی طریقے سے بھی تمھارے لیے سیدھی نہیں ہوسکتی۔ اگرتم اس سے فائدہ اٹھانے کاارادہ رکھتے ہو، تو ٹیڑھے پن ہی کی حالت میں فائدہ اٹھاسکتے ہو اور اگر تم اسے سیدھا کرنے میں لگ گئے، تو اسے توڑ بیٹھوگے۔ اس کے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عورتوں کے ساتھ معاشرت کے بارے بتا رہے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا:میں تمھیں جو وصیت کرنے جا رہا ہوں، اسے پلے سے باندھ لو۔وصیت یہ ہے کہ تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ کیوںکہ عورتیں عقلی، دینی اور غور وفکر کی صلاحیت کے اعتبار سے کم تر ہوتی ہں۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے تمام امور میں نا پختہ ہوتی ہیں۔ کیوںکہ انھیں پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے بغیر باپ اور ماں کے پیدا فرمایا؛بلکہ انھیں مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر فرمایا کہ"ہوجا"تو وہ عالم وجود میں آ گئے۔جب اللہ تعالی نے ان سے ان کی نسل پھیلانے کا ارادہ فرمایا، تو انہی سے ان کی زوجہ کو پیدا کیا۔اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کی زوجہ کو ان کی ٹیڑھی پسلی سے پیدا فرمایا۔چنانچہ معلوم ہواکہ عورت کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے ہوئی ہے۔ اگر آپ ٹیڑھی پسلی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، تو اس کے ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اگر اسے سیدھا کرنے لگ جائیں گے،تو وہ ٹوٹ جائے گی۔یہی حال عورت کا بھی ہے۔اگر انسان اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے،تو اس میں موجود کجی کے ساتھ ہی فائدہ اٹھانا ہوگا۔جتنا فائدہ حاصل ہو جائے، اسی پر راضی ہونا ہوگا۔اگر وہ اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرے گا،تو وہ سیدھی نہیں ہوگی۔انسان اپنی کوشش میں ناکام رہے گا۔دین کے معاملے میں درست ہو بھی جاۓ،تو طبعی میلانات کے معاملے میں کجی باقی رہے گی۔ ہر بات میں شوہرکی چاہت پرپورانہیں اترسکتی؛بلکہ مخالفت اورکوتاہی ناگزیرہے۔ جوکجی ہے،وہ رہنی ہی ہے۔اگر آپ اسے سیدھاکرنے جائیں گے،تواسے توڑ بیٹھیں گے۔یہاں توڑنے سے مراداسے طلاق دیناہے۔مطلب یہ ہے کہ اگرآپ یہ کوشش کریں گے کہ آپ جو چاہیں،وہ اس کے موافق ہوجائے،توایساممکن نہیں ہے۔ایسی صورت میں آپ اس سے اکتاکراسے طلاق دے بیٹھیں گے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو الگ بیٹھا ہوا دیکھا جس نے باجماعت نماز نہیں پڑھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: اے فلاں ! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوگیا تھا اور میں نے پانی نہیں پایا، آپ نے فرمایا: (پانی نہ ملنے پر) تم مٹی استعمال کرتے وہ تمہارے لیے کافی تھی۔
متفق علیہنبی ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو صبح کی نماز پڑھائی، نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نےایک آدمی کو دیکھا جس نے صحابہ کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی۔ یہ نبی ﷺ کا کمالِ لطف ومہربانی اور دعوت الی اللہ میں خوش اسلوبی ہی تھی کہ آپ نے اس کے جماعت سے پیچھے رہ جانے پر سختی نہیں برتی یہاں تک کہ تاخیر کی وجہ جان لی۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اپنی گمان کے مطابق اس نے اپنا عذر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا کہ اسے جنابت لاحق ہو گئی تھی اور پانی نہیں تھا اس لیے پانی کے ملنے اور طہارت حاصل کرنے تک اس نے نماز کو مؤخر کر دیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نےاپنی لطف ومہربانی سے طہارت حاصل کرنے میں پانی کےقائم مقام ایک چیز رکھی ہے اور وہ مٹی ہے۔ تو تم مٹی کو استعمال کرو کیوں کہ یہ تمہارے لیے پانی کےقائم مقام ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منیٰ تشر یف لائے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : پکڑو۔ اور آپ نے اپنے (سر کی ) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک )لوگوں کو دینے لگے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رمی جمرہ کے بعد آپ ﷺ نے قربانی کی اور سر منڈایا؛ نائی کو سر کا دایاں حصہ (مونڈنے کے لیے) دیا اُس نے اسے مونڈ دیا، آپ ﷺ نے ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلا کر وہ بال دے دیے، پھر نائی کو بایاں حصہ دیا اور اُس سے فرمایا مونڈ دو، اُس نے مونڈ دیا، آپ ﷺ نے اُسے بھی ابوطلحہ کو دے دیا اور فرمایا ’’اسے لوگوں کے مابین تقسیم کردو‘‘۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پرجب عید کے دن منیٰ آئے توجمرات کی رمی کی، پھر اپنے ٹھکانے کی طرف گیے اور اپنے قربانی کے جانور کی نحر کی، اس کے بعد نائی کو بلایا اس نے آپ کے سر کے بال مونڈے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی دائیں جانب اشارہ کیا تو حلاق(نائی) نے دائیں جانب سے بال مونڈنا شروع کیا۔ پھرآپﷺ نے ابو طلحہ انصاری کو بلایا اور اپنی دائیں جانب کے کٹے ہوئے تمام بال ان کو دے دیے۔ پھر باقی سر مونڈا گیا اور آپ نے ابو طلحہ کو بلایا اور وہ بھی ان کو دے دیے اور فرمایا کہ اس کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔ انھوں نے وہ بال لوگوں میں تقسیم کر دیے کسی کو ایک بال ملا، کسی کو دو اور کسی کو اس سے زیادہ جو میسر ہوا ملا۔ اور یہ نبی ﷺ کے اس مبارک بال کے تبرک کی وجہ سے ہوا۔ اور یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے آثار کے ساتھ خاص اور جائز ہے۔
ابو طریف عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی بات پر قسم کھا لے، پھر اس سے زیادہ پرہیزگاری والا عمل دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ پرہیزگاری والا عمل اختیار کرے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جس نے کسی شے کو چھوڑنے یا کرنے کی قسم اٹھائی، پھر اسے لگا کہ اس کی مخالفت کرنا قسم کو پورا کرنے سے بہتر اور زیادہ تقوی والا ہے، تو ایسے شخص کا قسم کو توڑ کر اس سے زیادہ بہتر عمل کو کرنا مستحب اور مندوب ہے۔ اگر جس شے پر قسم اٹھائی گئی ہو ایسی ہو جس کا کرنا یا چھوڑنا واجب ہے جیسے کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ وہ نماز کو چھوڑ دے گا یا پھر کسی نشہ آور شے کو پئے گا، تو اس صورت میں اس پر قسم توڑ کر اس فعل کو سر انجام دینا واجب ہے جو تقویٰ وپرہیزگاری کا کام ہے یعنی جس کام کا حکم دیا گیا ہے اسے بجا لانا اور جس سے منع کیا گیا ہے اس سے باز رہنا۔
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور ان کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بہ طور اجرت کچھ بھی نہ دوں۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ کی طرف چلے۔ قربانی کے جانور ساتھ تھے۔ (اسی موقعے پر) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے آئے۔ ان کے ساتھ بھی قربانی کے جانور تھے۔ چوں کہ یہ فقرا اور مساکین کے لیے صدقہ تھے، اس لیے قربانی کرنے والے کو اس میں تصرف کرنے یا اس میں سے کچھ بطور معاوضہ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ چنانچہ آپ نے انھیں ذبح کرنے والے کو بطور معاوضہ اس میں سے کچھ دینے سے منع فرمایا۔ بلکہ بطور اجرت گوشت، کھال اورجھول کے علاوہ کوئی دوسری چیز دی جائے گی۔
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک دن دوران خطبہ (صالح علیہ السلام کی) اونٹنی اور اس کی کوچیں کاٹنے والے کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت {إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ} تلاوت کی (اور فرمایا:) "اس کام کے لیے ایک سخت دل، طاقت ور، قبیلے کا قوی ومضبوط شخص اٹھا"۔ پھرآپ نےعورتوں کے متعلق نصیحت فرمائی۔ فرمایا: ”آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے، جب کہ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ وہ دن کے آخری حصے میں (یعنی رات میں) اس کے پہلو میں سوئے بھی“۔ پھر ہوا خارج ہوجانےکی وجہ سے ہنسنے پر نصیحت کی۔ فرمایا: ”تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے، جو وہ خود بھی کرتاہے“۔
متفق علیہنبیﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جسے عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ نے سنا، آپﷺ نے جو خطبہ دیا اس میں انھوں نے آپﷺ کو اس اونٹنی کا ذکر کرتے ہوئے سنا جو حضرت صالح-على نبينا وعليه أفضل الصلاة والسلام- کو بطور معجزہ دی گئی تھی۔ آپﷺ نے دوران خطبہ اس بدبخت شخص کا بھی ذکر کیا جس نے اس اونٹنی کی ٹانگیں کاٹی تھیں۔ اس کا نام قُدار بن سالف تھا جو کہ قوم کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ اس بدبخت کے من جملہ اوصاف میں اس کا بھی ذکر آیا ہے کہ اس کے جیسا کوئی دوسرا بدبخت نہیں تھا، فسادی اور اپنی قوم میں اثر ورسوخ رکھنے والا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہ، جو کہ عام طور پر ضربِ شدید (سخت مار) ہوا کرتی ہے۔ حدیث کا سیاق ایک عقل مند کی طرف سے دو امور کے صدور کو بعید تر قرار دیا گیا ہے؛ اپنی بیوی کی سخت پٹائی بھی کرے اور اسی دن یا اسی رات مجامعت بھی کرے۔ کیوں کہ جماع اور بیوی سے ہمبستری یہ اس وقت ہی اچھا لگتا ہے، جب رہن سہن میں ایک دوسرے کے ساتھ رغبت اور باہمی میلان ہو، جب کہ پٹائی سے دوچار ہونے والا شخص عام طور پر پٹائی کرنے والے سے متنفر رہتا ہے۔ اس طرح یہاں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایک مذموم کام ہے۔ اگر مارنا ضروری ہو جائے، تو پھر ہلکی مار ماری جائے کہ باہمی نفرت کی فضا نہ پیدا ہو۔ مارنے اور ادب سکھانے میں افراط سے کام نہ لیا جائے۔ پھر آپﷺ نے ان کو نصیحت کی یعنی انہیں خبردار کیا۔ ہوا خارج ہوجانے پر ہنسنے سے۔ کیوں کہ یہ خلاف مروت ہے اور اس میں ہتک عزت بھی ہے۔ اس کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسے عمل پر کیوں ہنستا ہے، جسے وہ خود بھی کرتاہے؟۔ کیوں کہ ہنسی تو کسی عجیب وغریب بات پر آتی ہے! اگر صرف ہنسی کے آثار ظاہر ہوں، تو اسے تبسم کہا جاتاہے، اگر اس میں تھوڑی سے زیادتی ہو جائے اور ساتھ میں آواز پیدا ہو جائے، تو اس کو (ضحک) ہنسی کہا جاتا ہے اور اگر آواز بلند ہو جائے تو اسے قہقہہ کہا جاتا ہے۔ جب ریح کا خروج فطری طور پر ہر انسان سے ہوتاہے، تو اس پر ہنسنے کی کیا بات ہے؟
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ موجود تھا۔ آپ لوگوں کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ میں ذرا دور ہٹ کر کھڑا ہو گیا، تو فرمایا : "قریب آ جاؤ۔" چنانجہ میں قریب آکر آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔
متفق عليهحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما کہتے ہيں کہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران آپ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا، تو ایک جگہ گئے، جہاں لوگ گھروں میں جھاڑو لگانے کے بعد جمع ہونے والا کوڑا اور مٹی پھینکا کرتے تھے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ جب کہ عام طور پر آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ سے دور ہٹنے لگے، تو آپ نے پاس آنے کے لئے کہا۔ چنانچہ وہ بالکل پاس جاکر آپ کے پیچھے ایڑیوں کے پاس کھڑے ہو گئے، تاکہ ایک طرح سے سترہ بن جائيں اور کوئی آپ کو اس حالت میں دیکھ نہ سکے۔ اس کے بعد آپ نے وضو کیا اور جب پاؤں دھونے کی باری آئی، تو دونوں موزوں کو دھونے کے بجائے ان پر مسح کر لیا۔ موزوں سے مراد چمڑے وغیرہ سے بنى ہوئے پیروں میں پہننے والى چیزیں ہيں، جو دونوں قدموں کو ڈھانپ کر رکھتى ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ مدینہ کے کسی راستے پر ان کی نبی ﷺ سے ملاقات ہو گئی۔ اس وقت وہ جنابت کی حالت میں تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں چپکے سے لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری کہ میں آپ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا“۔
متفق علیہمدینہ کے ایک راستے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے وہ اس وقت جنبی تھے۔ نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم کے تقاضے کے تحت انہوں نے ناپسند کیا کہ وہ اس حالت میں آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھیں اور آپ سے گفتگو کریں۔ چنانچہ وہ چپکے سے نبیﷺ کے ہاں سے نکل گئے اور غسل کر کے واپس آئے۔ نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں چلے گئے تھے؟ انہوں نے آپ ﷺ کو ساری بات بتا دی کہ انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ ناپاکی کی حالت میں بیٹھیں۔ آپﷺ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر تعجب کا اظہار کیا کہ وہ جنبی کو نجس خیال کر رہے تھے چنانچہ اس وجہ سے غسل کرنے چلے گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ:مومن کسی بھی حال میں نجس نہیں ہوتا۔