





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوکر کہنے لگا: میں قرآن مجید میں سے کچھ بھی یاد نہیں کر سکتا، مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے، جو مجھے قرآن مجید کی جگہ کافی ہو سکے۔ آپ نے فرمایا:”تم سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کہو“۔ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول!یہ تو اللہ کے لیے ہوا، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہا کرو ”اللَّهُمَّ وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي, وَعَافِنِي, وَاهْدِنِي“ اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما، جب وہ کھڑا ہوا تو اپنے ہاتھوں سے ایسے اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث ایسے شخص کے لیے نماز کا طریقہ بتا رہی ہے، جو قرآن بالکل یاد نہ کر سکتا ہو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی کی رہ نمائی فرمائی، جو قرآن کریم میں سے کچھ بھی یاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا کہ وہ سبحان اللہ،(اللہ ہر عیب سے پاک ہے) والحمدللہ (سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) ولاالٰہ الا اللہ،(یعنی معبود برحق اگر کوئی ہے، تو وہ صرف اللہ ہے) واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (اللہ سب سے بڑا ہے اوراس کے سوا کسی میں بھی یہ طاقت نہیں کہ کسی کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف لے جائے) پڑھ لیا کرے۔ جب اس اعرابی نے یہ پوچھا کہ وہ نماز میں اپنے لیے کون سی دعا کرے؟ تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائیوں پر مشتمل اس دعا کی رہ نمائی فرمائی: ”اللَّهُمَّ وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي, وَعَافِنِي, وَاهْدِنِي“ (اے اللہ! مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے، راحت و عافیت سے نواز اور ہدایت سے سرفراز فرما) رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا سیکھنے والے صحابی کے حق میں یہ فرماکر ان دعاؤں اور اذکار کی اہمیت جتلا دی کہ: ”أما هذا فقد ملأ يده من الخير“ یعنی اس نے خیر سے اپنا دامن بھر لیا۔
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتیں پڑھتے تھے اور آخری دو رکعات میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے۔ کبھی کبھی ہمیں ایک آیت سنا بھی دیا کرتے تھے اور پہلی رکعت کو دوسری رکعت سے زیادہ لمبی کرتے تھے۔ عصر اور صبح کی نماز میں بھی آپ کا یہی معمول تھا۔
متفق علیہیہ حدیث بیان کرتی ہے کہ آپ ﷺ سرّی نمازوں، جیسے ظہر وعصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورتیں بھی پڑھتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتے جس طرح تمام جہری نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ تعلیم اور سکھلانے کی غرض سے آواز تھوڑی بلند کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہﷺ کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے۔ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ الٓم :تنزيل (السجدہ) کی قراءت کے بقدر لگایا اور اس کی آخری دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ اس سے نصف کے بقدر لگایا۔ اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کا اندازہ لگایا کہ وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر تھا اور عصر کی آخری دو رکعتوں کا قیام اس سے آدھا تھا۔ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں﴿الم تنزيل﴾کا ذکر نہیں کیا، انھوں نے کہا: تیس آیات کےبقدر۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ظہر اورعصر کی نمازوں کے قیام کی مقدار بیان کی گئی ہے۔ نماز ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے قیام کی مقدار تیس آیت کی قراءت کے مساوی یعنی سورۂ سجدہ کی تلاوت کے برابر اور آخری دو رکعتوں کی مقدار پہلی کی نصف یعنی پندرہ آیتوں کی تلاوت کے برابر ہے۔ نماز عصر کا قیام ظہر سے ہلکا ہوتا ہے۔ اس کی پہلی دو رکعتیں نماز ظہر کی بعد کی دو رکعتوں کے مساوی یعنی پندرہ آیتوں کے برابر ہوں گي۔ جب ک آخری دو رکعتیں پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر یعنی سات سے آٹھ آیت کی قراءت کے برابر۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے رسول کریم ﷺ سے زیادہ مشابہت والی نماز فلاں شخص کے علاوہ کسی کے پیچھے نہیں پڑھی“، چنانچہ ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے، عصر بھی ہلکی کرتے اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے جب کہ عشاء میں وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی کے اٗئمہ میں سے ایک امام کی نماز رسول کریم ﷺ کی نماز سے بہت مشابہت رکھتی تھی، اس لیے کہ وہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں کو لمبی کرتے تھے اور پچھلی دو رکعتوں کو ہلکی کرتے اور عصر کی نماز اس کی مانند پڑھتے، مغرب کی نماز میں قصار مفصل اور عشا کی نماز میں ”وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ“ اور اس جیسی دیگر سورتیں پڑھتے جب کہ فجر کی نماز میں لمبی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے ہوۓ سنا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے ﴿ أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ، أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ، أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ﴾ تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے۔
متفق علیہاس حدیث میں ہے کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ الطور پڑھتے سنا، یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب بدر کے بعد قیدیوں کو چھڑانے کے آئے تھے، اس کے بعد یہ اسلام لے آئے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پردہ اٹھایا، (اس وقت) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں، جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو ! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، اس میں خوب دعا کرو، یہ اس لائق ہے کہ تمھارے حق میں قبول کرلی جائے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ نے وہ پردہ اٹھایا، جو آپ کے گھر کے دروازے اور دیوار پر لٹک رہا تھا، لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفوں میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ اپنی بیماری کی وجہ سے لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکتے تھے۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو ! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں“ یعنی آپ کی موت اور وحی کے منقطع ہونے کے بعد نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب باقی رہیں گے، جسے اہلِ ایمان دیکھتے ہیں، خوش خبری حاصل کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور ان کی ثابت قدمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خوابوں کا نبوت میں سے ہونا اس لیے ہے کہ ابتداے نبوت میں آپ ﷺ خواب دیکھا کرتے تھے، جو صبح کی روشنی کی طرح واقع ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ یہ آپ ﷺ کی نبوت کے اجزا میں سے ہے۔ ”إلا المُبَشِّرَاتُ“ مبشِّرات سے تعبیر کرنا اکثر اور غالب کے اعتبار سے ہے۔ ورنہ کچھ خواب اللہ کی طرف سے ڈرانے کے لیے بھی ہوتے ہیں۔ وہ سچے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مؤمن کو دکھاتا ہے؛ تاکہ وہ اس سے پہلے اس کی تیاری کرلے۔ لہٰذا سچے خواب یا تو مؤمن کے لیے خوش خبری ہوتے ہیں یا اسے غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ”يَراها المُسلم، أو تُرى له“ یعنی مسلمان خود دیکھے یا کوئی اور دیکھے۔ ”بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو رکوع اور سجود کی حالت میں قرآن کی تلاوت کرنے سے روکا ہے، جس چیز سے اللہ کے رسول ﷺ کو روکا جائے، وہ اصل میں اس لیے ہے کہ امت آپ کی اتباع کرے، ہاں اگر آپ ﷺ کے ساتھ خاص ہونے پر دلیل موجود ہو، تو امت کے لیے اتباع ضروری نہیں۔ یہ اس وقت ہے کہ جب رکوع اور سجدے میں قرآن کی تلاوت کا ارادہ ہو، اگر دعا کا ارادہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث میں ہے ”وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی“ یعنی ہر شخص کے لیے وہی ہے، جس کی اس نے نیت کی ہے۔ رکوع اور سجدے میں تلاوتِ قرآن سے روکنا شاید اس لیے ہے کہ یہ ذلت اور عاجزی کی حالتیں ہیں، مزید یہ کہ سجدہ زمین پر ہوتا ہے، اس حالت میں قرآن کی تلاوت کرنا مناسب نہیں۔ ”جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت بیان کرو“ یعنی رکوع کی حالت میں سبحان ربي العظيم اور اس طرح دوسری تسبیحات اور تمجیدات پڑھے، جن کا رکوع میں پڑھنا منقول ہے۔ ”جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، اس میں خوب دعا کرو“ یعنی نمازی کو سجدے کی حالت میں زیادہ دعائیں مانگنا چاہیے، اس لیے کہ اس می دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں آپ ﷺ سے ثابت ہے: ”بندہ اپنے رب سے سب سے قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے سجدے میں زیادہ دعائیں مانگا کرو“۔ تاہم سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کے ساتھ دعائیں مانگی جاۓ؛ اس لیے کہ یہ کہنا واجب ہے۔ ”یہ اس لائق ہے کہ تمھارے حق میں قبول کرلی جائے“ یعنی سجدے میں تمھاری دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس لیے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب سے قریب ہوتا ہے، سجدہ لمبی اور بکثرت دعا کرنے کا مقام ہے، جب انسان اکیلے نماز پڑھے یا ایسے لوگوں کے ساتھ پڑھے جو طوالت پسند کرتے ہوں۔
حکم سے روایت ہے کہ ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا: ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ“ اے اللہ تو اس تعریف کے لائق ہے جن سے تمام آسمان اور زمین اور جتنی جگہ تو چاہے، بھر جائے۔ تو ہی تعریف اور بڑائی کے لائق ہے جس کو تو کچھ عطا کرے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو کوئی چیز لے لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کوئی کوشش تیرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“۔شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرّہ سے کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ ان کی نماز اس کیفیت کی نہ تھی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے: ”ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی (جس کا انہوں نے نام ذکر کیا تھا) نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ رحمہ اللہ و رضی عن ابیہ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“ یہ شخص مطر بن ناجیہ تھا جیسا کہ دوسری روایت میں اس کا نام لیا گیا ہے۔ اور ابو عبیدہ یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ ”وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا کرتا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ اتنی مقدار قومے میں ٹھہرنا واجب ہے۔ اس کے علاوہ ”مِلْء السماوات“ کا اضافہ مستحب ہے اس لیے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ جب امام ”سَمِع الله لمن حَمِدَه“ کہے تو تم لوگ ”ربَّنا لك الحمد“ کہو۔ ”اللهُمَّ ربَّنا لك الحَمد“ کا معنی دعا اور اعتراف ہے۔ یعنی اے اللہ ہماری دعا قبول فرما اور تیری ہدایت اور توفیق پر تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ ”مِلْءُ السَّماوات ومِلْءُ الأرض“ اس سے مراد مقدار اور تعدار کی کثرت اور عظمت بیان کرنا ہے کہ اے ہمارے رب تو اتنی تعریف کا مستحق ہے کہ اگر تعریف کا جسم ہوتا تو زمین و آسمان اس سے بھر جاتا۔ ”ومِلْء ما شِئت من شيء بَعد“ یعنی تیری وسیع بادشاہت میں سے جو ہم نہیں جانتے۔ ”أهْل الثَّناء والمَجد“ یعنی اے ہمارے رب تو ثناء کا مستحق ہے۔ ’ثناء‘ تعریف کو کہتے ہیں اور ’مجد‘ عظمت، سلطنت اور انتہائی شرافت کو کہتے ہیں۔ جو ذات تعریف اور مطلق تعظیم کے لائق ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ”لا مانع لما أعْطَيت“ یعنی تو جس چیز کو دینا چاہے وہ کوئی روک نہیں سکتا۔ ”ولا مُعْطِي لما مَنعت“ جسے تو اپنی حکمت اور انصاف سے محروم کرنا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ ”ولا يَنفع ذَا الجَّدِّ مِنْك الجَدِّ“ الجّدُّ: بمعنیٰ سخاوت یعنی مالدار کی مالداری تیرے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتی اور نہ ہی اسے عذاب سے بچا سکتی ہے اور نہ ہی ثواب کا فائدہ دے سکتی ہے۔ صرف اللہ کا ارادہ اور مشیت ہی نفع دے سکتی ہے بس۔ حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ”رسول اللہ ﷺ کا اپنی نماز میں رکوع کرنا، اور رکوع سے سر اٹھانا پھر سجدہ کرنا اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا“ یعنی آپ ﷺ کی نماز کے ارکان کی مقدار قریب قریب تھی، تھوڑا بہت فرق ہوتا تھا۔ جب قیام طویل ہوتا تو رکوع بھی اتنا ہی طویل ہوتا، اسی طرح بقیہ ارکان ہوتے۔ اور جب قیام ہلکا ہوتا تو رکوع بھی اسی سے ملتا جلتا ہلکا ہوتا، اسی طرح باقی ارکان میں بھی ہوتا۔ اس حدیث کو بعض حالتوں پر محمول کیا جائے گا ورنہ تو آپ ﷺ کبھی کبھی نماز کو طویل بھی کرتے تھے۔ اسی لیے یہ حدیث بعض اوقات پر محمول کی جائے گی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی نماز کے ارکان مقدار میں ایک دوسرے کے قریب قریب تھے۔ آپ کا رکوع، رکوع سے اٹھنا، سجود اور سجود کے درمیان بیٹھنا (سب تقریباً یکساں ہوتے)۔ تاہم بعض اوقات قراءت کی وجہ سے قیام لمبا کر دیتے تھے۔
وائل بن حجر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیاں کشادہ کر لیتے اور سجدہ کرتے وقت اپنی انگلیاں سمیٹ لیا کرتے تھے۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔حدیث کا معنی: نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی انگلیوں کے مابین گیپ رکھتے یعنی نبی ﷺ رکوع کرتے وقت اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنے دونوں گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور انگلیوں کے درمیان کشادگی کر لیتے کیونکہ ایسا کرنے سے رکوع میں اور نمازی کے سر کا پیٹھ کے ساتھ برابری کرنے میں مدد ملتی ہے اور سجدہ میں جاتے وقت اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھتے اور انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملا لیتے جس کی وجہ سے مکمل قبلے کا استقبال ہو جاتا اور وہ سجدے کے دوران (جسم کے بوجھ) برداشت کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، جب آپ ﷺ اپنی نماز کی طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک سیدھے بیٹھ نہ جاتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبیﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ آپ ﷺ پہلی رکعت سے دوسری رکعت کے لیے اور تیسری رکعت سے چوتھی رکعت کے لیے کھڑے نہیں ہوتے جب تک کہ مکمل طور پر ہلکا سا بیٹھ نہ جاتے اس بیٹھنے کو جلسۂ استراحت کہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے کئی لوگوں نے آپ ﷺ سے اس جلسے کے متعلق روایت کیا ہے۔