Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے لیے اپنے سامنے سترہ رکھنا مستحب ہے اور سترہ ہر اس چیز کو بنایا جا سکتا ہے، جسے نمازی اپنے سامنے نصب کر سکے؛ اگرچہ وہ تیر کی جیسی چھوٹی یا باریک چیز ہی کیوں نہ ہو۔ یہ شریعت کی آسانی دریا دلی کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے ليے کھڑا ہو تو سامنے بطورِ سترہ اونٹ کے کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز رکھ لے اور يہ دوتہائی ہاتھ کے برابر ہو تی ہے۔ اگر وہ ايسا نہيں کرتا ہے تو اس کی نماز کو تين چيزوں ميں سے کوئی ايک توڑ دیتی ہے: عورت، ابوداؤد کی روایت میں عورت کے ساتھ حائضہ یعنی بالغہ کی قید لگائی گئی ہے، گدھا، اور سیاہ کتا۔ اگر کوئی نماز ميں اپنے سامنے سترہ رکھ لے تو سترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے اس کی نماز باطل نہيں ہوگی گرچہ مذکورہ تینوں میں سے ہی کسی کی گزر کیوں نہ ہو۔ حدیث کے ایک راوی عبد اللہ بن صامت کہتے ہيں کہ میں نے کہا: اے ابوذر! سرخ و زرد کتے کے بالمقابل سیاہ کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ یعنی دیگر کتوں کے بجائے صرف اسی کتے کو نماز کے توڑنے کے ساتھ کیوں خاص کیا گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اے بھیجتے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسا ہی سوال کیا جیسا تو نے مجھ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”سیاہ کتّا شیطان ہے“۔ نماز کو کاٹنے کا مطلب نماز کو باطل کرنا ہے، اور يہی فتویٰ مستقل کميٹی برائے افتاء (سعودی عرب) کے مفتیان نے بھی ديا ہے۔ جب کہ بعض علماء اس بات کی طرف گئے ہیں کہ نماز خراب وباطل نہيں ہوتی بلکہ اس کا خشوع و خضوع ختم ہوجاتا ہے۔
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ کوئی شخص حالتِ نماز میں اپنا ہاتھ اپنی کوکھ پر رکھے اور اس کی وجہ اور سبب یہ بیان کیا کہ یہ یہودیوں کا فعل ہے۔
جب کھانا حاضر ہو جائے اور نماز کا وقت بھی قریب آ جائے تو نماز پڑھنے سے قبل کھانے کو تناول کرلو اگر چہ نماز کا وقت تھوڑا یا محدود وقت ہو جیساکہ نماز مغرب ہے، تاکہ نمازی کا ذہن کھانے میں مشغول نہ رہے۔ ابو درداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انسان کی عقلمندی اسی میں ہے کہ پہلے وہ اپنی حاجت پوری کر لے تاکہ جب وہ نماز میں کھڑا ہو تو اس کا دل فارغ ہو۔ (امام بخاری نے تعلیقاً اسے روایت کیا ہے)
عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے نماز کے دوران ادھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا کہ یہ نماز کے لیے نقصان دہ ہے یا اس میں کوئی فرق پیدا کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ شیطان بندے کی نماز سے جلدی اور خفیہ طریقے سے اُچک لیتا ہے، جس کی وجہ سے نماز میں خلل پیدا ہوتا ہے اور اس کا ثواب کم ہوتا ہے۔
ابو جہم نے آپ ﷺ کو ایک چادر ہدیہ کی تھی، اس میں مختلف رنگ اور نقوش تھے، آپ کے اچھے اخلاق میں سے یہ ہے کہ آپ ہدیہ دینے والے کی خوشى كے خاطر ہدیہ قبول کیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول کرکے اس میں نماز پڑھی، لیکن رنگدار اور نقش و نگار والی ہونے کی وجہ سے نماز میں اُس پر آپ ﷺ کی نظر پڑتی تھی جس نے آپ ﷺ کو نماز کی طرف کامل توجہ (مکمل انہماک) سے غافل کردیا۔اسی لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس نقش ونگار والی چادر کو ہدیہ کرنے والے یعنی ابو جہم کو واپس لوٹا دیا جائے۔ ہدیہ واپس کرنے کی وجہ سے ابوجہم کے دل میں کچھ نہ آنے اور ان کے اطمینانِ قلب کی خاطر یہ حکم دیا کہ ابوجہم کی دوسری چادر لے آؤ جس میں مختلف رنگ اور نقش و نگار نہ ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں بایں طور کہ ہر محلے میں ایک مسجد ہو اور انہیں گندگیوں سے پاک صاف رکھا جائے، ان کی نگہبانی اور حفاظت کی جائے اور ان میں بخور وغیرہ جیسی عمدہ قسم کی خوشبوؤں کا انتظام کیا جائے۔
حدیث کا مفہوم: حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گیے اور ان کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ نے ان کو اس طرح دیکھا تو ان سے کہا کہ:میں مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا اور اس وقت مسجد میں وہ موجود ہوتے تھے جو آپ سے بہتر ہیں(یعنی رسول اللہﷺ)۔ ”پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کی“ یعنی ان سے گواہی دینے کا سوال کیا کہ جو وہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ان کے شعر پڑھنے کے حوالے سے جانتے تھے اور رسو ل اللہ ﷺ نے اس کو برقرار رکھا اور ان کی شعر گوئی پر حوصلہ افزائی فرمائی تھی۔فرمایا: ”تجھے اللہ کی قسم“ یعنی میں اللہ کی قسم اور اس کا حلف دے کر پوچھتا ہوں: کیا تو نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے حسان!رسول اللہﷺ کی طرف سے جواب دو“ یعنی مشرکین کے شعراء کو اپنے شعروں سے جواب دو اور نبی کریمﷺ کا دفاع اور اس کے دین کی مدد کرتے ہوئے ان کی ہجو بیان کرو۔ اور کیا تم نے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: ”اے اللہ ! روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما“ یعنی جبریل علیہ السلام کی قوت کے ساتھ۔ جبریل علیہ السلام ان کو شعر الہام کرتے جو کہ دشمنان اسلام پر تیروں کی طرح لگتے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:ہا، یعنی میں نے تمھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے مسجد میں شعر پڑھتے ہوئے بھی سنا اور میں نے (رسولﷺ کو) یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اِس حدیث سے یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ جو شخص مسجد میں کسی گم شدہ چوپائے کے متعلق پوچھ رہا ہو تو اُسے یوں کہنا چاہیے کہ ’’اللہ تیری طرف اُسے نہ لوٹائے‘‘ یا پھر کہنا چاہیے کہ: تجھے وہ نہ ملے۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں آیا ہے۔ یہ اس شخص کے لیے مسجد کی تعظیم کو ترک کرنے پرا ایک قسم کی ڈانٹ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس ڈانٹ کی علت بیان کی جو اس شخص کو کی جاتی ہے جو اپنی گم شدہ شے کا اعلان مسجد میں کر رہا ہو۔ یہ علت آپ ﷺ کے اس فرمان میں ہے کہ "مساجد اس کام کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔" یعنی انہیں اللہ کے ذکر، نماز، علم اور اچھائی کی باتیں کرنے وغیرہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ چوں کہ یہ اعلان کرنے والا مسجد کو وہ مقام نہیں دے رہا جو اسے دینا چاہیے تھا چنانچہ مناسب ہے کے اس کے لیے اس کی گم شدہ شے نہ ملنے کی دعا کی جائے تاکہ وہ جو چاہتا ہے اس کی ضد کا اسے سزا ملے اور اس کی طرح کا کام کرنے سے (دیگر لوگوں کو) ڈرایا اور دور رکھا جا سکے۔ مختصر یہ ہے کہ یہ حدیث امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قبیل سے ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔ جب کوئی شخص اس کے خلاف یہ دعا کرے تو اگر وہ شخص ڈر کر رک جائے تو ٹھیک ورنہ دوبارہ وہ اسے یہ بد دعا دے۔