





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبداللہ! تم فلاں شخص کی طرح نہ ہونا، وہ رات کو قیام کرتا تھا، پھر اس نے (اکتاکر) رات کا قیام چھوڑ دیا“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے عبداللہ بن عمرو کو رات کی نماز چھوڑ نے پر تنبیہ فرمائی ہے، جس طرح کہ لوگوں میں سے فلاں نے چھوڑ ديا تھا۔ اور آپ ﷺ نے اس کا نام اس پر پردہ ڈالتے ہوئے نہیں ذکر کيا۔ ايک مسلمان کو چاہيے کہ عبادت ميں تشدد اور اپنے آپ کو ایسی عبادات کا مکلف (پابند) بنانے سے بچے جنہیں وہ کرنے کی طاقت نہيں رکھتا، اور جو شخص ایسا کرے گا تو کثرتِ اعمال و عبادات کی وجہ سے دین اس پر غالب ہوجائے گا، اور آخر کار وہ عاجز و بے بس ہوجائے گا اور اسے چھوڑ بیٹھے گا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر آسانی ورحمت کے لیے عبادتوں کو گاہے بگاہے فرض کيا ہے۔ اور اس لیے کہ اگر انسان عبادتوں ميں ميانہ روی اختيار کرے گا تو اس کے عمل میں ہمیشگی برقرار رہے گی اور وہ اللہ کا حق، خود کا حق، اہل و عیال اور رفقاء کا حق آسانی و سہولت کے ساتھ ادا کر سکے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”تمام اعمال ميں اللہ کو وہی عمل پسند ہے جس کو لگاتار اور ہميشہ کيا جاے گر چہ وہ تھوڑا ہی کيون نہ ہو“۔ لہٰذا انسان کو چاہيے کہ اپنی استطاعت کے مطابق رات ميں کچھ نہ کچھ عبادت کرے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ وتر (طاق یعنی یکتا) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حديث شريف ميں اہل قرآن جو اللہ کے خاص بندے ہوتےہيں، انہيں حکم ديا گيا ہے کہ وتر کی نماز پڑھا کريں، کيونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال ميں يکتا اور تنہا ہے، وتر کو پسند فرماتاہے۔ اہل قرآن سے مراد تمام مومنين ہيں جو قرآن کےقاری ہيں اور جو قرآن کے قاری نہيں ہيں وہ بھی مراد ہيں، گرچہ قراء حضرات حفظِ قرآن کی وجہ سےاس خطاب کے زيادہ حقدار ہيں۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہيں: اہل قرآن سے مراد حفّاظِ قرآن اور قراء ہيں،اور ان کا خصوصی ذکر ان کی اہميت اور شرف ومنزلت کی وجہ سے کيا گيا ہے، لہذا اہل قرآن کو خصوصی طور پر وتر کا اہتمام کرنا چاہيے، اگرچہ يہ تمام مومنين سے مطلوب ہے، ليکن اہل قرآن کو عام لوگوں پر فوقيت اور برتری حاصل ہے، کيونکہ وہ ان کے ليے اسوہ اور نمونہ ہوتے ہيں اوران کے پاس وہ علم ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ محروم ہوتے ہيں، جو ان کے لیے طاعات وعبادات ميں مسابقت اور بڑھ چڑھ کر حصہ لينے کا داعيہ (محرک) ہوتا ہے، اس لیے ان کی بابت یہ حکم زیادہ تاکید اور اہمیت رکھتا ہے۔
قیس بن طلق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے ہاں آئے، ہمارے ہی یہاں شام کی، افطار کیا، ہمیں اس رات نماز پڑھائی، وتر بھی پڑھائے پھر اپنی مسجد کی طرف چلے گئے، وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور جب وتر باقی رہ گیا، تو ایک شخص کو آگے کر دیا اور کہاکہ اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ ، بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے: ”ایک رات میں دو وتر نہیں“ (یعنی دو بار وتر نہیں)۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔صحابی جلیل طلق بن علی رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اپنے فعل سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایک دفعہ رات کے ابتدائی جصے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وتر پڑھا، پھر اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن وتر نہیں پڑھایا، بلکہ وتر کے لیے کسی اور کو آگے کر دیا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا تھا؛ کیوں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا تھا کہ کوئی آدمی ایک رات میں دو وترپڑھے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو وِتر پڑھے بغیر سوجائے، يا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اس وقت اسے پڑھ لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یہاں تک کہ صبح ہو جائے، یا اسے بھول جائے تو وہ اسے طلوعِ فجر کے بعد پڑھ لے۔ یہ اس کی طرف سے ادا ہو گی نہ کہ قضا۔ حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے یا پھر انہیں پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ (جب اسے یاد آئے یا جب وہ بیدار ہو) نماز وتر پڑھ لے اگرچہ یہ ادائیگی فجر ثانی کے طلوع کے بعد ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ایسا شخص شرعاً معذور ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی کام کو چھوڑ دیتے، حالاں کہ آپ ﷺ کو اس کا کرنا پسند ہوتا، اس خیال سے کہ دوسرے لوگ بھی اس پر (آپ کو دیکھ کر) عمل شروع کر دیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں پڑھتی ہوں۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کسی کام کو ترک فرما دیتے، حالاں کہ آپ ﷺ کو اس کا کرنا پسند ہوتا؛ تا کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ شروع کر دیں، یوں وہ ان پر فرض ہو جائے، پھر اس کی وجہ سے وہ مشقت میں مبتلا ہوں اور اس کو انجام نہ دے سکیں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔ علما نے اس نفی کو مداومت پر محمول کیا ہے۔ یعنی نبی ﷺ اس کی فضیلت کی وجہ سے کبھی اسے پڑھا کرتے تھے اور کبھی اس اندیشے کی تحت چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں یہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائے، جیسا کہ حدیث کی ابتدا میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا: کیا انھیں معلوم نہیں کہ یہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوّابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدت گرمی کی وجہ سے جلنے لگیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اوابین کی نماز کا وقت وہ ہے، جب اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یعنی چاشت کی نماز کا اول وقت وہ ہے ، جب سورج کافی اونچا ہو جائے اور اونٹنی کے بچوں کے پاؤں شدتِ گرمی کی وجہ سے جلنے لگيں۔ یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرماں بردار اور اس کی طرف رجوع کرنے والے بندے چاشت کی نماز ادا کرتے ہیں۔
جابر بن یزید بن اسود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز پڑھی جبکہ وہ نوجوان تھے۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو دیکھا کہ دو آدمی مسجد کی ایک جانب میں موجود ہیں اور انہوں نے (جماعت کے ساتھ) نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا۔ انہیں آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو ان کی یہ حالت تھی کہ ان کے پٹھے کانپ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں کیا رکاوٹ تھی کہ ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا: ہم اپنی منزل میں نماز پڑھ آئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو۔ جب تم میں سے کوئی اپنی منزل میں نماز پڑھ چکا ہو پھر امام کو پائے کہ اس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے تو اس کے ساتھ بھی مل کر پڑھے ، یہ اس کے لیے نفل ہو گی۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔یزید بن اسود بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس وقت وہ نوجوان تھے۔ جب نبی کریمﷺ نے نماز سے فارغ ہوئے، تو دیکھا دو آدمی مسجد کے کونے میں موجود تھے۔ انھوں نے نمازنہیں پڑھی تھی۔نبی کریمﷺ نے صحابہ کو انھیں حاضر کرنے کا حکم دیا۔ صحابہ ان کو لے آئے تو خوف سے وہ تھر تھر کانپ رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی جائے قیام میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: دوبارہ ایسا نہ کرنا؛ جب تم میں سے کوئی اپنی جائے قیام میں نماز پڑھ لے اور پھر اما م کو نماز پڑھانے ہوئے پائے، تو اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ یہ اس کے لیے مزید اجر و ثواب کی باعث ہوگی۔ اس کی پہلی نماز فرض ہو جائے گی اور دوسری نفل۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار ہوئے اور اس سے گر پڑے، اس سے آپ کا دایاں پہلو چھل گیا، جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھی، تو ہم لوگوں نے بھی وہ نماز آپ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: امام اسی لئے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکو ع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ ”سمع الله لمن حمده“ کہے تو تم ”ربنا ولك الحمد“ کہو، اور جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ گھوڑے پر سوار تھے، آپ اس سے گر گئے اور آپ کے دائیں پہلو میں خراش آگئی، تو آپ ﷺ نے صحابہ کو ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی اور انہوں نے بھی وہ نماز آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر پڑھی۔ پھر جب نماز ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں بتلایا کہ مقتدی اپنے امام کی اقتدا اور پیروی ہر چیز میں کرے گا، جب امام تکبیر کہے تو مقتدی تکبیر کہے گا، جب امام رکوع کرے تو مقتدی رکوع کرے، جب وہ سجدہ کرے تو وہ سجدہ کرے، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح کھڑے ہو کر نماز پڑھے گا، اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح بیٹھ کر نماز پڑھے گا جب وہ (مقتدی) نماز کے لئے آئے اور وہاں کے امام کو بیٹھا ہوا پائے اور وہ مستقل امام ہو (تو وہ بھی اسی کی طرح بیٹھ کر نماز پڑھے)، جیسا کہ صحابہ رضوان الله عليهم کا واقعہ نبی ﷺ کے ساتھ اس دن پیش آیا جب آپ گھوڑے پر سوار ہوتے وقت گر گئے اور آپ کے دائیں پہلو میں خراش آگئی تھی، اس بنا پر آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور صحابہ نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب میں (صفوں میں) پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: آگے بڑھو، اور میری اقتدا کرو۔ اور جو تمہارے بعد کے لوگ ہیں وہ تمہاری اقتدا کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے ہٹتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے ہی کر دیتا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف امام سے قریب رہنے کی فضیلت کو بیان کرتی ہے،جس طرح یہ بیان کرتی ہے کہ پیچھے کی صفیں امام سے قریب صفوں کی اقتدا کریں گی۔ اسی طرح حدیث میں پہلی صف سے پیچھے رہنے والوں کے لئے اللہ کی رحمت، اس کے عظیم فضل، رفعتِ درجات اور علم وغیرہ سے پیچھے رہ جانے کی وعید ہے۔