





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتا ہو تو کہو : اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کسی لین دین کرنے والے“ یعنی خرید وفروخت کرنے والے کو ’’في المسجد‘‘ (مسجد میں)۔ یہاں مفعول کو عموم پر دلالت کرنے کے لیے حذف کیا گیا ہے جس میں ہر قسم کی خرید وفروخت شامل ہے۔اگر کسی کو اس حالت میں پایا جائے تو آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹ پلانے کی طرف اس طرح رہنمائی فرمائی کہ ان میں سے ہر ایک (بائع ومشتری) کو علانیہ طور پر زبان سے یہ کہا جائے ”لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ“ تاکہ یہ بددعا ہوجائے۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو فائدہ مند اور نفع آور نہ کرے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ﴿فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ﴾ ”ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا“۔ (سورہ بقرہ: 16) اگر ان دونوں کو اکٹھا کہہ دیا جائے کہ اللہ تمہاری تجارت میں برکت نہ ڈالے تو مقصود حاصل ہو جائے گا۔ اس زجر و توبیخ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسجد آخرت کا بازار ہے اور جس نے اس کے برعکس کام کیا گویاکہ اس نے اس کو دنیا کا بازار بنا دیا اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُس کے لیے خسارے اور محرومی کی بددعا کی جائے تاکہ یہ مسجد کا برعکس (خلافِ معتاد) استعمال کرنے والے کے لیے سزا اور ڈراوے کا سامان بن جائے، نیز دوسروں کو اس کام سے متنفر بھی کیا جاسکے، بایں ہمہ وہ مسجد کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے ایسا کرنے (مسجد میں خرید وفروخت) کو ناپسند کرنے لگے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں ( منیٰ کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور نبی کریم ﷺ چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ ﷺ نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں، اور وہ ایام منیٰ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے مجھے چھپا رکھا تھا اور میں حبشہ کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں تیروں سے کھیل رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جانے دو اور ان سے فرمایا اے بنو ارفدہ! تم بے فکر ہو کر کھیل دکھاؤ۔
متفق علیہحدیث میں شریعت کی آسانی و کشادگی اور اس بات کا بیان ہے کہ شریعت کا منہج ان بے جا سختی اور غلو کرنے والوں کے برخلاف ہے جو سمجھتے ہیں کہ دین شدت اور سختی کا نام ہے۔ حدیث شریف میں ایامِ عید میں دف بجانے اور گانے کے جواز کا بیان ہے کیوں کہ کچھ بچیوں نے نبی ﷺ کے سامنے ایسا کیا اور جس نے انہیں ایسا کرنے سے منع کرنا چاہا اسے آپ ﷺ نے منع کرنے سے روک دیا۔ اسی طرح نیزوں وغیرہ سے کھیلنے کا بھی یہی حکم ہے۔ اورحبشی لوگ تو فطری طور پرکھیل کود اور (خوشی سے) جھومنےکے دلدادہ ہوتے ہیں چنانچہ نبی ﷺ نے مسجد ہی میں انہیں اپنے اس شوق کو پورا کر لینے کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ نے یہ اجازت ایک اہم شرعی حکمت عملی کو مد نظر رکھتے ہوئے مرحمت فرمائی جس کی طرف حدیث کے بعض الفاظ میں اشارہ موجود ہے اور وہ مندرجہ ذیل حکمتیں ہیں: 1۔ وہ گروہ جو اسلام کی شدت اور سختی کے ڈر سے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے انہیں یہ باور کرانا کہ اسلام کشادگی اور وسعت پر مبنی دین ہے، خاص طور پر یہودیوں کو جو خود بھی اس سے گریزاں رہتے اور دوسروں کو بھی اس سے منع کرتے۔اس لیے حدیث کے بعض الفاظ میں آیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نےانہیں اس سے روکا تو آپ ﷺ نےفرمایا: "انہیں ایسا کرنے دو تا کہ یہودیوں کو معلوم ہو کہ ہمارے دین میں وسعت ہے اور میں کشادگی پر مبنی دینِ حنيف کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں"۔ 2- ان كایہ کھیل کود عید کے دن تھا ۔اور عید کے ایام خوشی و مسرت کے ایام ہوتے ہیں جن میں مباحات میں توسع ہوتی ہے۔ 3۔ یہ ایک مردانہ کھیل تھا جس میں خشونت، جوش اور اظہارِ شجاعت تھا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت نہیں آئے گی، یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پرفخر کرنے لگ جائیں گے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔مساجد کے سلسلے میں مباہات کے معنی ہیں ان کی تعمیر، آرائش و زیبائش، بلندی اور ان کی چھتوں کی اونچائی پر ایک دوسرے پر فخر کرنا، مثلا آدمی دوسرے شخص سے کہے کہ میری مسجد تیری مسجد سے زیادہ اچھی ہے اور میری مسجد کی تعمیر تیری مسجد سے بہتر ہے وغیرہ وغیرہ۔ بسا اوقات یہ مباہات قول کی بجائے فعل (عمل) کے ذریعہ ہوتی ہے، مثلا مسجد کی آرائش و زیبائش اور اس کی عمارت کی بلندی میں مبالغہ کیا جائے؛ تاکہ دوسری سے زیادہ خوب صورت نظر آئے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مساجد کے معاملے میں غلو نہ برتا جائے اور ان کی زیبائش نہ کی جائے؛ کیوں کہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ انھیں تو نماز، اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے آباد رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ﴾ ”الله کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے، جو الله اور آخرت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی“۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: لوگوں کو بارش سے بچاؤ اور سرخ اور زرد رنگ مت کرو۔ مبادا یہ کہ تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دو۔ ”أكنَّ“ کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے لیے ایسی مسجد بناؤ کہ اگر وہ نماز پڑھ رہے ہوں، تو بارش ہونے پر انھیں بارش سے اور سورج کی گرمی سے بچائے۔ یعنی اپنا مقصد پورا کرے۔ انس رضی اللہ نے فرمایا: لوگ مساجد پر باہم فخر تو کریں گے، لیکن انھیں آباد کم ہی کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم مساجد کی ایسے زیبائش کرو گے، جیسے یہود و نصاری نے کی۔ یہ شے یعنی مساجد کے سلسلے میں باہم فخر کرنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، جو اس وقت ظاہر ہوگی، جب لوگوں کے احوال میں بگاڑ، ان کے دین میں نقص اور ایمان میں کمزوری آ جائے گی۔ جب ان کے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا، شہرت اور فخر و مباہات کے لیے ہوں گے۔
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ (جو کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور آپ ﷺ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا، نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی ﷺ کی طرف متوجہ ہوا اور آپ سے سلام کیا، تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’اپنی نماز دوبارہ پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘۔ وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آگیا، نبی ﷺ نے اس سے پھر یہی فرمایا: ’’جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی‘‘، وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھا دیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم قبلہ کی طرف رخ کر لو تو اللہ اکبر کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھو، پھر تم جو (سورت) چاہو پڑھو۔ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو، اپنی پیٹھ دراز کر لو اور رکوع کے لیے اسے خوب برابر (سیدھی) کرلو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی پشت کو سیدھا کھڑا کر لو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر لوٹ آئیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بائیں ران پر بیٹھ جاؤ، پھر ہر رکوع اور سجدے میں اسی طرح کرو۔ ايک دوسری روايت میں ہے کہ: تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اسی طرح مکمل وضو نہ کرے جس طرح اللہ عز وجل نے اس کو کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ وہ اپنا منہ اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا مسح کرے اور دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے۔ اس کے بعد اللہ عز و جل کی بڑائی بیان کرے اور اس کی حمد و ثناکرے۔ پھر قرآن مجید میں سے پڑھے جس کی اسے نماز میں پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو آسان ہے۔ پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو اپنا منہ اطمینان سے زمین پر رکھ دے۔(ہمام کہتے ہیں کہ) بسا اوقات راوی نے کہا: اپنی پیشانی زمین پر رکھ دے، یہاں تک کہ اس کےجوڑ آرام پائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں، پھر تکبیر کہے اور اپنی سرین پر بالکل سیدھا ہو کر بیٹھ جائے اور پیٹھ کو سیدھا رکھے، پھر نماز کی چاروں رکعتوں کی کیفیت فارغ ہونے تک اسی طرح بیان کی (پھر فرمایا): ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ایسا نہ کرے“۔ ايک دوسری روايت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'وضو کر جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ کو حکم دیا ہے، پھر اذان دے اور اقامت کہہ، پھر تکبير تحریمہ کہہ، اور اگر قرآن مجید میں سے کچھ ياد ہو تو اسے پڑھ، نہیں تو پھر صرف اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل بیان کر یعنی الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھ۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔يہ حديث مسيئ صلوٰۃ یعنی اپنی نماز کو بگاڑ کر پڑھنے والے کی حديث سے معروف ومشہور ہے اور يہ نماز کے طریقے کو اس کے ارکان وواجبات اور شروط کے ساتھ بیان کرنے کے باب میں شارحین کا اساس اور بنیادی مستند ہے۔ کیوں کہ اس میں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے نماز کے ان افعال کو پوری طرح واضح اور بيان فرما ديا ہے جن کو انجام دینا ضروری ہے اور اس حديث ميں نماز سے متعلق جس فعل کو چھوڑ ديا گيا ہے وہ واجب نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس حديث کا مفہوم يہ ہے کہ: نبی ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں تشريف لے گئے، تو ایک صحابی جن کا نام خلاد بن رافع رضی اللہ عنہ تھا، مسجد ميں آئے اورایسی نماز پڑھی جس ميں مکمل طور پر تمام اقوال وافعال کی ادائيگی نہيں کی پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سلام کیا۔ آپ ﷺ نےسلام کا جواب ديا پھر ان سے فرمایا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے۔ چنانچہ وہ لوٹ گئےاور دوبارہ نماز اسی طرح پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر نبی ﷺ کے پاس آئے۔ تو آپ ﷺ نےان سے پھر کہا کہ لوٹ جاؤ اور نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے، اسی طرح تین مرتبہ ہوا. تو صحابی رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمايا ہے، میں نے جس طرح نماز پڑھی ہے اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔لہٰذا آپ مجھے سکھلا دیجئے۔لہٰذا جب ان کے اندر سيکھنے کا شوق و جذبہ پيدا ہوگيا اور وہ صحيح طريقۂ نماز جاننے کے لیے مشتاق اور بار بار لوٹانے جانے کے بعد طریقۂ نماز کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے ان سےفرمایا (جس کا مفہوم ہے کہ): جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو تکبیرۂ تحريمہ کہو، پھر سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ اطمینان سے رکوع کرلو، پھر رکوع سے اٹھو یہاں تک کہ اطمينان کے ساتھ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کرلو، پھرسجدے سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ۔ اور سوائے تکبيرۂ تحريمہ کے اِن اقوال و افعال کی ادائيگی ایسے ہی پوری نماز میں کرو، کيوں کہ تکبيرۂ تحريمہ پہلی رکعت کے علاوہ کسی اور رکعت ميں نہيں کہی جاتی ہے۔ اسی حديث کی دوسری روايات میں نماز کی بعض شرطوں جيسے قبلہ رخ ہونے اور وضو کرنے کا ذکر ہے۔
محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے دس صحابۂ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول ﷺ کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں آئے تھے۔ ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ تو ٹھیک ہے. (لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقۂ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا: (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کیجیے، ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل (برابر) اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے پھر ’للهُ أَكبر کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے ، پھر الله أكبر کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے ،اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کوکھلا رکھتے اور سجدہ کرتے، پھر الله أكبر کہتے اور اپنا سراٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو الله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت الله أكبر کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا ،تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے۔ اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے تھے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کرتی ہے۔ اور جو (نبی ﷺ کی طرح) نماز کی ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو (اس کے لیے) یہی کامل ترین صورت ہے۔ اس حدیث میں نماز کے جملہ اعمال یعنی ارکان، واجبات اور مستحبات تکبیر سے لے کر تسلیم تک کو بیان کیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ آپ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھاتے، پھر تکبیرِ تحریمہ کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر خشوع وخضوع کے ساتھ بالکل سیدھی ہو جاتی، پھر آپ ﷺ قرأت کرتے، پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرلیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر سیدھے ہو جاتے اور اپنےسر کو نہ اوپر کی طرف اٹھاتے اور نہ ہی جھکاتے بلکہ سیدھا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور ”سمع الله لمن حمده“ کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہوکر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے، پھر (سجدہ کرتے ہوئے) زمین پر گرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھتے، پھر اپناسر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو کھولے رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر ”اللہ اکبر“ کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے، پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو ”اللہ اکبر“ کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے برابر تک لے جاتے جس طرح کہ نماز شروع کرنے کے وقت ”اللہ اکبر“ کہا تھا، پھر اپنی بقیہ نماز میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا۔ - اسی طرح روایت میں ہے اور شارحین نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد وہ جلسہ ہے جس میں سلام پھیرا جاتا ہے، تو آپ ﷺ تورّک کرتے یعنی بایاں پاؤں ایک طرف نکال لیتے اور بائیں سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب رات کو قیام اللیل کے لیے کھڑے ہوتے، تو تکبیر تحریمہ کہتے، پھر ”سُبْحَانك اللَّهم وبحَمْدِك وتبارك اسْمُك، وتعالى جَدُّك، ولا إله غَيْرَك“ (اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے اور تیرا نام بابرکت ہے، تیری بزرگی بہت بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) پڑھتے۔ پھر تین مرتبہ ”لا إله إلا الله“ (اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے) کہتے، پھر تین مرتبہ ”الله أكبر كبيرا“ (اللہ بہت بڑائی والا ہے) کہتے۔ پھر یہ پڑھتے: ”أعُوذُ بالله السَّميع العليم من الشَّيطان الرَّجيم من هَمْزِه، ونَفْخِه، ونَفْثِه“ (میں اللہ سننے والے اور جاننے والے کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے کہ مجھ پر کوئی جنون کااثر ڈالے، مجھے تکبر میں ڈالے یا جادوکی طرف لے جائے) اور اس کے بعد قراءت شروع کرتے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”سول اللہﷺ جب رات کو قیام کے لیے کھڑے ہوتے، تو تکبیر کہتے“ یعنی تکبیر تحریمہ۔ یہ نماز کا رکن ہے۔ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ ”پھر کہتے سُبْحَانك اللَّهم“ یعنی اے رب! میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں، ان چیزوں سے، جو تیرے شایان شان نہیں اور تیرے جلال سے فروتر ہیں۔ نیز ہر قسم کے نقص و عیب سے جس پاکی کا تو سزاوار ہے۔ ”وبحَمْدِك“ یہ اس توفیق پر اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔ یعنی تیری توفیق اور ہدایت کے بغیر میں تیری تسبیح نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق نہ ملتی۔ یہ بندے کی طرف سے اللہ کے فضل اور اس کے سامنے عاجزی کا اعتراف ہے۔ ”وتبارك اسْمُك“ (تیرا نام بابرکت ہے) 'تبارک' برکت سے ہے۔ یہ وہ کثرت اور وسعت کے معنی میں ہے۔ اس کے معنی ہیں، زمین و آسمان میں اس کی برکتیں بکھری ہوئ ہیں۔ یہ سارا کچھ اس بات پر تنبیہ ہے کہ ساری بھلائیاں اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ خاص ہیں۔ ”وتعالى جَدُّك“ (اپنی بزرگی میں بلند ہے) ’جد‘ سے مراد عظمت ہے۔ یعنی تو اپنی عظمت کے اعتبار سے بلند و بالا، سب سے زیادہ جلال والا، برتر شان کا مالک، تمام بادشاہوں سے زیادہ ہیبت والا بادشاہ ہے۔ وہ اپنی عظمت کے اعتبار سے اس بات سے بلند ہے کہ اس کی بادشاہت، ربوبیت، الوہیت اور اسما و صفات میں اس کا کوئی شریک ہو۔ اس لیے ساتھ ہی کہہ دیا ”ولا إله غَيْرَك“ (تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں) یعنی تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔ تو ہی عبادت کے لائق ہے۔ تو اپنی ذات اور جن صفات حمیدہ اور بندوں کو نعمتوں سے سرفراز کرنے میں ساجھی و شریک سے بالا تر ہے۔ یہ دعائے استفتاح ہے۔ اس میں ثنا ہے۔ اس کی شان کے خلاف تمام امور سے اس کی پاکی ہے اور اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالی ہر عیب اور نقص سے بالا تر ہے۔ یہ استفتاح کی دعاؤں میں سے ایک ہے۔ افضل یہ ہے کہ کبھی اسے پڑھے اور کبھی اسے۔ تاکہ کسی بھی دعا کو چھوڑے بغیر سنت سے ثابت تمام دعاؤں پر عمل کیا جا سکے۔ استفتاح کے طور پر استعمال ہونے والے الفاظ میں سے یہ بھی ہے: ”لا إله إلا الله“ کو تین مرتبہ پڑھا جائے۔ لا الہ الا اللہ کے معنی ہیں، ’معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ﴾ ”بے شک اللہ تعالیٰ ہی برحق معبود ہے، اس کے علاوہ جس کوبھی پکارتے ہیں، وہ باطل ہے“۔ (الحج: 62) پھر تین مرتبہ یہ کہتے: ”الله أكبر كبيرًا“ یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ہر چیز سے بڑی ہے۔ پھر اس کے بعد اپنی نماز کو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ لیتے ہوئے اس طرح شروع کرے: ”أعُوذُ بالله السَّميع العليم“ (میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود سے) اس کا معنی ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی ہی پناہ کو مضبوطی سے تھامتا ہوں۔ ”من الشَّيطان“ (شیطان سے) غالب آنے والا سرکش، انسانوں اور جنوں میں سے۔ ”الرَّجيم“ (مردود) رجم کیا گیا، دھتکارا گیا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہٹایا گیا ۔ میرے کسی بھی دینی و دنیاوی معاملے میں غالب نہ آئے جس سے مجھے نقصان پہنچتا ہو اور نہ کسی دینی اور دنیاوی معاملے میں رکاوٹ بنے جس سے مجھے کوئی نفع حاصل ہوتا ہو۔جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آ جاتا ہے گویا کہ اس نے بڑی مضبوط جگہ پنا ہ لی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قدرت کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے اس دشمن سے جو انسان کو اس کے رب سے جدا کرنا چاہتا ہے اور اس کو شر اور ہلاکت کی گہری کھائیوں میں گرانا چاہتا ہے۔ ”من هَمْزِه“ (کہ مجھ پر کوئی جنون کااثر ڈالے) یعنی جنون اور مرگی وغیرہ جو انسان کو ہو جاتی ہے اور کیونکہ شیطان انسان پر جنون کی طرح طاری ہو جاتا ہے اس لیے اس سے پناہ مانگنا مشروع عمل ہے۔ ”ونَفْخِه“ (تکبر سے) تکبر، کیونکہ شیطان انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کو اپنی نظروں میں بڑا کر دیتا ہے اور دوسروں کو حقیر بنا دیتا ہے تو یہ چیز اس کو عظمت و بڑائی میں اور زیادہ کر دیتی ہے۔ ”ونَفْثِه“ (جادو) یہ جادو ہے اور اس سے مراد جادو کا شر ہے کیونکہ گرہوں پر پھونکیں مارنے والیوں سے مراد جادوگر ہیں جو سوت کی گرہ لگاتی ہیں اور ہر گرہ پر پھونک مارتی ہیں اور یہ پھونک مارنے کا بنیادی مقصد جادو ہوتا ہے۔ ”ثم يقرأ“ (پھر قراءت کرتے) یعنی قرآن کی قراءت کرتے اور اس کی ابتدا سورہ فاتحہ سے کرتے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں: رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی قرأت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور اس سے بھی منع فرماتے کہ درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے۔
رواه مسلمام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ اپنی نماز کا آغاز تکبیرِ تحریمہ سے کرتے اور ”اللہ اکبر“ کہتے، اور قراءت سورۃ الفاتحہ سے شروع فرماتے: ’’سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے...‘‘۔ جب آپ قیام کے بعد رکوع کرتے تو رکوع کے دوران نہ اپنا سر بلند کرتے اور نہ ہی اسے پست کرتے، بلکہ اسے برابر اور سیدھا رکھتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ کرنے سے پہلے سیدھے کھڑے ہو جاتے، اور جب پہلے سجدے سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کرتے جب تک اطمینان سے بیٹھ نہ جاتے۔ آپ ﷺ ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور ’’التحيات لله والصلوات والطيبات...‘‘ پڑھتے تھے، اور جب آپ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یا تشہد کے لیے بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ نمازی کے لیے اپنی نماز میں شیطان کی طرح بیٹھنا منع ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں پاؤں زمین پر بچھا لے اور اپنی ایڑیوں پر بیٹھے، یا اپنی سرین کو زمین سے چپکا لے، اپنی پنڈلیوں کو کھڑا رکھے اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر کتے کی طرح بچھا دے، یا یہ کہ نمازی سجدے میں اپنے بازوؤں کو درندوں کی طرح پھیلا دے۔ آپ ﷺ اپنی نماز کا اختتام ایک بار دائیں اور دوسری بار بائیں طرف ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ کہہ کر سلام پھیرنے کے ساتھ فرماتے تھے۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔”اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا“ جب ’یَد‘ کا استعمال مطلقاً کہا جائے تو اس سے مراد ہتھیلی ہوتی ہے۔ اس کی تائید ابوداؤد اور نسائی کی وہ روایت کرتی ہے جس میں ہے ”ثم وضع يده اليُمنى على ظهر كفه اليُسرى والرُّسْغ والساعد“ یعنی پھر آپ نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی، پہنچے اور کلائی پر رکھا۔ ’رسغ‘ ہتھیلی اور کلائی کے درمیان جوڑ کو کہتے ہیں۔ ”اپنے سینے پر“ یعنی نماز میں دورانِ قیام اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں پر اور پھر دونوں ہاتھوں کو سینے کے اوپر رکھا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نماز ”الحمد للہ رب العالمین“ کے ساتھ شروع کرتے تھے۔ امام مسلم نے اس کی زیادتی کی ہے کہ وہ نہ تو قراءت کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ذکر کرتے نہ ہی اس کے آخر میں۔ اور احمد، نسائی اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میں ہے کہ وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً نہیں پڑھتے۔ ابن خزیمہ کی ایک دیگر روایت میں ہے کہ وہ سرّاً پڑھتے تھے۔
اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور صاحبین (ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما) نماز میں سورۂ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ جہری طور پر نہیں پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی تاکید ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔ ابن خزیمہ کی دوسری روایت میں ہے کہ وہ سراً پڑھا کرتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بلوغ المرام میں کہتے ہیں: صحیح مسلم کی روایت کی نفی کو اسی معنی پر محمول کیا جائےگیا (یعنی بسم اللہ کو ذکر نہیں کیا کرتے تھے کا مطلب ہے جہراً بسم اللہ نہیں پڑھتے تھے) بخلاف ان کے جو اس روایت کو معلول کہتے ہیں۔ مستقل فتوی کمیٹی (سعودی عرب) کا کہنا ہے کہ: صحیح یہ ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں کا حصہ نہیں بلکہ یہ سورۂ نمل کی مستقل آیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿إِنَّهُ مِنْ سُلَيْمَانَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ اور اس کا سوائے سورہ براءت کے علاوه ہر سورت کے شروع میں پڑھنا مستحب ہے اور یہ بھی مسنون ہے کہ نماز میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کو سورۂ فاتحہ سے پہلے سری طور پر پڑھا جائے گا۔