





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، تو وہ دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ہم نے ”سبحان اللہ“ کہا، تو انھوں نے بھی ”سبحان اللہ“ کہا اور کھڑے رہے۔ جب نماز پوری کر لی اور سلام پھیر لیا، تو سہو کے دو سجدے کیے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ویسا ہی کیا تھا، جیسا میں نے کیا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے فعل کو بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ (ایک مرتبہ) نماز میں (کچھ) بھول گئے، ان کے پیچھے موجود مقتدیوں نے ”سبحان اللہ“ کہا، وہ سمجھ تو گئے، لیکن نماز مکمل کر لی اور سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ اور اپنے اس فعل کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے فعل کی طرف کی۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ سجدۂ سہو سلام سے پہلے ہے، جیسا کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ کی روایت میں ہے۔ (متفق علیہ)
ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ﴾ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا، پھر جب سلام پھیرا تو انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔
متفق علیہابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سورہ انشقاق پڑھی اور جب اس آیت پر پہنچے ﴿وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩﴾ تو سجدہ کیا ۔تو اس پر ان پر اعتراض کیا گیا۔ یعنی ابو رافع رضی اللہ عنہ نے اس سورہ میں سجدہ (تلاوت) سے اختلاف کیا جیسا کہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابو رافع نے کہا ”میں نے سوال کیا کہ یہ کس بات کا سجدہ ہے؟“ اورانھوں نے ان کا اس لیے انکار کیا کیونکہ رسول ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ آنے کے بعد مفصلات میں سجدہ نہیں کیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی نہ کرتا۔ یعنی میں نے صرف رسول اللہﷺ کی پیروی کرتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔زید بن ثابت رضی اللہ نے آپ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، جب سجدے کی آیت پر گزرے تو آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا۔ یہاں پر سجدہ نہ کرنا اس بات پر دلیل نہیں کہ آپ نے مطلقاً سجدہ نہیں کیا، اس لیے کہ ممکن ہے یہ بیانِ جواز کے لیے ہو۔ یہ سب سے راجح احتمال ہے۔ اسی کو امام شافعی رحمہ اللہ نے یقین سےفرمایا ہے۔ اس لیے کہ اگر یہ واجب ہوتا تو آپ اسے کرنے کا حکم دیتے، اگرچہ بعد میں دیتے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ: کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اور جو ان دو سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا اسے چاہیے کہ وہ ان دو آیات کو نہ پڑھے (جن میں یہ دونوں سجدے آئے ہیں)۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے سوال کررہے ہیں اور آپ ﷺ سے سورة الحج کے بارے دریافت کر رہے ہیں کہ کیا اس میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں، اس میں دو سجدے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں ایک اور حکم بیان فرمایا کہ جو شخص ان دونوں سجدوں کو نہیں کرنا چاہتا تو وہ ان دونوں آیات کو نہ پڑھے۔ یعنی جو شخص ان دونوں آیات تک پہنچے اور وہ ان میں سجدے نہ کرنا چاہتا ہو تو وہ انہیں نہ پڑھے۔ یہ ممانعت تحریم کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ کراہت و ناپسندیدگی کے لیے ہے۔ اور سجدہ تلاوت کرنا سنت ہے۔
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب کوئی باعثِ مسرت چیز پیش آتی ہے یا پھر کوئی خوش خبری سنائی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث شریف نبی ﷺ کے فعل کو بیان کر رہی ہے کہ جب بھی آپ ﷺ کو کوئی باعثِ مسرت امر پیش آتا یا پھر کسی اچھی بات کی بشارت دی جاتی تو آپ ﷺ اللہ کے شکر میں سجدہ ریز ہو جاتے۔سجدۂ شکر ایسی نعمتوں کے لیے مشروع ہے جو نئی نئی حاصل ہوئی ہوں۔ ایسی نعمتیں جو ہمہ وقت جاری رہتی ہیں جیسے اسلام، عافیت اور لوگوں سے بے نیازی کی نعمتیں تو ان میں سجدہ شکر کرنا مشروع نہیں کیونکہ اللہ کی نعمتیں تو ہمیشہ جاری رہتی ہیں اور ان کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ اگر ان کے لیے سجدہ بجا لانا مشروع کر دیا جاتا تو پھر تو انسان اپنی ساری عمر سجدے میں ہی لگا دیتا۔ ان (ہمہ وقت جاری رہنے والی) نعمتوں پر اور ان کے علاوہ دیگر نعمتوں پر شکر بجا لانے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرماں برداری کی جائے۔
عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو۔ پھر فرمایا: جس کا جی چاہےمغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھے۔ یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو سنت (لازمہ) نہ بنالیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف میں مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کی ترغیب ہے اور یہ مغرب کی اذان کے بعد نفلی طور پر پڑھنا ہے جس کا جی چا ہے۔ البتہ یہ سنت مؤکدہ میں سے نہیں ہیں لہذا اس پر مداومت نہ برتی جائے تاکہ یہ نماز سنت مؤکدہ کے جیسی نہ ہو جائے۔ نماز مغرب سے قبل دو رکعت کا ذکر سنت کی تینوں قسم (یعنی قولی، فعلی اور تقریری) میں آیا ہے۔ (قولی سنت) رسول اللہ ﷺ نے اس کے پڑھنے کا حکم دیا، (فعلی سنت) آپﷺ نے ان دو رکعتوں کو پڑھا جیسا کہ ابن حبان کی روایت میں ہے، (تقریری سنت) آپﷺ نے صحابہ کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور انھیں اس پر باقی رکھا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک آدمی نے نبی ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، کہ رات کی نماز کے بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دو دو رکعت کر کے (پڑھو)، اور جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، وہ تمہاری ساری نماز کو طاق کر دے گی۔‘‘ اور آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے: ’’اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ‘‘، چناں چہ نبی ﷺ نے اسی کا حکم دیا۔
متفق عليهایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت سوال کیا جب آپ ﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: ”یا رسول اللہ! مجھے سکھائیے کہ میں رات کی نماز کیسے پڑھوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر دو رکعت پر سلام پھیرو، جب صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو، جو تمہاری پڑھی ہوئی نماز کو وتر بنا دے گی۔ آپ ﷺ رات کی آخری نماز کو وتر بنانے کی وصیت فرماتے تھے۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وتر حق ہے؛ جو چاہے سات پڑھ لے، جو چاہے پانچ پڑھ لے، جو چاہے تین پڑھ لے اور جو چاہے ایک پڑھ لے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”وتر حق ہے“ حق ثبوت کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی سنت سے ثابت ہے۔ اس میں یک گونہ تاکید ہے۔ یہ وجوب کے معنی میں بھی آتا ہے۔ لیکن یہاں مراد پہلا معنی ہے، یعنی یہ سنت مؤکدہ ہے۔ کیوں کہ بہت سارے واضح دلائل اس کے عدم وجوب پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک روایت طلحہ بن عبیداللہ کی ہے، جسے شیخین نے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص اہل نجد میں سے رسول اللہ ﷺکے پاس آیا... اس حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں“۔ اس نے پوچھا کہ کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں! الا یہ کہ تو نفل پڑھے۔ چنانچہ اگر یہ واجب ہوتا، تو اسے پانچ نمازوں کے ساتھ بیان کیا جاتا۔ نیز آپﷺ نے فرمایا: ”پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں جو انہیں ادا کرلے گا اور ان کے حق میں کسی چیز کو بھی کم تر سمجھتے ہوئے ضائع نہیں کرے گا تو اللہ کے ہاں اس کے لئے عہد ہے کہ اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا“۔ اس کے عدم وجوب کے دلائل میں سے بخاری و مسلم میں موجود عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی وہ روایت بھی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، آپﷺ اس حدیث میں فرمایا: ”ان کو یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں“۔ یہ سب سے بہترین دلائل میں سے ہے؛ کیوں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن آپﷺ کی وفات سے کچھ ہی دنوں پہلے بھیجا تھا۔ اس کی ایک دلیل علی رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت بھی ہے: ”وتر کی نماز فرض نماز کی طرح واجب نہیں“۔ چنانچہ اس حدیث میں ’حق‘ سے مراد وتر کی تاکید اور فضیلت کو دو چند کرنا اور یہ بتانا ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے۔ یہی بات درست ہے۔ ”جو چاہے سات وتر پڑھے اور جو چاہے پانچ“ یعنی دو دو رکعتیں پڑھے اور پھر ایک رکعت پڑھ کر انھیں طاق بنالے۔ یہی اصل ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔(متفق علیہ) اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ ساری رکعتیں مسلسل پڑھتا جائے اور صرف آخری رکعت ہی میں بیٹھے۔ یہ بھی جائز ہے اور آپﷺ سے بھی ثابت ہے۔ جیسا کہ ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ وتر کی پہلی رکعت میں سورۂ اعلیٰ پڑھتے، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھتے اور آخر میں سلام پھیرتے۔ (سنن نسائي) جب کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔ (سنن نسائی) شیخ ابن عثیمین فرماتے ہیں کہ وتر تین ،پانچ، سات اور نو رکعت پڑھنا جائز ہے۔ اگر کسی کو تین پڑھنے ہیں، تو اس کی دو صورتیں ہیں اور دونوں ہی مشروع ہیں: پہلی صفت یہ ہے کہ تینوں رکعتیں مسلسل ایک ہی تشہد کے ساتھ پڑھی جائیں اور دوسری صورت یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا جائے اور ایک رکعت الگ سے پڑھ لی جائے۔ افضل یہ ہے کہ دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دے، پھر ایک رکعت پڑھے؛ تاکہ اس کی ساری نماز طاق ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا اکثر عمل اسی کے مطابق تھا۔ اگر کوئی صرف ایک وتر پڑھنا چاہے، تو بھی جائز ہے۔ یعنی صرف ایک رکعت پڑھ لے۔ اس کے ساتھ جفت رکعتیں نہ ملائے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات (تراویح کی) اور وتر پڑھائی۔ اگلے دن ہم پھر مسجد میں اکٹھے ہوئے اور ہمیں امید تھی کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکل کر (مسجد میں) آئیں گے لیکن صبح ہونے کی قریب آ گئی اور آپ باہر تشریف نہیں لائے۔ جب رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ! ہم اس امید پر تھے کہ آپ آئیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ یہ وتر تم پر فرض کر دی جائے“۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”ہمیں رسول اللہﷺ نے رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر ( نماز) پڑھائی“ یعنی نبی کریم ﷺ نے صحابہ کو رمضان میں مسجد کے اندر آٹھ رکعات نماز اور وتر پڑھائی۔ ”جب اگلی رات آئی“ یعنی اس کے بعد دوسری رات۔ ”ہم مسجد میں جمع ہو ئے“ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امید پر پھر مسجد میں حاضر ہو ئے کہ نبی کریم ﷺ آج پھر آئیں گے اور جیسے ہم نے کل نماز پڑھی تھی ویسے آج پھر پڑھائیں گے۔ اس لیے انھوں نے کہا ”ہمیں امید تھی کہ آپ ﷺ باہر ہمارے پاس تشریف لائیں گے“ یعنی ان کو رات کی نماز پڑھائیں گے۔ ”ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی“ یعنی صحابہ مسجد میں انتظار ہی کرتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی۔ ”ہم نبی کریمﷺ کے پاس گیے“ یعنی وہ نبی کریمﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ ﷺ سے پوچھ سکیں کہ آج آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لیے تشریف کیوں نہیں لائے؟ ”ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ!ہم یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ آپ باہر تشریف لائیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے“ یعنی ہم یہ تمنا اور امید لگائے بیٹھے تھے کہ آپ کل رات کی طرح آج پھر آئیں گے اور ہمیں (باجماعت) نماز پڑھائیں گے۔ آپﷺ نے فرمایا: كَرِهت أن يُكتب عليكم الوِتر (میں نے اس بات کو پسند نہیں کیا کہ یہ وتر تم پر فرض کر دی جائے)۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نہ آنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ آپ ﷺ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ کہیں وتر بھی ان پر فرض نہ کر دی جائے۔ ایک روایت میں ہے: ”میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ تم پر فرض نہ کر دی جائے“ اور ایک روایت میں ہے ”اس بات سے ڈر ا کہ کہیں قیام اللیل تم پر فرض نہ کر دیا جائے“، یہ وہ سبب تھا جس کی وجہ سے آپ ﷺ ان کے پاس تشریف نہیں لائے اور آپ ﷺ کی امت کے ساتھ یہی وہ رحمت و شفقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ان اوصاف کے ساتھ بیان فرمایا ہے: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ } ”لوگو! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے (اور) مہربان ہیں“ (سورہ توبہ: 128)۔ اس حدیث کی اصل صحیحین میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ (رمضان کی) نصف شب میں مسجد تشریف لے گیے اور وہاں تراویح کی نماز پڑھی۔ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیے۔ صبح ہوئی تو انھوں نے اس کا چرچا کیا۔ چنانچہ دوسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہو گیے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔دوسری صبح کو اور زیادہ چرچا ہوا اور تیسری رات اس سے بھی زیادہ لوگ جمع ہو گیے۔ آپ ﷺ نے (اس رات بھی) نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کی اقتداء کی۔ چوتھی رات کو یہ عالم تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنے آنے والوں کے لیے جگہ بھی باقی نہیں رہی تھی۔(لیکن اس رات آپ باہر نکلے ہی نہیں) بلکہ صبح کی نماز کے لیے باہر تشریف لائے۔ جب نماز پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر (کلماتِ) شہادت کے بعد فرمایا۔ امابعد! تمہارے یہاں جمع ہونے کا مجھے علم تھا، لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ۔