





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: کیا آپ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی بیماری کی حالت نہیں بتائیں گي؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ضرور! سن لو۔ آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے عرض کیا: جی نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:میرے لیے ایک لگن میں پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے پانی رکھ دیا اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر آپ اٹھنے لگے، لیکن بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا، تو پھر آپ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: لگن میں میرے لیے پانی رکھ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ہم نے پھر پانی رکھ دیا اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل فرمایا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن(دوبارہ) بے ہوش ہو گئے۔ جب ہوش آیا، تو پھر یہی فرمایا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا:لگن میں پانی لاؤ اور آپ ﷺ نے بیٹھ کر غسل کیا۔ پھر اٹھنے کی کوشش کی، لیکن پھر بے ہوش ہو گئے۔ پھر جب ہوش آیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہم نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ۔ لوگ مسجد میں عشاکی نماز کے لیے بیٹھے ہوئے نبی کریم ﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔ آخر آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور حکم فرمایا کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ بھیجے ہوئے شخص نے آ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نماز پڑھاؤ، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔ آخر (بیماری) کے دنوں میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا، تو دو مردوں کا سہارا لے کر، جن میں ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے، ظہر کی نماز کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے اشارے سے انھیں روکا کہ پیچھے نہ ہٹو! پھر آپ نے ان دونوں مردوں سے فرمایا کہ مجھے ابو بکر کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ دونوں نے آپ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بازو میں بٹھا دیا۔ راوی نے کہا: پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی ﷺ کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کررہے تھے۔ نبی ﷺ بیٹھےبیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ پھر میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں جو حدیث بیان کی ہے کیا میں وہ آپ کو سناؤں؟ انھوں نے فرمایا کہ ضرور سناؤ۔ میں نے یہ حدیث سنا دی، تو انھوں نے کسی بات کا انکار نہیں کیا۔ صرف اتنا کہا کہ کیا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کا نام بھی تم کو بتایا، جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا: نہیں! آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ کی اس بیماری کے بعض احوال کا بیان ہوا ہے، جس میں آپ کی وفات ہوئی۔ جب آپ کی بیماری نے شدت اختیارکر لی، تو آپ نے اپنے پاس موجود شخص سے پوچھا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ کہا گیا: نہیں۔ تو آپ نے پانی منگوایا اورغسل کیا، لیکن آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ پھر جب افاقہ ہوا، تو آپ نے یہی سوال دہرایا اور دوبارہ غسل فرمایا، لیکن پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کے لیے کہا، مگر انھوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا؛ کیوں کہ وہ اس کے زیادہ حق دار تھے۔ پھر جب نبی کریم ﷺ کو مزاج کچھ ہلکا معلوم ہوا، توعباس اورعلی رضی اللہ عنہما کے درمیان ہوکر تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جب انھوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے انھیں اپنی جگہ پر رہنے کا حکم دیا اور ان کے بغل میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں نبی ﷺ کی پیروی کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کررہے تھے۔
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے (آکر) کہا کہ اے اللہ کے رسول! ہوسکتا ہے کہ میں نماز (جماعت کے ساتھ) نہ پاسکوں کیوں کہ فلاں شخص ہمیں (بہت) طویل نماز پڑھایا کرتا ہے، (ابو مسعود کہتے ہیں کہ) اس دن سے زیادہ میں نے کبھی نبی ﷺ کو وعظ و نصیحت کے دوران اتنا غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو ! تم میں سے بعض (دوسروں کو نماز سے) متنفر کرنے والے ہیں۔ دیکھو جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیوں کہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ایک آدمی نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ وہ امام کے لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سےکبھی کبھار جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے پیچھے رہ جاتے ہیں، تو نبی ﷺ شدید غصہ ہوئے اور لوگوں کو نصیحت کی اور خبر دی کہ ان میں سے بعض لوگ نماز سے لوگوں کو نفرت دلانے والے ہیں، اور امام کو حکم دیا کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے تاکہ مقتدیوں کو آسانی اور سہولت ہو اور جب وہ نماز سے فارغ ہوں تو ان کی چاہت نماز کے لیے ابھی باقی ہو۔ اور اس لیے کہ مقتدیوں میں بہت سے لوگ کمزوری یا بیماری یا کسی حاجت کی وجہ سے لمبی نماز ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر نمازی اکیلا ہو تو جتنی لمبی چاہے ادا کرے کیوں کہ اس سے دوسرے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
ایوب، ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں؛ ایوب نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے کہا: عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ نے کہا کہ پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے (یہ واقعہ) پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمے پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے ؟ (یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی نازل کیا ہے یا اللہ نے ان پر یہ آیت اتاری ہے۔ چنانچہ میں فوراً اسے یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل پر اثر کرتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے فتح مکہ پر اپنے اسلام کو موقوف کیے ہوئے تھے؛ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو نمٹنے دو ، اگر وہ ان پر غالب آ گئے، تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو (عرب کی) قومیں اسلام لانے میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے لگیں۔ میرے والد نے بھی اسلام قبول کرنے کے معاملے میں اپنی قوم پر سبقت کی۔ پھر جب (مدینے) سے واپس آئے تو (لوگوں سے) کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے: فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو ، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو، وہ امامت کرے۔ لوگوں نے غور و خوض کیا، تو قبیلے میں کوئي مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا نہیں ملا؛ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا ، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم میں ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ایوب سختیانی کہتے ہیں: مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے کہا کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ قصہ کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پھر میں ان کی خدمت میں گیا اور یہ (قصہ) دریافت کیا۔ انھوں نے کہا کہ جاہلیت میں ہمارا قیام ایک چشمہ پر تھا، جہاں عام راستہ تھا۔ قافلے ہمارے قریب سے گزرتے، تو ہم ان سے پوچھتے کہ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ اس شخص کا کیا معاملہ ہے؟ ( یہ اشارہ نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا تھا) لوگ بتاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور ان پر وحی اتاری ہے یا اللہ نے ان پر یہ وحی کی ہے۔ وہ آپ سے سنا ہوا قرآن کا کوئی حصہ سنا دیتے اور میں اسے فوراً اچھی طرح یاد کر لیتا۔ ان کی باتیں میرے دل کو لگتی تھیں۔ ادھر سارے عرب والے انتظار میں تھے۔ وہ فتح مکہ تک اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نبی کو اور اس کی قوم (قریش) کو آپس میں نمٹنے دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو واقعی وہ سچے نبی ہیں۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہو گیا، تو ہر قوم نے اسلام لانے میں جلدی کی۔ میرے والد نے اپنی قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ جب (مدینے) سے واپس آئے، تو کہا: اللہ کی قسم! میں ایک سچے نبی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ انھوں نے فرمایا ہے:’’فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو، فلاں نماز فلاں وقت پڑھا کرو اور جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور امامت وہ کرے، جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو‘‘۔ لوگوں نے غور و فکر کیا تو کوئی شخص قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن یاد رکھنے والا نہیں ملا۔ کیوں کہ میں آنے جانے والے قافلوں سے سن کر قرآن مجید یاد کر لیا کرتا تھا۔ چنانچہ مجھے لوگوں نے امام بنادیا، حالاں کہ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی۔ میرے جسم پر ایک چادر تھی۔ جب میں (اسے لپیٹ کر) سجدہ کرتا، تو وہ چھوٹی پڑ جاتی۔ چنانچہ قبیلے کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی شرم گاہ تو پہلے چھپا دو۔ آخر انھوں نے کپڑا خریدا اور میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں جتنا خوش اس قمیص سے ہوا، اتنا کسی اور چیز سے نہیں ہو سکا۔ اس حدیث سے نماز میں سترعورت کے شرط نہ ہونے کی دلیل نہیں لی جا سکتی؛ کیوں کہ یہ حقیقت حال کا بیان ہے۔ ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہو جب انھیں ستر عورت کے حکم کا علم ہی نہ رہا ہو۔
ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والاہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جس نے اسلام کو پہلے قبول کیا وہ امامت کرے۔ کوئی شخص کسی اور شخص کے دائرۂ اقتدار میں اس کی امامت نہ کرے اور نہ کسی آدمی کے گھرمیں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث شریف میں متعدد امور کا بیان ہے: اول: امامت کا حق دار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو تاہم ضروری ہے کہ وہ نماز کے احکام کو جانتا ہو کیوں کہ جو شخص نماز کے احکام سے واقف نہ ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے۔ اگر قرآن کے حفظ میں لوگ برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرائے جو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا ہو۔ اور اگر اس میں بھی وہ برابر ہوں تو ان میں سے جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ امام بنے اور اگر اس میں بھی وہ برابرہوں تو جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو وہ امامت کے لیے کھڑا ہو۔ دوم: صاحبِ بیت کی امامت کے لیے مہمان آگے نہ بڑھے اِلاّ یہ کہ میزباناسے اجازت دے دے۔ کیونکہ گھر والا امامت کا مہمان سے زیادہ حق دار ہے۔ سوم: مہمان گھر والے کے خاص بستر پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ایک مرتبہ) میں نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری، تو نبی ﷺ اٹھے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوکر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔ پھر نیند سے بیدار ہوئے، مشکیزے کے پاس آئے، اس کا منہ بند کھولا، درميانہ وضو کیا، یعنی زیادہ پانی بھی نہیں بہایا اور اسے (تمام اعضا تک) پہنچا بھی دیا۔ پھر نماز پڑھنے لگے۔ میں آہستگی کے ساتھ اٹھا، کیوں کہ مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھیں کہ میں آپ پرﷺ نظریں لگائے بیٹھا تھا۔ میں نے وضو کیا۔ آپ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے میرے کان سے مجھے پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کر دیا۔ آپ ﷺ کی نماز تیرہ رکعت میں مکمل ہوئی۔ پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے سانسوں کی آواز آنے لگی۔ آپ ﷺ جب سوتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو نماز کا وقت ہونے کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور (اس کے لیے نیا) وضو نہیں کیا۔ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ کلمات کہہ رہے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر، میری بائیں طرف نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔
متفق علیہاس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ وہ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات کو سوئے، جو نبی ﷺ کی زوجہ ہیں۔ ”فأتى حاجَتَه“ یعنی آپ ﷺ بول و براز وغیرہ سے فارغ ہوئے۔ ”فغسل وجهه ويديه، ثم نام“ قضائے حاجت کے بعد آپ ﷺ نے حصول بشاشت کے لیے اپنے چہرۂ انور کو اور صفائی کے لیے اپنے ہاتھوں کو دھویا۔ ”ثم قام، فأتى القِرْبَة فأطْلَق شِنَاقَهَا“ یعنی نبی ﷺ نیند سے بیدار ہونے کے بعد مشکیزے کی طرف گئےاور اس رسی کو کھولا، جس سے مشکیزے کا منہ باندھا جاتا ہے؛ تاکہ اس میں موجود پانی وغیرہ محفوظ رہے۔ ”ثم توضأ“ یعنی جیسے آپ نماز کے لیے وضوکرتے تھے، ویسے وضو فرمایا۔ ”وضُوءًا بَيْن وضُوءَيْنِ“ یعنی ایسا وضو کیا، جس میں نہ تو کوئی کمی تھی اور نہ مبالغہ، بلکہ یہ دونوں کے درمیان تھا۔ اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”لم يُكْثِرْ“ یعنی تین تین دفعہ دھونے سے کم ہی پر آپ ﷺ نے اکتفا کر لیا۔ ایسا کرنا جائز ہے، اگرچہ سنت تین دفعہ دھونا ہے۔ ”وقد أَبْلَغَ“ اور اچھی طرح سے وضوکیا بایں طور کہ پانی کو ہر اس مقام تک پہنچایا، جہاں اس کا پہنچانا ضروری تھا اور اتنا کرنا واجب ہے۔ ”فصلَّى“ یعنی رات کی نماز (نماز تہجد) ادا کی۔ ”فَقُمْتُ فَتَمَطَّيْتُ“ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کو یہ سب کچھ کرتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ دراز ہو گئے اور جس حالت میں تھے اس کے برعکس ظاہر کیے، تاکہ نبی ﷺ کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ رہے تھے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں: "كراهية أن يرى أني كنت أَتَّقِيهِ" (یعنی مجھے یہ ناپسند تھا کہ آپ ﷺ یہ خیا ل کریں کہ) میں آپ ﷺ کو تاک رہا تھا اور آپ ﷺ کے افعال کو دیکھ رہا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دراز ہونے اور ایسا ظاہر کرنے کا مقصد یہی تھا۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کہ عام طور پر انسان جب اپنے گھر میں اکیلا ہوتا ہے، تو کچھ ایسے افعال کرتا ہے، جن پر دوسروں کا مطلع ہونا وہ ناپسند کرتا ہے۔ یا پھر ان کو یہ ڈر لاحق ہو گیا کہ کہیں ان کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پا کر نبی ﷺ اپنے کسی عمل کو چھوڑ نہ دیں، جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے بعض اعمال کو اس اندیشے کے پیش نظر چھوڑ دیا کرتے تھے کہ کہیں وہ آپ ﷺ کی امت پر فرض نہ ہو جائیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اس فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مخفی رکھنا چاہا؛ تاکہ انھیں آپ ﷺ کے بیدار ہونے سے لے کر نماز فجر کے لیے بلانے والے کے آنے تک کے تمام امور کا تفصیلی علم ہو جائے۔ ایسا انھوں نے اصل ماخذ (یعنی نبی ﷺ) سے حصول علم کی حرص میں کیا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے وضو کیا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے اسی طرح وضوکیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا تھا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے: میں نے اٹھ کر وہی کچھ کیا، جو آپ ﷺ نے کیا تھا۔ ”فقام يصلي فَقُمْتُ عن يساره“ یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کر دی ہے، تو انھوں نے بھی وضو کیا اور نبی ﷺ کے ساتھ جا کر مل گئے۔ تاہم وہ نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوئے۔ ”فأخذ بِأُذُنِي“ یعنی نبی ﷺ نے ان کا کان پکڑ کر انھیں بائیں جانب سے گھما کر دائیں جانب کر دیا۔ ایک اور روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑ کر اسے مروڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے پہلے اپنا ہاتھ رکھا؛ تا کہ کان کو پکڑ سکیں یا (اتفاقا) ہاتھ کان ہی پر پڑا تھا یا پھر آپ ﷺ نے ایسا اس لیے کیا کہ اس کی وجہ سے ان پر برکت کا نزول ہو اور وہ اس مجلس میں نیز اس کے علاوہ دیگر مجالس میں آپ ﷺ کے تمام افعال مبارکہ کو یاد رکھ سکیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کان کو مروڑا۔ آپ ﷺ نے ایسا یا تو سنت کی مخالفت پر تنبیہ کے لیے کیا یا پھر اس لیے کیا تا کہ وہ آپ ﷺ کے جملہ افعال کو ذہن نشین کرنے کے لیے اور زیادہ چاق و چوبند ہو جائیں یا پھر آپ ﷺ نے ان پر طاری اونگھ کے آثار کو دور کرنے کے لیے یا انھیں بائیں طرف سے دائیں طرف گھمانے کے لیے ایسا کیا یا ایسا کرنے سے مقصود ان کے ساتھ اظہار انسیت تھا، کیوں کہ یہ سب کچھ رات کے اندھیرے میں ہو رہا تھا، جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ایک روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تصریح کی ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے ایسا انھیں بیدار رکھنے کے لیے یا ان سے اظہار محبت کے لیے کیا تھا؛ کیوں کہ کم سنی کی وجہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حالت اس کا تقاضا کرتی تھی۔ ”فَأَدَارَنِي عن يمينه“ یعنی آپ ﷺ نے انھیں اپنی بائیں جانب سے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔ جب امام کے ساتھ ایک ہی مقتدی ہو، تو اس کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی ہوتی ہے۔ ”فَتَتَامَّت صلاته“ اس کی تفسیر میں انھوں نے کہا: ”ثلاث عشرة ركعة“ یعنی نبی ﷺ نے اس رات بشمول وتر کی ایک رکعت کے تیرہ رکعتیں پڑھیں، جن میں آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے: ”آپ ﷺ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے“۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم دونوں میں موجود ایک اور روایت میں ہے: ”پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور پھر وتر پڑھا“، يعنی دو ركعتوں سے الگ ایک رکعت پڑھی، کیوں کہ آپ ﷺ نے چھ دفعہ دو دو رکعتیں پڑھی تھیں اور ہر دو رکعتوں کے مابین فاصلہ کیا تھا۔ اس طرح وتر کی ایک رکعت کے علاوہ بارہ رکعتیں ہو گئیں اور آپ ﷺ کی مکمل نماز تیرہ رکعتیں بن گئی۔ چنانچہ وترکی صرف ایک ہی رکعت ہوئی۔ ”ثم اضطجع فنام حتى نَفَخ“ یعنی آپ ﷺ آواز کے ساتھ سانس لے رہے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ کے سانس نکلنے کی آوز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ جب سویا کرتے تھے تو آپ ﷺ کے سانس کی آواز آیا کرتی تھی۔ ”فَآذَنَهُ بلال بالصلاة“ یعنی صبح کی نماز کی آپ ﷺ کواطلاع دی۔ آپ ﷺ نے پہلے فجر کی سنتیں پڑھیں اور پھر مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور جماعت کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی۔ ”آپ ﷺ نے دوبارہ وضونہیں کیا“ بلکہ اپنے پہلے وضو پر ہی اکتفا کیا۔ یہ نبی ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ یعنی آپ ﷺ کی نیند ناقض وضو نہیں تھی؛ کیوں کہ آپ ﷺ کی آنکھیں تو سوتی تھیں، لیکن دل نہیں سوتا تھا۔ چنانچہ اگر کوئی وضو توڑنے والی شے خارج ہوئی ہوتی، تو آپ ﷺ کو پتہ چل جاتا، بہ خلاف دیگر لوگوں کے۔ اسی لیے جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: اے عائشہ! میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل جاگتا رہتا ہے۔ اپنی دعا کے اندر آپ ﷺ یہ فرمایا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا“ اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری نظر میں نور پیدا فرما، میرے کان میں نور پیدا فرما، میری دائیں طرف نور پیدا کر ، میری بائیں طرف نور پیدا کر ، میرے اوپر نور پیدا کر ، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر ، میرے پیچھے نور پیدا کر اور مجھے نور عطا فرما۔ آپ ﷺ نے اپنے اعضا اور اپنی تمام جہات کے لیے نور طلب کیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حق واضح اور روشن ہو جائے اور اس کی طرف راہ نمائی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے تمام اعضا، اپنے جسم مبارک، اپنے تمام تصرفات و تحرکات اور اپنی چھے جہات میں نور عطا کیے جانے کی دعا کی؛ تا کہ ان میں سے کوئی بھی شے نور حق سے عاری نہ رہ جائے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ نبی ﷺ نے انس اور ایک لڑکے (رضی اللہ عنہما) کے ساتھ نماز پڑھی۔ دونوں نبی ﷺ کے پیچھے کھڑے تھے اور یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ نے، جن کی کنیت ام سلیم رضی اللہ عنہا ہے، ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ گویا صف اس ترتیب سے تھی: امام سب سے آگے۔ امام یعنی نبی ﷺ کے پیچھے بچے۔ ان کے پیچھے خاتون۔
حسن سے روایت ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ (مسجد میں) آئے اس حال میں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چلے۔ جب نبی ﷺ نماز پڑھ چکے، تو آپ نے پوچھا: ’’تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر وہ صف میں ملنے کے لیے چل کر آیا؟‘‘ ابوبکرہ نے کہا: میں نے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمہاری (نیکی کی) حرص کو بڑھائے، دوبارہ ایسا نہ کرنا“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابو بکرہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو رکوع کی حالت میں پایا، چناں چہ انہوں نے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کر لیا تاکہ رکعت پاسکیں، پھر وہ رکوع كي حالت میں صف میں ملنے کے لئے چلے یہاں تک کہ مقتدیوں کے ساتھ صف میں داخل ہو گئے، نبی ﷺ نے صف کے پیچھے کی حرکت کو محسوس کیا اور سمجھ گئے کہ کوئی تیز چل کر آیا ہے اورصف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا ہے، بلکہ یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی کہ آپ نماز میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھ لیتے جس طرح آپ ﷺ اپنے سامنے سے دیکھتے۔ پھر جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو پو چھا: تم میں سے کس نے صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کیا تھا، پھر صف میں ملنے کے لئے چل کر آیا؟ ابو بکرہ نے کہا: میں نے، یعنی جو آپ دریافت کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! وہ میں نے کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری نیکی کی حرص و چاہ اور رغبت کو بڑھائے، لیکن دوبارہ رکعت پانے کے لئے تیز چل کر نہ آنا اور نہ صف میں پہنچنے سے پہلے رکوع کرنا، اس لئے کہ جلد بازی سکون اور وقار کے منافی و خلاف ہے، اور آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ: ”صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی“ ابو بکرہ کا عمل اس سے خارج ہے کیوں کہ صف کے پیچھے ان کا تنہا رہنا تھوڑی دیر کے لیے تھا، جیسے کہ کسی نے تنہا رکوع کیا اورحالت رکوع ہی میں کوئی اس کے ساتھ آکر مل گیا، پھر بھی ایسا کرنا آپ ﷺ کے اس فرمان: ”دوبارہ ایسا نہ کرنا“ کی وجہ سے مشروع و درست نہیں ہے۔
ام ورقہ بنت عبد اللہ بن حارث انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اپنے اہل خانہ کی امامت کریں۔ چنانچہ ان کا ایک موذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کیا کرتی تھیں۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ام ورقہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کو حفظ کیا تھا اور نبی ﷺ نے انھیں حکم دیا تھا کہ وہ پانچوں نمازوں میں اپنے گھر والوں کی امام بنیں۔ ان کا ایک مؤذن تھا جو پانچ نمازوں کے لیے اذان دیتا تھا اور وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کیا کرتی تھیں کیوں کہ دار قطنی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”وتؤم نِسَاءها“ (گھر کی عورتوں کی امام کرے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی امامت صرف عورتوں کی حد تک تھی۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ابنِ اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو کسی سفر میں اپنا نائب بنایا۔ وہ آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں آپ کا نائب بن کر لوگوں کی امامت کراتے تھے۔ آپ ﷺ دوسروں کو چھوڑ کر ابنِ امّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ان کے سبقتِ اسلام کی وجہ سے اپنی نیابت کے لیے چنتے تھے، وہ ابتدائی دور میں ہجرت کرنے والوں میں سے تھے نیز وہ قرّاء اور علماء میں سے تھے، چنانچہ ان تمام فضائل کی وجہ سے وہ امامت کے زیادہ مستحق تھے۔ آپ ﷺ کا ابنِ امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو ذمہ دار بنانا صرف نماز پڑھانے کی حد تک محصور نہیں تھا بلکہ یہ عام ذمہ داری تھی جو نماز اور دیگر سب چیزوں کو شامل تھی، انہیں فتویٰ دینے کا بھی حق تھا، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا بھی حق تھا، وہ آپ ﷺ کی غیرموجودگی میں مدینہ والوں کے تمام معاملات سنبھال تھے۔ اس پر طبرانی کی روایت دلالت کرتی ہے جسے عطا رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابن امِّ مکتوم رضی اللہ عنہ کو نماز اور مدینہ کے معاملات طے کرنے کے لیے اپنا نائب بنایا۔ إرواء الغليل میں علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابو داؤد کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ابنِ مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ پر اپنا نائب بنایا۔