





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو ہو سکے تو وہ اس چیز کو دیکھ لے جو اسے اس (عورت) سے نکاح کی طرف راغب کر رہی ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے ایک لڑکی کو نکاح کاپیغام دیا تو میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا تھا یہاں تک کہ میں نے وہ خوبی دیکھ ہی لی جس نے مجھے اس کے نکاح کی طرف راغب کیا تھا اورمیں نے اس سے شادی کر لی۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نکاح سے پہلے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے نکاح کرنا مقصود ہو۔ خیال رہے کہ (منگیتر کا) چہرہ اور ہتھیلیاں ہی دیکھنی مباح ہے اس لیے کہ چہرہ، خوبصورتی وجمال پر یا پھر اس کی ضد (بدصورتی) پر دلالت کرتا ہے اور ہتھیلیاں، عورت کے بدن کی لاغری یا اس کے برعکس بدن کی زرخیزی و صحت مندی پر دلالت کرتی ہيں اور یہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔دیکھنے میں عورت کی رضامندی کی شرط نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس خاتون کو اس کی بے توجہی میں اور اس کو اطلاع دیے بغیر دیکھے، جیسا کہ صحابیٔ رسول ﷺ جابر رضی اللہ عنہ نے کیا اور اگر مرد کے لیے دیکھنا ممکن نہ ہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ کسی قابلِ اعتماد خاتون کو اس منگیتر کے پاس بھیجے جو اسے دیکھے اور اس کی صفات سے مطلع کرے۔ دیکھنے کی مشروعیت کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کے مابین الفت و محبت پیدا کرنے کایہ انتہائی موزوں اور مرغوب ذریعہ ہوگا اور واقفیت کے بعد ہونے والے نکاح میں غالباً بعد میں چل کر ندامت و شرمندگی نہیں اٹھانی پڑتی ہے۔
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام دے رہا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اسے دیکھ لو کیوں کہ یہ تمہارے باہمی رشتے کی پائیداری کے لیے نہایت مناسب ہے، چنانچہ میں ایک انصاریہ عورت کے پاس آیا اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا اور نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ اس کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پس پردہ یہ بات سنی تو کہا اگر رسول اللہ ﷺ نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عورت کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پھر انھوں نے اس کا ہم مزاج ہونا ذکر کیا ۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں مرد کے لیے اس خاتون کو دیکھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے جس سے وہ نکاح کا امیدوار ہو اور یہ عمل دونوں کےمابین باہمی موافقت اور اتفاق پیدا کرنے کا سب سے انتہائی قریب ترین ذریعہ ہے اور اس کو دیکھنا، دونوں میں باہمی اصلاح قائم کرنے اور الفت و موافقت پیدا کرنے کا موزوں ترین عمل ہے نیز اس کے بعد ہونے والا نکاح علم و آگہی کے ساتھ ہوگا اورعموماً اس کے بعد ندامت و شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں نبی ﷺ سے مشورہ طلب کیا تو آپ ﷺ نے انہیں اس خاتون کو دیکھنے کی ہدایت فرمائی تاکہ دونوں کے مابین موافقت کا حصول یقینی ہوجائے۔ نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ نبی ﷺ سے وارد ہونے والے ہر بات کو ذرہ برابر تامل کیے بغیر قبول کرنا واجب ہے کیوں کہ آپ ﷺ کے فرامین میں خیر و بھلائی اور درستگی و نیکی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسولﷺ ہیں؟ تو انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کسی خاتون کو نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ کیا اور وہ اس کو چھپ چھپ کر دیکھنے لگے تو تابعی نے انھیں ایسا کرتے دیکھ لیا اورانھیں ان صحابی کا یہ فعل عجیب و غریب لگا تو صحابی رسول نے انھیں بتایا کہ ان کے اس عمل کی دلیل، نبی ﷺ کے حکم سے ماخوذ ہے کہ اگر کوئی مرد، کسی خاتون کو پیغام نکاح دینے کا خواہشمند ہو اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے دل میں اس خاتون سے نکاح کرنے کا میلان بھی پایا جاتا ہو تو اسےچاہیے کہ وہ اس کو دیکھ لے، چنانچہ اس حدیث میں منگیتر کو دیکھنے کے استحباب کی دلیل ملتی ہے، چاہے اس خاتون کو اس مرد کے دیکھنے کا علم بھی کیوں نہ ہو، یہاں تک کہ نکاح کرنے والا مجبوری میں چھپ کر اسے دیکھ سکتا ہے اور یہ اباحت محض حاجت وضرورت کی حد تک محدود ہے ۔
ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس مسئلہ کی رہنمائی ملتی ہے کہ شادی شدہ لڑکی اپنی شادی کی اجازت کے تئیں اپنے ولی کے مقابلہ میں ازخود زیادہ حق دار ہے اور یہ اس معنی میں کہ اس کے زبانی اقرار کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ولی سے زیادہ اپنا نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے اور اگر وہ نکاح کے لیے راضی نہ ہو تو اس شادی شدہ کے ساتھ ولی کو کوئی اختیار نہیں رہتا اور بالغ کنواری لڑکی سے اس کا ولی، اس کے نکاح کی اجازت طلب کرے گا اور اس کی خاموشی ہی اس کی جانب سے اجازت اور اس کا اقرار ہے اور خیال رہے کہ اس کا نکاح بھی زبردستی کرنا جائز نہیں۔
ابن عباس (رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کے پاس آئی اور اس نے یہ بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا ہے جسے وہ ناپسند کرتی ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے (نکاح کو باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا) اختیار دے دیا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ایک نوجوان کم سن دوشیزہ جس کی بکارت ابھی کسی نکاحِ سابق سے زائل نہیں ہوئی تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضامندی واجازت کے بغیر کسی شخص سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو نبی ﷺ نے اسے اس بات کا اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شوہر کے عقد میں رہے یا اس نکاح کو فسخ کرتے ہوئے اس کو رد کردے، کیوں کہ شریعت میں اس (لڑکی) کی اجازت کا اعتبار کیا گیا ہے، لہذا ولی اس کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس کی شادی نہیں کراسکتا۔ اور اگر وہ باکرہ ہو اور عقل مند و بالغہ ہو تو اسے ولی کی بات ماننے یا انکار کرنے کا حق حاصل ہے۔ باکرہ اور بالغہ لڑکی کی رائے کے اعتبار کرنے اور اسے مجبور نہ کرنے کے قول کو سعودی عرب کی مستقل کمیٹی برائے افتاء نے اختیار کیا ہے۔
یزید بن اصم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو آپ ﷺ اس وقت حلال تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری بھی خالہ تھیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔یزید بن اصم نے یہ بات ذکر فرمائی کہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھا نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو اس وقت آپ ﷺ احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے اور آپ ﷺ نے ان سے نکاح کے دوران کسی حج یا عمرہ کا احرام نہیں پہنا تھا۔ پھر یزید بن اصم، میمونہ رضی اللہ عنھا سے اپنی رشتہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس طرح وہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی خالہ تھیں، ان کی بھی خالہ تھیں، جس سے یہ دلیل ملتی ہے کہ وہ قصہ بیان کرنے والی ام المؤمنین رضی اللہ عنھا کے قریبی رشتہ دار تھے اور آپ ﷺ احرام میں نہیں تھے،جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا خیال ہے (کہ آپ احرام میں تھے)۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر اللہ نے لعنت کی ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔تین طلاق شدہ خاتون اپنے پہلے شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک اس مطلقہ خاتون سے کوئی دوسرا مرد نکاح کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کرلے، اس کے باوجود بعض لوگ شرعی احکام میں باہمی حیلہ سازی کا سہارا لیتے ہیں اور ایسا شخص دوسرے کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ وہ اس خاتون سے مصنوعی و حیلہ پر مبنی نکاح کرے، پھر اس کو طلاق دے ، اس سے شرعی نکاح مقصود نہیں ہوتا بلکہ یہ پہلے شوہر کے لیے اس خاتون کو حلال کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ دراصل اس میں شریعت کے تئیں باہمی حیلہ سازی اختیار کرنے، گھٹیا نفسانی صفت، نخوت اور انسانی اخلاق کی کمی پائی جاتی ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے اس نکاح کو حرام قرار دیا اور حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں پر لعنت فرمائی اور لعنت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کا مفہوم ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ کوڑے کھایا ہوا زناکار اپنے جیسی عورت ہی سے شادی کرے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں باطل و ناجائز نکاحوں کی ایک قسم بیان کی گئی ہے اور یہ وہ نکاح ہے جس میں زانی، اپنی زناکاری سے تائب نہ ہو اور اس کا زناکار ہونا ثابت ہو تو ایسے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی پاکباز مسلمان خاتون سے نکاح کرے کیونکہ اس سے نکاح کے لیے اسی جیسی زناکار خاتون ہی آگے آسکتی ہے اور جن کی حالت ایک دوسرے سے مناسبت رکھتی ہے اور یہ حکم اس وقت جاری ہوگا جب وہ اس عظیم گناہ سے توبہ نہ کرے۔ نیز یہ کہ بدکاری کی مرتکب اس زناکار خاتون سے بھی کسی مسلمان کا نکاح کرنا جائز نہیں جو زناکاری سے تائب نہ ہوئی ہو۔ زناکار کو کوڑے کھانے والے سے متصف کرنا، غلبہ صفت کی بناء پر ہے کیونکہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ جس کا زناکار ہونا ثابت ہوجائے تو اس کو کوڑے لگائے جاتے ہیں، ورنہ اس حکم میں وہ زناکار بھی شامل ہے جس کو کوڑے نہیں لگائے گئے ہوں۔اگر ان دونوں حالات میں نکاح ہوجائے تو ایسا نکاح باطل ہوگا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کرتا اور زناکار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے کسی اور مرد سے نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کردیا گیا“۔
عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیں، تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی پھر اس نے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، اب اس کے پہلے خاوند نے اس سے شادی کا ارادہ کیا اور رسول ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دوسرا یعنی شوہرِ ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔
متفق علیہرفاعہ قرظی کی بیوی اپنی حالت کی شکایت لے کر نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے بتایا کہ وہ رفاعہ کی زوجیت میں تھیں کہ انہوں نے انہیں آخری طلاق طلاقِ بتہ دے دیا، یعنی تینوں طلاق دے دی، اور انہوں نے عبدالرحمان بن زَبِیر سے شادی کرلی، انہوں نے انہیں چھوا بھی نہیں اور طلاق دے دی، اب ان کے پہلے شوہر نے ان سے شادی کرنی چاہی تو انہوں نے اس کے بارے میں نبی ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا، آپ ﷺ نے منع فرمایا اور اس سے روک دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ رفاعہ کی جانب رجوع کے جواز کے لیے ضروری تھا کہ دوسرے شوہر نے ان سے وطی کیا ہو۔