





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عاصم الاحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے ہونی چاہیے، میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص کا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے رکوع کے بعد کہا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ انھوں نے جھوٹ کہا ہے۔ پھر انھوں نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد قنوتِ نازلہ پڑھی۔ جس میں آپ ﷺ بنو سلیم کے قبیلوں کے حق میں بددعا کر رہے تھے۔ انھوں نے بیان کیا کہ:آپ ﷺ نے چالیس یا ستر، راوی کو تعداد میں شک ہے قرآن کے عالم صحابہ کی ایک جماعت مشرکین کی طرف روانہ کیا، لیکن بنو سلیم کے لوگ ان کے آڑے آئے اور ان کو مار ڈالا۔ حالاں کہ نبی کریم ﷺ سے ان کا معاہدہ تھا۔ ( لیکن انھوں نے دغا دیا)۔ میں نے آپ ﷺ کو کسی معاملہ پر اتنا رنجیدہ اور غمگین نہیں دیکھا جتنا ان صحابہ کی شہادت پر آپ رنجیدہ تھے۔
متفق علیہاس حدیث میں قنوت نازلہ کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے۔ اور یہ کہ یہ رکوع سے اٹھنے کے بعد پڑھی جائے گی، کیوں کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا جب بنو سلیم نے اپنے معاہدہ کو جو ان کے اور مسلمانوں کے مابین طے پایا تھا، توڑتے ہوئے ستر یا چالیس قراء صحابہ کو شہید کردیا، جنھیں رسول اللہ ﷺ نے مشرکیں کی طرف (دعوت وتبلیغ کی غرض سے) بھیجا تھا۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی جس میں ان پر بددعا کرتے رہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ جب کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی کے لیے بد دعا کرتے، تو اس صورت میں قنوت پڑھتے، ورنہ نہیں پڑھتے تھے۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔حدیث میں وہ مواقع بیان کیے گئے ہیں، جہاں آپ علیہ الصلاۃ السلام قنوت پڑھتے تھے۔ یعنی کسی کے لیے دعا یا بد دعا کرتے وقت۔ اس سے حادثات میں قنوت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ فرض نمازوں میں اس کے علاوہ کوئی قنوت وارد نہیں ہوا۔ یہ حادثات اور مصائب کے دنوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے نبی ﷺ مسلمانوں کے لیے دعا مانگتے وقت یا کفار کے لیے بددعا مانگتے وقت قنوت پڑھتے تھے۔ نیز یہ کسی خاص نماز کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ تمام نمازوں میں اسے پڑھنا چاہیے۔
ابو مالک اشجعی سعد بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ابا جان سے پوچھا کہ اے ابا جان! آپ نے تو رسول اللہ ﷺ، ابوبکر ، عمر ، عثمان اور یہاں کوفہ میں علی رضی اللہ عنہم کے پیچھے تقریباً پانچ سال تک نماز پڑھی ہے۔ کیا وہ لوگ فجر کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ میرے بیٹے! یہ (دین میں) ایک نئی ایجاد کردہ بات ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ نمازِ فجر میں کسی خاص ناگہانی مصیبت کے بغیر دعائے قنوت پڑھنا بدعت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وتر کےعلاوہ آپ ﷺ کسی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے سوائے اس کے کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت آ جائے۔ اس صورت میں تمام نمازی ساری نمازوں میں قنوت پڑھا کرتے تھے بطورِ خاص فجر اور مغرب کی نماز میں، جو بھی صورت اس مصیبت کے مناسب ہوتی تھی۔ جو شخص سنت میں غور و فکر کرے گا اسے قطعی طور پر معلوم ہوجائے گا کہ نبی ﷺ نے نمازوں میں دائمی طور پر دعائے قنوت نہیں پڑھی۔
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺجب (تشہد میں) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے نیز اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتےاور بائیں گھُٹنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لے لیتے (پکڑلیتے)۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ جب بیٹھتے تو دعا کرتے“ یعنی جب تشہد کے لیے بیٹھتے۔ اس کی تائید عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے۔ (مسلم) تشہد میں یہ دعا پڑھی جاتی ہے: ”التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“ اوراس کا نام دعا اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ یہ دعا پر مشتمل ہے جیسا کہ آپ کے فرمان میں ہے ”السَلام عليك“، ”والسَلام علينا“ ہے جو کہ دعا ہے۔ اور”اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اوربایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے“ یعنی جب آپﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر پھیلا لیتے اوراسی طرح بایاں بائیں ران پر۔ ۔ہاتھ کو گھٹنے کے قریب یا گھٹنے پر یا ران پر رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ فضول حرکتوں سے بچا جاسکے۔ ہاتھ کو ران پر رکھنا یہ گھٹنوں پر رکھنے کے متضاد نہیں کیوں کہ جب ہاتھ کو گھٹنوں پر رکھا جائے گا تو انگلیوں کو گھٹنوں کے ساتھ ملایا جائے گا۔ سنن نسائی میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھتے اوراپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر رکھتے، اور یہ کہنا کہ اپنی دائیں کہنی کے کنارے کو اپنی دائیں ران پر رکھتے۔ جب نمازی اپنی کہنی کے کنارے کو اپنی ران پر رکھے گا تو لا محالہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں تک پہنچیں گے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ انگلیوں کو گھٹنوں پر یا گھٹنوں کے قریب رکھنے میں استحباب ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کا عطف انگلیوں کو گھٹنوں پر رکھنے پر ہے“۔ یہی اس قول ”اپنے بائیں گھٹنے کو اپنی ہتھیلی میں لے لیتے“ کا معنی بھی ہے۔ ”اپنے ہاتھ کو رکھتے“ میں، ہاتھ سے مراد انگلیوں کے پوروں سے لے کر کہنیوں تک کا حصہ ہے۔ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ یہ حالت چاہے پہلے تشہد میں ہو یادوسرے میں ہو دونوں ایک طرح ہیں۔ ”اور اپنی سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا“ ’سبابہ‘ سے مراد وہ انگلی ہے، جو انگوٹھے کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ اس کو سبابہ اس لیے کہا گیا ہے کہ گالی گلوچ کرتے وقت اس کے ذریعہ اشارہ کیا جاتا ہے۔ اس کا نام ’مُسَبِّحَہ‘ بھی ہے کیوں کہ اس کے ساتھ اللہ کی توحید اور اس کی پاکی بیان کی جاتی ہے اور یہ تسبیح ہے۔ سبابہ انگلی سے حالت تشہد میں اشارہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اور مسنون یہی ہے کہ جب تشہد کے لیے بیٹھا جائے اس وقت سے لے کر تشہد سے فارغ ہونے تک اشارہ کیا جائے۔کیوں کہ حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے تو دعا کرتے، دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ اسی طرح صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بےشک رسول اللہ ﷺ جب تشہد میں بیٹھتے تو دائیں ہاتھ کو اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر اور ترپن (53) کی گرہ لگاتے اور سبّابہ انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ اسی طرح وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے سننِ ابی داؤد میں روایت ہے کہ پھر بیٹھتے، اپنے بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا لیتے، اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر رکھتے اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران پر بچھا لیتے، مٹھی بند کرلیتے اور حلقہ بنا لیتے۔ میں نے دیکھا کہ اس طرح سے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی کے ساتھ حلقہ بنا لیتے اور سبابہ سے اشارہ کرتے۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یہ کام آپ ﷺ اپنے تشہد میں بیٹھنے کی ابتدا سے کرتے جیساکہ بعض دیگر روایات میں آتا ہے۔ ابن باز رحمہ اللہ اور مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ ”اپنے انگوٹھے کو اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے“ کا مطلب ہے کہ انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے حلقہ بناتے اور سبابہ انگلی سے اشارہ کرتے۔ ”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ یعنی اپنی سبّابہ انگلی کےساتھ اشارہ کرتے۔ اس کو ہر حالت میں شروع سے ہی کھڑی کر لیتے تھے اور اس اشارہ میں حکمت یہ ہے کہ اس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے اقوال و افعال اور اعتقاد ہر ایک میں اس کی توحید کی طرف اشارہ ہے۔ مسند امام احمد میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ حدیث ثابت ہے کہ یہ شیطان کو لوہے سے بھی زیادہ سخت لگتی ہے۔ ”اپنی انگلی سے اشارہ کرتے“ میں حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے جب کہ اشارہ بغیر حرکت کے نہیں ہوتا۔ ”اپنے گھٹنے کو بائیں ہتھیلی کے نیچے لیے لیتے“ کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ اپنے گھٹنے کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں داخل کر کے اس کو مضبوطی سے تھام لیتے بایں طور کہ گھٹنا ہاتھ کا لقمہ بن جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ ،گھٹنے کو پکڑے بغیر، اس پر بچھا لیں، جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر رکھتے اور بائیں ہاتھ کو اپنے گھٹنے پر بچھا لیتے۔ اس بنا پر ہاتھوں کو تشہد کی حالت میں گھٹنوں پر رکھنے کے حوالے سے مسنون عمل دو طرح سے ثابت ہے۔ اس لیے (ان دونوں صورتوں) میں سے جس کو بھی اختیار کیا جائے گا سنت پر عمل ہوجائے گا۔جب کہ اولیٰ اور افضل یہی ہے کہ کبھی ایک طرح سے کر لیا جائے اور کبھی دوسری طرح کر لیا جائے اس طرح آپ ﷺ سے ثابت شدہ تمام طریقوں پر عمل ہو جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد یوں سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“۔ بقا و بادشاہت، عظمت و اختیارات، کثرتِ خیر اور ساری بابرکت دعائیں اورساری پاکیزہ نمازیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ ابن رمح کی روایت میں ہے کہ جس طرح آپ ﷺ ہمیں قرآن سکھاتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف کلماتِ تشہد کو بیان کرتی ہے اور یہ کہ نبی ﷺ صحابہ کو اسی اہتمام کے ساتھ تشہد سکھاتے تھے جس اہتمام سے آپ انہیں قرآن مجید کی آیتیں سکھاتے تھے،تشہد کے الفاظ یہ ہیں: ”التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ“، تشہد کے یہ الفاظ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی مشہور کلماتِ تشہد کے قریب تر ہیں،فرق صرف ”المبارکات“ کے لفظ کی زیادتی اور اس کے بعد دونوں کلمات میں ”واو“ کے حذف کا ہے۔ تشہد کے سلسلہ میں وارد مختلف صیغوں کو پڑھنے میں تنوع اپنانا مشروع ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مریض کی عیادت کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ تکیے پر نماز پڑھ رہا ہے، آپﷺ نے وہ تکیہ لیا اور اس کو پھینک دیا، اس نے لکڑی پکڑی تاکہ اس پر نماز پڑھے۔ آپ ﷺ نے اس کو بھی لیا اور پھینک دیا اور فرمایا: اگر استطاعت ہے تو زمین پر نماز پڑھو ورنہ اشارے سے پڑھ لو اور سجدے میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکو۔
اسے امام بزّار نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں مریض کی نماز کی ادائیگی کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے کہ اگر وہ پیشانی کو زمین پر رکھنے پر قدرت نہیں رکھتا جو کہ نماز میں حسبِ استطاعت زمین پر رکھنی واجب ہے تو وہ حالت رکوع اور سجود میں اشارے سے کام لے جب کہ حالتِ سجود میں رکوع کی نسبت جھکاؤ زیادہ ہونا چاہیے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک آیت سے قیام کیا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں کہا گیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رات قرآن کی ایک ہی آیت سے تہجد کی پوری نماز پڑھی۔ اسے اپنے پورے قیام میں دوہراتے رہے اور اس کے سوا کوئی دوسری آیت نہیں پڑھی۔ بظاہر یہ آیت تھی : {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118] (اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف کر دے، تو تو زبردست ہے، حکمت والا ہے)۔ جیسا کہ اس حدیث کی بعض روایتوں میں آیا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک پرانے اور بوسیدہ کجاوے اور اس پر بچھی ہوئی ایک ایسی چادر پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی قیمت چادر درہم تھی یا اتنی بھی نہیں تھی۔ پھر فرمایا : "اے اللہ! یہ ایسا حج ہے، جس میں نہ ریاکاری ہے، نہ شہرت طلبی"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اونٹنی پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی پیٹھ پر ایک پرانا اور بوسیدہ کجاوہ رکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر ایک کپڑا بچھا تھا، جس کی قیمت چادر درہم یا اس سے بھی کم تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ! میں اپنا یہ حج اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں یا میرے بارے میں سنیں۔ اسے صرف اور صرف تیری رضا جوئی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "میرے وارثین دینار و درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ میں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے خلیفہ کے گزارے کے بعد جو کچھ چھوڑ جاوں، وہ صدقہ ہے"۔
متفق علیہاس حدیث کے ذریعے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے وارثین آپ کے انتقال کے بعد آپ کے مال میں سے بچے ہوئے دینار اور درہم بانٹ کر نہیں لیں گے۔ کیونکہ آپ ایک نبی تھے اور انبیا علیہم السلام دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے۔ دراصل ان کا کام دنیا کے لیے کچھ جمع کرنا تھا ہی نہیں۔ ان کا مشن تھا مخلوق کو سیدھا راستہ دکھانا۔ لہذا اگر آپ کی موت کے بعد آپ کا کچھ مال رہ جائے، تو وہ آپ کی بیویوں اور آپ کے بعد بننے والے خلیفہ یا مسلمانوں کا نظم و نسق دیکھنے والے آدمی کے گزارے کے لیے ہے۔ اگر اس کے بعد بھی کچھ بچ جائے، تو وہ صدقہ ہے۔